donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Adil Faraz
Title :
   Urdu Afsana Forum : Aik Taarufi Note

اردو افسانہ فورم :ایک تعارفی نوٹ


 عادل فراز


    جہاں تک ممکن ہوسکا میںنے اس سلسلے میں تحقیق کی کہ آخر سوشل میڈیا پر اردو افسانہ کی ترقی و ترویج کے سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ کیا اقدامات کئے جارہے ہیں نتیجہ یہ نکلاکہ سو شل میڈیا پر آن لائن اردو افسانہ کی ترقی و ترویج اور نوجوان قلمکاروں کو افسانہ نگاری کی ترغیب کے لئے سب سے مقبول اور اہم فورم ’’ اردو افسانہ فورم ‘‘ ہے جسے غالبا ۲۰۱۰ میں راوی کے ایڈیٹر اور معروف افسانہ نگار ابرار مجیب نے شروع کیا تھا ۔فی الوقت اس فورم پر سیکڑوں افسانہ نگار ،ناول نگار اور محققین موجود ہیں ۔اردو کے نامور ادیب اور عظیم تخلیق کار اس فورم پر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ورنہ آجکل ادباء کو اپنے ستائشی قصیدے سننے اور لکھوانے سے ہی فرصت نہیں ہے ۔اس فورم کی بڑی خاصیت یہ ہے کہ تنقید بے لاگ ہوتی ہے لیکن تنقید کو آلۂ جراحی کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ۔یوں بھی معاصر عہد میں قاری کا ٹوٹا ہے اگر کوئی اپنی تخلیق کے لئے قاری تلاش کرلے تو یہ فنکار کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے ۔فورم پر نہ صرف ذہین اور با صلاحیت قاری موجود ہیں بلکہ ایسے قاری بھی ہیں جنکی کئی تصانیف موجود ہیں اور وہ خود ذہین اور باصلاحیت تخلیق کار ہیں ۔یوں بھی آجکل نئے افسانہ پر بات نہیں ہوتی ہے چالیس پچاس سال کے لکھنے والوں کو نیا کہکر پیش کیا جارہا ہے انکی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن نیا افسانہ جن امکانات کی تلاش میں ہے اور معاصر افسانہ سے نئے افسانہ کی جو انفرادیت ہے اس پر مذاکرہ کی ضرورت ہے یہ کمی کسی حد تک فورم پر دور ہوتی نظر آتی ہے ۔نئے افسانہ پر معاصر تخلیق کار (جنکی عمر چالیس سال سے تجاوز کرچکی ہے )صحت مند تنقید کرتے ہیں اور تعمیری رویوں کو پیش نظر رکھا جاتاہے اکثر ایسی بحثیں معرض وجود میں آتی ہیں جنہیں ادبی جرائد میں ڈسکس ہونا چاہئے لیکن ادبی جرائدیا تو تعلق نوازی میں مصروف عمل ہیں یا ادبی پروپیگنڈہ کے ترجمان بن کر رہ گئے ہیں (کچھ جرائد اس گند گی سے پاک ہیں اور نئے اقدامات کررہے ہیں )لہذا وہ ادبی جرائد جو افسانہ فورم کی تخلیقات کو اپنے صفحات پر زینت بخشنے کا کام کرتے ہیں وہ ان مباحث کو ڈسکس کرسکتے ہیں جیسا کہ ’’ثالث ‘‘ میں ایک مذاکرہ اس ضمن میں شائع بھی ہوا ۔  

