donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Atiqur Rahman
Title :
   Urdu Sahafat Ki Tareekh Par Zafrani Shosha


اردو صحافت کی تاریخ پر زعفرانی شوشہ


عتیق الرحمن

 

آج کل ایک طرف تکفیری نظریات اور تکثیری معاشرہ دست وگریباں ہے، تو دوسری طرف اتحاد اور بقائے باہمی کی دہائی دینے والے ادیب، دانشور، مصور، فنکار، اداکار، فوجی اور سائنس داں احتجاجاً یا مصلحتاً ایوارڈ واپس کئے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کلیتاً قومی اور سیاسی منظرنامہ نہ صرف تشویشناک بلکہ شرمناک ہے۔

پرنٹ میڈیا اپنی کرشمہ سازیاں اور الیکٹرانک میڈیا اپنی کرتب بازیاں دکھانے میں سرگرداں ہے۔ ایک نئی بیماری جسے سوشل میڈیا اور بھی کئی الیکٹرانک بیماریاں ہیں جو ملک اور معاشرہ کو مزید خرابی کی طرف دھکیل رہی ہیں، کیونکہ بے جا استعمال ہماری قومی اور فطری کمزوری ہے۔ جب تک انسان اور ساز وسامان کا بے جا استعمال نہ کریں ہماری تسلی نہیں ہوتی۔ اس چیختی چنگھاڑتی فضا اور بھاگتی دوڑتی مخلوق کی قلبی تسکین کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے؟ اس مسئلہ کا حل کسی کے پاس نہیں البتہ اپنا اپنا نظریہ ہے مگر جواز نہیں! اس زعفرانی دور کی ریشہ دوانیوں سے اردو صحافت بھی محفوظ نہیں رہی۔ پرانی بات ہے مگر انہونی سی لگتی ہے جب 9فروری 2005 میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے نائب چیئرمین کے لئے جناب شمس الرحمن فاروقی کے تقرر کا اعلان ہوا تھا تو علمی وادبی دنیا میںخوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کہ اب اردو کی ترقی میں اضافہ ہوگا۔ بلکہ پچھلے دس سالوں میں اردو کی ترقی میں تو کیا اضافہ ہوتا بلکہ اس عہدہ کی جو بے حرمتی ہوئی ہے وہ اب ڈائریکٹر پروفیسر تک پہنچ چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اردو کے عجائب گھر میں ہوائی جہاز کی جگہ سائیکل رکھ دی گئی ہو۔ اردو کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے کوئی سیاسی موسم راس نہیں آتا کیونکہ جتنے راج پوت اس زبان میں ہیں شاید ہی دنیا کی کسی زبان میں ہوں۔

