rishta online logo
newsletter
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ahmad Ali Barqi Azmi
Poet
--: Biography of Ahmad Ali Barqi Azmi :--

 

Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi is an eminent poet of classical Urdu Languge/poetry. He was born on 25thof Dec.1954 in Azamgarh (U.P.). He completed his education both from Shibli National College Azamgarh and Jawaharlal Nehru University, New Delhi. He completed his Masters in Urdu & Persian as also degree in education and topping that with a doctorate in modern /classical Persian from the Centre of African & Asian Languages, Jawaharlal Nehru University(JNU) in the year 1996.

He has travelled as part of his study tour  to many countries including Iran and Afghanistan. Presently he is serving as Translator-cum-Announcer (T/A incharge), in Persian service of the External Services Division of All India Radio, New Delhi. 

Dr.Barqi Azmi is devoted to the cause of furthering Urdu language through his rendering of Urdu poetry in general as well as “Topical Poetry “on various issues  of National and International prominence. For example a series of couplets titled “Yaad e RaftagaaN”-a poetic tribute to living and deceased Urdu poets including the stalwarts/legends like Wali Dakkini, Meer Taqi Meer, Ghalib, Allama Iqbal, Allama Shibli, Sir Syed and Faiz to name just a few. He is also well known for writing on such issues as: natural disasters like the 2004 Tsunami, 2011,Japan earthquake, scientific expeditions, on health topics like Polio & AIDS etc, environmental issues like pollution, Global Warming and also on UN mandated International Days(World Earth Day, Mothers Day, International Science Day etc)

.Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi has not only brought spotlight for his native Azamgarh but also his Alma meter Dayar e Shibli also known as Shibli National  College.

His collection of poetry is easily accessible on Internet on various Urdu Websites & facebook.Here is a link of his personal websites: http://www.drbarqiazmi.com ,http://drbarqiazmi.yolasite.com.

He can be contacted on mobile No. +919868894385.

احوالِ واقعی

میں (احمد علی برقیؔ اعظمی) ۲۵ دسمبر ۱۹۵۴ کو شہر اعظم گڈھ (یوپی) کے محلہ بازبہادر میں پیدا ہوا۔ میں درجہ پنجم تک مدرسہ اسلامیہ باغ میر پیٹو ، محلہ آصف گنج، شہر اعظم گڈہ کا طالبعلم رہا، بعدازآں شبلی ہائر سیکینڈری اسکول سے دسویں کلاس کا امتحان پاس کرنے کے بعدانٹرمیڈیٹ کلاس سے لے کر ایم اے اردو تک شبلی نیشنل کالج ، اعظم گڈھ کا طالبعلم رہا۔ میں نے ۱۹۶۹ میں ہائی اسکول، ۱۹۷۱ میں انٹرمیڈیٹ، ۱۹۷۳ میں بی اے اور ۱۹۷۵ میں ایم اے اردو کی سند حاصل کی اور شبلی کالج سے ہی ۱۹۷۶ میں بی ایڈ کیا۔

بعد ازآن مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ۱۹۷۷ میں دہلی آکر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ،نئی دہلی میں ایم اے فارسی میں داخلہ لیااور یہاں سے ۱۹۷۹ میں ایم اے فارسی کی سند حاصل کی اور بعد ازآن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ہی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