    ابتدا میں اس فورم پر صرف چند فنکار اپنی تخلیقات پیش کرتے تھے جن پر باقاعدہ بحث و مباحثہ ہوتا تھا کیونکہ ۲۰۱۰ میں سوشل میڈیا کا اتنا چلن نہیں تھا جتنا کہ فی الوقت ہے لہذا اس وقت اس فورم پر بھی وہی لوگ موجود تھے جو جدید ٹیکنالوجی سے فوراخود کومنسلک کرلیتے ہیں ۔آہستہ آہستہ افسانہ فورم ایک قبیلے کی شکل اختیار کر گئی ۔کئی ملکوں کے لکھنے والے فورم سے جڑتے گئے اور آج عالم یہ ہے کہ ہر روز درجنوں افسانہ نگار اپنے افسانے پیش کرتے ہیں جن کا مطالعہ کرنے کے بعد سیکڑوں لوگ اپنی رائے بھی دیتے ہیں ۔ابرار مجیب ہی اس فورم پر اچھے ایڈ منز کو لیکر آئے جن میں وحید قمر اہم ہیں ۔وحید قمر خود ایک اچھے افسانہ نگار ہیں جنکی تخلیقات ہندو پاک کے علاوہ دیگر ممالک کے اردو جرائد میں اہتمام سے شائع ہوتی رہتی ہیں ۔وحید قمر کی کوششوں سے فورم کی ایڈمنز میں نورالعین ساحرہ بھی شامل ہوئیں جنکی ذہانت اور خلاقیت کی بنا پر فورم میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ فورم کے ذمہ داران میں افشاں بخاری ،زبیر سیاف اور مریم ثمر شامل ہیں جنکی انتھک کوششوں کے نتیجہ میں فورم دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ فورم کے بنیاد ی مقاصد میں ایک اہم مقصد تھا سوشل میڈیا پر اردو افسانے کی ترویج و ترقی نیز نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ذہنی آبیاری ۔فورم اپنے اس بنیادی مقصد میں بڑی حدتک کامیاب ہے کیونکہ کئی نام ایسے ہیں جو پہلی بار فورم پر متعارف ہوئے اور آج کئی اہم جرائد اور اخبارات میں وہ لکھ رہے ہیں ۔اگر ان پانچ سالوں میں اردو افسانہ فورم نے ادب کواچھا لکھنے والے صرف پانچ نئے افسانہ نگار بھی دیے ہوں تو میرے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے ۔

    ابرار مجیب کے مشورے کے بعد ۲۰۱۳ میں فورم پر پہلا افسانوی میلہ منعقد ہو ا جس میں پوری دنیا سے تقریبا ۰۱ افسانہ نگاروں نے شرکت کی جو اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے ۔ہر سال کئی افسانوی نشستوں کا اہتمام فورم کی جانب سے کیا جاتاہے جس میں مہتممین اپنی مصروفیات کو پس پشت ڈال کر افسانہ نگاروں کے موضوع کی مناسبت سے بینر بھی خود ڈیزائن کرتے ہیں جوا اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔

اس فورم پر پیش کئے گئے افسانوں کو کئی اہم جرائد اپنے صفحات پر زینت بخشتے ہیں جن میں ’’ راوی ‘‘ ’’ ثالث‘‘’’ در بھنگہ ٹائمز ‘‘’’ ابجد ‘‘ ہندوستان سے ’’ احساس ‘‘ جرمنی ’’ جگنو ‘‘پاکستان اور ویب سائٹ عالمی پرواز ڈاٹ کام پر پیش کئے جاتے ہیں ۔   اس اقدام سے ایسے نئے لکھنے والے جو ادبی پروپیگنڈہ کی وجہ سے رسائل و جرائد میں شائع نہیں ہوپاتے یا جنکے پاس اپنی تخلیقات کی اشاعت کے لئے کسی کا سفارشی خط نہیں ہوتا انکے افسانے اہتمام سے شائع ہوتے ہیں اور اس طرح نیا ٹیلینٹ نکھر کر سامنے آرہاہے ۔اس فور م نے گذشتہ چند سالوں میں جدید عہد کے تقاضوں کے مطابق اردو افسانے کی ترویج و ترقی کے لئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں اور فورم پر یونیورسٹیز کے اساتذہ ،جرائد کے ایڈیٹر ز کہنہ مشق افسانہ نگاروں اور محققین کو مدعو کیا تاکہ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقات نوجوان نسل کی رہنمائی کے  لئے پیش کریں اس طرح وہ تخلیق کار جو اچھی تحریریں پڑھنے کے لئے ترستے تھے انہیں اس فوم کے توسط سے اچھی تحریریں پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں ۔فورم پر ہندوستان و پاکستان کے علاوہ بر صغیر کے اہم لکھنے والے موجود ہیں جن میں کچھ اہم نام یو ں ہیں فرخ ندیم ،قیصر نذیر خاور ،اقبال حسن آزاد ،پیغام آفاقی ،نعیم بیگ ،اقبال حسن،الیاس دانش ،رحمٰن عباس ،اسلم جمشید پوری ،اختر آزاد اور ایسے ہی ڈھیروں نام فورم پر فعال رہتے ہیں ۔ان کے علاوہ خصوصی افسانوی نشستوں کے اہتمام کے موقع پر اہم فنکاروں کو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ فورم پر ادبی ماحول برقرار رہے نیز افسانوں پر تعمیری تنقید بھی ہوتی رہے ۔کچھ صاحبان نظر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب سوشل میڈیا تخلیق کا ر کی فکری جہات متعین کریگا اور فورم پر کی جارہی تنقید ادب کا رخ پھیر سکتی ہے ؟ظاہر ہے ایسے معترضین ابھی سوشل میڈیا کی اہمیت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے ہیں ۔سوشل میڈیا جب عالمی پیمانے پر ملکوں کی سیاست میں اور ہر شعبۂ ہائے زندگی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے تو پھر ادب میں کیوں نہیں ؟