کانگریس کا دور ہو یا سنگھ پریوار کا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ راتوں رات وفاداریاں بدل جاتی ہیں یار لوگ بائیں سے دائیں ہوجاتے ہیں۔ اردو کے پروفیسر اور نقاد تو ویسے بھی چینل بدلنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ جب گجرات میں فسادات ہورہے تھے تو بہت سے حق پرستوں کی زبان سیاحت پر تھی۔ کیونکہ گجرات نے توفاشزم کو بھی شرمندہ کردیا تھا۔ خیر جانے دیجئے! عصر حاضر میں راج پوت کی تعریف بدل گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب راجپوت جان ہارتے تھے پروچن نہیں! لیکن آج کل جس کا راج ہوتا ہے اسی کے پوت بن جاتے ہیں یہ وکاس نہیں تو اور کیا ہے؟ بہرحال ڈائریکٹر پروفیسر اس عہدہ تک کیسے پہنچے یہ اردو کا مسئلہ نہیں بلکہ بدقسمتی ہے، ان کی کم علمی کا اندازہ اس وقت ہوا جب انہوں نے یہ اعلان کیاکہ اردو صحافت کی تاریخ کو 2010 میں 200 سال پورے ہوگئے ہیں جس کا ملک گیر پیمانے پر جشن منایاجائے گا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس زعفرانی شوشہ کے خلاف کسی نے کوئی حرف احتجاج بلند نہیں کیا۔ میں 35 سال سے زیادہ ادب اور صحافت کا ایک ادنیٰ قاری ہوں۔ صحافت کی تاریخ پر مولانا امداد صابری، محمد عتیق صدیقی،جی ڈی چندن، خورشید الاسلام، ایم ایس ناز اور دیگر محققین کی ہر کتاب میں یہی پڑھا ہے کہ اردو کا پہلا اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ تھا جو بروز بدھ 27مارچ 1822 میں کلکتہ سے شائع ہوا تھا۔ دراصل کلکتہ ہندوستانی صحافت کی ماں ہے۔ انگریزی، اردو، فارسی، ہندی اور بنگلہ زبان کے پہلے اخبار یہیں سے شائع ہوئے۔ انگریزی کا پہلا اخبار 29جنوری 1780 میں شائع ہوا۔ جیمس آگسٹس ہکی ہی برصغیر میں صحافت کابانی تھا جو کاروبار کی غرض سے کلکتہ آیا تھا لیکن تجارت میں نقصان ہونے کی وجہ سے مقروض ہوگیا جس کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑا۔ 19ماہ کی قید کے دوران جیل میں اسے ایک رسالہ نکالنے کا خیال آیا۔ اس کا مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی اور کلیسا کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرنا تھا لیکن وہ برصغیر میں صحافت کا بانی بن گیا۔ خیال رہے کہ ہکی کا تعلق آسٹریلیا سے تھا۔ اردو کے علاوہ فارسی کا پہلا اخبار ’’مراۃ الاخبار‘‘ 12اپریل 1822 میں شائع ہوا۔ یہ امر باعث دلچسپ ہے کہ فارسی کا پہلا اخبار ایران سے نہیں بلکہ ہندوستان سے شائع ہوا۔ ہندی کا پہلا اخبار ’’ادونٹ مارٹند‘‘ 30 مئی 1836 میں نکلا۔

اردو صحافت نے غیظ وغضب کے سائے میں تلوار کی دھار پر چلنا شروع کیا تھا لیکن آزادی کا پہلا قدم رکھتے ہی پاؤں لڑ کھڑا گئے۔ اردو صحافت انعام واکرام، مراعات اور مفاد پرستی کا شکار ہوگئی۔ اردو صحافی مال غنیمت اور سکۂ رائج الوقت کے اسیر ہوگئے، چنانچہ سرکش اخباروں مخلص اور بے لوث صحافیوں کا بحران مقدر بن گیا۔ آزادی سے قبل اردو صحافت بہترین تھی لیکن صحافیوں کے حالات بدتر تھے، لیکن آزادی کے بعد صحافت بدترین ہوتی گئی اور صحافیوں کے حالات بھی بہترین ہوتے گئے۔ آج صحافت کو جتنے وسائل اور مراعات میسر ہیں اس زمانہ میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کتابت سے طباعت تک درد سر تھی۔

