donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ataullah Bokhar Alig
Title :
   Naat Goi

نعت گوئی
 
عطا اللہ بخار علیگ
 
 
 
نعت گوئی جتنی نازک ہے اتنی ہی سنگین بھی ہے۔ اگر ذرا سی لغزش بھی ہوجائے تو آخرت خراب ہوجاتی ہے بلکہ ایمان تک خطرے میں پڑجاتا ہے۔ چنانچہ اس موضوع پر لکھنا اتنا ہی نازک اور سنگین ہے جتنا نعت گوئی۔ تاہم میں اس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے لغزشوں سے پاک فرمائے اور معاف فرمائے۔
 
نعت گوئی کا جائزہ اگر آرٹ، فن یا سائنس سے لیا جائے تو ریختی، فحاشی، عریانی اور دوسرے موضوعات بھی زیر بحث آئیں گے۔ لیکن قطع نظر ان سے، نعت کے معنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے ہیں، خواہ نثر میں ہو یا شعر میں۔ ابن قدامہؔ کے نزدیک بہترین وصف شعار شاعر وہ ہے جو اپنے شعر میں ان اوصاف کے اکثر حصے لائے جن سے موصوف مرکب ہے۔ اس کے بعد وہ اوصاف اس قسم کے ہوں جو موصوف میں زیادہ نمایاں ہیں اور اس کے ساتھ زیادہ خصوصیت رکھتے ہوں۔ لیکن ابن ِ رشیقؔ نے جو تعریف کی ہے وہ بہت جامع ہے۔ یعنی بلیغ ترین وصف وہ ہے جو کان کو آنکھ بنادے۔ گویا نعت کے معنی یوں تو وصف کے ہیں، لیکن مجازاً صرف حضرت محمد مصطفیؐ کے وصف محمود و ثنا کے لیے ہوا ہے، جس کا تعلق دینی احساس اورعقیدت مندی سے ہے۔ لہٰذا اسے خالص دینی اور اسلامی ادب میں شمار کیا جائے۔
 
اگر نعتیہ شاعری پر دوسری اصناف ِسخن کی طرح بحث کی جائے تو پھر اس راستے پر چلنا بہت مشکل ہوجائے گا جو اسوۂ حسنہ اور اسوۂ صحابہ کرامؓ تک پہنچ سکے۔ بلکہ ریختی، غزل، مثنوی، واسوخت اور ان تمام اصناف ِسخن کو فلسفہ اور یونانی منطق نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے، انھیں راستوں پر بھٹکنا پڑے گا۔
ان تمام منطقیانہ اور فلسفیانہ طریقوں کو چھوڑ کر صرف قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت عبدیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شرف کی زیادتی صرف وصف عبدیت کے کمال پر ہے۔ رشتہ عبدیت اللہ سے جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر شرف بھی بڑھتا جائے گا۔آپؐ کا یہی کمالِ عبدیت ہے۔ بلکہ حاصلِ کمال عبدیت ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بزرگانِ خدا کی عظمت کے مقابلے میں آپؐ ساری مخلوق میں یکتا ہیں، بلکہ محبوبیت میں بھی یکتا ہیں اور مقامِ محمود آپؐ کو حاصل ہے۔ لیکن بزرگانِ الٰہی کے مسئلے میں فہمِ انسانی نے اکثر دھوکا کھایا ہے اور معبودیت میں عبدیت کو سمودیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ، حضرت عزیرؑ، نیز حضرت علیؓ وغیرہم کے باب میں مخلوق اسی کج فہمی میں مبتلا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف صاف فرمادیا ہے: ’’پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکتوں نے، تاکہ دکھائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے‘‘ (القرآن (17/1
 
