donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Moghni
Title :
   Iqbal Ka Nazariye Khudi

 

اقبال کا نظریہ خودی
 
عبدالمغنی
 
بعض اوقات انسان ذاتی غوروفکر سے زندگی کا کوئی نظریہ قائم کرلیتا ہے اور جیسےجیسے اس نظریے پر اس کا ایمان اس کے عمل کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ پختہ ہوتاجاتا ہے اس کی ایک خاص شخصیت و سیرت بنتی جاتی ہے۔ یہ خود آگاہی‘ خد نگری اور خود گری ہے۔ اس میں خودداری جتنی بھی ہو‘ خود پسندی اور خود غرضی کا غلبہ نہیںہوتا‘ اگرچہ اس کا ایک شائبہ بشری تقاضے کے تحت پایا جاسکتا ہے‘ لیکن یہ ایک بے ضرر سی بات ہوگی۔ اپنی شناخت کا مطلب دوسرے پر تاخت نہیں ہے۔ خود شناسی صرف خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ خود شناسی صرف خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ ’’اپنی عزت آپ‘‘ ایک مشہور و معروف مقولہ و محاورہ ہے۔ اس میں کسی کے لیے کوئی مضائقہ اور خسارہ نہیں۔ یقینا اس میں انفرادیت کی بو ہے۔ مگر وہ اجتماعیت کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ جدت وہی معتبر و مؤثر ہوتی ہے جس کے پیچھے کوئی روایت بنی ہوئی ہواور جس کے آگے ایک روایت بننے والی ہو۔ پانی کا اکیلا قطرہ ریگستان میں ٹپک کرجذب و خشک ہوجائے گا‘ لیکن سمندر میں گر اس کا ایک حصہ بنے گا اور اس کے حجم میں تھوڑا اضافہ کرے گا اور اگر وہ قطرۂ نیساں ہے تو تہ نشین ہو کر ایک صدف کی شکل اختیار کرے گا جس میں ایک گوہرِ آب دار کی پرورش ہوگی اور اس سے پورے
سمندر کی آبرو بڑھے گی۔اس طرح نظریۂ خودی کے ساتھ تصور بے خودی بھی وابستہ ہے۔ یبی نکتہ اسرار
ورموزحیات ہے:
 
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
(بانگ درا)
 
یہی وجہ ہے کہ خودی صرف فرد کی نہیں ہوتی‘ معاشرے‘ ملت اور قوم بلکہ پوری انسانیت کی بھی ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو پہچان کر اپنے رب کوپہچان لے گا۔ وہ فطری طور پر خودی کی دوسری ہر جہت کا اقرار کرے گا ‘اس کے حقوق کو تسلیم کرے گا‘ اس کے لیے اپنے فرائض ادا کرے گا اور اگر وہ یہ سب کچھ نہیں کرتا یا اس کے خلاف کرتا ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ اس نے نہ خود کو سمجھا نہ اپنے پروردگار کو‘ اس کی خودی‘ اگرچہ اس کے گمان میں موجود ہے‘ محض ایک فریبِ نفس ہے‘درحقیقت اپنی ذات کو گم کرچکا ہے اور گمراہ ہوگیا ہے‘ اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کواس کائنات سے الگ کرلیا ہے جواس کے وجود کی پیدائشی سطح اور گہوارۂ پرورش کےساتھ ساتھ محاذ عمل بھی ہے۔ آفاق سے بیگانہ ہو کر نفس کا کوئی مشاہدہ یا معاملہ ایک کارعبث ہے۔
 
