donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Sattar
Title :
   Bhai Bahan Me Aisa Pyar Kahan


 
 
بھائی  بہن  میں  ایسا  پیار  کہاں 
 
عبدالستار
 
ولی مینشن  ،  سعد پورہ  قلعہ،  مظفرپور
 
ہم لوگ چار بھائی بہن ہیں۔سب سے بڑی ہماری آپا فرحین پھر دانش بھائی ، اسکے بعدسامعہ اور سب سے چھوٹا میں راشد۔ہم چاروں بھائی بہنوں میں اتنا پیار کہ کوئی بھی ضرب المثل اسے نہیں بتا سکتا۔بڑی آپا کو ہم سبھی پاگلوں کی ڈاکٹر کہتے مگر کسی بھی ہلکی پھلکی بیماری میں ان سے رائے لینابیحد ضروری سمجھتے۔ہم لوگ انہیں پاگلوں کی ڈاکٹر اس لئے کہتے ہیں کیونکہ انہوںنے سائیکلوجی سے پی جی کر نے کے بعد ایک سال کا کلینیکل سائیکلوجی میں ڈپلوما حاصل کرنے کے بعد ایک مقامی ڈاکٹر کے یہاں پریکٹیکل ٹریننگ حاصل کی تھیں جو سائیکیٹک مریضوں کے معالج ہیں۔اسی بناء پر ہملوگ انہیں بڑے وثوق کے ساتھ پاگلوں کی ڈاکٹر کہتے ہیں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ وہ ایک پوسٹ کے لئے امتحان دیکر کامیاب ہو گئیں۔انہیں جو چیمبر ملا اس کے سامنے ہی مِنٹلی ریٹارڈِڈ مریضوںکے علاج کے لئے ایک او پی ڈی تھا۔اب ہمیں خوب مزہ آتا جب ہم لوگ انہیں یہ کہہ کر ستاتے کہ اب اس میں کوئی شبہہ کہاں رہا کہ آپ پاگلوں کی ڈاکٹر نہیں ہو۔ ہم لوگ انہیں پاگلوں کی ڈاکٹر کہتے جس کا وہ کبھی برانہیں مانتیں۔اس طرح خاندان کا تمام ہم عمر انہیں پاگلوں کی ڈاکٹر کہتے۔ ہم لوگ کتنا بھی چڑھا لیں کیا مجال جو وہ ذرا بھی برا مان جائیں۔
 
ان کی نوکری کرنے سے انہیں کتنا فائدہ پہنچا یہ تو پتہ نہیں لیکن ہم سبھوں کے لئے تو جیسے لاٹری ہی نکل آئی۔اس خوشی کی ایک الگ وجہ تھی ۔ہماری آپی کو کسی فضول چیزوں کا شوق نہیں تھا۔نہ  ا ِ سنولگاتیں نہ پائوڈر نہ غازہ ہی ملتیں۔صرف نفیس کپڑا پہنتیں۔اس میں کتنا خرچ ہوگا  ؟ سارا کاسارا روپیہ بچ جاتا۔اس میں ہم لوگ ہر ماہ اپنا شیئرمانگتے ۔ دانش بھائی کہتے  ’’  تم کس کے لئے کماتی ہو ؟ روپیہ اگر بینک کے اکا ئونٹ میں رہا تو سرکار کی نظروں میں آجائے گا۔وہ اسے کالا دھن سمجھ کر اس جمع رقم کواگر نکال لے گئی تو تمہارا ہارٹ ہی فیل ہو جائے گا۔اس لئے مجھے سو پچاس دیتی رہو۔  ‘‘
 