میرے والد کا نام رحمت الٰہی اور تخلص برقؔ اعظمی تھا جو نائب رجسٹرار قانونگو کے عہدے پر فائز تھے۔میرے والد ایک صاحب طرز اور قادرالکلام استاد سخن تھے جنہیں جانشینِ دا غؔ حضرت نوحؔ ناروی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔میرے بچپن کا بیشتر حصہ والِد محترم کے سایۂ عاطفت میں گذرا۔ مجھے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔بیشتر وقت والد صاحب کے فیضِ صحبت میں گذرتا تھا جس سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور آج میں جو کچھ ہوں انہیں کا علمی ،قلمی اور روحانی تصرف ہے۔میرا اصلی نام احمد علی اور تخلص والد کے تخلص برقؔ کی مناسبت سے برقیؔ اعظمی ہے۔والد صاحب کے فیضِ صحبت کی وجہ سے شعری اور ادبی ذوق کی نشوو نما بچپن میں ہوگئی تھی جو بفضلِ خدا اب تک جاری و ساری ہے۔والد صاحب کے ساتھ مقامی طرحی نشستوں میں با قایدگی سے شریک ہوتا رہتا تھااس وجہ سے تقریبا ۱۵ سال کی عمر سے طبع آزمائی کرنے لگا۔ادبی ذوق کا نقظۂ آغاز والدِ محترم کا فیضِ صحبت رہا اور میں نے جو کچھ بھی حاصل کیا انھیں کا فیضانِ نظر اور روحانی تصرف ہے۔اصنافِ ادب میں غزل میری محبوب ترین صنفِ سخن ہے۔ غزل سے قطع نظرمجھے موضوعاتی نظمیں لکھنے کا ۲۰۰۳ سے ۲۰۰۹ تک کافی شوق رہا اور میں نے اس عرصہ میں ماحولیات، سائنس، اورمختلف عالمی دنوں کی مناسبت سے بہت کچھ لکھا جو ۶ سال تک مسلسل ہر ماہ ایک مقامی میگزین ماہنامہ ’’سائنس‘‘ میں شایع ہوتا رہا اور اتنی نظمیں لکھ ڈالیں کی ایک مستقل شعری مجموعہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے ؔ ؂یاد رفتگاں ‘‘ سے خاصی دلچسپی ہے چنانچہ میں بیشتر شعراء ادیبوں ، اور فنکاروں کے یومِ وفات اور یوم تولد کی مناسبت سے اکثر و بیشتر لکھتا رہتا ہوں۔اس سلسلے میں نے حضرت امیر خسرو، ولی دکنی، میرؔ ، غالبؔ ، حالیؔ ، شبلی، سرسید۔احمد فرازؔ ،فیضؔ ،پروینؔ شاکر، ناصر کاظمیؔ ۔ مظفر ؔ وارثی۔شہریارؔ ،بابائے اردو عبدالحق،ابن انشا، جگرؔ ،شکیل بدایونی،مجروح سلطانپوری،مہدی حسن۔ صادقین،مقبول فدا حسین،وغیرہ پر بہت سی موضوعاتی نظمیں لکھی ہیں جن کا بھی ایک مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔میں عملی طور سے میڈیا سے وابستہ ہوں اور ۱۹۸۳ سے آل انڈیا ریڈیو کے شعبۂ فارسی سے وابستہ ہوں اور فی الحال انچارج شعبۂ فارسی ہوں۔ 

فیضؔ ، ساحر،ؔ مجروحؔ ، جگر، حسرتؔ ،فانیؔ ، پروین شاکر، اور ناصر کاظمیؔ وغیرہ میرے پسندیدہ شعرا ہیں۔ادیبوں میں سرسید احمد خاں اور شبلی نعمانی سے بیحد لگاؤ ہے۔ میں اردو ویب سائٹس اور فیس بک پر بہت فعال ہوں اور فیس بک پرمیری ۴۰۰۰ سے زائد غزلیں او ر نظمیں البم کی شکل میں موجود ہیں۔

موجودہ دور میں ادب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اس کی توسیع اور ترویج کے امکانات روشن ہیں۔معاصرانہ چشمک،اور گروہ بندی فروغ زبان و ادب کی راہ میں سدِّ راہ ہیں۔سود و زیاں سے بے نیاز ہوکراگر ادبی تخلیق کی جائے اور اس میں خلوص بھی کارفرما ہو توفروغِ ادب کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔میں اپنی خوئے بے نیازی کی وجہ سے گوشہ نشین رہ کراپنے ادبی اور شعری ذوق کی تسکین کے لئے انٹرنیٹ اور دیگر وسائلِ ترسیل و ابلاغ کے وسیلے سے سرگرمِ عمل ہوں۔ میں اردو کی بیشتر ویب سائٹس اور اور فیس بُک کے بیشمار فورمز سے وابستہ ہوں۔مجھے خوشامدپسندی اور زمانہ سازی نہیں آتی اس لئے مقامی سطح پر غیر معروف ہوں۔

ہوتا زمانہ ساز تو سب جانتے مجھے
کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا
ویب سائٹوں پہ لوگ ہیں خوش فہمی کے شکار
نا آشنائے حال ہیں ہمسائے بھی مرے

