donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shakilur Rahman
Writer
--: Biography of Shakilur Rahman :--

Dr.Shakeel-ur-Rahman is a famous Urdu writer and scholar of India.His father Khan Bahadur Muhammad Jan was a noted Government lawyer in British India.Dr.Shakeel received his education from Patna University,B.A.(Hons.)First Class,M.A.,First Class First (awarded Patna University Gold Medal)and D.Litt.He remained attached to University of Kashmir as Professor and Head,Deptt.of Urdu.He also served as Vice-Chancellor of University of Bihar & University of Kashmir and Union Minister for Health and Family Welfare,Government of India.His 25 books have been published so far.He has been blessed with "Ghalib Award","Urdu Academy Award","National Award" from India and "Ahmad Nadeem Qasmi Award" from Pakistan.Dr.Shakeel-ur-Rahman has written more than 50 plays for the Stage,TV and Radio.His grandson Tanwir Phool is a noted author/poet of Pakistan writing in Urdu and English.He has written a valuable article in quarterly "Khayaal",Karachi(Pakistan).

ڈاکٹر شکیل الرحمن

ڈاکٹر شکیل الرحمن بہار کے جانے پہچانے اور عظیم شخصیت انسان ہیں ان کا آبائی وطن موتیہاری ہے کشمیر یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو، بہاریونیورسٹی اور ایل این متھلا یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں ان کی بہت ساری گراں قدر تصنیفات منظر عام پر آچکی ہیں، ان میں قصہ میرے سفر کا ،اسفرنامہ، اقبال روشنی کی جمالیات، تنقید، اور ،مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات ، وغیرہ کافی مشہور ہوچکی ہیں انہوں نے ناول پر بھی بہت کچھ لکھا ہے بہت سارے تنقید ی اور تحقیقی مضامین ہندوپاک کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکے ہیں، جہاں تک ان کی افسانہ نگاری کا تعلق ہے تو انہوں نے افسانہ نگاری کے دوسرے اور تیسرے دور میں تقریبا پچاس کہانیاں لکھیں جو ہندوپاک کے مختلف معیاری ارو چوٹی کے رسالوں میں شائع ہوئیں لیکن تقریبا پندرہ سال سے انہوں نے کہانیاں لکھنا بالکل ترک کردیا ہے اور تحقیق وتنقید کی طرف اپنے آپ کو پوری طرح موڑ لیا ہے، شاید انہیں تخلیقی ادب کے بجائے تحقیقی اور تنقیدی کاوش کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے بہرحال وہ اپنی کہانیوں کی وجہ سے بھی جانے پہچانے جاتے  ہیں بہار کا افسانوی ادب ان کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++


ممتازادیب ونقاد ڈاکٹرشکیل الرحمان کا انتقال


نئی دہلی:جمالیاتی فکرونظررکھنے والے اردوکے ممتازادیب ونقاداورسابق مرکزی وزیرصحت ڈاکٹرشکیل الرحمان کا9؍مئی کورات کے 11.00بجے انتقال هوگیا۔ مرحوم 85برس كے تھے پسماندگان کمیں اہلیہ ،دوبیٹیاںاورایک بیٹاہے۔ مرحوم کی طبیعت کافی دنوں سے ناسازچل رہی تھی۔ پچھلے پہرفورٹس اسپتال گڑگائوں میں انہوں نے داعی اجل کولبیک کہا۔ ڈاکٹر شکیل الرحمان کی موت کی خبرعام ہوتے ہی تمام وابستہ حلقوںمیں رنج وغم کی لہردوڑگئی۔ مرحوم ڈاکٹر شکیل نے کوئی25 کتابیںخلق کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیج ،ٹی وی اورریڈیوکے لئے 50 سے زیادہ کاوشیںبھی انجام دیں۔ بیرون ملک جہاں وہ ایک سے زیادہ قومی ایوارڈوںسے نوازے گئے وہیں پاکستان میںانہیں احمدندیم قاسمی ایوارڈسے سرفرازکیاگیا۔ مرحوم بہار ،متھلااورکشمیرکی یونیورسٹیوں کے سربراہ بھی رہے۔ پٹنہ سے ایم اے کرنے کے بعدڈاکٹرشکیل اڑیشہ میں لکچرارہوئے پھرسرینگرجموںوکشمیرچلے گئے۔ مرحوم نے 1961میں پریم چندکی افسانہ نگاری پرتحقیقی مقالہ لکھاجس پرانہوں نے ڈی لٹ کی ڈگری سے سرفرازکیاگیا۔ اپنے زمانے کے مشہورادبی ماہنامے’بیسویں صدی‘میں ان کے افسانے اس قدرپابندی سے شائع ہوتے تھے کہ جریدے کے مدیراعلیٰ خوشترگرامی نے ایک مرتبہ، جشن شکیلین‘کااہتمام کیاجوڈاکٹرشکیل الرحمان اورشکیل بدایونی کے مشترکہ اعزازمیں تھا۔ مرحوم جمالیات کے زبردست اسکالرتھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ’قرآن حکیم جمالیات کاسرچشمہ‘نامی ایک کتاب بھی لکھی اور موت کے تصورمیں بھی جمالیات کی دریافت تک آگے بڑھے مجموعی طورپروہ نفسیات کوتمام علوم سے مربوط سمجھتے تھے۔ آشرم ڈاکٹرشکیل الرحمان کی منفردخودنوشت سوانح حیات ہے۔ جو1956تك كے واقعات پرمحیط هے۔ آشرم كی نثرپرقاری كوشاعری كاگماں گزرتاهے۔ مرحوم نے اپنے والدكے انتقال پراپنی بیقراری كی جومنظركشی كی تھی اسے دیكه كركوئی بھی ادب نوازقاری خودکونظم ونثرمیںتمیزکرنے سے عاجزپاسکتاہے۔ اس منظرکے الفاظ کچھ یوںتھے۔ دوپہرکی دھوپ میں؍حویلی کی دیواریں؍ننھے شکیل کے ساتھ؍بلکتی رہیں اورروتی رہیں؍یہ دردناک منظر؍کسی نے نہیںدیکھے۔پروفیسراخترالواسع،ڈاکٹرارتضیٰ کریم،ڈاکٹرابراررحمانی، حقانی القاسمی، انیس رفیع اورمختلف شعبہ ہائے زندگی کے دیگرنمائندوںنے ڈاکٹرشکیل کے انتقال کوزائدازایک محاذپرقابل تلافی نقصان قراردیاہے۔

ان کے سوانح حیات بہاراردویوتھ فورم کے ویب سائٹ پر

http://urduyouthforum.org/biography/biography-Shakilur-Rahman.htmlموجود ہے

 

 

 

۔

 

 
You are Visitor Number : 1991