donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Tauham Parasti Aur Naya Moashra


توہم پرستی اور نیا معاشرہ 
 
عبدالعزیز 
 
انسانی معاشرہ میں انسانوں کی جہالت اور خوف سے بہت سی خرابیاں در آئی ہیں۔ ان میں سے ایک توہم پرستی ہے جس کیلئے انگریزی میں Superstitions کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جو لوگ خدابیزار ہیں وہ ہر مذہب کو قابل ملامت اور قابل مذمت سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مذہب (Religion) کا دوسرا نام توہم پرستی (Superstitions) ہے۔ اس قول سے توہم پرستی کی خرابی یقینا اجاگر ہوتی ہے اور بہت سے مذاہب توہم پرستی کی بنیاد پر ہی آج زندہ ہیں مگر اسلام کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کا دوسرا نام توہم پرستی ہے اتنا ہی غلط اور نا درست ہے جتنا کہ روشنی کو اندھیرا کہنا غلط اور نا درست ہے۔ اسلام توہم پرستی کو مٹانے کیلئے آیا ہے ۔ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام توہم پرستی کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ 
 
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’جس شخص کو بدشگونی یعنی توہم پرستی نے کوئی کام کرنے سے روک دیا اس نے یقینا شرک کیا‘‘(بخاری)۔اسلام میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ قرآن مجید میں شرک کے بارے میں اللہ فرماتا ہے ’’میں سارے گناہوں کو معاف کرسکتا ہوں، سوائے شرک کے‘‘ (سورہ لقمان)۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ توہم پرستی ایک ایسی جہالت یا گناہ ہے جو نا قابل معافی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے کہ ’’کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جِبْت (توہم پرستی) اور طاغوت کو مانتے ہیں اور جو لوگ ایمان سے محروم ہیں ان کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤگے‘‘ (سورہ النسائ، آیت:51)۔ توہم پرستی کیلئے عربی زبان میں ’’جِبْت‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، جس کے اصلی معنی ہیں بے حقیقت، بے اصل اور بے فائدہ کی چیز ہیں۔ اسلام کی زبان میں جادو، کہانت (جوتش)، فال گیری، ٹونے ٹوٹکے، شگون اور مہورت اور تمام دوسری وہمی و خیالی باتوں کو جبت سے تعبیر کیا؛ چنانچہ حدیث میں الینا قہ والطریق والطیر من انجبت یعنی جانوروں کی آوازوں سے مال لینا، زمین پر جانوروں کے نشانات سے قدم شگون نکالنا اور فال گیری دوسرے طریقے سب جبت کے قبیل سے ہیں ۔ فرمانِ نبوتؐ ہے کہ ’’کوئی بدفالی یا بدشگونی نہیں ہے۔ اس سے اچھی بات نیک شگون ہے‘‘۔ صحابہؓ نے پوچھا نیک شگون کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’نیک بات، صالح کلمہ جن کو تم میں سے کوئی ایک سنتا ہے‘‘۔ 
 
فرانس کے ممتاز سرجن، سائنس داں اور اسکالر ڈاکٹر موریس بکالے (Dr. Maruice Bucalle) نے قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابوں کا سائنسی نقطہ نظر سے موازنہ کیا ہے اور جائزہ لیا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش، علم فلکیات (Astronomy)، زمین کا علم (Earth Science)، گردش آب (Water Cycle)، حیوانات اور جمادات اور افزائش نسل (Human Reproduction)   جیسے علومِ آسمانی کتابوں اور سائنس میں ٹکراؤ اور تصادم ہے یا نہیں؟ اس نے لکھا ہے کہ ’’ان سائنسی علوم پر جس قدر میری معلومات ہے، اس کی بنیاد پر یہ تشریح کرنے سے قاصر ہوں کہ آج جو سائنسی خیالات و نظریات دریافت ہوئے ہیں وہ کیسے قرآن مجید جیسی کتاب میں جو چودہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے عالم وجود میں آئی ہے اس میں موجود ہے اور اس کا سائنس سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آسمانی کتابوں میں ایک کتاب ایسی ہے جسے قرآن کہتے ہیں، اس کا سائنس سے مطابقت ہے، کوئی ٹکراؤ نہیں۔  (the Bible the Quran and Science) ۔
 