عرضِ حال
ہوتے ہیں اُن کے نام پہ برپا مشاعرے
معیار شعر اُن کی بَلا سے گِرے گِرے
جن کا رسوخ ہے انہیں پہچانتے ہیں سب
ہم دیکھتے ہی رہ گئے باہرکھڑے کھڑے
جو ہیں زمانہ ساز وہ ہیں آج کامیاب
اہلِ کمال گوشۂ عُزلت میں ہیں پڑے
زندہ تھے جب تو ان کو کوئی پوچھتا نہ تھا
ہر دور میں ملیں گے بہت ایسے سر پھرے
برقی ؔ ستم ظریفئ حالات دیکھئے
اب ان کے نام پر ہیں ادارے بڑے بڑے
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا غزل میری محبوب صنف سخن ہے ۔ میرے اسلوبِ سخن پر غیر شعوری طور سے غزلِ مسلسل کا رنگ حاوی ہے ۔ گویا میری بیشترغزلوں میں جیسا کی بعض احباب نے اس کی طرف اشارہ کیاغزل کے قالب میں نظم یا مثنوی کا گمان ہوتا ہے جو بعض احباب کی نظر میں محبوب اور بعض لوگوں کے خیال میں معیوب ہے۔میرا شعورِ فکر و فن میرے ضمیر کی آواز ہے۔ میری غزلیں داخلی تجربات و مشاہدات کا وسیلۂ اظہار ہونے کے ساتھ ساتھ بقول جناب ملکزادہ منظور احمد صاحب ’’ حدیثِ حُسن بھی ہیں اور حکایتِ روزگار بھی‘‘ ۔میں جس ماحول کا پروردہ ہو ں میری شاعری اس کے نشیب و فراز اور ناہمواریوں اور اخلاقی اقدار کے زوال کی عکاس ہے۔میں جو کچھ اپنے اِرد گِرد دیکھتا یا محسوس کرتا ہوں اسے موضوعِ سخن بنانا اپنا اخلاقی اور سماجی فریضہ سمجھتا ہوں جس کے نتیجے میں میری بیشتر شعری تخلیقات اجتماعی شعور کی بازگشت کی آئینہ دار ہیں۔میں کلاسیکی روایات کا پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ جدید عصری میلانات و رجحانات کو بھی موضوع سخن بنانے سے گریز نہیں کرتا۔حالاتِ حاضرہ کے تناظرمیں بیدار مغز سخنور اور قلمکارجس ذہنی کرب کا احساس کرتے ہیں ان کی تخلیقات میں شعوری یا غیر شعوری طور سے اس کا اظہار ایک فطری اور ناگزیر امر ہے۔ چنانچہ
ہیں مرے اشعار عصری کرب کے آئینہ دار
قلبِ مضطر ہے مرا سوزِ دروں سے بیقرار
آپ پر ہوں گے اثر انداز جو بے اختیار
میری غزلوں میں ملیں گے شعر ایسے بیشمار
صفحۂ قرطاس پر کرتا ہوں اس کو منتقل
داستانِ زندگی ہے میری برقیؔ دلفگار
اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہمارا قومی،ملی اور اخلاقی فریضہ ہے۔اس ضمن میں مقامی اور علاقائی سطح پر ہمارے شاعروں ،ادیبوں اور اربابِ فکر و نظر کی علمی و ادبی خدمات کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔لیکن اردو زبان و ادب کے بین الا قوامی سطح پر فروغ میں معیاری اردو ویب سائٹوں کے کارہائے نمایاں حلقۂ اربابِ فکر و نظر میں جنہیں انٹرنٹ کی سہولت دستیاب ہے اظہر من الشمس ہیں۔
خاکسار کو سب سے پہلے انٹرنٹ کی دنیا میں متعارف کرانے میں جناب ستپال بھاٹیا کی ہندی ویب سائٹ آج کی غزل ڈاٹ بلاگ اسپاٹ داٹ کام نقشِ اول کا درجہ رکھتی ہے۔اسی سائٹ کی فہرست میں مجھے محترم سرور عالم راز سرورؔ صاحب اور اُن کا نامِ نامی،ان کا معیاری کلام اور اُن کی سائٹ کا لنک نظر آیا اور اس طرح میں اُن کی شہرۂ آفاق ویب سائٹ ’’ اردو انجمن ڈاٹ کام‘‘ سے باقاعدہ روشناس ہوااور مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ میری انٹرنٹ کی دنیا میں باقاعدہ طور پر رسائی اور اربابِ فکرو نظر سے شناسائی کا نقطۂ آغاز ’’ اردو انجمن داٹ کام‘‘ ہے۔ سرور عالم راز سرورؔ صاحب کا تبحرِ زبان و بیان اُن کی اصلاحِ سُخن سے ظاہرہے جس کا کوئی جواب نہیں ہے اور جو میرے لئے مشعلِ راہ ہے اور رہے گی۔
