donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Ahsan Alam
Title :
   Maulana Abul Kalam Azad Ke Seyasi Afkar


مولانا ابواکلام آزاد کے سیاسی افکار


احسان عالم 

ریسرچ اسکالر

(اردو)

ایل ۔ این ۔متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ

 

    اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کوئی مشکل نہیں کہ دنیا کی تمام اچھائیاں اور خوبیاں ایک فرد میں جمع کردے۔ ایسے بہت کم افراد اس دنیائے فانی میں آتے ہیں ،جو جامع کمالات ہوا کرتے ہیں ۔ کوئی علم و تحقیق کے میدان کا ماہر ہوتا ہے تو کوئی ادب و انشاء کا فرد کامل ہوتا ہے، تو کوئی میدان خطابت کا جوہر تابدار ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مولانا کے اندر اصناف علوم و فنون سے ہر فن میں وافر دولت عطا کی تھی۔ علم و تحقیق کی مجلس ہو یا شعر و سخن کی انجمن ، سیاست کی رمز گاہ ہو یا ادب کی بزم ۔ آپ جس بزم میں رہے  شمع انجمن رہے۔ ہر محفل میں میر محفل رہے۔آپ ہندوستان کے وہ در آبدار تھے ،جس کی چمک میں ساری دنیا بطور خاص ہندوستان کو اپنا مستقبل سنوارنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست اور علم کو ایک دوسرے سے تضاد کی نسبت ہے،  یہ دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے ہیںلیکن مولانا آزاد ان چند نابغۂ روزگار اور ایسے جوہر قابل میں ایک تھے ،جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں صفتیں بلکہ متضاد سمجھی جانے والی صفتیں جمع کردیں۔ علم و تحقیق کی متانت و سنجیدگی ،رمز گاہ سیاست کی ہلچل ، علم کا وقار وتمکنت اور سیاست کے دائو پیچ ، اہل علم و ادب اور معاندین اسلام کے ساتھ علمی مناقشہ کی گرم بازاری ،اور برطانوی سامراج کے خلاف تیر و سنان کی گھن گرج ؛دونوں ہی چیزیں پوری دیانت داری کے ساتھ آپ کے ساتھ ساتھ حریف بن کر نہیں بلکہ انیس بن کر چلتے رہے۔  وہ ان عظیم ہستیوں میں تھے جن پر یہ شعر صد فی صد صحیح صادق آتا ہے:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    ’’الہلال‘‘ کی اشاعت تک مولانا کے خیالات میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ کبھی ان پر سید احمد خاں کا اثر پڑااور کبھی مذہب کے بارے میں ان کے خیالات بدلتے رہے۔ ایک ایسا بھی وقت آیا جب ان کی دلچسپی مذہب سے ختم ہوگئی۔ مگر ایسے حالات اور خیالات لمبے عرصے تک قائم نہ رہے۔ خیالات نے کروٹ بدلی اور ان کا ذہن مذہب کی طرف راغب ہوگیا۔ اسی دوران ان کی دلچسپی سیاست سے ہوگئی۔

    ۱۹۰۸ء میں مولانا آزاد نے مصر، ترکی، شام اور فرانس کا سفر کیا۔ وہیں انہوں نے فیصلہ لیا کہ وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں پیش پیش رہیں گے۔ مسلمانوں میں قومی پروری کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے ۱۳؍ جولائی ۱۹۱۲ء میں کلکتہ سے اپنا عظیم الشان پرچہ ’’الہلال‘‘ شائع کیا۔
    ’’الہلال‘‘ نے صحافت کی دنیا میں قیامت برپا کردی۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ تین ماہ کے اندر اس کے تمام پرانے ایڈیشن دوبارہ شائع کرنے پڑے۔ ہر نیا خریدار اس کے پورے سیٹ کا طلب گار ہوتا۔ اس کے ذریعہ مولانا آزاد نے اسلام کی تاریخ کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کو آزادی کی تحریک میں جڑنے کی دعوت دی۔ مسلمانوں کو حکومت کے خلاف بغاوت کے لئے تیار کیا اور ملکی و قومی سیاست میں حصہ لینے پر زور دیا۔

    ’’الہلال‘‘ نے جو تاریخی اور سیاسی کارنامہ انجام دیا اس کے بارے میں ہندوستان کے بیشتر رہنمائوں نے مولانا آزاد کو خراج تحسین پیش کیا۔ ہندوستان کی تاریخ کے رہنما جواہر لال نہرو نے لکھا:

