donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Alam Naqvi
Title :
   Hain Jhamake Ajab Maani Ke

 

’’ہیں جھماکے عجب معانی کے‘‘

 


عالم نقوی

شاہ حسین نہری کو پڑھتے ہوئے وہی لطف حاصل ہوتا ہے جو میرؔ ،مومنؔ ،داغؔ ،آرزوؔ ،میرانیسؔ ،رشیدکوثرؔ فاروقی یاکلیمؔ عاجز کو پڑھنے سے ملتا ہے۔ جو بات جوشؔ کے لیے کہی جاتی ہے وہی شاہ حسین نہری پر بھی صد فی صد صادق آتی ہے کہ الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے مؤدب کھڑے رہتے ہیں کہ جیسے چاہے مجھے استعمال کرلو ؂

سنو! اوقات جانو اپنی، بارش میں 
ذرا کاغذ کی کشتی چھوڑ کر دیکھو!
ہیں آنکھیں، پھوٹ بہنے دو خشیّت سے
کہ یہ کچّے ہیں مٹکے پھوڑ کر دیکھو
ہیں جھماکے عجب معانی کے 
لفظ مجھ سے مجاد لے میں ہیں

یہ اشعار ہما شما کو نصیب نہیں ہوتے۔ ہوہی نہیں سکتے ؂

ایں سعادت بزور بازو نیست

شاہ حسین نہری کو ہم اپنے انقلاب کے دنوں سے جانتے ہیں لیکن بالمشافہ ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے حسرتِ دید ہنوز برقرار ہے۔ وہ ایک فطری شاعر ہیں لیکن تاریخ گوئی میں انھیں جو کمال حاصل ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ آوُرد میں بھی آمد کا حسن او رتاثیر پیدا کردینے پر قادر ہیں۔ ان کی ایک اور خصوصیت جو ہمارے نزدیک سب سے زیادہ اہم ہے وہ ایک اچھا شاعر ہونے کے ساتھ ان کا ایک سچا مخلص باعمل اور دیندار انسان ہونا ہے۔ ہمارایہ تأثر ان کے اہل خانوادہ اور اہل اورنگ آباد کے بیانات پر مبنی ہے۔ ہم گزشتہ بیس بائیس برسوں میں چارپانچ مرتبہ اوررنگ آباد گئے ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی ان کے بارے میں کبھی کسی سے کوئی منفی بات نہیں سنی۔ دوسروں سے ان کے بارے میں صرف کلمات خیر ہی سنے۔ اور یہ بہت بڑی بات ہے۔

ہمارے سامنے اس وقت ان کی چارکتابیں ہیں ’’شب آفتاب، سامان تسکین، گلبدن کی یاد میں اور میرے گلشن کے پھول۔‘‘’سامانِ تسکین‘ حمدو مناجات و نعت و منقبت کا مجموعہ ہے۔’ گلبدن کی یاد میں ‘وہ رباعیات ہیں جو انھوں نے اپنی مرحومہ صاحبہ گلبدن بانو کے لیے کہیں کچھ ان کی زندگی میں اور کچھ ان کے پردہ کرجانے کے بعد۔ ’میرے گلشن کے پھول‘ میں ان کی بچوں کے لیے کہی گئی سبھی نظمیں شامل ہیں۔ یہ کتاب اس لیے بہت اہم ہے کہ فی زمانہ شعراء و ادباء نے بچوں کے لیے کہنا اور لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ کوئی دوسرا حامد اللہ افسرؔ اور مولوی اسمٰعیل میرٹھی توخیر پیدا ہی نہیں ہوا لیکن کوئی اقبال، ڈاکٹر ذاکر حسین ، ظ انصاری بھی نہیں ہوا کہ جنھوں نے اپنے اپنے میدانوں کے شہ سوار ہونے کے باوجود بچوں کے لیے لکھنا بھی اپنے لیے واجب جانا۔ فی زمانہ رام پور مالیگاؤں اور ممبئی سے بچوں کے کچھ اچھے رسالے نکل تو رہے ہیں لیکن ان کی بقا بذات خود ایک مسئلہ ہے کیونکہ اپنے بچوں میں پڑھنے کا ذوق پیدا کرنے کی ذمہ دار نسل خود اردو سے بے بہرہ ہے۔ عظیم آباد (پٹنہ) کے ادیب وصحافی ڈاکٹر آصف ریاض نے جو ریاضؔ عظیم آبادی کے نام سے زیادہ مشہور ہیں جلد ہی بچوں کے لے ایک رسالہ کھلونا ڈائجسٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد بچوں کو ٹی وی ،موبائل اور انٹر نٹ کے عذاب سے باہر نکالنا ہے۔ اللہ ان کے ارادوں میں برکت دے۔ 