اللہ تعالیٰ نے ہم پر ایک ایسا نبیؐ بھیجا ہے جو ہمہ صفت ہے۔ وہ ایسا رسولؐ ہے جسے تم خود بھی جانتے ہو۔ اس کی فضیلت سے بھی واقف ہو۔ اس کے امین ہونے پر یقین رکھتے ہو۔ اگر ہم انفسکم کے ف کو بالفتح پڑھیں جیسا کہ بعض نے پڑھا ہے تو معنی ہوں گے کہ وہ رسولؐ جو تم میں افضل ترین، بلند ترین، اشرف ترین ہے۔ آپؐ کے وصف میں یہ مدح انتہائی یعنیSuperlative  ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں آپؐ کو کچھ ایسی صفات بخشی ہیں جو ہر شخص کو نہیں بخشی گئیں۔ کہیں بالمؤمنین رئوف الرحیم کہا اور کہیں لقد من اللہ علی المومنین۔ ان بعث فیہم رسولاً من انفسکم یعنی احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسولؐ انہیں میں کا‘‘ (القرآن 59/3)۔ ایک اور جگہ فرمایا: ھوالذی بعث فی الامیئین رسولاً منہم۔ اور کما ارسلنا فیکم رسولاً منکم یعنی اللہ وہی ہے جس نے اٹھایا اَن پڑھ میں سے رسولؐ انہیں میں کا۔ جیسا کہ ہم نے بھیجا تم میں رسولؐ تم میں کا۔ یہ چند مثالیں قرآن کریم سے پیش کی گئی ہیں ورنہ رسول کریم کے بے شمار اوصاف ہیں جن کا احاطہ انسان کے بس میں نہیں۔ ان قرآنی مثالوں سے بات واضح ہے کہ رسولؐ انسان اور اللہ کے بندے ہیں اور تمہی میں سے ہیں۔ لیکن عبدیت کے اس اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں جس کو رسالت اور نبوت کہتے ہیں۔ پھر بھی یہ ضروری نہیں کہ کوئی کتنا ہی عبدیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو مگر نبوت اسی کو ملتی ہے جس کو اللہ یہ منصب عطا کرتا ہے، عبدیت کا اعلیٰ مرتبہ ہی نبوت کے لیے ضمانت نہیں ہے۔
 
لہٰذا نعت گوئی میں اوصاف ِرسولؐ اور اسوۂ رسولؐ ہی پیش نظر رہنے چاہئیں اور فکر و عمل میں اتباع رسولؐ ہی معیار ہونا چاہیے۔ لیکن نعت گو شعراء نے نعت گوئی میں جو مبالغہ آرائیاں کی ہیں اور غلو کی حدوں کو بلکہ صفات ِ الٰہی کو بھی پامال کردیا ہے، ان پر وہ خود کتنا ہی نازاں اور خوش ہولیں اور دوسروں کی داد و تحسین پر کتنا ہی گھمنڈ کرلیں مگر اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ اس کے غیظ و غضب کے کس قدر حق دار ہوں گے۔ اگر نعت گوئی میں مسلمان شعراء کا وہ طریقہ رہا جو قرآن لکھنے، پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے میں اسوۂ رسولؐ اور حدیث ِرسولؐ پیشِ نظر رہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ نعت گوئی ذریعہ نجات نہ بنے۔ اگر نعت گوئی کو ایک فن اور آرٹ کی حیثیت سے استعمال کیا جائے یا پرکھا جائے تو اس سے بڑی حماقت اور گمراہی کوئی نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ نعت گوئی میں ضروری ہے کہ نعت گو شعراء جب نعت ِ رسولؐ پر قلم اٹھائیں تو قرآن، حدیث اور اسوۂ رسولؐ کو اپنی فکر کا سرچشمہ بنائیں اور نعتیہ شاعری کے لیے وہ حصہ اخذ کریں جو قابل عمل ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تعریف و توصیف نہ کی جائے بلکہ اس پر عمل بھی ضروری ہے، کیونکہ آرٹ کی حیثیت سے صرف نشست ِالفاظ، برجستگی، رعایت ِالفاظی وغیرہ جیسی چیزیں ہی زیرِ بحث آسکتی ہیں۔ شاعر اپنے فنِ شاعری اور الفاظ کی کاریگری تو دکھا سکتا ہے یا اپنے الفاظ سے ہر مصرعہ کا مطلب کچھ سے کچھ دکھا سکتا ہے لیکن عمل کے لحاظ سے کاغذ بالکل سادہ ہی رہے گا اور شاعر دوزخ کی آخری منزل پر ہوگا۔
 
اس میں شک نہیںکہ نعتیہ شاعری میں شاعروں نے بڑے بڑے کمالات اور فن کے نمونے دکھائے ہیں۔ رعایات ِالفاظ اور بڑی خوبیاں دکھائی ہیں۔ شاعرانہ لطافتوں اور خیال پروازیوں کو آسمانوں کی آخری حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت و نبوت سے اٹھاکر اللہ تعالیٰ کی مسند پر بٹھادیا ہے۔ لیکن اس دور میںکچھ شاعر اسوۂ رسولؐ اور اوصاف ِرسولؐ تو اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں لیکن اسوۂ رسولؐ پر نہ خود عامل ہیں، نہ دوسروںکو ترغیب دیتے ہیں۔ ایسے بے شمار شعراء موجود ہیں جو نعتیہ شاعری بڑے والہانہ انداز سے کرتے ہیں لیکن جب عمل دیکھو تو عمل سے خارج ہیں۔
 