    ’’ابوالکلام آزاد نے اپنے ہفتہ وار الہلال میں مسلمانوں کو نئی زبان میں مخاطب کیا۔ ایک ایسا انداز تخاطب تھا جس سے ہندوستان کے مسلمان آشنا نہ تھے۔ وہ علی گڑھ کے محتاط لہجے سے واقف تھے۔ سرسید ، محسن الملک ، نذیر احمد اور حالی کے انداز بیان کے علاوہ ہوا کا زیادہ گرم جھونکا ان تک پہنچا نہیں تھا۔ الہلال مسلمانوں کے کسی مکتب خیال سے متفق نہیں تھا ۔  وہ ایک نئی دعوت اپنی قوم اور اپنے ہم وطنوں کو دے رہا تھا ۔

 (مولانا ابوالکلام آزاد ایک مفکر ایک رہنما، ج:۱، ص:۷۷)

    مولانا آزاد کی پوری سیاسی بنیاد دین پر کھڑی تھی ۔ وہ ان مفکرین میں تھے، جو سیاست کو شجر ممنوعہ نہیں سمجھتے تھے ۔آپ ان لوگوں میں تھے، جنہیں اسلام کی آفاقیت پر یقین تھا ۔ ان کا ایمان تھا کہ سیاست بھی دین کا ایک حصہ ہے۔ ان کی سیاسی فکر دین کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی ۔ مولانا اپنے نام و نمود کے لئے سیاست میں نہیں آئے تھے، بلکہ فرض منصبی کی ادائیگی کے لئے اس میں شامل ہوئے تھے۔ انہیں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد یاد تھا’’سیاست دین کا ایک حصہ ہے جو انبیاء کیا کرتے تھے‘‘اسی ارشاد کی تکمیل میں آپ نے سیاست کی دعوت دی اور خود بھی اسی پر عمل پیرا ہوئے۔ مولانا ایک اعتراض کے جواب میں کہ آپ دین و سیاست کو خلط ملط کر رہے ہیں ’’الہلال میں لکھتے ہیں::

    ’’آپ فرماتے ہیں کہ پولیٹیکل مباحث کو مذہبی رنگ سے الگ کر دیجئے، لیکن الگ کردیں، تو ہمارے پاس باقی کیا رہ جاتا ہے ۔ ہم نے تو اپنے پولیٹیکل خیالات بھی مذہب ہی سے سیکھے ہیں ۔ وہ مذہبی رنگ ہی میں نہیں بلکہ مذہب کے پیدا کئے ہوئے ہیں ۔ ہم انہیں مذہب سے کیونکر الگ کردیں۔

 (الہلال ، ۸؍ستمبر ۱۹۱۲ء ، ج:۱، ص:۲۰۱)

    مولانا نے ہر اس بات کو ناجائز سمجھا ،جس کی بنیاد اسلام پرنہ ہو ۔ خواہ اس کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے اور گوشے سے ہو۔ ان افکار و نظریات کا تعلق عبادات و معاملات سے ہو ، معاشرتی و تمدنی مسائل سے ہو یا پھر وہ افکار و خیالات سیاست سے متعلق ہوں۔ اگر ان کی اساس مذہب نہیں، تو وہ مولانا کی نظر میں سراپا گمراہی ہے :

    ’’ہمارے عقیدے میں تو وہ خیال جو قرآن کے سوا اور کسی تعلیم گاہ سے حاصل کیا گیا ہو، ایک کفر صریح ہے اور پولٹیکس بھی اسی میں داخل ہے ۔ افسوس ہے کہ آپ حضرات نے اسلام کو کبھی بھی اس کی اصلی عظمت میں نہیں دیکھا۔ اسلام انسان کے لئے ایک جامع اور اکمل قانون لے کر آیا اور انسانی اعمال کا کوئی مناقشہ ایسا نہیں جس کے لئے وہ حکم نہ ہو وہ اپنی توحید تعلیم میں نہایت غیور ہے  اور کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی چوکھٹ پر جھکنے والے کسی دوسرے دروازے کے سائل بنے۔ وہ مسلمانوں کی اخلاقی زندگی ہو یا عملی ، سیاسی ہو یا معاشرتی ، دینی ہو دنیاوی ، حاکمانہ ہو یا محکومانہ وہ ہر زندگی کے لئے ایک اکمل ترین قانون اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ دنیا کا آخری اور عالمگیر مذہب نہ ہوسکتا۔ وہ خدا کی آواز اور اس کی تعلیم گاہ خدا کا حلقہ درس ہے ،جس نے خدا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا وہ پھر کسی انسانی دستگیر ی کا محتاج نہیں ۔‘‘

     مولانا نے یہ باتیں الہلا ل ۸؍ ستمبر ۱۹۱۲ء کو اس خط کے جواب میں تحریر کیا ہے، جس میں مولانا آزاد سے ان کی سیاسی فکر و دعوت کے بارے میں استفسار کیا گیا تھا ۔ مکتوب نویس نے مولانا پر متعدداعتراضات کرتے ہوئے لکھا تھا :