دراصل اکابرین صحافت بنیادی طورپر ادیب اور انشاء پرداز تھے انہیں زبان وبیان پر عبور حاصل تھا۔ آج کاصحافی نہ تو ادیب ہے نہ انشاء پرداز ہے اور ناہی اسے کچھ پکڑنے کی تمیز ہے اور خواہ مخواہ صحافی ہے۔ زبان شناسی تو دور کی بات ہے اسے لفظ کی شُد بُد تک نہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑرہا ہے کہ آج اردو صحافت میں ایک آدمی ایسا نہیں ہے جو معاملہ، مقدمہ، قتل ہلاک، جاں بحق، درج، دائر، اہتمام اور انعقاد کے معنی اور ان کا صحیح استعمال جانتا ہو۔ کیونکہ یہ الفاظ روز غلط لکھے جارہے ہیں۔ بلکہ یہ روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ فائلیں بھری پڑی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کاروں میں گھوم رہے ہیں، ہوائی جہاز میں سفر کررہے ہیں۔ بیرون ملک جاکر اردوصحافت کی تذلیل کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اکابرین نے ملک وملت کی خدمت کے جذبہ سے صحافت میں قدم رکھا تھا جو آزادی کے بعد ختم ہوا آج خود سازی اور ابن الوقتی کا دور ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کے مطابق’’میں نے صحافت پیسہ کمانے کے لئے اختیار نہیں کی بلکہ ملک وملت کی خدمت کرنے کے لئے اختیار کی ہے میں رہنما ہوں رہز نہیں۔‘‘ دنیا میں کسی بھی زبان کی عظمت اس کے ادب سے ہوتی ہے۔ صحافت سے نہیں۔ زبان کا نثری ارتقاء راتوں رات نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ جب تک ادبی نثر کا ارتقاء نہیں ہوگا اس وقت تک تمام مضامین اور موضوعات نثری ارتقاء کے محتاج ہوں گے۔ کیونکہ ادب اور صحافت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اکثروبیشتر صحافیوں کو تو یہی نہیں پتاکہ ادب اور صحافت میں کیا فرق ہے۔ وہ دونوں کو ادب کے کھاتہ میں ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اردو صحافت ایک پرآشوب دور کی پیداوار ہے۔ جس میں اصول اور ضابطے متعین نہیں تھے۔ بس وقت کے تقاضہ کی تقلید کرنا ہی اصل مقصد تھا اس لئے اردو نثر اور صحافتی زبان دو الگ الگ چیزیں ہیں ایک نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو میں معیاری صحافتی زبان کا آج بھی فقدان ہے۔ ماضی میں جتنے اسلوب اختیار کئے گئے ان پر کوئی نہ کوئی رنگ غالب تھا۔ خالص صحافتی زبان جس پر کوئی اور رنگ غالب نہ ہوابھی تک وجود میں نہیں آسکی۔ دراصل اردو صحافت اور جنگ آزادی ایک ہی سکہ کے دورخ ہیں۔ جنگ آزادی کو اردو صحافت سے تقویت ملی تو اردو صحافت کو جنگ آزادی سے بقا نصیب ہوئی۔ اس دور کے صحافیوں نے عقوبتوں کا سامنا کیا اور بڑی بڑی قربانیاں دیں۔ آج کا صحافی تو کچھ دینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ وہ تو بس لینے کی بات کرتا ہے۔ عقوبت اور قربانی تو دور کی بات ہے۔

اردو صحافت کے اس سرسری جائزہ کے بعد اس زعفرانی شوشہ کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں کہ قومی کونسل کے ڈائریکٹرپروفیسر کس بنیاد پر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اردو کا پہلا اخبار 1810 میں شائع ہوا تھا۔

میں نے حال ہی میں ایک کتاب پڑھی ہے جس میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ اردوصحافت کو 250 سال پورے ہوچکے ہیں۔ اردو کا پہلا اخبار ’’شکارپور ٹائمز‘‘ تھا جو آج سے 250 سال پہلے شکار پور سے شائع ہوا تھا۔ کتاب اور مصنف کا نام نہیں بتاؤں گا کیونکہ یہ تحقیق کا موضوع ہے۔ یہ نادم سیتا پوری کس جہالت کا نام ہے۔ قومی کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر کون لے پالک ہیں یہ نائب چیئرمین کس فراڈ کا نام ہے جو اردوصحافت کی تاریخ سے چھیڑچھاڑ کررہے ہیں۔ خواتین اور صنف نازک سے چھیڑ چھاڑ کی خبریں تو روز نظر سے گزرتی ہیں جبکہ کولکاتہ کے ایک روزنامہ نے 17ستمبر 2015 کی خبر میں ہی یہ امر واضح کردیا تھا کہ ’’جام جہاں نما‘‘ کو ہی ساری دنیا کے محققین نے اردو کا پہلا اخبار تسلیم کرلیا ہے۔ دراصل اردو صحافت کی تاریخ کو بگاڑنے کاکام ایک محقق نادم سیتاپوری نے کیا تھا۔ گربچن چندن کے مطابق سیتاپوری نے یہ بات اپنے بزرگوں کی حوصلہ افزائی کے لئے لکھ دی تھی۔ خبر کے ابتدائیہ میں اس جشن کے غیر مستند اور چھچھورپن کا اشاریہ بھی تھا۔سیمینار میں ایسے ایسے لوگ شامل ہوئے جو صحافت کی  ابجد سے بھی واقف نہیں تھے۔ جب تاریخی اعتبار سے یہ جشن غیر مستند تھا تو اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کے بعد دودن تک سیمینار سے متعلق کوئی خبر شائع نہیں ہوئی۔