برصغیر پاک و ہند میں نعتیہ شاعری کے اندر جو دہریت اور غیر اسلامی نظریات وخیالات پائے جاتے ہیں وہ سب مجوسی شعراء عجم سے لے کر آئے۔ اور جب فاتح کی حیثیت سے مسلمان ہندوستان میں مقیم ہوگئے تو مسلمانوں کے شاعرانہ افکار و نظریات میں ہندی اثرات اس قدر مرتب ہوئے کہ عربی و فارسی ادب بھی اس کے سامنے پھیکا پڑنے لگا۔ ہندی ادب میں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی کشش تھی اور وہ یہ کہ ہندو عورت کی طرف سے عشق و محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یعنی ہندی ادب میں عورت عاشق اور مرد معشوق ہوتا ہے۔ اور یہاں تک عاشق ہوتی ہے کہ جان بھی قربان کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں عورت بیوہ ہوجانے کے بعد یا تو ستی ہوجاتی ہے یا زندگی بھر شادی نہیںکرتی۔ مگر اسلام میں یہ طریقہ نہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہندی شاعری نے خصوصاً نعتیہ شاعری پر ملحدانہ اور مشرکانہ اثرات زیادہ ڈالے جن پر صوفیاء کرام قوالیوں کی دھنوں پر سردھنتے ہیں۔
 
اردو نعت گوئی میں فرضی عورتوں کی طرف سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرضی محبت اور والہانہ دیوانگی کی حد تک اظہارِ عشق کی کیفیت اردو شاعری میں، خصوصاً نعتیہ شاعری میں ہندی شاعری کے مشرکانہ شعور اور طرز ادائیگی کی وجہ سے داخل ہوگئی ہے۔ اس نے جہاں اردو ادب کو نقصان پہنچایا ہے وہیں اردو نعتیہ شاعری کو الحاد و شرک کی حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تنہا ہندی ادب نے نعتیہ شاعری کو ملحدانہ راستے پر ڈال دیا ہے، بلکہ اس میں ، رجعت، الوہیت وغیرہ جیسے بے شمار نظریات شامل کردئیے گئے، جن سے اسلام کے ساتھ نعتیہ شاعری بھی آلودہ ہونے سے نہ بچ سکی۔ لہٰذا مسلمان شعراء کو ہندو ادیبوں کو خوش کرنے اور اسلامی عقائد میں مشرکانہ پیوند لگانے سے گریز کرنا چاہیے، ورنہ وہ اپنی ادبی کاریگری دکھانے کے شوق میں دین و دنیا دونوں تباہ کربیٹھیں گے۔ یہاں نمونے کے طور پر چند شعراء کا کلام پیش کیا جارہا ہے۔ یہاں حتی المقدور ان کے نام لینے سے گریز کیا جارہا ہے، پھر بھی اگر کسی کا نام آہی گیا تو ناراض ہونے کے بجائے اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
 
طیبہ کے بانکے رنگیلے میاں موہے چاند سا مکھ دکھا جانا
میں برہائی دیوانی تڑپت ہوں ذرا آجانا ذرا آجانا
اب ذرا غور کیجیے بانکے رنگیلے کے الفاظ کن لوگوں کے لیے بولے جاتے ہیں! اگر یہ الفاظ اپنے اندر مذموم معنی رکھتے ہیں تو پھر ’’رنگیلا رسول‘‘ لکھنے والا واصل جہنم کیوں کیا گیا؟ اس کے قاتل نے جامِ شہادت کیوں پیا؟ نعت گو شعراء کو اپنا ایمان اور آخرت خراب کرنے کا یہ طریقہ کیوں سوجھا اور نعتیہ اشعار میں ایسے نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ’’رنگیلے اور بانکے‘‘ لکھنے والے کو بھی وہی سزا دی جانی چاہیے۔ ایک اور صاحب کی جرأت مندانہ پرواز دیکھیے:
 
