donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Aleem Khan Falki
Title :
   Saikron Chahiye Darkar Nahi Sirf Aik Amal Darkar Hai


سینکڑوں ‘‘چاہئے’’ درکار نہیں،  صرف ایک عمل درکار ہے

 

میں ان تمام مشیر حضرات کا مشکور و ممنون ہوں جن سے میں نے فیس بک، ایمیل گروپ اور واٹس اپ پر قوم کی ترقی کیلئے ‘‘چاہئے’’ پر مشتمل مشورے مانگے تھے اور کسی نے مجھے مایوس نہیں کیا سینکڑوں کی تعداد میں ‘‘چاہئے’’ سے نوازا۔ یہ ہونا ‘‘چاہئے’’ اور وہ ہونا ‘‘چاہئے’’ لیڈروں کو یہ کرنا ‘‘چاہئے’’ جماعتوں کو وہ کرنا ‘‘چاہئے’’ وغیرہ ۔ اگر میں نے ‘‘چاہئے’’ کے ساتھ کچھ زرِ تعاون یا وقت مانگا ہوتا تو مجھے ایک بھی ‘‘چاہئے’’ نصیب نہ ہوتا۔ لیکن الحمدللہ میں ڈھیروں ‘‘چاہئے’’ سے مالامال ہوگیا۔ مگر میں حیرت میں ہوں کہ قوم میں ایسے بڑے بڑے دانشور، غریب و خستہ حال سہی لیکن امیر ترین د ماغ کے مالک موجود ہوتے ہوئے آج قوم سیاسی، سماجی اور اخلاقی طور پر اتنی غربت و افلاس کا شکار کیوں ہے۔

آپ نے دیکھا کہ فکری میٹرنٹی ہوم میں ‘‘چاہئے’’ کی ڈیلیوری کتنی آسان ہے۔ ہزاروں اس کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ چاہے وہ گھر کا دیوان خانہ ہو کہ چائے خانہ، خطبہ ہو کہ سیمینار، مقالہ ہو کہ مضمون۔ لیکن جب اس ‘‘چاہئے’’ کو پالنے پوسنے اور بڑا کرنے کا تقاضہ سامنے آتا ہے تو پھر کوئی نظر نہیں آتا۔

‘‘چاہئے’’ ایک ایسی غیر شعوری بیماری ہے جس نے امت کے شعور کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ یہ ایک قاتل وائرس ہے۔ جیسے ہی آپ امت کے کسی مسئلے پر سوچنا شروع کرتے ہیں یہ وائرس فوری دماغ میں داخل ہوتا ہے اور اِس کو اُس مسئلے کے حل کے بجائے یہ سوچنے میں مشغول کردیتا ہے کہ اس مسئلے کا ذمہ دار کون ہے، اس کا علاج کس کو کرنا ‘‘چاہئے’’ اور کس کو مورودِ الزام ٹھہرایا جانا ‘‘چاہئے’’۔ پھر آپ کے دماغ میں بے شمار ‘‘چاہئے’’ بھنبھنانے لگتے ہیں ،

جیسے حکومت کو فوری یہ کرنا ‘‘چاہئے’’،

مسلمانوں کو یہ کرنا ‘‘چاہئے’’،

امریکہ، اقوامِ متحدہ اور عربوں کو یہ کرنا ‘‘چاہئے’’ وغیرہ
۔ چونکہ یہ سب آپ کے بس میں نہیں ہوتے کیونکہ قوم کی ترقی اور انقلاب کیلئے کروڑوں کی رقم، ہزاروں افراد اور سیاسی طاقت درکار ہوتی ہے جو کہ آپ کے بس سے باہر ہے، لہذا آپ ‘‘چاہئے’’ ‘‘چاہئے’’ کو تولد فرما کر ساری ذمہ داریوں سے بری ہوجاتے ہیں۔اور ایک اچھے مسلمان کی طرح دعا کرکے رضائی کھینچ کر سوجاتے ہیں۔ اسطرح یہ ‘‘چاہئے’’ آپ کو غفلت کی نیند سلا دیتا ہے۔ سو کر اٹھنے کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ حالات تو اس سے بھی بدتر ہوگئے جو سونے سے پہلے تھے لہذا پھر سے ‘‘چاہئے’’ کی ڈیلیوری کا دور چلتا ہے