20ستمبر کو احمد سعید ملیح آبادی کا خطبہ اور خبر شائع ہوئی میںاس پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا جب اپنے ہی بیگانے ہوجائیں تو کوئی کیاکرسکتا ہے۔ ڈائریکٹر پروفیسر کے مطابق کونسل نے پہلی بار اردو صحافت پر سیمینار کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس کا تعلق عوام سے جوڑا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو صحافت کا تعلق کبھی خواص سے بھی رہا ہے؟ آپ تو اس کی تاریخ نئی نسلوں تک پہنچانے کی بجائے گمراہ کررہے ہیں۔ یہ سمینار اردوصحافت کی تاریخ میں سنگ میل تو ثابت نہیں ہوا البتہ بہت سارے سنگریزے نمایاں ہوگئے۔ ’’جام جہاں نما‘‘ پر سبھی نے اتفاق کیا کسی ایک نے بھی 200 سال کو گھاس نہیں ڈالی۔

سیمینار کے آخری دن شیکسپیئر اور غالب کی علمیت نہیں بلکہ ڈگریاں زیر بحث رہیں۔ حیرت ہے کہ کلکتہ جیسے شہر میں اس طرح کی فضول اور بے معنی بحث ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر شیکسپیئر جاہل آدمی تھا تو آج کل پی ایچ ڈی کرکے ڈاکٹر کیا اکھاڑ لیتے ہیں۔ اگر غالب کے پاس کوئی سند نہیں تھی لیکن آپ اس کا قد تو دیکھئے۔ عالمی ادب میں ہمارے پاس کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے۔ وہ اکیلا تن تنہا کھڑا ہے۔ غالب کے عہد سے لے کر آج تک کی ساری اردوسندیں ایک مرتبان میں ملادی جائیں تب بھی ایک غالب برآمد نہیں ہوگا۔

مذکور سیمینار میں شرکاء نے جو تقریریں اور مقالے پڑھے ان میں سیمینار ہلالی کا عنصر غالب رہا لیکن پھر بھی کونسل کا مقصد ادھورا رہا۔

البتہ ای ٹی وی اردو کی شبانہ اعجاز نے جو کچھ کہا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سیمینار سے متعلق روزنامہ کا اداریہ بھی صداقت پر مبنی تھا۔ جسے پڑھ کر اطمینان ہوا۔

20ستمبر کے گلدستہ میںمہتاب عالم کا مضمون نہ صرف جاندار بلکہ شاندار تھا۔ انہوں نے کافی تفصیل اور عرق ریزی سے اس مسئلہ پر بحث کی ہے۔ میں اس کی آخری پونے تین سطور سے لفظ بہ لفظ متفق ہوں۔’’ مجموعی طورپر یہ دوسوسالہ جشن صحافت غیر مستند ثابت ہوتا ہے اور صحافت جیسے معتبر پیشہ کا مذاق ہے۔ صحافت سے منسلک کلکتہ کے لوگوں کی تحقیر ہے۔‘‘ خیال رہے کہ روزنامہ میں دوسوسالہ کو ہر سطر میں دوسالہ لکھاگیا ہے۔

سیمینار کی باتیں ختم ہوئیں۔ اب اس موضوع پر کچھ اور جھک مارتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ کیا اب گیا اور سیتاپور اردو صحافت کی تاریخ طے کریں گے۔ کیا زعفرانی عہد میں تمام صحافتی محققین کی محنت پر پانی پھیردیاجائے گا۔ آخر سیتاپور کے چکر میں اردوصحافت کو داؤ پر کیوں لگایا جارہا ہے، اگر کونسل کے ڈائریکٹر اور پروفیسر سیتاپوری کو آمناصدقنا سمجھتے ہیں تو وہ اردو کونسل اور اپنے گھر میں ان کا مجسمہ کیوں نصب نہیں کراتے۔ اردوصحافت پر عذاب بننے کی کیاضرورت ہے۔ اردو صحافت پہلے ہی کیا کم گناہوں سے لبریز ہے جو اس پر مزید عذاب مسلط کیا جارہا ہے۔ بہرحال کونسل کو اپنے اس صحافتی خبیثہ جاریہ پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ مزید جشن صحافت ملتوی کئے جائیں، کوئی اور ڈھنگ کاکام کریں۔ مغربی بنگال اور مولانا ابوالکلام آزاد کی بابت صرف اتنا عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ ان کی تقلید اورتتبع تو بہت دور کی بات ہے اگر کوئی ان کی نقل ہی کر کے دکھادے تو بڑا کام ہوگا۔ کیونکہ مولانا آزاد اردو کے واحد صحافی ہیں جن کی آج تک نقل کرنے کی جرأت بھی کوئی نہیں کرسکا۔ ہاں ایک بات اور انقلاب زندہ باد کے بارے اردو دنیا میں بڑا کنفیوژن پایاجاتا ہے کہ سب سے پہلے شہید بھگت سنگھ نے انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیا تھا ورنہ اس سے پہلے وندے ماترم کا چلن تھا۔