 ۔سوشل میڈیا پر اردو افسانہ میلہ یا افسانوی نشستوں کا اہتمام پہلی بار اسی فورم پر ہوا جو آج بہت ترقی کرچکا ہے ۔اس فورم کو اپنی انفرادیت اور کارناموں کی بنا پر عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی اور آج ہر اس ملک میں جہاں اردو زبان بولنے والے موجود ہیں کچھ نا کچھ لوگ اس فورم کا حصہ ہیں ۔نشست کے موقع پر روز آنہ کم از کم دو افسانے وال پر پیش کئے جاتے ہیں تاکہ قارئین پر بوجھ نہ بن جائے ۔افسانوں کا بغور مطالعہ کیا جاتا ہے جسکی دلیل وہ تجزیہ اور تبصرے ہوتے ہیں جو افسانہ کی پرتیں کھول کر اسکی خوبیوں یا کمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔آج کا المیہ یہ ہے کہ لوگ بغیر ادب کا مطالعہ کیے تنقید لکھتے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ تخلیق کی اہمیت و افادیت پر بات نہیں ہوپاتی بلکہ وہ تحریریں بھی سر سر ی ہوتی ہیں ۔اسکے شواہد ہماری اردو تنقید ی کتابوں میں کثرت کے ساتھ موجود ہیں ۔آج سیمیناروں کا یہی حال ہے کہ اگر کسی کے فن پر بات ہوتی ہے تو مقالہ نگار اپنی تحریروں میں اندازوں پر گفتگو کرتاہے بہت کم ایسے لکھنے والے موجود ہیں جو واقعی پڑھ کر فن پر تنقید کرتے ہیں ۔

         اس وقت اردو افسانہ فورم پر ’’عالمی افسانہ نشست 2015 ‘‘ کا آغاز ہوچکاہے ۔روزآنہ نئے افسانے وال پر پیش کئے جارہے ہیں اور تنقید و تبصرے کو مثبت رویے سامنے آرہے ہیں اگر کوئی حد اعتدال سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتاہے تو فورم کے ایڈمنز فوراََ متحرک ہوجاتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں اداکرتے ہیں تاکہ فورم بھی ہماری تنقیدی کتابوں کی طرح تعصب اور جانبداری کا شکار نہ ہو۔ بہر حال قابل مبارکباد ہیں ’’اردو افسانہ فورم ‘‘ کے ایڈمنز جنکی جانفشانیوں اور کوششوں کی بنا پر آج افسانے کے مخلص قارئین کو ایک جگہ اتنا مواد دستیاب ہوتاہے ۔

                اے مرے کاسہ گر دہر عجب ہے یہ طلسم

                روز ایک رنگ نیا خاک سے ایجاد کرے

(یو این این)

**********************


                                            

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 933