سامعہ بھی ان کے ساتھ ہو جاتی۔وہ تو پوری طرح لپٹ ہی جاتی۔ ’’ کہتی بھائی جان ٹھیک کہہ رہے ہیں۔اگر سرکار نے اسے کالادھن نہیں بھی مانا تو کیا ہوا ؟  تمہاری شادی ہو گئی تو اتنی موٹی رقم دیکھ کر میرے نوشہ بھائی غش ہی نہ کھا جائینگے۔کہیں گے کہ آپ بہت کنجوس ہو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا نہ خودکھایا نہ ہم بچوں کو کھلایا۔روپیہ کی جمع خوری کر دی جو قانوناًجرم ہے۔اس لئے ابھی سے تھوڑا تھوڑا دیتی رہو۔ ‘‘
 
  میری آپا خوب ہنستیں ۔ جب ہم لوگ خوب تنگ کر کے تھک جاتے اور وہ ایک پیسہ بھی نکالنے کے لئے راضی نہ ہوتیں تو ہم لوگ تھک کر چپ ہو جاتے تب ہماری آپی کا پیار امڈ آتا اور کہتیں ’’  لے آئو میرا پرس لیکن کسی کو دس روپیہ سے زیادہ نہیں دونگی۔ ‘‘ سبھی ایک ساتھ کہہ اٹھتے  ’’   نہیں چاہئے تمہارے دس روپئے۔آج کل تو فقیر بھی دس روپئے نہیں لیتے  ‘‘۔آخر کہتے سنتے ہم لوگوں کو   ۵۰۔۵۰  روپئے مل ہی جاتے۔ہم لوگ ان کو تھینک یو  ،  تھینک یو کہتے خوشی خوشی نکل جاتے۔
 
ایک اور مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ اگر کسی وجہ سے ہم بھائی بہنوں میں سے کوئی اکیلا ان سے روپئے لے لیتا تو ہم لوگوں کو اس کا پتہ ایک دو روز کے بعد چل ہی جاتا ۔ پہلے ہم میں سے کوئی انہیں فون پر اطلاع دیتا کہ آپ نے بہت بڑی نا انصافی کی ہے کہ آپ نے فلاں کو  ۵۰ روپئے دئے ہیں اب آپ کو    penalty  لگے گی ڈبل سے کم میں ہم لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔وہ کہتیں کہ  ’’  ہم نے تو تاکید کر دی تھی کہ کسی کو کان و کان خبر نہ ہو مگر میں یہ کیا سُن رہی ہوں‘‘۔ہم لوگ کہتے ’’  یہ سب نہیں سنونگا  ،  فون کا بھی چارج وصولا جائے گا۔‘‘جب وہ اپنے میڈیکل کالج سے لوٹ آتیںاور ہم لوگ بھی اپنے کالج اور اسکول سے آجاتے تو ہڑبونگ مچانے کے لئے ان کے کمرے میںٹوٹ پرتے ۔ یہاں پر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے کمرے میں سیدھے کسی کو داخل ہونے نہیںدیتیں۔کہتیں باہر رہو مگر ہم لوگ کہتے جرمانہ وصولنے کے لئے یہیں آنا ضروری ہے ، آپ نے ایسا کیوں کیا۔بھائی جان کو  ۵۰  روپئے دے دئے اور ہم لوگوں کو گول کر گئیں۔وہ کہتیں  ’’  نہیں تو  ،  تمہیں غلط خبر ملی ہے۔میں نے تو اسی شرط پر اسے  ۵۰  روپئے دیئے تھے کہ و ہ کسی سے نہیں کہے گا۔  ‘‘
 
