donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Abida Rahmani
Poet/Writer
--: Biography of Abida Rahmani :--

 بہار  اردو  یوتھ فورم اور

مختصر سوانح عمری 


از عابدہ رحمانی


بہار  اردو  یوتھ فورم کی ڈاک میرے پاس پچھلے تقریبا تین سال سے اّ رہی ہے ۔پہلے زیادہ تر شاعری تھی ، دیدہ زیب کلام، کچھ دلچسپ اشعار میں نے اپنے مضامین میں بھی شامل کئے۔ پچھلے تقریبا ایک ڈیڑھ برس سے اسکے موڈریٹر نے با قاعدہ رابطہ کیا اور اّ گاہ کیا کہ انہوں نے میری متعدد تحاریر اپنے اس مکڑی کے جال پر پھیلا رکھی ہیں ( اب ویب سائٹ کا اردو ترجمہ کیا ہونا چاہئے مشاہیر اردو اس سلسلے میں مدد فرمائیں )جاوید محمود صاحب سے بعد ازاں فیس بک اور گوگل پلس پر بھی رابطہ ہوا میری تحاریر کو انہوں نے خصوصی اہمیت دی ہے جسکے لئے میں از حد مشکور ہوں-


سوانح عمری-- میں شش و پنج میں ہوں کہاں سے شروع کروں -میں سب کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ میری دو تہائی عمر پر مبنی خود نوشت "مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا "کے عنوان سے کتابی صورت میں شایع ہو چکی ہے اسکے ناشر راولپنڈی کے الفتح پبلیکیشنز ہیں انکا ویب سایٹ vprint.com.pk ہے-کراچی میں یہ کتاب فضلی بک ڈپو پر دستیاب ہے -مختصرا یہ کہ بنیادی طور پر میری زبان پشتو ہے اور میرا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ سے ہے- اردو ہماری قومی زبان ہے اور تعلیم و تدریس میں جاتے ہی اردو کا دامن تھام لیا-بچپن سے ہی چھوٹی چھوٹی کہانیاں اور مضامین لکھ لیتی تھی - بعد میں کچھ مقامی اخبارات میں بچوں کے صفحے میں بھیج دیتی کچھ چھوٹے بھائی کے نام سے لکھیں-


شوہر اور سسرال لکھنؤ کے پٹھان تو تھے لیکن اردو لکھنؤ والی تھی اور میں بھی اسی اردو میں ضم ہوگئی - گھریلو ماحول حد درجہ ادبی اور علمی تھا -لکھنے کا سفر مختلف حوالوں سے جاری تھا - اردو اور انگریزی میں لکھتی رہی کراچی کے اخبارات ڈان ، جنگ اور جسارت میں کافی مضامین چھپے-


سنہ2000 میں ایک المناک اور اندوہناک حادثے کے نتیجے میں  پاکستان چھوڑ کر امریکہ کینیڈا آکر آباد ہوئی - یہاں کے مخلتلف اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائیل میں مضامین اور کہانیا ں شائع ہوتی رہیں -پاکستان کے اخبار مشرق میں پچھلےایک ڈیڑھ سال میرے مضامین ادارتی صفحے پر تسلسل سے آتے رہے- بزم قلم گروپ اور بعد میں ادب ڈاٹ کام نے مجھے بے حد پذیرائی دی- اب کافی آن لاین  اور باقاعدہ اخبارات اور رسایل میں میرے مضامین اور افسانے باقاعدگی سے آرہے ہیں دراصل کمپیوٹر پر اردو لکھنے کی اور بھیجنے کی سہولت نے میرے اس شوق کو انتہائی جلا  اور پذیرائی بخشی-


میرے متعلق آپ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ میں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے -مشرقی پاکستان میں آٹھ برس گزارے ہیں ، اسلئے میں متعدد زبانیں بول اور سمجھ سکتی ہوں اور اس ہنر سے یہاں کے کچھ اداروں کو مستفید کیا ہے-


میری دو کتابیں چھپی ہیں "زندگی اک سفر"  جسمیں زیادہ تر میرے پرانے مطبوعہ مضامین ہیں اور

 مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا"


اب میں اپنا افسانوی مجموعہ چھاپنے کی کوشش میں ہوں-

پچھلے چند مہینوں سے طبیعت کی قدرے ناسازی کی بناء پر اپنی صحت پر زیادہ توجہ دے رہی ہوں اور ایک حد تک ریٹایرڈ زندگی گزار رہی ہوں---- اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی و ناصر ہو


عابدہ

**********************

 
You are Visitor Number : 1468