آخر میں ایک بات اور کونسل کے ڈائریکٹر اور پروفیسر سنا ہے تحقیق وتنقید کے تیس مار خاں ہیں۔ تومیرے بھائی تحقیق وتنقید کے میدان میںٹامک ٹوئیاں مارو۔صحافت سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آج تک تنقید وتحقیق کے میدان میں کسی صحافی نے دخل اندازی کی ہوتو بتاؤ۔ اس کی خبر لی جاسکتی ہے۔ اس لئے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اردو صحافت پر کرم کی بجائے اپنا روئے سخن ادھر ہی رکھیں کہ جدھر تھاتو یہ شریمان جی کا اردو صحافت پر بڑا احسان ہوگا۔

پتانہیں پروفیسر محمد حسن اورپروفیسر قمررئیس کی بداعمالیاں کب تک اردو والوں کو جھیلنے پڑیں گی خیر چھوڑیئے، جانے دیجئے۔

اب کیا کروں؟ بات میں سے بات نکلتی ہی جارہی ہے۔ ڈائریکٹر اور پروفیسر روزانہ کسی نہ کسی طور اخبار کی سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں۔ کبھی منوررانا کی مدافعت میں تو کبھی وزیراعظم اورسمرتی ایرانی کی مدح سرائی میں۔ شاید انہیں علم نہیں کہ سمرتی ایرانی کے کومل ہاتھوں میں اگر کوئی اردو کی درخواست دیدے تو وہ پھینک دیتی ہیں۔ یہ خبر شائع ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کا حشر تو دنیا دیکھ رہی ہے۔ بجا ہے کانگریس نے اردو کے لئے کچھ نہیں کیا۔ آپ کازور بازو بھی دیکھ رہے ہیں اور ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔

معاف کیجئے گا ایک بات اور۔ مذکورہ سیمینار سے اندازہ ہوا کہ کلکتہ کا صحافتی منظرنامہ بھی دہلی سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے احسان ہے اگر خدا جھوٹ نہ بلوائے تو دہلی میں ویسے تو دودور تک کوئی صحافی نظر نہیں آتا۔ اگر جبراً دوربین سے دیکھاجائے تو گنتی کے دوصحافی ہیں۔ ایک گروپ ایڈیٹر دوسرا نارتھ ایڈیٹر، باقی سب خیریت ہے۔ ارے ہاں یاد آیا ایک خبر اسمگلر بھی پیدا ہوگیا ہے۔ کوئی رضوی ہیں پتا نہیں کس عالم سے نمودار ہوئے ہیں اور جبراً ممتاز بننے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کلکتہ میں دوچار صحافی زیادہ ہوں۔ اگر اس سے بھی زیادہ ہوں تو مجھے معاف فرمائیں۔ …سب کا وکاس سب بکواس کے بعد اگر ایک لمحہ کے لئے جبراً یہ مان لیاجائے اردو کا پہلا اخبار1810 میں کسی سیتاپوری نے شائع کیا تھا تو اس کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ ’’جام جہاں نما‘‘ کے مدیر سدا سکھ رائے اور پرنٹر پبلشر ہری ہردت تھے جو اس کا واضح ثبوت ہے کہ اردوسیکولر زبان ہے۔

تازہ ترین خبر کے مطابق کلکتہ اور سرینگر کے بعد یہ نام نہاد 200سالہ جشن عظیم آباد پہنچ چکا ہے۔ ظفرانورشکرپوری نے عظیم آباد کی صحافت اور صحافیوں پر جوکام کیا ہے وہ نہ صرف قابل تعریف بلکہ قابل ستائش ہے۔ پتا نہیں اردو کونسل کی نظر سے گزرا یا نہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ عظیم آباد کے صحافی اس صریحاً جھوٹ کو کیسے برداشت کررہے ہیں۔

(یو این این)


**************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 795