88صفحات پر مشتمل ’’میرے گلشن کے پھول‘‘ میں کل 37نظمیں ہیں جن میں دو خوبصورت لوریاں بھی ہیں(لوری اس نظم کو کہتے ہیں جو مائیں اپنے شیرخواروں کو سلانے کے لیے گاتی ہیں) اس مجموعے کی بیشتر نظمیں آسانی سے یاد ہوجانے والی ہیں۔ جنھیں نرسری رائمس(Nursary Rhyms)کی جگہ بچوں کو یاد کر ایا جا سکتا ہے۔ 

اگرچہ شب آفتاب کی وجہ تسمیہ کے لیے انھوں نے اپنا ہی یہ شعر لکھا ہے کہ ؂


اک تسلسل یہ دن رات دور حیات
ہے،پہ سائے سے ہے، شاہؔ ! شب آفتاب
مگر سہیلؔ کاکوروی نے کتاب کانام پڑھ کے یہ شعر سنایا ؂
تابہ بیند آسماں دَرنیم شب
آفتابِ آشکارا ساعتے
ان کے فرزند۔ ’شاہزاے‘فرید نے اپنی عالمانہ تقریظ میں لکھا ہے کہ شاہ صاحب کم عمری ہی میں ممتا کے کریم اور شفقت بھرے سائے سے محروم ہوگئے تھے۔ یہی بے بس محرومی ضبط غم بن گئی اور احساس کی شدّت لاشعور کی پہنائیوں میں جذب ہوتی رہی۔ جب یہ جذبات و احساسات شعر میں ڈھلے توان کا بنیادی استعارہ ’شب‘ کی شکل میں روشن ہوا۔ اس شب کو انھوں نے ’آہنگ‘کی کثیر معنوی کہکشاں میں ڈھالا اور 1979میں شائع ہونے والے اپنے پہلے شعری مجموعے کا نام ’’شب آہنگ‘‘ رکھا۔ پھر 1999میں دوسرے شعری مجموے میں ’’شب تاب‘‘ اشکوں کی کیفیت یوں اجاگر ہوئی کہ ؂

رکھتے ہیں جو آنکھوں کے کنارے شب تاب
اے شاہ!وہی قلب سہارے شب تاب
ہے ان میں چمک مجھ سے تو مجھ میں ان سے
آنسو ہیں مری آنکھ کے تارے شب تاب

یوں تو کوئی صنف سخن شاہ حسین پر بند نہیں لیکن غزل اور رباعی دونوں میں ان کی شب تابی اور شب آفتابی کے جوہر کم وبیش ہر شعر اور ہر رباعی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس دوہے میں بھی ؂

ضدی بچہ مجھ میں اِک
ظاہر ہنس مکھ شاد
دل ہی دل میں روئے ہے
کرکے ماں کو یاد

شب آفتاب کے 240صفحات میں ایک حمد 103غزلیں 16نظمیں جن میں 3پابند اور 13آزاد ہیں، 84رباعیاں 6ثلاثیاں 29دوہے اور 6شخصی مرثیے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ شاہ حسین نہری اردو کے زندہ جاوید شاعروں کی صف میں ایک ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ 

نقادان ادب و شعررشید کوثر فاروقی کی طرح بھلے ہی ان کو بھی نظر انداز کیوں نہ کرتے رہے ہوں لیکن اردو کی اچھی اور بڑی شاعری کی تاریخ ان سے صرف نظر نہیں کر سکتی ان کے جوہر سنگلاخ زمینوں، مشکل ردیفوں اور مختصر بحروں میں کھلتے ہیں جہان بلاغت فصاحت اور قادر الکلامی اس شاہِ سخن کے سامنے دست بستہ کھڑے نظر آتے ہیں ؂

لفظ سادہ سے روز مرہ کے 
اور اسلوب، ساحری والا

ذرا حمد کے اس شعر میں قدرتِ کلام ملاحظہ ہو ؂
پاؤں یہ چلتے رہیں
ہو نہ پاؤں پائمال

(پہلے مصرع کا پاؤں بہ واوِ مجہول اسم ہے اور دوسرے مصرع کا بہ واوِ معروف فعل!)