۔ اسی ‘‘چاہئے’’ کے وِرد میں لوگ ساری عمر گزار دیتے ہیں۔ بچے پیدا کرنے، بڑا کرنے، ایک فلیٹ کے بعد دوسرا فلیٹ خریدنے، بچوں کی شادیوں پر لاکھوں لٹانے کیلئے کیا کرنا چاہئے کس بنک سے کتنا پیسہ نکالنا ہے یہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ کس طرح کمانے لئے دوڑ دھوپ کرنی ہے آپ کو معلوم ہے۔ لیکن قوم کو ذلت سے باہر نکالنے کیلئے آپ کے پاس ‘‘چاہئے’’ بنک کی چیک بُکس ہیں جو آپ دریا دلی سے پھاڑتے رہتے ہیں۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ اردو مررہی ہے تو فوری آپ نے ایک چیک کانگریس یا بی جے پی کے نام یا اردو اکیڈیمی کے نام پھاڑ دیا کہ ان کو سرکاری طور پر یہ کام کرنا ‘‘چاہئے’’۔ مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں آپ کے پاس مسلم لیڈروں اور جماعتوں کے نام کے چیک ہیں ۔ مذہبی اور مسلکی منافرت کو ختم کرنے کیلئے آپ فوری مدرسوں ، علما اور مشائخین کے نام پر ‘‘چاہئے’’ کا چیک پھاڑدیتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے پاس دعاوں اور وظیفوں کے چیک بک ہیں۔ مودی کو ہرانے دعاوں کے چیک پھاڑ پھاڑ کر فیس بک اور واٹس اپ پر پھیلاتے رہے، اور کبھی غازا اور فلسطین کے بچوں کو اوباما اور اسرائیل کے خلاف پڑھنے کیلئے وظیفوں کےچیک بھیجتے رہے۔

ایسا کیوں ہے؟ ایسا اس لئے ہورہا ہیکہ آج سارے لیڈر، دانشور، علما، مفتی، خطیب، مفکر و مصلح سارے کے سارے ‘‘چاہئے’’ کی ایک ہی لئے میں لن ترانی کررہے ہیں۔ ان کے کسی بھی جلسے یا مذاکرے میں جایئے، گھنٹوں کی انتہائی دلچسپ، جذباتی اورغیر منطقی شعلہ بیانیوں کے بعد جو حل سامنے آتا ہے وہ یہ کہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ دینی ‘‘چاہئے’’۔ چونکہ عوام ایسے مشوروں سے خوش ہوجاتی ہے اور خوب تالیاں بجا کرزندہ آباد اور نعرۂ تکبیر سے داد دیتی ہے اسلئے یہ سوال اٹھنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے کہ گھنٹی باندھے گا کون؟ پھر مقرّرین اگلے دن اخبارات میں اپنی تصویریں دیکھ کر پھولے نہیں سماتے۔

صدیوں سے چلے آرہے اس کینسر کو اگر آپ نے ختم کرنا ہو تو اس ‘‘چاہئے’’ کو دفن کیجئے، اور آج سے اپنا رویہ بدلئے۔ ‘‘چاہئے’’ کی جگہ ‘‘آپ کیا کرسکتے ہیں’’ یہ بتایئے ۔ ہمیں عمر شریف کے مزاحیہ ڈرامے کا ایک سین یاد آرہا ہے۔ اُسکی لڑکی کی شادی کیلئے ایک امید وار انٹرویو کیلئے آتا ہے۔ عمر شریف پوچھتا ہے کہ ‘‘میری لڑکی کیلئے آپ کیا کرسکتے ہیں؟’’۔ وہ کہتا ہے کہ ‘‘میں اُس کےلئے آسمان سے تارے توڑ لاسکتا ہوں، پہاڑوں کو کاٹ سکتا ہوں، ہواؤں کا رُخ پھیر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔’’ عمر شریف اُس کے سر پر ایک دَھول رسید کرتا ہے اور کہتا ہے ‘‘ لفّاظی بند کر اور کام کی بات کر، جو کرسکتا ہے وہ بتا، کیا ہفتہ میں ایک بار اُسکو باہر لے جا کر کِھلا سکتا ہے؟ تنخواہ لا کر اُسکے ہاتھ میں دے سکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔’’۔ اسی طرح آپ ‘‘چاہئے’’ کی لفّاظی کرنے کے بجائے اپنی استطاعت میں کیا ہے اُس کی بات کیجئے۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو مرنے تلک اس انتظار میں بیٹھے رہنا ہوگا جب کوئی دروازے پر آکر دستک دے گا کہ ‘‘حضور، انقلاب آچکا ہے، اب تشریف لایئے’’۔ نہ ایسا وقت آئیگا نہ کوئی دستک دے گا ہاں لوگ آپ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے قبرستان تک ضرور آئیں گے۔ یا تو ‘‘چاہئے’’ کو دفن کیجئے یا پھر خود کے دفن ہونے کا انتظار کیجئے۔