    ’’ابھی صرف چند تحریریں ہی آپ کی نکلی ہیں۔لیکن انہیں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی نظر قرآن مجید اور اس کے حقائق و معارف پر کیسی وسیع اور گہری ہے ۔ لیکن معاف کیجئے گا آپ اپنے مذہبی رنگ میں پولیٹکس کو بھی خلط ملط کر دیتے ہیں اور اس طرح ملا دیتے ہیں کہ پہچان مشکل ہوجاتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کے الہلال کے سیکروںناظرین کو بھی یہ خلجان پریشان کرتا ہوگا‘‘۔

(الہلال ، ۸؍ستمبر ۱۹۱۲ء ، ج:۱، ص:۲۰۱)

    مولانا نے اس پورے خط کا جواب ’’پولیٹکل تعلیم کی نسبت ایک خط اور اس کا جواب‘‘کہ عنوان سے تحریر فرمایا ہے ۔اور اس خط کا جواب یہ مضمون مولانا کے سیاسی افکار و نظریات کو سمجھنے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے ۔ مولانا نے اس تحریر میں پوری وضاحت کے ساتھ اپنے خیالات و نظریات کو سپرد قلم کیا ہے ۔  مولانا آزادنے جہاد آزادی کی آوازپوری قوت سے بلند کرنے کے لئے الہلال جاری کیا تھا۔ اور اس کی دعوت فکر و عمل کی بنیاد مذہب پر رکھی ۔ وہ ہر شئے کو مذہب کے عینک سے دیکھنے کے عادی تھے۔

    مولانا تمام دنیاوی معاملات میں صرف قرآن پر بھروسہ کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ ان کا نظریہ تھا ایک مسلمان اللہ کے قوانین کے خلاف کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ہے اوردنیا بھی خدائی قانون کے خلاف کامیابی سے کبھی ہمکنار نہیں ہوسکتی ہے ۔ مولانا نے اپنے زبان و قلم سے مسلمانوں کو اسی حقیقت کی دریافت کی طرف بلایا ۔الہلال کے صفحات انہیں مقاصد کے داعی تھے۔ انہوں نے مقاصد کا خاکہ پیش کیا ۔ اپنے مقاصد کی صراحت کرتے ہوئے رقم فرماتے ہیں:

’’الہلال‘‘ کا اور کوئی مقصد نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ مسلمانوں کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے تمسک طرف بلائے اور کتاب سنت پر اپنے معتقدات ، اعمال کی بنیاد رکھے۔ ’’الہلال‘‘ چاہتا ہے کہ مسلمان تمام تعلیمی، شہری، اور سیاسی مسائل میں اس پر اپنا پورا ایمان رکھیں ۔

    مولانا کی تحریروں سے واضح ہوتا کہ وہ میدان سیاست میں اپنی دکان سجانے اور چمکانے نہیں آئے تھے، نہ ہی انہیں نام و نمود اور منصب و عہدہ کی طلب یہاں کھینچ لائی تھی۔ بلکہ وہ صرف ایک مومنانہ فرائض کی ادائیگی کے لئے میدان سیاست میں اپنے ہنر دکھلانے آئے نہیں، بلکہ لائے گئے تھے۔ سیاست کے ہنگاموں اور بداعمالیوں میں ایمان کی روح پھونکنے کے لئے ہی قدرت نے انہیں مکہ مکرمہ میں پیدا کرنے کے باوجود ہندوستان میں بسنے پر مجبور کیا تھا۔ مولانا کا سیاست سے اشتعال دین سے دوری کی وجہ سے نہیں تھا، جیسا کہ آج ہم دیکھتے ہیں ، بلکہ دین سے قربت کے نتیجے میں ہی وہ سیاست میں سرگرم عمل ہوئے تھے۔ مولانا فرماتے ہیں :

’’ہم دیکھ رہے ہیں ہماری پولٹیکل گمراہیاں صرف اس لئے ہے کہ ہم نے قرآن کے دست رہنما کو اب تک اپنا ہاتھ سپرد نہیں کیا ، ورنہ تاریکی کی جگہ آج ہمارے چاروں طرف روشنی ہوتی۔

( ابوالکلام آزاد ایک مفکر ایک رہنما، ج:۱، ص:۷۵)

    ان کا پختہ عقیدہ اس پر تھا ، وہ اسلام کو آفاقی اصول سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تمام مسائل کا حل خالق دنیا نے اپنی کتاب میں فرمادیا تھا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا کا ایمان اتنا راسخ ہے تو ہمیں ان کے اس قول پر کوئی تعجب نہیں ہوتاکہ انہوں نے سیاست میں حکم الہٰی کی اتباع میں قدم رکھا ہے۔