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ
 
فرد کا ربط معاشرے کے ساتھ ساتھ خدا سے کسی مِابعدالطبعی فلسفے کے تحت نہیں ‘ایک فطری ضرورت کے طور پر ہوتا ہے۔ خالق و مخلوق کا ارتباط ہی خودی و خدا کامعاملہ ہے۔ خدا کا منکر درحقیقت خودی سے بہرہ ور نہیں ہوتا‘ ایک قسم کا فریب ہستی کھاتا ہے۔ وجود کی ایک ابتداء ہے‘ گرچہ انتہا معلوم نہیں۔ ہستی خدا کے وجود سےشروع ہوتی ہے اور انسان کے وجود پر ختم۔ یہ ارتقاء کا وہ سلسلہ ہے جس کی کوئی کڑی گم نہیں ہوتی۔ ارتقائے وجود کا سب سے مربوط و مضبوط تصور یہی ہے۔ اس کےبرخلاف جو بھی تخیل ہوگا وہ خلائوں سے پُر ہوگا اور اس کے اندر شگاف ہی شگاف پایاجائے گا‘ یہاں تک کہ اس کا پہلا سرا بھی غائب ہوگا= مادہ کہاں سے آیا اور ارتقاء کےآخری مرحلے میں وہ انسان بن کر کیسے کھڑا ہوگیا؟ ان دو بنیادی سوالوں کا کوئی تسلی بخش جواب کسی دہریے اور ملحد کے پاس نہیں ہے۔ لہٰذا انکار خدا کر ہر نظرہ فقط ایک مفروضہ ہے‘ بلاثبوت‘ بلادلیل‘ جس کا نہ مشاہدہ نتیجہ خیز ہے نہ تجربہ۔ حقیقت یہ ہےکہ وجود کا پہلا نقطہ خالق کاہنات پر ایمان بالغیب ہے‘ جو کسی بے اصل مادے پر ایمانِ بالغیب سے بدرجہا زیادہ حکیمانہ و عاقلانہ تصور ہے۔ ایمان باللہ سے بشر کا وجود نہ صرف متعین ہوتا ہے بلکہ وجود کی ساری قوتوں کے سرچشمے سے مربوط ہوجاتا ہے سرچشمۂ وجود سے یہ ربط ہی اپنی حدود کے اندر نہ صرف بشریت کی تکمیل کرتا ہے بلکہ ایک نئے اور بہتر و برتر عالم میں اس کی آئندہ ارتااء کا سامان کرسکتا ہے یہی وہ روحانیت ہے جو موت کو ایک نئی زندگی کا پیش خیمہ بناتی ہے‘ اسے ذات باری کےحریم کی چوکھٹ تک پہنچا دیتی ہے۔ یہ وہ ارتقائے ذت ہے جو پوری کائنات پر حاوی ہے اور وجود کو ایک دوامی آفاقیت سے ہم کنار کرتا ہے:
 
غافل نمہ ہو خودی سے‘ کر اپنی پاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
(بال جبریل)
 تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود
مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا
(ضربِ کلیم)
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے
(ضرب کلیم)
کافر یہ پہچان ہے کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
(ضرب کلیم)
ہوا اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی
ییہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
(ضرب کلیم)
 
خودی کا مرکز بہرحال انسان کی ذات اور اس کا استقلال و استحکام ہے۔ فرد اپنے شعور وکردار ہی کی بدولت سماج اور خدا دونوں سے اپنے رشتے قائم کرتا ہے۔ یہ دو کنارے نہ صرف اس کی حدود متعین کرتے ہیں بلکہ اسے اپ۔نی جگہ کھڑے رہنے اور ہر قسم کی ترقی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع اور حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ فرد اپنے کو پہچان کراپنے فروغ کے لیے سماج ہی میں کام کرتا ہے اور اس کے فروغ کا باعث ہوتا ہے۔ ’’اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔‘‘ اور جماعت فرد کی تجربہ گاہ اور امتحان گاہ ہوتی ہے۔ خالق پر ایمان بالغیبرکھنے والا اس کی رضا کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ رضائے الٰہی انسان کے لیے وجود کیہرمرحلے پ ایک پروانۂ عمل رہی ہے‘ ایک نشانِ راہ بنی ہے۔ اسی نشانےکی طرف بڑھتا ہوا آدمی ارتقاء کی موجودہ منزل تک آیا ہے اور اس رُُ خ پر ابھی کتنی ہی منزلیں اس کی منتظر ہیں۔ خالق کے ساتھ مخلوق کی الفت کو صوفیا نے عشقِ حقیقی کہا ہے۔ خدا کی یہ محبت خودی کے لیے پیام فنا نہیں ہے‘ تازیانۂ بقا ہے۔ خودی کا اثبات کیے بغیر لقائے رب کی توقع نہیں کی جاسکتی‘ دیدار الٰہی نصیب نہیں ہوسکتا۔ اپنی حقیقت کے بعد مشیت کی آگہی انسان کو مشیت سے اس طرح وابستہ کردیتی ہے کہ بندۂ مومن کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ بن جاتا ہے اور تقدیر کا راز راز نہیں رہتا‘ احکام الٰہی کی پابندی سے ایک واقعہ بن جاتا ہے۔ خدا کی محبت اس کی اطاعت سے حاصل ہوتی ہے۔ شریعت بھی یہی ہے اور طریقت بھی یہی ہے:
 