کرنے کے کام

مثال کے طور پر ایک چھوٹے سے نمونے پر غور فرمایئے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ دنیا جھوٹوں سے بھری ہوئی ہے۔ حدیث میں تو یہ فرمایا گیا کہ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے جھوٹا نہیں ہوسکتا لیکن بدقسمتی سے 99% مسلمان جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے ساری دنیا میں ہماری ذلت کی داستانیں سنائی دے رہی ہیں۔ اگر ہم یہ سوال کریں کہ اس جھوٹ کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے تو بے شمار ‘‘چاہئے’’ مچھروں اور مکھیوں کی طرح چلے آئیں گے۔ جیسے

دینی تعلیم عام ہونی ‘‘چاہئے’’
اولاد کی اچھی تربیت کرنی ‘‘چاہئے’’
پہلے علما کو خود ایک مثال بننا ‘‘چاہئے’’
اللہ اور آخرت کا خوف دل میں جاگزیں ہونا ‘‘چاہئے’’
دنیا کی محبت کو دل سے نکالنا ‘‘چاہئے’’

عزیزو، یہ تمام ‘‘چاہئے’’ غیر منطقی اور احمقانہ ہیں۔ ان کھوکھلی نصیحتوں میں نہ اپنا وقت برباد کیجئے اور نہ دوسروں کا ۔ کام کی بات کیجئے۔ دنیا سے جھوٹ ختم ہوسکتا ہے یا نہیں اس کی فکر چھوڑیئے جھوٹ کو مٹانے آپ کیا کرسکتے ہیں یہ بتایئے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ٹرائیل کے طور پر صرف ایک ہفتہ کیلئے جھوٹ چھوڑ سکتے ہیں؟
کیا آپ جھوٹ سے متعلق کچھ مواد جمع کرکے پانچ دس منٹ بیان کرسکتے ہیں؟ اگر بیان کرنا نہیں آتا تو کیا اس کی مشق نہیں کرسکتے؟

کیا ایک دو صفحے لکھ کر اپنے بیوی اور بچوں کو یاد دلاسکتے ہیں؟
کیا ان کو اسی بیان کولے جاکر دوسرے قریبی لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی تربیت نہیں کرسکتے؟

کیا اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ مل کر پہلے ایک ہفتہ پھر ایک مہینہ پھر ایک سال کیلئے جھوٹ چھوڑنے کی مشق کرسکتے ہیں؟

کیا کچھ پیسے خرچ کرکے اس موضوع پر کچھ سی ڈی، کیسٹ، پمفلٹ بنواسکتے ہیں؟

کیا علما اور خطیبوں کو کچھ نذرانہ دے کر اس موضوع پر کچھ بیان نہیں کرواسکتے؟

ان کے بیان میں بڑا دم ہوتا ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ وہ فاتحہ، عرس و میلاد وغیرہ کی تائید یا مخالفت میں تقریروں کے ذریعے کس طرح عوام میں ہیجان برپا کردیتے ہیں۔ کیونکہ اُن کو اسکے بدلے لفافے ملتے ہیں۔ بغیر لفافے کے کوئی شخص بھی کام نہیں کرتا ۔ لفافوں میں بڑا دم ہوتا ہے۔ پولیس والے ہوں کہ سیاستداں، عالم و مرشد ہوں کہ عوام ۔ لفافوں کا پٹرول پی کر وہ ناسا کے راکٹ سے زیادہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ کیونکہ ان کے بھی بیوی بچے ہوتے ہیں، ان کو بھی گھر چلانا ہوتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ اپنے بیوی بچوں کیلئے تو اپنا سارا مال محفوظ رہے لیکن قوم کیلئے دوسرے فی سبیل اللہ کام کریں یہ ناممکن ہے۔ فی سبیل اللہ آپ کیجئے اور لفافے دے کر لوگوں کی صلاحیتوں کو استعمال کیجئے۔ پھر دیکھیئے انشااللہ کم از کم آپ کے خاندان اور دوستوں سے جھوٹ ختم ہوسکتاہے۔ سارے ملک سے کیسے دور ہوگا اِس کا فارمولہ ہم مضمون کے آخر میں بتائیں گے۔