اردو انجمن کے بعد مجھ سے ناظمِ ’’ اردو جہاں‘‘ محترمہ سارا جبین صاحبہ نے رجوع کیا اور یہ میرا دوسرا میدانِ عمل تھا، ہے اور انشا ء اللہ ہمیشہ رہے گا۔میری غزلوں کا صوری و معنوی حُسن و جمال اُن کی مُخلصانہ ،دلکش اور سحر انگیزتزئین اور نقاشی کا مرہونِ منت ہے۔اُن کے اِس بارِ احساں سے میں کبھی سُبکدوش نہیں ہو سکتا۔
میرا تیسرا پڑاؤ ’’ اردو بندھن ڈاٹ کا‘‘ رہا جہاں میں محترم سالم احمد باشوار صاحب کی شفقت سے بہرہ مند ہوا جنھوں نے میری حوصلہ افزائی کے لئے از راہِ لطف میری با ضابطہ ویب سائٹ بنا دی اور مستقل طور سے بے لوث دستبردِ زمانہ سے اُس کی نگہداشت فرما رہے ہیں۔خدائے بزرگ و برتر اُنھیں اس کا اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
’’ اردو دنیا ڈاٹ نٹ‘‘ میں میں محترم مظفر احمد مظفرؔ صاحب سے بہت متاثر ہوں جنھوں نے میری غیر معمولی تشویق اور حوصلہ افزائی فرمائی اور ہمیشہ حوصلہ افزا منثور اور منظوم اظہارِ خیال سے نوازتے رہے۔’’ دستک‘‘ کے بارہویں شمارے میں خاکسار کے فکرو فن پر اُن کا مبسوط تبصرہ اُن کی شفقت و محبت کا آئینہ دار ہے۔
میں محترمہ سنیتا وگ کی ’’ شامِ سُخن ڈاٹ کام‘‘ جناب مہتاب قدر کی ’’ اردو گلبن ڈاٹ کام‘‘ آبجو ڈاٹ کام اور کبھی کبھی اردو آرٹسٹ ڈاٹ کام پر بھی اپنی خامہ فرسائی کے نقوش ثبت کرتا رہتا ہوں۔
مجھے بیرونِ ملک حلقۂ اربابِ فکر و نظر میں متعارف کرانے میں محترم حسن چشتی صاحب مقیمِ شکاگو کا نہایت اہم رول رہا ہے۔میری لوحِ دل پر ثبت ان کی شفقت کے نقوش لازوال ہیں۔اُن کی وساطت سے میں محترم سردار علی صاحب مقیمِ ٹورانٹو ،کناڈا اور اُن کی عالمگیر شہرت کی حامل ’’شعر و سخن ڈاٹ کام‘‘ سے روشناس ہوا جو مجھے مستقل اپنی شفقت سے نوازتے رہتے ہیں۔
محترم اعجاز عبید صاحب کی نوازشوں کے لئے بھی میں ان کا صمیمِ قلب سے سپاسگذار ہوں جنھوں نے حال ہی میں از راہِ لطف ’’ برقی شعائیں‘‘ کے نام سے میری کچھ موضوعاتی نظموں کو جو میرا خصوصی میدان عمل ہے برقی کتاب کی شکل میں زیورِ طبع سے آراستہ کیا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر ان کی ادبی و علمی خدمات کوشرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
جب میں نے فیس بُک سے رجوع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ شیدائیانِ اردو کس طرح یہاں بھی اردو کے فروغ میں بقدرِ ظرف اپنے فکر و فن کے جوہر دکھا رہے ہیں اور یہاں بھی شمعِ اردو اپنی آب و تاب کے ساتھ ضو فگن ہے۔