جوہرِ زندگی ہے عشق‘ جوہرِ عشق ہے خودی
آہ کہ ہے یہ تیغِ تیز پردگی نیام ابھی
(بال جبریل)
جہاں اور بھی ہے ابھی بے نمود
کہ خالی نہیں ہے ضمیر وجود
ہر اِک منتظر تیری یلغار کا
تری شوخیٔ فکر و کردار کا
(بال جبریل)
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
(بال جبریل)
ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
(ضربِ کلیم)
تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں
ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی
(بال جبریل)
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
(ضرب کلیم)
مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصلِ حیات‘ موت ہے اس پر حرام
(بال جبریل)
یہ خودی کی وہ تصویر ہے جس کے حسن کی مثال دنیا کا کوئی فلسفہ اور سائنس کا کوئی
تصور پیش نہیں کرسکتا:
جمال اپنا اگر خوابِ میں بھی تو دیکھے
ہزار ہوش سے خوشتر ترکی شکر خوابی
(بال جبریل)
 
خدا کے ساتھ خودی کے اربتاط سے انسانیت کے لیے حسب ذیل نتائج رونما ہوتے ہیں:
-1 ابتداً فرد کی شخصیت پر توجہ مرکوز کرنے کے باجود قوت و طاقت کا وہ انفرادیت پسندانہ فلسفہ نہیںابھرتا جو کسی فوق البشر کے نمودار ہونے کا سامان کرے۔ کمزوری کے مقابلے میں طاقت یقینا ایک مرغوب شے ہے اور وسیع ترین معنوں میں قوت کےبغیر زندگی میں کوئی سرگرمی نہیں ہوسکتی‘ لیکن انسان کی طقاقت خود سری اورجبروستم کا راستہ نہیں اختیار کرسکتی‘ اس لیے کہ اس کے اوپر ایک بڑی‘ سب سےبڑی طاقت ہے جو کائنات میں بے خطا اور ہمہ گیر عدل و انصاف کی ضامن ہے‘ خواہ بظاہر اور وقتی طور پر وہ کسی ستم پیشہ جبار کو جتنی مہلت بھی تباہی مچانے کی دےدے‘ مگر وہ اسے ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتی اور بالآخر اسے کیفرِ کردار تک پہنچا کر نمونۂ عبرت بنا دیتی ہے۔ لہٰذا قوت و طاقت کا استعمال اعتدال کے ساتھ اور بہترمقاصد کے لیے ہونا چاہیے۔ ایک باشعور اور باکردار فرد کو ہر قس کی دماغی‘ جسمانی‘روحانی اور اخلاقی قوت کا مجسمہ بننے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ عام انسانیت کی صلاح و فلاح کے لیے ایک ایسی مؤثر جدوجہد کی جاسکے جو تمام مزاحمتوں کا مقابلہ کرکے کاروانِ حیات کو بلند تر منزلوں کی طرف لے جاسکے‘ ورنہ مادی و روحانی اعتبار سے ضعیف و ناتواں افراد و اقوام تنازع للبقا میں شکست کھا کر فنا ہوجاتے ہیں
-2 یہ تنازع بقاء کسی حیوانی ارتقاء کے لیے نہیں ہوتا اور بقاسے اصلح کا مطلب وحشیانہ طاقت کی برتری نہیں ہے۔ دنیا میں ترقی کی اصل کشمکش خیروشر کی قوتوں کےدرمیان ہے۔ یہ دو متضاد عوامل ہر دور میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ اس اخلاقی جنگ کے فیصلے ہی تاریخِ انسانی کی ترتیب و تشکیل کرتی ہیں۔ آدم اور ابلیس کی کشاکش روزِ ازل سے چلی آرہی ہے۔ لہٰذا روئے زمین رزم گاہ خیروشر ہے‘ ایک جائے امتحان ہے‘ جس میں عمل کی آزمائش ہے۔ نیک و بد عملی کا صلہ بھی نیک و بدہوگا۔ قانونِ مکافات نظام قدرت کا ایک جزو ترکیبی ہے۔ خیر زینتِ وجود ہے اور شرننگِ ہستی‘ انفرادی و اجتماعی دونوں قسم کی خودی کا عمل اسی آفاقی صداقت پر مبنی ہوناچاہیے۔