یہ تو تھی انفرادی اخلاقی اصلاح کی ایک مثال۔ اب آیئے اجتماعی معاشرتی اصلاح کی بات کریں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ امت کیسے کیسے مسائل سے گزر رہی ہے۔ اتحاد و اتفاق کا فقدان، غربت، جہیز، جہالت، تعلیم کی کمی ، مذہب و مسلک و عقیدوں کی جنگ، دشمنانِ اسلام کی ریشہ دوانیاں، خود مسلمان سوسائٹی میں ہیومن رائٹس اور ویمنس رائٹس کی خلاف ورزی، اخلاقی گراوٹ، گھریلو تشدد، مسلمانوں میں شراب، سود، فحاشی، گھریلو تشدد، نئی نسل میں بے حیائی اور گمراہی، اسلام کی غلط ترجمانی، مردوں کی پدرشاہی کے نتیجے میں عورتوں میں بڑھتے ہوئے تانیثی رجحانات، مخالف اسلام میڈیا، وغیرہ وغیرہ

اگر آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ کسطرح ان مسائل کا سدباب کرنا ‘‘چاہئے’’ تو لاکھوں ‘‘چاہئے’’ ایک ہی دن میں جمع ہوجائیں گے۔ لوگ خود کیا کرسکتے ہیں یہ کوئی نہیں بتائے گا لیکن دوسروں کو کیا کرنا ‘‘چاہئے’’ یہ سب بتائیں گے۔ سارے تماش بین اور مبصرین کا رول ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اگربستی میں آگ لگ جائے تو فوری بالٹی اور پانی لانے کیلئے بھاگنا نہیں چاہتے۔ بلکہ فوری فوٹوز لے کر سوشیل میڈیا پر ڈال کر فائر بریگیڈ والوں کو کیا کرنا ‘‘چاہئے’’ یہ مشورے دے سکتے ہیں یا تنقیدیں کرسکتے ہیں۔

عزیزو، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ انقلاب کس طرح آسکتا ہے۔ آپ اگر قوم کو ان تمام ذلتوں سے باہر نکالنا چاہتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک محاذ کو لیجئے جس میں آپ کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے۔ مثال کے طور پر اگر امت میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتے بعد میں آئیں گے پہلے آپ کو کچھ کرنا ہوگا۔ اتحاد پیدا کرنے کیلئے ‘‘اتحاد پیدا کرو اتحاد پیدا کرو’’ کا وظیفہ بند کرکے کوئی ایسی مہم شروع کرنی ہوگی جس کا تعلق ہر ایک سے ہو۔ یاد رکھئے اتحاد راست نہیں آتا بالراست آتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ محاذ کونسا اختیار کرتے ہیں۔ آپ انسدادِ جہیزیا محلے کے غریب بچوں کی تعلیم، یا طلاق اور کشیدہ تعلاقت کو ختم کرنے کیلئے کونسلنگ یا شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کو محلے یا گاؤں سے ختم کرنے کی مہم شروع کیجئے۔ان میں ہر مسلک اور ہر مذہب کا گھرانہ ملوّث ہے اسلئے ہر ہر شخص آپ کی بات سُنے گا۔

