donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Ahsan Alam
Title :
   Allama Iqbal Ka Falsafae Khudi


علامہ اقبالؔ کا فلسفۂ خودی


احسان عالم

ریسرچ اسکالر

(اردو)

ایل۔این۔ایم۔یو۔ دربھنگہ

 

    علامہ اقبالؔ ایک ایسے عظیم شاعر کا نام ہے جسے اللہ نے ایک فلسفیانہ دماغ، قلندرانہ مزاج اور شاعرانہ تخیلات عطا کیا ہے۔ ناقدین ادب نے انہیں شاعر مشرق، شاعر اسلام اور حکیم المت کے لقب سے نوازا۔ بہت سے دانشوراور ادیب انہیں شاعر خودی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت پر مغربیت کا غلبہ رہا لیکن اس کے باوجود وہ مغربی تہذیب و تمدن ، حرکات و سکنات اور نظریۂ فکر و حکمت کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے مغرب کے ملکوں میں ایک لمبا عرصہ گذارا۔ اگر کوئی دوسرا شخص ہوتا تو وہ مغربیت سے اس قدر مغلوب ہوجاتا کہ دنیا کے دیگر گوشے کی طرف اس کا دھیان ہرگز نہیں جاتا لیکن علامہ اقبال نے وہاں کے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں برعکس نتائج اخذ کئے ۔ ان نتائج کی بنیاد پر انہوں نے اپنی قوم کو خودی سے روشناس کرانے کی ذمہ داری اپنے سر لی۔ اقبال خودی کو عظمت آدم کی شناخت کا دوسر ا نام بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ قرآ ن عظیم کی رہنمائی میں زندگی گذارنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ انہیں مغربی تہذیب کا گہرا مشاہدہ تھا۔ اس بنیاد پر وہ مغرب کے تصور خودی کی جو غرور و انا ، خود نمائی  اور خود ستائی کی ترجمان ہے سخت مذمت کی ہے۔ مختصر طور پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبال مغربی کیچڑ میں مشرقی کنول کے مانند کھلے اور دنیا کے سامنے جلوہ افروز ہوئے۔

    اقبالؔ فرماتے ہیں کہ کائنات انسان کے لئے بنائی گئی ہے اور اس کی چمک و دمک بھی انسان کی ذات گرامی کی ہی بدولت ہے۔ انسان اگر چاہئے تو کائنات کو بہت کچھ دے سکتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسان نے کائنات کو بہت کچھ دیا ہے۔ انسان ہمیشہ سربلند رہا ہے اسے کبھی شکست نہیں ہوئی ہے ۔ اگر شکست ہوتی بھی ہے تو وہ نظریات و منصوبوں کو ہوتی ہے ۔ خود شناسی وہ شئے ہے جو انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے ۔ انہوں نے اپنی اکثر نظموں میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ خودی کا راستہ بقا کی منزل کی طرف لے جاتا ہے :۔

ہو اگر خود نگر و خود گرد خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

    بقول اقبال جب انسان کی خودی شام و سحر کے زنداں سے آزاد ہوکر اپنے وجود کی حقیقت سے باخبر ہوتی ہے تو اس وقت انسان مادی مسائل سے آزاد ہوجاتا ہے اور وہ ایسی موت مرنے کا خواہاں ہوجاتا ہے جس پر سینکڑوں زندگیاں قربان ہوں۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:۔

تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو وہ سیاہی

    اقبال سکوت کے حصار میں قید رہنا پسند نہیں کرتے بلکہ وہ طوفان میں اپنی ہستی سے کھیلتے ہوئے تنکے سے سبق لیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے جاوید کو ایک خط لکھا ۔ اس خط میں خودی کی اہمیت اور افادیت پر کافی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے جاوید کو کسی اعلیٰ عہدہ پر فائز ہونے کی صلاح نہیں دی بلکہ خودی جیسی بیش قیمت شئے کو سمجھنے کی تلقین کی ہے:۔

ترا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

    فلسفۂ خودی کے علاوہ اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے علامتوں کا پیکر اختیار کیا ہے ان میں شاہین کا تصور ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ جرمن قوم کی خود شناسی اور خود اعتمادی نے اقبال کے نظام فکر پر ایک گہرا اثر ڈالا ۔ جس کا اظہار وہ شاہین سے جو ان کی فضائے سخن میں محو پرواز ہے:۔

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

    انہوں نے اپنے شاہین کو درویش ، قلندری اور خود داری کے اعلیٰ اوصاف سے سنوارا اور اپنی قوم کے نوجوانوں کے سامنے بہتر زندگی جینے کا ایک نمونہ پیش کیا:۔

کیا میں نے اس خاکدان سے کنارا
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ

    اقبال کا شاہین جہاں قوت، بلندیٔ پرواز ، دوربینی کی علامت ہے وہیں بے نیازی اور انا کا پیکر بھی ہے۔ اقبال ادنیٰ اغراض کی تکمیل کے لیے اپنی فطرت کو داغدار ہونے سے بچانے کی ترغیب دیتے ہیں:۔

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

    مندرجہ بالا اشعار کا جائزہ لینے پر یہ بات مکمل طور پر سامنے آتی ہے کہ اقبالؔ کے تعلیم کا محور فرد کے احساس خود شناسی پر ہے۔ اگر ان کے اصولوں پر دھیان مرکوز کیا جائے تو انسان اپنے اندر اعلیٰ صفات پیدا کرسکتا ہے اور وہ دنیا کے سامنے قابل رشک نمونہ پیش کر سکتا ہے۔

 (مطبوعہ ’’پندار‘‘ پٹنہ، ۲۳؍ اپریل ۲۰۱۵ئ)


٭٭٭

Ahsan Alam
Raham Khan, Lalbagh, Darbhanga
Mob: 9431414808

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 859