donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Afshan Naved
Title :
   Ke Khoone Sad Hazar Anjum Se Hoti Hai Sehar Paida

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
 
…افشاں نوید…
 
وہی ہوا ناں، جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے! وہ خبر بریکنگ نیوز بنی۔ پھر خبر نامے میں شامل ہوئی، اگلے دن اخباروں کی شہ سرخی بنی اور پھر وقت کی دھند میں کہیں غائب ہوگئی…! ہاں یہ جان کا نذرانہ کوئی فوجی پیش کرے تو شہید کہلاتا ہے نشان حیدر سے نوازا جاتا ہے، کبھی ستارہ جرأت یا ستارہ امتیاز سے۔ قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔ سڑکیں شہداء کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں۔ یادگاری ٹکٹ جاری ہوتے ہیں۔ ہر سال برسی پر خصوصی پروگرام ہوتے ہیں۔ زندگی کی یادوں پر دستاویزی فلمیں بنتی ہیں۔ یہ تو ہیں بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ اور زندہ قوموں کی زندہ اقدار! ہم کو اب سازندوں، گلوکاروں، اداکاروں کی برسیاں اس انداز میں مناتے ہیں کہ ان کے اہل خانہ کو یہ دن یاد ہو نہ ہو، مختلف چینلز ان اداکاروں کے رقص دکھاتے رہتے ہیں سارا دن۔ گلوکاروں یا فلمسازوں کی فلموں کی کوششیں کرکے انتہائی عریاں مناظر اسکرین کی زینت بنائے جاتے ہیں۔ نورجہاں کی برسی پر ان کی فلموں کے جو سین دکھائے جاتے رہے ایک حسرت دل میںپیدا ہوئی کہ کاش وہ بتا سکتیں کہ آج کے دن قبر میں ان پر کیا گزر رہی ہے۔
 
یاد منانا اصل میں ایصال ثواب کی شکل ہے۔ ہمارا میڈیا ایصال عذاب کے درپے رہتا ہے۔ خیر اس ثواب وعذاب پر نہ ہم بات کرسکتے ہیں نہ اللہ کے معاملات میں بندے بشرکو بہت گمان کرنے کی ضرورت… ضرورت ہے تو اپنے اجتماعی رویوں پر اظہار ندامت کی کہ ہم ’’بڑے لوگ‘‘ کسے کہتے اور سمجھتے ہیں ہماری قدرحانی اور حوصلہ افزائی اور تشکر کے پیمانے کیا ہیں…؟ کوئی بڑی صاحب اثر شخصیت جن کے ہاتھوں اجتماعی فلاح وبہبود کے کچھ کام انجام پائے ہوں ہم کس طرح ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں لیکن صرف ایک عشرہ ہوا ہے اس واقع کو۔ ہم 18 کروڑ پر مشتمل قوم میں سے کون جانتا ہے کہ سمیعہ نور کون تھی…؟ کیا قربانی دی ہے اس نے…؟ اس لیے کہ یہ تو معمولی سی خبر تھی کہ ’’گجرات اسکول وین کے حادثے میں ایک استانی بچوں کو بچاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی۔‘‘ بات اتنی ہی چھوٹی ہے…؟ اتنی ہی غیر اہم ہے۔ اسی طرح فراموش کیے جانے کے قابل ہے…؟ پھر ہم کہتے ہیں اس قوم میں ’’ہیروز‘‘ کا فقدان ہے۔ دراصل ہمارے ہیروز کے پیمانے مختلف ہیں۔ کسی کھاتے پیتے گھرانے کے منچلے نوجوان کی کوئی گانوں کی البم… منظر عام پر آجائے تو ہر چینل پر اس کی قدر افزائی ہوگی۔ وہ اسکالرز کے انداز میں، دانشورانہ لب ولہجے میں کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوں گفتگو 
 