بالا پن اور چڑھی جوانی دونوں گئے برباد
بوڑھے پن میں حرص بڑھی تھی کیا قضا نے یاد
بھولی بھالی میں ہوں ناری۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیت گلے کا ہار
موری نیّا منجدھار
 
’’بالاپن اور چڑھی جوانی دونوں برباد گئے اور بوڑھے پن میں حرص و جوانی یاد آئے تو موت کا بلاوا آگیا۔‘‘ آخر شاعر لڑکپن اور چڑھی جوانی کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چاہتا ہے؟ ایک عورت اپنی شروع جوانی اور بھرپور ارادوں کے پورا کرنے کی توقع ہی تو کرسکتی ہے۔ اگر اس عالم میں ایک ہندو ناری چھلکتے ہوئے شباب میں اپنے بالم سے کسی قسم کی مسرتوں کی تکمیل نہ پاسکے تو بجز شاعر گستاخ کو ایک عورت کے سفلی جذبات کی تسکین کے لیے کون سا راستہ تلاش کرنا پڑے گا؟
 
پھر اس صورت میں یہ شکوہ کس سے کررہا ہے، کیا اس ہستی سے جو اللہ تعالیٰ کے بعد دونوں عالم کی مقدس ترین ہستی ہے اور جس کے لیے ساری کائنات وجود میں آئی۔ دشمنانِ اسلام نے کن کن سازشوں سے ادب اور ملت ِاسلامیہ کو اسلام سے بیگانہ کردیا ہے اور کس طرح اسلام کی صورت بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایک شاعر نے مدینہ کی جوگن لکھی ہے جس کے بند کا آخری شعر ہے:
 
جوگن کی جھولی بھردے او رام نام والے
اُس بت کو رام کردے او رام نام والے
 
اس شعر میںکوئی لفظ بھی عربی کا مترادف نہیں ہے۔ جوگن جھولی بھرنے کا التجا رام نام والے سے کررہی ہے۔ ۔ رام کا لفظ اللہ یا رسولؐ کا مرادف ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس کا ثبوت نہ لغت سے ملتا ہے نہ قرائن سے۔ پھر دوسرے مصرعہ میں وہ کون سا بت ہے جس کو رام کرنے کی اسی رام نام والے سے دہائی کی جارہی ہے۔ رام کرنے کا محاورہ ہندی میںکسی کو راضی کرنے، منانے، کسی ضدی کو راہ راست پر لانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ یہ لفظ اچھے اور بُرے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ محاورہ ہندی تصور کا مظہر ہے نہ کہ اسلامی تصور کا۔ ان دونوں مصرعوں میں کونسا مقام ایسا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسولؐ کو بٹھایا جائے! اگر جوگن کی جگہ کسی ایسی مسلمان خاتون کو بٹھایا جائے جو عشقِ رسول میں سرشار ہو تو اس کو عشقِ رسول کی ایسی اجازت نہیں کہ وہ پاگل اور بروگن بن کر بال بکھیرے کوچہ و بازار میں ماری ماری پھرے۔ پوری زندگی اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت میں اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ گزارنے کا نام ہی عشقِ رسولؐ ہے۔ باقی سب فضول۔ اب ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے:
 
اللہ کے پلّے میں وحدت کے سوا کیا ہے
جو کچھ مجھے لینا ہے لے لوں گا محمد سے
 
معاذ اللہ! اللہ کے پلّے میں یعنی اس کے قبضۂ قدرت میں وحدت کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔ وحدت کے سوا جتنی بھی صفات ِالٰہی ہیں وہ محمدؐ کے پاس ہیں۔ وحدت کے سوا اللہ کے پاس رکھا ہی کیا ہے۔ معاذ اللہ! ایسے اللہ سے ہم کیا لے سکتے ہیں۔ سب کچھ تو محمدؐ ہی سے لینا ہے۔
 
شاعر نے یہ تو اعتراف کیا ہے کہ اللہ واحد ہے۔ اس کے پاس وحدت کے سوا کچھ نہیں۔ اس حقیر سی شے کو لے کر ہم کیا کریں گے۔ معاذ اللہ! اللہ کو تنہا چھوڑ کر تمام اوصاف سے محروم کردیا ہے۔ دوسری طرف حضور اکرمؐ کو اللہ کی وحدانیت کے ساتھ تمام اوصاف ِنبوت سے محروم کردیا ہے جس کے لیے آپؐ مبعوث فرمائے گئے تھے۔ گو اللہ بھی ہاتھ سے گیا اور رسولؐ بھی۔ یہ عجمی تصوف کا کرشمہ ہے۔
 