اگر فرض کیجئے آپ جہیز کو مٹانے کی مہم شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے آ پ کو ان تمام شادیوں میں شرکت کے بائیکاٹ کا اعلان کرنا ہوگا جن میں جہیز کا لین دین ہوگا۔ آپ کا اعلان چند لوگوں کے خلاف اعلانِ جنگ کا کام کرے گا لیکن اکثریت آپ کو سراہے گی۔ پھر آپ اپنے خاندان اور دوستوں کو اس بائیکاٹ کو عام کرنے کیلئے تیار کیجئے۔ پانچ پانچ دس دس منٹ کی تقریر اور تحریر تیار کیجئے ، اپنے خاندان اور دوستوں کو یاد کروایئے۔ علما اور واعظوں کو استعمال کیجئے جیسے کہ اس سے پہلے ہم نے عرض کیا۔ کتابیں اور پمفلٹ تقسیم کیجئے۔ سوشیل میڈیا کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیجئے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ جہیز کو مکمل ختم کرسکیں لیکن یہ ممکن ہے کہ ان تمام جہیز لینے والوں اور دینے والوں کے ضمیر پر آپ ایک ایسا کانٹا چبھا سکتے ہیں جو ان کو ایک شرمندگی اور پراگندگی کے احساس کے ساتھ زندہ رہنے پر مجبور کردے گا۔ ایک بحث کو پیدا کرکے سارے معاشرے میں بے چینی پیدا کرسکتے ہیں۔ اس سے آج نہیں تو کل فائدہ ہوگا۔ ان بھکاری دلہوں کے بچے جب بڑے ہونگے تو ان کے دل میں اس وقت خیال آئیگا اور یہ آج کی غلطی کا ازالہ کل بچوں کی شادیاں بغیر جہیز کی کرکے کفارہ ادا کرینگے۔

دعوتوں میں شرکت کرکے خوب پیٹ بھر کھاکر سادگی اختیار کرنا ‘‘چاہئے’’ کی بکواس نہ کیجئے۔ اگرسادگی کو عام کرنا مقصود ہے تو بائیکاٹ ناگیزیر ہے۔ یا تو یہ کیجئے یا پھر موت تک انتظار کیجئے کہ جہیز کا خاتمہ ہو اور لوگ آپ کو آکر اطلاع دیں تب آپ بائیکاٹ کا ارادہ کریں لیکن وہ وقت نہیں آئیگا۔ یہ توقع نہ کیجئے کہ جو کام آپ نہیں کرسکے وہ کوئی اور کرے گا۔ آپ کی قوم اگر ذلیل سے ذلیل تر ہوتی جارہی ہے تو آپ کو کیا۔ آپ اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی اسی طرح کیجئے جسطرح زمانہ کررہا ہے۔

یہ تو صرف دو مثالیں تھیں۔ آپ کے ذہن میں بے شمار تعلیمی، سماجی، سیاسی
اور دینی مسائل ہوسکتے ہیں۔ آپ دیکھیئے آپ کے پاس اور آپ کے سرکل میں کتنے لوگ ہیں، کتنا پیسہ جمع ہوسکتا ہے۔ کتنے لوگ وقت دے سکتے ہیں۔ ہمیں
مطلع کیجئے ہم آپ کو پلان بتائیں گے۔

آخری بات ؛

آپ جس میدان میں بھی کام کریں۔ اس سے پورے ملک میں انقلاب ہرگز نہیں آسکتا۔ مشکل سے .001% میں ہی انقلاب آسکتا ہے۔ اس کو ایک لاکھ سے ضرب دیجئے (1,00,000 x .001 = 100%) اگر بیس کروڑ مسلمانوں میں سے صرف ایک لاکھ افراد ہی اپنے اپنے طور پر کچھ کرنے کا بیڑہ اٹھالیں تو 100% انقلاب ممکن ہے۔ کیونکہ جب لوگ کچھ کرنے کیلئے سچے دل، خلوص اور للہیت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو دعائیں اور وظیفے ضرور رنگ لاتے ہیں تب آسمان سے فرشتے بھی ضرور نازل ہوتے ہیں۔

اس کے لئے دو ہی شرطیں ہیں۔

۱۔ کام خود شروع کیجئے یا کوئی آپ کے پسندیدہ کام کو کررہے ہوں تو ان کا ساتھ دیجئے۔ اور پہلے اپنے خاندان اور محلے پر کام کیجئے

۲۔ وقتِ واحد میں ایک ہی کام کیجئے۔ کئی کاموں میں اپنی توجہات اور توانائیاں برباد کرنے سے بہتر ہے صرف ایک کام پر دن رات محنت کیجئے اور دوسرے کاموں کیلئے دوسروں کو ترغیب دیجئے۔

اگر آپ واقعی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟


Dr. Aleem Khan Falaki
Socio-Reforms society
aleemfalki@yahoo.com


**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 596