    مولانا آزاد نے صرف زبانی جمع خرچ نہیں کیا ،بلکہ جس کی دعوت دی پہلے خود اس پر عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو خطابت و تحریر کا غیر معمولی عطیہ اپنے خزانہ غیب سے عطا کیا تھا ،اس کی پوری طاقت انہوں نے اپنے مقصد کے حصول میں صرف کردی۔ خلوص نیت اور جذبہ صادق کی وجہ سے انہیں غیر معمولی کامیابیاں ملیں۔ انہوں نے الہلال اور البلاغ کے اسٹیج سے پورے ملک اور بطور خاص مسلمانوں کو ایک نئی زبان اور نئے انداز سے خطاب کیا۔

    مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی دعوت فکر و عمل کی بنیاد روحانیت پر رکھی۔ان کی دوربین نگاہیں دیکھ رہی تھیں ،کہ دنیا کی تمام ترتباہیوں اور بربادیوں کی جڑ قرآن حکیم سے بے تعلقی اور دوری ہے ۔ جب تک قرآن اور مسلمانوں کا رشتہ استوارنہیں ہوجاتا، تب تک غلامی کی زنجیریں کاٹی نہیں جاسکتی ہیں۔

    مولانا آزاد کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس بات کی پیشن گوئی پہلے ہی کر دی تھی کہ ایک وقت آنے والا ہے ،جب خود قرآن کے ماننے والے ہی قرآن حکیم کو چھوڑ دیں گے اور اپنی فکر اور اپنی راہیں وہاں تلاش کریں گے، جہاں کجروی اور ضلالت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ مولانا آزاد کی اس فکری دعوت سے صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہوئے، بلکہ ہندو رہنمائوں نے بھی اپنی دعوت کی اساس روحانیت کو بنایا اور گاندھی جی نے اسی نسخے کو ہندئوں کے لئے استعمال کیا اور روحانیت کی بنیاد پر ہندئوں کے صفوں میں اتحاد کی کامیاب کوششیں کیں۔ مولانا نے ۱۹۲۲ء میں برطانوی عدالت میں اپنے اوپر بغاوت پھیلانے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا :

    ’’میں یہاں صاف صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ الہلال کی دعوت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یا تو آزادی حاصل کی جائے یا حصول آزادی کی جد و جہد میں جان دے دی جائے۔ مہاتماگاندھی نے ہندئوں کے دلوں میں اب دینی روح زندہ کرنے کا کام شروع کیا ہے ۔ الہلال اس کام سے ۱۹۱۷ء میں فراغت حاصل کرچکا ہے۔ ہندو اور مسلمانوں نے آزادی وطن کی راہ میں جو شدید مزاحمت کی ہیں وہ اس روحانی اور دینی تربیت کا نتیجہ تھی جو ان کو مادیت کی تعلیم کے بجائے دی گئی تھی‘‘۔

 (مولانا ابوالکلام آزاد ایک مفکر ایک رہنما، ج:۱، ص:۸۱)

    مولانا جس کی دعوت دے رہے تھے، وہ کوئی نئی دعوت نہیں تھی ،لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ مسلمانوں کا سرمایہ ان کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔مولانا آزاد نے اسی یافت کو دوبارہ دریافت کیا۔مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ جس طرح وہ عبادت و معاملات کے قوانین میںدنیا کے کسی بھی قوم وملت ، مسلک و مشرب کے محتاج نہیں ہیں، سیاست میں ان کو کسی کے سامنے جھکنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ حامل قرآن ہیں اور قرآن یہاں بھی ان کی واضح رہنمائی کرتا ہے۔

    مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے تمام سیاسی نظریات و افکار قرآن کریم سے اخذ کئے، اور الہلال و البلاغ کے ذریعے اس فکر کی دعوت دی ۔ مولانا کی جذباتی اسلوب بیان نے مسلمانوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اور علماء جس سیاست کو اپنے لئے شجر ممنوعہ تصور کررہے تھے، جو سیاست ان کے لئے لباس عار تھی، وہی ان کے لئے لباس فخر بن گئی ۔ مولانا آزاد نے جو صدا لگائی اور جو فکر و نظریات پیش کئے وہ خداوند حکیم کے منشا کے مطابق تھی ۔ انہوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دی۔ یہی مولانا کی فکری دعوت تھی۔

    مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مولانا آزاد کی وہی حیثیت تھی جو انسانی جسم میں قلب کی حیثیت ہے۔ ان کے خیالات اور نظریات کا سارے لیڈر احترام کرتے ہیں۔

٭٭٭


(مطبوعہ روزنامہ ’’پندار‘‘ ۱۱؍ نومبر ۲۰۱۳ئ)


Ahsan Alam
Moh: Raham Khan, Darbhanga
Mob: 9431414808

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 528