فیس بُک کی وساطت سے میں ’’ اردو منزل‘‘ اور صغیر احمد جعفری صاحب اور اردو کے فروغ میں اُن کی گرانقدر خدمات سے روشناس ہوا اور یہاں موجود احباب اور اُن کے دلپذیر کلام سے مستفید ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔فیس بُک پر موجود مختلف ادبی گروہوں خصوصاََ اردو لٹریری فورم الف،انحراف، بزمِ امکان،اردو شاعری، محبت ، گلکاریاں اوردیاگروپ کی ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی نشستوں میں طبع آزمائی نے بھی میرے شعور فکرو فن کو جلا بخشی جس کے لئے ان کا بھی ممنون ہوں۔میرے محترم دوست مسلم سلیم جو اپنے ۲۲ بلاگس اور ویب سائٹٹس کے وسیلے سے اردو زبان و اب کی غیر معمولی خدمت انجام دے رہے ہیں کی برقیؔ نوازی بھی میرے رخشِ قلم کے لئے مہمیز کا درجہ رکھتی ہے جن کی پیہم نوازشوں کے لئے صمیم قلب سے سپاسگذار ہوں اور اُن کے بارِ احساں سے کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتا۔
میرے ہمکارِ عزیز محمد ولی اللہ ولیؔ جن کا شعری مجموعہ ’’ آرزوئے صبح‘‘ حال میں منظر عام پر آیا ہے کی تشویق میرے اس شعری مجموعے کی اشاعت کے لئے محرک ثابت ہوئی اور اگر میں یہ کہوں کہ میرا یہ شعری مجموعہ ان کی تشویق کا مرہونِ منت ہے تو بیجا نہ ہوگا۔اس برقیؔ نوازی کے لئے ان کا بھی ممنون ہوں۔قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان جس کی فروغ زبان و ادب میں غیر معمولی خدمات اظہر من الشمس ہیں کا اس شعری مجموعے کی اشاعت میں مالی تعاون لایقِ تحسین و ستایش ہے جس کے لئے اس موقر ادارے اور خصوصاََ اس کے فعال اور ادب و ادیب نواز ڈائرکٹر ڈاکٹر خواجہ اکرام االدین کا اس مالی تعاون کے لئے صمیمِ قلب سے شکر گزار ہوں۔محترم سرور عالم راز سرورؔ ،مکرمی مظفر احمد مظفرؔ ،محترم عزیز بلگامی،ڈاکٹر تابشؔ مہدی،ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی،سید ضیا رضوی خیر آبادی۔محترمہ سیدہ عمرانہ نشتر خیر آبادی،عزیزی اسراراحمدرازی، مکرمی محمد صدیق نقوی،محترم غلام شبیر رانا، محترم حسن چشتی مقیم شکاگو،انور خواجہ (ریزیڈنٹ ایڈیٹر ،ہفت روزہ ’’اردو لنک ‘‘، امریکا، مسلم سیلم، جناب ملکزادہ منظور احمد،عالمی شہرت یافتہ ناول و افسانہ نگارمحترم مشرف عالم ذوقی اور عزیزی عبدالحئی خان(اسسٹنٹ ایڈیٹر ’’اردو دنیا‘‘ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی)، ڈاکٹر واحد نظیرؔ اور محبی حسن امام حسن کااُن کے حوصلہ افزا تاثرات کے لئے صمیم قلب سے سپاسگزار ہوں۔عزیزی محمد احمد اورمحمد انصراور دیگر احباب کا ان کے مفید مشوروں اور تعاون کے لئے شکر گزار اور احسان مند ہوں۔عزیزی سلطان شکیل اور مکرمی نفیس الرحمٰن کااس شعری مجموعے کی تنظیم وتزئین کے لئے ممنون ہوں۔مکرمی انیس امروہوی (مدیرِ سہ ماہی ’’قصے‘‘)اور ان کے ہُنرمند فرزند مسعود التمش کا اس دیدہ زیب سرورق کی ڈیزائن اور تزئین کاری کے لئے تہہِ دل سے ممنون ہوں۔اپنی شریک حیات شہناز بانو، بیٹے فراز عالم، بہو سحر عالم، بیٹیوں رخشندہ پروین، نازیہ اور سعدیہ پروین کا بھی ان کی نیک خواہشات کے لئے تہہِ دل سے شکر گزار ہوں۔

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی
اے ۔ ۱۲۲ تیسری منزل ، جوہری فارم، گلی نمبر ۴
جامعہ نگر نئی دہلی ۔ ۱۱۰۰۲۵
 
 
You are Visitor Number : 6831