کرے گا جیسے اس سے بڑا کام کبھی روئے زمین پر کسی نے کیا ہی نہیں۔ ایک تیسرے درجے کی غیر مصروف گلوکارہ کی حال ہی میں شادی کے فوری بعد شوہر سے ناچاتی ہوگئی تو میڈیا نے اس کی شادی کی ویڈیوز سے لے کر علیحدگی تک کی خبریں یوں نشر کیں اور ان دونوں کو بار بار Live چینلز پر لیا گیا ان کے ایک دوسرے کے بارے میں تاثرات جانے گئے کہ جیسے اب 18 کروڑ لوگ فالتو گھروں میں بیٹھے ہیں، دوسروں کے ہنگاموں اور خانگی زندگی کے مسائل شیئر کرنا ہی اس بے کار قوم کا سبب سے پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ایک ٹینس کے کھلاڑی کی ٹوئیٹر پر بیوی سے ناراضگی کی خبر کیا چل گئی کہ تمام میڈیا تحقیق میں پڑگیا اور جگہ جگہ دونوں خاندانوں کا پیچھا کیا گیا کہ اہل خانہ کو دھمکی دینا پڑی کہ میڈیا ان کے خانگی معمالات میں مداخلت نہ کرے ورنہ وہ انتہائی کارروائی کریں گے۔ المختصر بات ہے ہمارے حسن کرشمہ ساز کی بلکہ میڈیا کے حسن کرشمہ ساز کی۔ کہ چاہے خرد کا نام جنوں رکھ دے اور چاہے تو ایک نقطہ میں محرم سے مجرم بنادے…!
 
کیا کسی چینل نے سمیعہ نور کو آئیڈیل بنا کر پیش کیا کہ ایسے ہوتے ہیں ہیروز جن پر قومیں فخر کرتی ہیں۔ سمیعہ نور کی عمر بھی خواب دیکھنے کی تھی۔ خوابوں کی تعبیروں کے سپنے تو اس کی آنکھوں میں بھی سجے ہوں گے وہ بھی جینا چاہتی تھی۔ زندگی پر اس کا بھی حق تھا اور زندگی کسے دوبارہ ملتی ہے؟ لیکن اصل زندگی تو وہی زندگی ہے جو زندگی کی قدر پہچانتی ہے۔ کتنا آسان تھا کھڑکی سے کود کر جان بچانا… اور اس کی تو جان بچ بھی گئی تھی۔ مگر اسے کب گوارا تھا کہ وہ ننھے شاگرد اس کے طالب علم اس کی آنکھوں کے سامنے چیختے چلاتے رہیں، مدد کو پکارتے ہیں ننھی زبانیں… بابا …بابا… امی …ا می… کہتی ہوئی خاموش ہوگئیں۔ موت کو گلے لگالیتی رہیں۔ اس نے موت سامنے دیکھتے ہوئے بھی محاذ نہ چھوڑا، فرار کی راہ اختیار نہ کی، لپکتے شعلوں سے لڑتی رہی بچوں کی جان بچانے کی آخری سانسں تک کوشش کرتی رہی۔ ان شعلوں سے نہ لڑسکی۔ مگر بہت کچھ عبرت کے درس ہمارے لیے چھوڑ کر گئی… ہاں ہم جانتے ہیں کہ سمیعہ کہ اسلام میں انسانی زندگی کی کتنی قیمت ہے ایک انسان کو بچانا انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ تم نے ان معصوم بچوں کی جان بچاتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ یوں لگ رہا ہے کہ چہار سمت تمہاری روح بے چین پھر رہی ہے ہر اک سے سوال کررہی ہے کہ ‘‘کیوں نہیں جانتے، انسانی جان کی حرمت‘‘؟ تمہیں پتا ہے اس ہفتہ پھر ڈرونز حملوں نے کتنی معصوم جانوں کے چراغ حیات گل کردیے۔ سمیعہ ہماری بستیوں میں اب بھی خاک وخون کا کھیل جاری ہے۔ کل بھی کراچی میں 12 معصوم شہری ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہوگئے۔ تم نے تو شعلوں سے کھیل کر انسانی جانیں بچانے کی تگ ودو کی۔ ہم تو خود اپنی دھرتی کو لہو رنگ کررہے ہیں۔ کل بھی پسنی میں فائرنگ سے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کرّم ایجنسی میں جن جھڑپوں کی خبریں آج اخبار میں لگی ہیں ان میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جہاں زندگی اتنی ارزاں ہو اور موت اتنی آسان۔ اس دیس میں اپنی جان دے کر تم نے انسانی زندگی کی حرمت کا سبق دیا ہے تم نے اپنا فرض پورا کردیا… تم نے اپنا فرض ادا کردیا۔ تم پر کتابیں نہ بھی لکھی جائیں، حکومت تمہاری خدمات کا اعتراف نہ بھی کرے پھر بھی تم ہزاروں دلوں میں زندہ ہوگی۔ عزم بن کر، حق کی پکار بن کر، اور ایک بے حس معاشرے کے لیے للکار بن کر سلام ایسی موت پر جو دوسروں کو حیات کا درس دے گئی ہو۔ تم جس مٹی میں آرام کی نیند سو رہی ہو ہم سب اس مٹی کے مقروض ٹھیرے…
 
 
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 650