-3 جبروقدر کی بحث لاحاصل ہے۔ دونوں ہی عناصر کا سرچشمہ ذات باری تعالیٰ ہے‘ نہ کہ انسانی۔ جبر غیب کا ایک راز ہے‘ جو کبھی آشکار نہیں ہوسکتا۔ قدر سامنے کی ایک حقیقت ہے‘ جس سے پورا کارخانۂ حیات چل رہا ہے‘ جو ہوچکا وہ تقدیر تھی‘ جو ہوناوالا ہے اس کی تدبیر کرنی چاہیے۔ جو ہورہا ہے اس کو قابو سے باہر سمجھنے کےبجائے اس پر گرفت حاصل کرنے کی فکروکاوش کرنی چاہیے جو کار امروز میںدلچسپی رکھتا اور سرگرمی دکھاتا ہے وہی صاحبِ فردا ہے‘ ورنہ صرف ماضی میںسانس لینے والا آثار قدیمہ سے زیادہ کوئی قدروقیمت نہیں رکھتا۔ زندگی کا قافلہ ٹھہرا ہوانہیںہے‘ چل رہا ہے اور اس کی رفتار نیز رخ کا تعین چلتے ہوئی قدم ہی کریں گے۔باعمل انسان مقدر کی بحث نہیں‘ اس کی تعمیر کرتا ہے۔ یہ مہم احکام الٰہی کی تعمیل سےسر ہوتی ہے‘ نہ کہ تدیر پر تکیہ کرنے سے‘ اس لیے کہ احکام معلوم ہیں اور تقدیرنامعلوم۔ لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ نامعلوم پر ایمان رکھتے ہوئے معلوم کا تعاقب کیا جائے۔
تقدیر خدا کی ہے اور تدبیر خودی کی۔ احکام الٰہی کی پابندی دونوں کے درمیان مطابقت کی بہترین صورت ہے۔ اسی تطبیق سے تقدیر و تدبیر کا وہ نتیجہ خیز اشتراک و تعاونپیدا ہوتا ہے جو حقیقی ارتقاء کا ضامن ہے۔
-4 حالات کتنے ہی خراب ہوں‘ ناامیدی کی کوئی وجہ نہیں۔ زندگی کا اصول رجائیت ہے‘قنوطیت نہیں۔ رحمتِ خداوندی پوری کائنات پر محیط ہے۔ ایک دانا و بینا‘ کریم و شفیق اور عادل و مصنف قوت کارونِ حیات کی نگرانی کررہی ہے۔ قدرت کا کارخانہ ایک تنظیم سے چل رہا ہے‘ مشیت کی ایک حکمت ہے۔ خدا کو ہر چیز کا اندازہ ہے۔ اس کی توجہ ہر ذرّۂ وجود پر ہے۔ اس کے عمل میں توازن ہے۔ ہر شب سے سحر اور خزاں کےبعد بہار وہی پیدا کرتا ہے۔ کوئی شام ایسی نہیں جس کی صبح نہ ہوتی ہو اور کوئی تاریکی ایسی نہیں جس کا پردہ روشنی سے چاک نہ ہوا ہو‘ یہاں تک کہ شر میں بھی خیرکا پہلو مضمر ہوتا ہے ’’خدا شرے برانگیز دکہ خیرِ مادرآں باشد‘‘ یہ گردشِ ایام ہے جوایک قانون مکافات پر مبنی ہے۔ انقلاب زمانہ کا ایک اخلاقی اصول ہے۔ جو فرد یا گروہ اپنی خودی میں بہتر تبدیل کرلیتا ہے زمانے کی کروٹ اس کے حق میں بدل جاتی ہے اوروہ صاحب زماں‘ سوار اشہب دوراں اور مرکب ایام کا راکب ہوتا ہے جس کی خودی جان ندار ہو اس کی آرزو حالات پرغالب آجاتی ہے۔ اس کے ارادے تاریخ کا نقشہ بناتے ہیں۔وہ مشیت کا وسیلۂ کار اور مقصود‘ بامراد اور کامراں ہے۔ تشکیک نہیں‘ یقین کلید حیات ہے:
 
تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوںمیں خدا کی تقدیر
•(ضرب کلیم)
یہ جبر و مہر نہیں ہے‘ یہ عشق و مستی ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہیںجہاں بانی
(ضرب کلیم)
مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں‘ راکب ہے قلندر
(ضرب کلیم)
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(ضربِ کلیم)
حیات و موت نہیں التفرات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود
(ضرب کلیم)
نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک
(ضرب کلیم)
عبث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے
(ارمغان حجاز)
ٹھہرتا نہیں کاروانِ وجود
کہ ہر لحظہ ہے تاسہ شانِ وجود
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی
(بال جبریل)
نہ ہو نو مید‘ نو میدی زوال علم و عرفاں
امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں
(بال جبریل)
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
(بانگ درا)
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیر ملت ہے
(بانگِ درا)
 
مختصر یہ کہ خودی کا نقطۂ اوّل بھی خدا ہے اور نقطۂ آخری بھی وہی۔ انسان رب جلیل کی قدرت سے دنیا میں آیا ہے اور اس کی مشیت کے مطابق آخرت کی طرف سفر کررہاہے۔ اس طرح ازل و ابد کے درمیان وہ کائنات کا سب سے اہم وجود ہے۔ عبدۂ (بندۂ خدا)کا مقام سدرۃ المنتہیٰ (کائنات کی سرحدِ آخریں) تک وسیع ہے۔ عروجِ آدم خاکی معراج النبیؐ کے نقشِ قدم پر ہے۔ انسان کی خودی کے سامنے دو ہی راستے ہیں‘ یا بندۂ خدا بن کر تسخیرِ کائنات کرے یا بندۂ زمانہ بن کر نہایت حقیر و پست اغراض و مفادات کی گدائی کرے:
 
خودی کا سرِ نہاں لا اِلٰہ الا اللہ
خودیی ہے تیغ فساں لا الٰہ الا اللہ
(ضرب کلیم)
ناودک ہے مسلماں‘ ہدف اس کا ہے ثریا
ہے سرِ پردۂ جاں نکتۂ معراج
(ضرب کلیم)
یہ بندگی خدائی‘ وہ بندگی گدائی
یا بندۂ خدا بن‘ یا بندۂ زمانہ
(بال جبریل)
 
انسانی خودی کی تاریخی نمونوں میں حضرت ابراہیمؑ‘ حضرت امام حسینؓ اور حضرت شیخ احمد سرہندیؒ وغیرہ قابل تقلید مثبت مثالیں ہیں‘ جب کہ نمرود‘ فرعون‘ ابوجہل‘ابولہب‘ چنگیز‘ ہلاکو اور ہٹلر وغیرہ لائق احتراز اور منفی مثالیں ہیں۔ اوّل الذکرحضرات تعمیر اور صلاح و فلاح کی قوتیں اور علامتیں ہیں جب کہ ثانی الذکر افراد تخریب اور فساد و نامرادی کی قوتیں اور علامتیں۔ پہلی مثال مرد مومن اور مرد کامل کی ہے جب کہ دوسری مثال فوق البشر بننے والوں اور مسخ شدہ شخصیتوں کی۔ پہلا عنصرخودی کے استحکام اور دنیا کی ترقی کا ہے‘ لیکن دوسرا عنصر خودی کے انتشار اور
آدمیت کے زوال کا ہےخودی کا مرد کامل خیر البشرؐ ہے۔ اس کی شخصیت میں یقینا خدا کی محبت جوہرِ اصلی ہے‘ مگر اس جوہر کو چمکانے اور عالم تاب بنانے والا عنصر اطاعت الٰہی ہے۔ معرفت نفس‘ محبت خالق‘ اطاعتِ خدا اور خدمتِ خلق کی ترکیب سے تسخیر کائنات اور ارتقائے حیات کی راہیں ہموار اور منزلیں سر ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں خیرالبشرؐ اور ان کےاصحابؓ کا تاریخی نمونہ پوری انسانیت کا مشترک ورثہ ہے۔
 عبدالمغنی
++++
 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 1155