اس کے علاوہ اردو نعتیہ شاعری پر ہندو عقائد کے اثرات بھی خاصے پڑے ہیں۔ یعنی دجلہ و فرات سے اُبھرے اور گنگا و جمنا میں آکر ڈوب گئے۔ یہاں شاعر کا نام لیے بغیر چارہ نہیں۔ محسن کاکوروی کی نعتیہ نظم کی ڈاکٹر رفیع الدین اشفاق نے بڑی تعریف کی ہے اور بہترین نعتوں میں شمار کیا ہے۔ نمونے کے طور پر چند اشعار یہاں پیش کیے جاتے ہیں تاکہ آپ خود فیصلہ کریں کہ یہ نعت ِرسولؐ ہے یا کمبھ کا اشنان ہے۔ ملاحظہ ہو
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے دوش پہ لاتی ہے صبا گنگا جل
گھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گوکل
جاکے جمنا پہ نہانا بھی ہے ایک طول عمل
خبر اڑتی ہوئی آئی ہے مہابن سے ابھی
کہ چلے آتے ہیں تیرتھ کو ہوا پر بادل
دہر کا ترسا بچہ ہے ابر لیے جل میں آگ
ابر چوٹی کا برہمن ہے لیے آگ میں جل
دیکھیے ہوگا سری کرشن کا کیونکر درشن
سینۂ تنگ میں دل گوپیوں کا ہے بے کل
اس نظم کے متعلق یہ کہنا کہ شاعر کے ہندی کلام میں شعریت دبنے نہیں پائی، لیکن مسلمانی دب کر ہی نہیں، پائمال ہوکر رہ گئی۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ کوئی شاعر ہندی، اردو، فارسی یا سنسکرت کے الفاظ بولے اور عربی الفاظ دب نہیں سکتے۔ یہاں تک کہ نعتیہ کلام میں بھی ہندی رنگ سے شعریت دبنے نہیں پائی۔ بے شک ہندی الفاظ کی موزونیت تو اپنے حسن میں جلوہ گر ہے۔ اس لیے نظم گنگا اشنان یا کرشن کتھا تو ہوسکتی ہے نعت ِرسولؐ کسی رُخ سے نہیں ہوسکتی۔ استعارات کے لحاظ سے بھی اس نظم کو نعت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ دینا معصیت کے سوا کچھ نہیں۔ محسن کاکوروی جیسے محتاط گو شعراء جو مضامین میں قرآن کو پیش نظر رکھتے ہیں اور انہوں نے شاعرانہ رنگ آمیزی کے ساتھ بڑی حد تک اعتدال پر قائم رہنے کا اہتمام کیا ہے، لیکن اس احتیاط اور اعتدال پسندی کو متھرا اور کاشی کے بادل اڑا کر لے گئے۔ ہندی، شاعری کے اعتبار سے ایک الگ چیز ہے، اردو شاعری ایک الگ چیز ہے۔ اسی طرح عربی شاعری اور اردو شاعری دونوں الگ الگ ہیں، ان دونوں کو گڈمڈ کردینا پلائو اور کھچڑی کو ایک ہی چیز سمجھنے کے مترادف ہے۔
 
محسنؔ کاکوروی کا بادل والا قصیدہ نعتیہ ادب میںکتنی ہی شہرت رکھتا ہو، مگر اردو نعتیہ شاعری میں اس کا کوئی مقام نہیں۔ اسی قصیدے کے چند اشعار اور ہیں:
راکھیا لے کے سلونوں کی برہمن نکلیں
تار بارش کا تو ٹوٹے کوئی ساعت کوئی پل
ڈوبنے جاتے ہیں گنگا میں بنارس والے
نوجوانوں کا سنیچر ہے یہ بڑھوا منگل
تہ و بالا کیے دیتے ہیں ہوا کے جھونکے
بیڑے بھادوں کے نکلتے ہیں بھرے گنگاجل
اب ان میں کوئی لفظ یا قرینہ نعت کا ہے؟ بہتر یہ ہے کہ اس قصیدے کو ہندی ادب کی حیثیت سے اردو ادب میں پرکھنا چاہیے۔ نعتیہ شاعری کو نعتیہ شاعری پر پرکھنا چاہیے۔ کھرے کھوٹے کی پہچان اسی وقت ہوسکتی ہے۔ بلاشبہ اس قصیدے میں ہندوستانیت کو بڑی خوبی سے سمویا گیا ہے اور یہ اپنے اندر جاذبیت رکھتا ہے۔ یوں تو قصیدے کی تشبیہات و مضامین اور ملکی ماحول کی مناسبت سے جو فضا پیدا کی گئی ہے وہ بجائے خود کتنی ہی پسندیدہ سہی، لیکن نعتیہ شاعری کے لیے پسندیدہ نہیں۔ شاعر پر ہندی اثر اس قدر ہے کہ ہندوستان کا نعت گو شاعر توحید کے عَلم بردار پیغمبرؐ کی نعت مشرکانہ انداز میں لکھتا ہے، جس سے کلام میں بھڑکیلا پن تو پیدا ہوجاتا ہے اور شاعر کی تعریف بھی ہوتی ہے، لیکن ایمان کی خیر نہیں۔
 