اور یہ نعتیہ دوہا بھی ملاحظہ ہو:

نور زمین وآسماں،رب وہ اپنا نور
پیارے نبیؐ نے شاہ جی،رب سے پایا نور
قلی قطب شاہ کی ایک مشہور زمین ؂
پیا باج پیالہ پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
میں شاہ حسین نہری کے دوشعر دیکھئے ؂
بیاں اپنا دکھ اب کیا جائے نا
بیاں کے بنا بھی جیا جائے نا
مسرت ملے دیکھنے کی اسے
تصور بھی جس کا کیا جائے نا

چھوٹی بحروں میں شاہ جی کے کچھ غیر معمولی اشعار ملاحظہ ہوں ؂

شاہ چلو ہو جائیں شکار
کون لگائے بیٹھے گھات
منھ میں زباں نہ چاہیے
گر چاہیے ہے عرض حال
منزلیں مار چل کہ ہر منزل
آخری راستہ نہیں ہوتی
راہ دیکھوں گا اس کے آنے کی 
یا گھڑی آئے جاں سے جانے کی
ترک عادات بھی تو عادت ہے
عادتوں سے پرے رہا کیجئے
رات نے خواب سے شکایت کی 
کن خیالوں میں دن گزارا ہے؟
آج کے خواب مجھ سے کہتے ہین
کل کی تجھ کو امید ہونا ہے
یہ قصہ، باپ اپنے باد شہ تھے
حقیقت میں کہانی ہوگیا ہے
آدمی زمانے بیتے
آدمی بَنَا کہاں ہے
راستہ پُر گریز کیوں ہے
دھوپ سے چھاؤں تیز کیوں ہے
معنویت کے پر جھٹک کر
لفظ خالی لسانیہ ہے
شاہِؔ ! بالو اسطہ نہ ہوگر
شعر بے دم بیانیہ ہے
لمس ہر دم مگر نظر سے دور
یہ ادا اس کی یا صبا کی ہے
صورت گر نورانی ہے
باطن کی سلطانی ہے
مجبوری ہے جھوٹا راگ
مختاری انسانی ہے
جھٹپٹے تک آگئی ہے
جال گلے تک آگئی ہے
نارسائی ہوتے ہوتے
حوصلے تک آگئی ہے

’’تھوڑی ہے‘‘ ،ہماری زبان کا ایک پر لطف روز مرہ ہے لیکن شعر میں اس کا ویسا ہی استعمال شاذو نادر ہی نظر آتا ہے ۔ لیکن’تھوڑی ہے‘ ردیف میں۔ شاہ حسین نہری کے یہ اشعار پڑھیے اورسردُھنیے ؂

 

بے خودی کا خمار تھوڑی ہے
شاہ بادہ شعار تھوڑی ہے
یوں ہی اس رہ گزر پہ بیٹھا ہوں
یہ کوئی انتظار تھوڑی ہے
حسینِ خوبی کی ہے نگہبانی
گل کے پہلو میں خار تھوڑی ہے
شاہ رہتا ہے دور، سچ ،لیکن
دوستوں سے فرار تھوڑی ہے

شاہ حسین نہری کا مشکل پسندی کا وصف اختیاری ہے لیکن کیا مجال جو کبھی بارِ خاطر ہوجائے ؂

خود فروشی کی گرم بازاری
جاں سپاروں کی ہو کہاں سے مانگ
ہم فقیروں سے کیا الجھنا ،جا
سرکی کھونٹی پہ اپنی ٹوپی ٹانگ
عمل کی جب بھی کوئی ناپسندیدہ سی شکل آئے 
تو مفتی قلب کا محسوس کرتا ہے کھٹک اکثر
آگ کے ہیں بان اور تم زد پہ ہو 
شاہ! جل جاؤگے، دیکھو، لوٹ جاؤ!
قرض چکتا ہی نہیں وقت کے احسانوں کا
چند لمحات جو پائے بھی تو ٹھہرے کتنے؟
چاند تاروں کی کمک لے کے بڑھی آتی ہے
رات بھر رات مچلتی ہے سویرا کرنے
مسافتوں سے ہمیں کیا، کہ وہ تو ہوتی ہیں
نصیب ہم کو ارادہ وغیرہ ہے، سچ ہے
بھلا احسان کا بدلہ سوا احسان ہے بھی؟!
جیے جانا فقط لفظوں میں، شکر انہ نہیں ہے
وہاں جینا سدا دیدار کی آسودہ چشمی
یہاں سے مر کے جانا، شاہ! مرجانا نہیں ہے
ہے شدّت درد کی اتنی کہ بے خوابی وغیرہ ہے
نہیں ہے آہ وزاری تو سمجھ داری وغیرہ ہے
اذیت کا بھی اپنا اک مزہ ہے شاہ جی! دیکھو
کہ اس باعث کسی کی لطف ارزانی وغیرہ ہے!

شاہ حسین نہری کو پڑھنے کے بعد ان سے ملنے کی آرزو اور توانا ہوگئی ہے کہ ہم بھی یہ کہہ سکیں کہ ہم نے شاہ حسین کو دیکھا ہے ۔بلاشبہ وہ بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن پر ادب کی تاریخ خود فخر کرتی ہے۔

سید محمد عالم نقوی
گروپ ایڈیٹر روزنامہ ’اودھ نامہ‘ لکھنؤ


*********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 529