سائنس نے توہم پرستی کو ایک حد تک ختم کیا ہے۔ قرآن اور سائنس کی روشنی میں توہم پرستی یا اوہام پرستی کا جائزہ لیا جائے تو توہم پرستی بیوقوفی، نادانی اور حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسے آج بھی بہت سے لوگ جہالت اور خوف کی وجہ سے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اگر پرندے دائیں طرف جائیں تو یہ اچھا شگون ہے۔ اگر بائیں جانب جائیں تو بُرا شگون ہے۔ اگر شیشہ ٹوٹ جائے تو ہمارے لئے اچھا نہیں ہے۔ کالی بلی راستہ کاٹ جائے تویہ بھی بدشگونی میں داخل ہے۔ اگر خرگوش راستے سے گزرے تو خوش بختی کی علامت ہے۔ نمک بکھر جائے تو یہ بھی خطرناک ہے۔ بلی کا رونا برا ہے۔ کسی کے پیچھے سے آواز دینے کو برا خیال کیا جاتا ہے۔ دو بیٹیوں کی شادی اکٹھی کرنے سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک خوش نہیں رہے گی، وغیرہ۔ ان تمام عمل میں انسان اپنے اشرف المخلوقات ہونے کو تذلیل کرتا ہے۔ جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ معمولی خرگوش ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے یا ایک بے جان سیڑھی، لکڑی یا نمک یا اس طرح کی دوسری چیزیں ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں گویا ہم اپنے آپ کو ان سے کم تر سمجھ رہے ہیں۔ ہم قرآن جو توہم پرستی کے سخت خلاف ہے بعض اوقات ایسی چیزوں کیلئے استعمال کرتے ہیں، مثلاً شادی بیاہ کے موقع پر بیٹی کے سر پر رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے اس کی قسمت اچھی ہوجائے گی۔ یہ وہ سب چیزیں جن سے آزاد کرانے کیلئے نبی اکرمؐ آئے تھے اور بدقسمتی اور لاعلمی کی وجہ سے دوبارہ ہم اپنے آپ کو غلام بنا رہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کتنی سچی بات کہی ہے  ؎
ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے … دیتا ہے آدمی کو ہزار سجدوں سے نجات 
نیا معاشرہ: سائنسی علوم کی روشنی سے یقینا جنم لے رہا ہے مگر صرف سائنس نئے معاشرہ کو جنم نہیں دے سکتا کیونکہ آج بھی یورپ میں سائنس کی چکا چوند روشنی کے باوجود توہم پرستی کا اندھیرا ہے۔ 13 کی عدد کو آج بھی نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے ہوٹلوں میں کمرہ کا نمبر 13 یا عمارتوں میں فلیٹ نمبر 13 نہیں ہوتا۔ مذہب کی وجہ سے بھی توہم پرستی کا اندھیرا پایا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے یورپ کو دیکھ کر کہا تھا ؎
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا … اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا 
جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا … زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا 
نئے معاشرے کیلئے سائنسی روشنی کا پھیلاؤ جس قدر ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ قرآنی تعلیمات کی روشنی کا پھیلاؤ ضروری ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ پروردگار عالم اگر کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو ساری دنیا مل کر بھی اسے فائدہ نہیں پہنچاسکتی۔ اگر وہ کسی کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے تو ساری دنیا مل کر بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔ جب تک اس علم سے شعور پختہ نہیں ہوتا ہے توہم پرستی یا اوہام پرستی انسانی معاشرہ میں اپنی جگہ بنائے رکھے گی۔ لہٰذا نئے معاشرہ کیلئے نئی تعلیم کے ساتھ وحی کی تعلیم ضروری ہے۔ علامہ اقبال کے دو اشعار پر اپنی بات ختم کرتا ہوں جس میں انھوں نے جہانِ نو یا معاشرہ نو کے وجود کی امید ظاہر کی ہے  ؎
جہانِ نو پیدا ہورہا ہے وہ عالم پیر مر رہا ہے … … جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ 
وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو … اسی کی بے تاب بجلیوں سے خطرہ میں ہے اس کا آشیانہ 
(12 اکتوبر کو یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو سے نشر کی گئی)
 
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com 

 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 457