محسن کاکوروی کی ہندی نعتیہ شاعری پر نظر ڈالی جائے تو سوائے حماقت اور گمراہی کے کیا رکھا ہے! کرشن جی، کنہیا، رام چندرجی، ان تینوں حضرات کے کئی کردار ہیں۔ ھے۔ حقیقت میں کرشنؔ اور کنہیاؔ ایک ہی ہیں جن کا گوپیوں سے ہنسی مذاق رہتا تھا۔ رامؔ چندرجی کی بیوی سیتاؔ کو راونؔ بھگاکر لے گیا تھا ۔ ان کرداروں سے نعت ِرسولؐ کا کیا تعلق ہوسکتا ہے! چنانچہ عبدالسلام ندوی لکھتے ہیں کہ ’’متاخرین کے دور میں محسنؔ کاکوروی نے نعت گوئی کو اپنا خاص فن بنالیا اور اس میں غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اس مقدس موضوع کے متعلق لکھنؤ کی برخود غلط شاعری کا استعمال کیا جو اور بھی سنگین غلطی ہے۔‘‘ ان تمام خصوصیات کے اجتماع نے ان کے کلام کو اس قدر بے اثر کردیا کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ جو کچھ لکھتے ہیں کون سی امنگ سے لکھتے ہیں۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہوکر لکھتے ہیں یا کرشن کنہیا کی عقیدت میں گم ہوکر لکھتے ہیں! اس لیے انہوں نے جو نعتیہ قصائد اور نعتیہ مثنویاں لکھی ہیں ان کا بیشتر حصہ معمّا اور چیستاں ہے۔ وہ نعت نہیں ہوتیں بلکہ نعت میں کرشن کنہیا کا کردار ادا کرتے ہیں، رسول اکرمؐ کا نہیں۔
 
محسنؔ کاکوروی نے اپنی شاعری کی ابتداء حضور اکرمؐ کو خواب میں دیکھنے سے کی ہے اور اسی خواب کو یعنی آنحضرتؐ کے دیدار اور گفتگو کو معراجِ شاعری کا سبب بنایا ہے۔ انہوں نے آنحضرتؐ کو خواب میں پہچان بھی لیا یا نہیں، اور جو گفتگو ہوئی وہ کس زبان میں ہوئی، یا جس سے گفتگو ہوئی وہ حضورؐ ہی تھے یا کرشن کنہیا؟ جو کچھ بھی ہو، اس قسم کے خواب بیان کرنے کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ انسان خود اپنی ذات کو یا اس ذات کو یا انسان کو جس کو وہ انتہائی حدود تک لے جانا چاہتا ہو، عروج کی آخری چوٹی پر بٹھادے اور خود بھی اس کے اس وہمی مرتبے کے ذریعے سے جہاں تک جاسکتا ہو پہنچ جائے، پھر وہ اپنے اور اپنے ممدوح دونوں کے گیت گائے گا۔ یہ بات ازراہِ تفنن نہیں کہی گئی بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ہر نعت گو شاعر اپنی تعریف میں جہاں تک جانا چاہے جائے۔ وہ اگر اپنی ذات کو اللہ اور بندوں کی نظر میں محترم بنانا چاہتا ہے تو ضرور بنائے لیکن نعت گوئی کی حدود کے اندر رہے۔ خواب تو صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد والے بھی دیکھ سکتے تھے اور دیکھے ہیں۔ اور یہ اعزاز ان کو بھی حاصل ہوسکتا تھا اور ہوا ہے۔ مگر ان کے اسوۂ حسنہ کو نظرانداز کرکے محض خوابوں کے ذریعے نجات حاصل نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ایک نعت گو شاعر کو چاہیے کہ وہ تمام مضامین قرآن وحدیث اور سیرت رسولؐ سے لاسکتا ہے تو ضرور لائے، وہی نعت ِرسولؐ کی جان ہوں گے۔ جبکہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ خلقہ القرآن، تو پھر ساری کتاب کو نعت کا موضوع بنانا ہوگا۔ یعنی نعتیہ شاعری کا سرچشمہ قرآن و حدیث اور سیرت ِپاک ہی ہوسکتے ہیں۔ ان کے علاوہ سب گمراہی ہے۔
 