  ’’  لو  دیکھو   !   چوری پکڑی گئی‘‘  ۔تھوڑی دیر نوک جھونک ہوتی اور پھر سبھوں کو  ۵۰  ۔  ۵۰  روپئے نکال کر دیتیں۔جب کبھی شاپنگ کے لئے ہم لوگ مارکیٹ جاتے تو وہاں خوب مزے ہوتے۔پہلے وہ کہتیں جو کچھ کھانا ہے کھالو۔جب ہملوگ تیار ہو جاتے تو کہتیں  دس   دس  روپئے سے زیادہ کا نہ ہونے پائے۔مگر ہم لوگ دس روپئے میں کہاں ماننے والے تھے  ،  ۲۵  سے  ۵۰ روپئے تک فی کس ہو جاتا۔ خوب نخرے کے بعد خود ہی روپئے نکال کر دے دیتیں۔جب شاپنگ مکمل ہو جاتا اور تھیلا ہلکا بھی رہتا تو کہتے کہ اتنی خریداری کر لی ہو اسے لے جانے کے لئے مزدور بھی نہیں ملے گا۔ نکالومزدوری ورنہ یہ سارا سامان بیچ راستے میں ہی گرا دونگا۔اسی طرح لڑتے جھگڑتے ہم لوگ گھر پہنچ جاتے۔گھر آتے ہی کہتے ’’   جلدی کرو کتنا وزن گھٹ گیا ہے ہمارا ، تمہارے سامان کا وزن اُٹھاتے اُٹھاتے  ‘‘۔ہماری باتوں پر مسکراتیں اور کچھ نہ کچھ نکال کر دیدیتیں۔کہتیں  ’’  یہ مزدوری نہیں تمہارے پیار کی فیس ہے۔کہتیں ’’  مزے کرو  ‘‘۔ 
 
تہوار کا تو الگ ہی مزہ ہوتا۔ہم لوگ ہر ایک تہوار کو عید کی طرح ہی مناتے۔حتیٰ کہ یوم عاشورہ کے دن بھی تہواری لیتے۔
 
ہم لوگوں نے آپی سے رقم لینے کیلئے  گیارہویں  ،  بارہ وفات  ،  شب ِ  معراج  ،  شبِ برائت  ،  ۲۶  جنوری  ،  ۱۵  اگست  اور  دو  اکتوبر کے لئے بھی پیسے وصولنا نہ بھولتے۔ ہم لوگوں نے اسے میشن  ’   لوٹ   ‘     نام دے رکھا ہے ۔
 
ہم سبھی جتنا کھیل کود کرتے اتنی پڑھائی بھی کرتے۔ ہماری محنت واقعی رنگ لائی۔ بھائی جان    +2امتحان میں  87  %    نمبر لاکر D U    میںداخلہ لے چکے ہیں  ،  (اس وقت وہ امیٹی میں لا کے پہلے سال میں ہیں اور اچھا کر رہے ہیں) سامعہ آپی دسویں میں  C G P A -10   میں اپنا مقام بنا چکی ہیں اورساتھ ہی IIT  کا فارم بھر چکی ہیں اور جم کر تیاری کر رہی ہیں،  اب مجھے بھی محنت کرکے اپنا مقام بنانا ہے۔   
 
دن گذرتے گئے اور اس وقت سامعہ آپی بنگلور میں کمپیوٹر سائنس میں انجننئرنگ کر رہی ہیں اور بہت دور چلی گئی ہیں،بھائی جان امیٹی میں اپنی پڑھائی کر رہے ہیں،میں ہی اکیلا آپی سے کچھ نہ کچھ وصولتا رہتا ہوں لیکن وہ مزہ نہیں آتا۔خوشی کی بات یہ ہے کہ آپی کی شادی ہو گئی ہے اور اب وہ کناڈا جانے والی ہیں۔ہم سبھوں نے آپی سے وعدہ لیا ہے کہ تم جب کناڈا چلی جائوگی تو یہ حساب اسی طرح چلتا رہے گا لیکن اب سب کچھ ڈالر میں دینا ہوگا کیوںکہ نوشاہ بھائی کو ڈالر میں تنخواہ ملتی ہے۔زیادہ نہیں سو دو سو ڈالر ہمارے اکائونٹ میں بھیجتی رہنا۔پیار سے بولتیں  ’’  جائو  جائو   !   بڑے آئے ڈالر میں عیدی لینے والے   !  ‘‘ 
 
 ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
 
 09835666622 /09852953733
Abdus Sattar
 
 Wali Mansion,
Saadpura Qila,
Muzaffarpur-842 002
 
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 359