ایک زمانے میں کوئی نعتیہ شاعری کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔ انیسؔ و دبیرؔ نے نعتیہ شاعری کی طرف رخ کیا۔ لیکن یہ دونوں حضرات نعت گوئی سے ایسے پھسلے کہ مرثیہ گوئی میں غرق ہوگئے کہ تاریخ کو بھی بگاڑ دیا اور خود کو بھی۔ انیس کا ایک شعر ہے
یہ بھی مولیٰ عرض کردوں
بھول اگر جائو تو کیا ہو
بھول چوک ہم جیسے گنہگار بندوں سے ہوتی ہے۔ مولیٰ سے مراد اگر اللہ تعالیٰ ہے تو یہ کفر ہے اور آنحضرتؐ سے ہے تو معصیت ِکبریٰ ،اور اگر حضرت علیؓ سے مراد ہے تو پھر یہ پتھر شاعر نے اپنے ہی سر پر مارا۔
حیرت نہیں بے سایہ اگر ذات ہوئی
ٹکڑے کیا چاند کیا کرامات ہوئی
دن رات کا جلوۂ خدا پیشِ نظر ہے
معراج ہوئی تو کیا نئی بات ہوئی
اس پر تبصرہ خود قارئین کریں۔ ہم کریں گے تو بات بہت دور پہنچے گی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمام اوصاف اگر حضورؐ میں تھے تو ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ تو سب ہی میں ہوسکتے ہیں۔ معاذ اللہ!۔ اب ذرا یہ شعر ملاحظہ ہو:
محمدؐ کے رُخ سے نقاب اٹھ گیا ہے
تجلیٔ حق سے حجاب اٹھ گیا ہے
اس شعر نے شاعر کوشرک کی کون سی منزل پہ پہنچادیا ہے۔ دو شعر اورملاحظہ ہوں:
سب کہتے ہیں کہ آپؐ کو سجدہ روا نہیں
نورِ خدا رسولؐ خدا ہے خدا نہیں
اے واعظو! یہ بات میں کیا جانتا نہیں
لیکن غضب تو یہ ہے کہ جی مانتا نہیں
اب ان اشعار پر سردھنیے۔ جی تو بہت سی باتوں کو نہیں مانتا۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کی بات مانئے یا اپنے جی کی۔ انسان کے انہی فیصلوں پر اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔
ہجرت کے موقع پر شبلیؔ نے جو منظرکشی کی ہے اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں،
 
جبکہ آمادۂ خوں ہوگئے کفارِ قریش
لاجرم سرورِ عالم نے کیا عزمِ سفر
کوئی نوکر تھا نہ خادم نہ برادر نہ عزیز
گھر سے نکلے بھی تو اس شان سے نکلے سرورؐ
اک فقط حضرت بوبکرؓ تھے ہمراہ رکاب
ان کی اخلاص شعاری تھی جو منظورِ نظر
رات بھر چلتے تھے دن کو کہیں چھپ رہتے تھے
کہ کہیں دیکھ نہ پائے کوئی آمادۂ شر
تین دن رات رہے ثور کے غاروں میں نہاں
تھا جہاں عقرب وافعی کی حکومت کا اثر
نیم جاں، خوفِ عدو، ترکِ غذا سختیٔ راہ
ان مصائب میں ہوئی اب شبِ ہجرت کی سحر
 
شبلیؔ کے ان اشعار میں صرف ہجرت کا بیان ہے۔ ان میں کوئی شاعرانہ کمال نظر نہیں آتا۔ پیرایۂ بیان صاف اور سادہ ہے۔ شبلیؔ کی نعتیہ شاعری کو اِسی پیمانے پر جانچا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شبلیؔ کی نظر میں وصف ِنبیؐ کا مقصود ان مکارم اخلاق کی تعلیم ہے جن سے کردار کی تعمیر ہوتی ہے اور زندگی کو استحکام نصیب ہوتا ہے۔ والہانہ جذب و شوق کے بعد بھی اگر اسوۂ رسولؐ کی کوئی جھلک کردار میں نظر نہ آسکے تو اسے ہم بے مقصد اور خیالی اظہار مندی سے تعبیر کریں گے۔ ذیل کے چند اشعار مولانا احمد رضاؔخاں بریلویؒ کے ہیں جن میں علمِ ہیئت و نجوم کی اصطلاحات کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا سمجھنا ہر ایک
کے بس کی بات نہیں، عمل تو لاحاصل۔
 
خالقِ افلاک نے طرفہ کھلائے چمن
اک گل سوسن میں ہیں لاکھوں گل یاسمن
موتئے بیلے کے پھول زیبِ گریباں شام
جوہی چنبیلی کے گل زینت جیب یمن
دامن البرز کی کلیوں میں پھولے ہیں پھول
کوڑے کی چوٹی میں ہے حاصل چندیں چمن
 
غرض پورے نعتیہ قصیدے میں فلک، کواکب، جنوب، منطقہ البروج، زحل، عطارد وغیرہ اصطلاحات سے بھرا پڑا ہے جو فنکارانہ شاعری کا مرقع تو ضرور ہے مگر نعتیہ اوصاف اور مقصد سے بالکل خالی ہے۔
شاعر تو یہی چاہتا ہے کہ اپنے کلام میں دنیا بھر کے جواہرات اور کائنات کی ساری خوبیاں بھر کر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کردے۔ لیکن اتنا سلیقہ اور حوصلہ تو ساری کائنات کے سمیٹنے کا ہونا چاہیے، اور آقا سے جو ملے اس کے لیے دامن میں اتنی وسعت بھی ہونی چاہیے کہ اس میں سما سکیں۔ راقم ہی کا ایک شعر ہے:
 
کچھ آقاؐ سے طلب کرنا نہیں ہے میرے امکاں میں
کہاں سے دوجہاں کی وسعتیں لائوں گا داماں میں
 
لکھنؤ کی شاعری میں ہوس کی طلب اور تہی دامنی کا رونا نہ ہوتا تو واقعی یہ حوصلہ کسی سے پورا ہو نہیں سکتا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ لکھنؤ کی شاعری میں سارے معائب ہیں لیکن ایک حسین پہلو وہاں کی زبان کا نکھار ہے جو کہیں کہیں بدنما داغ معلوم ہوتا ہے۔ صنائع بدائع کے برتنے میں شعرائِ لکھنؤ کا اعتدال قائم رکھنا ایک مشکل کام بھی ہے اور عجیب بھی، جو حقیقت میں حسن کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ایسی شاعری کے اندر باتوں کو بگاڑ کر بیان کرنے کے مترادف ہے، اور جب ان باتوں کو کھول کر دیکھو تو کراہیت محسوس ہوتی ہے۔ لکھنوی شاعری میں صنعت گری کے نادر نمونے پائے جاتے ہیں۔ عشق و محبت کے صحیح جذبات کی لطافت کا فقدان، سوز و گداز سے محرومی، جذب و کیفیت، تڑپ اور درد و الم کی نامرادی حسین سے حسین تخیل کے چہرے سے رونق چھین لیتی ہے اور فن کار کی ساری صناعی اپنی جگہ رہ جاتی ہے۔ ایک خاص ماحول کے لیے ایسا کلام ممکن ہے جاذب ِتوجہ ہو لیکن اسے بقاء و دوام حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنؤ کی اس رنگ کی شاعری کو باوجود انتہائی عروج کو پہنچنے کے ناقدین کے مذاقِ سلیم نے پست قرار دیا ہے۔ بعض شعراء نے تو اپنے ساتھ بڑی بڑی حسرتیں وابستہ کررکھی ہیں۔ جب شاعر مجسم شاعر بننا چاہتا ہو یا معاذ اللہ نبی بننا چاہتا ہو اور مرنے کے بعد پھر یہ خواہش ہو کہ میں نبی کی زبان میںکلام کروں… تو یہ تمام خواہشات گمراہی اور خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
 
***************
Comments


Login

You are Visitor Number : 763