donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. B. Md. Daud Mohsin
Title :
   Cinema Aur Urdu Zobano Adab

 سنیمااور اردو زبان وادب

 

 ڈاکٹر بی محمد داؤد محسنؔ  

 یم۔اے،پی ہیچ ۔ڈی
 پرنسپال
 یس۔کے۔اے۔ہیچ  ملّت پری یونیورسٹی کالج
 داونگرے۔577001 

(کرناٹک)

 سیل :09449202211


 e-mail:drmohameddavood@gmail.com 

    ہندوستانی فلموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ پہلی ہندوستانی فلم 1913 میں بنی ۔لیکن پہلی بولتی فلم ’’عالم آرا ‘‘ تھی جو 14 مارچ  1931کو سلور اسکرین پر ریلیز ہوئی۔دنیا بھر میں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ دو فلم انڈسٹریزمشہور و معروف ہیں۔ہالی ووڈ کا جہاں تک تعلق ہے اس کا انحصار محض انگریزی زبان پرہے جب کہ بالی ووڈ کی ساری فلمیں ہندی زبان کے نام پر بنتی ہیں لیکن اس کے پسِ پردہ اردو زبان راج کرتی ہے۔یہ اردو کے ساتھ ہونے والا سوتیلا پن اور کھلا تعصب ہے ۔جس سے ہر عام و خاص اور صاحبِ عقل و فہم بخوبی واقف ہے۔مگر یہ کہتے ہوئے ذرا بھی تامل نہیں کہ ہماری فلموں کو غیر معمولی شہرت اور مقبولیت صرف اردو زبان کی بدولت حاصل ہوئی ہے۔ فلموں کا تعلق عوام سے ہوتا ہے اور ادب کا تعلق خواص سے ۔ایک زمانہ تھا جب کہ ہر خاص و عام اردوشعر و ادب سے محظوظ ہو تا تھا اوریہی تفریح طبع کاواحد اور بہترین ذریعہ بھی تھا۔جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا گیا لوگوں کی سوچ و فکر کے دھارے بدلنے لگے ، ضروریاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے تقاضے بدل گئے اور وہ ادب سے دور ہوتے گئے ،نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اچھی زبان کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی پائی جانے والی فلموں سے ذہنی و قلبی تسکین حاصل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ اگر ہم ہندی کے نام پر بننے والی تمام فلموں کا جائزہ لیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ فلموں کو غیر معمولی مقبولیت اردو زبان کی شاعری ، مکالموں اور کہانیوںکی وجہ سے ہی ملی ہے۔پہلی ہندوستانی متکلم فلم ’’ عالم آرا‘‘ میںظہیرؔ کی کہانی ، اسکرپٹ اور اس میں پیش کردہ شاعری کو ملحوظ رکھ کر اور اسے صرف ایک فلم نہ سمجھتے ہوئے اس کے ادبی معاملات پر غور و خو ص کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں ادب کے تمام تر لوازمات کسی نہ کسی طرح پائے جاتے ہیں۔ ہندوستانی فلموں کی اس ایک صدی پر مشتمل تاریخ پر روشنی ڈالی جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ اردو کے استعمال سے ہی فلمیں کامیاب ہوئی ہیںاور دوسری بات یہ کہ اردو زبان کے فروغ میں فلموں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سچ ہمیشہ سچ ہوتا ہے اور وہ تلخ ہوتا ہے ۔یہاں یہ سچ ہے کہ جہاں اردو کے ذریعہ فلموں کو غیر معمولی فائدہ پہنچا وہیں فلموں کی بدولت اردو زبان و ادب کو بھی فیض پہنچا ۔لہذاتمام فلموں کا گہرائی ، گیرائی اور غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تویہ حقیقت سامنے آئے گی کہ عوام میں اردو زبان مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معیاری ادب تخلیق پانے کا سبب فلمیںرہی ہیں۔مگرہما رے ناقدین ادب فلموں سے تفریح توحاصل کرتے رہے اورکہانی کے ساتھ ساتھ ان فلموں کی زبان ، مکالموں اور نغموں سے مزے لیتے رہے مگر اسے فلموں سے وابستہ ادب قرار دے کر پس پشت ڈالتے رہے اور اسے ادب میں ایک خاص مقام دینے کے بجائے اپنا دامن بچاتے گئے۔

    یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب بھی ہم فلموں میں اردو کے فروغ پر گفتگو کرتے ہیں تویہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اردو ہی ہندوستا ن کی مخلوط گنگا جمنی تہذیب کی ترجمانی کرنے والی واحد زبان ہے جو ملک کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضروریات واقدار اور تجربات و محسوسات کو اپنے دامن میںنہ صرف سمیٹ لیتی ہے بلکہ ہمیں قوت گویائی بھی عطا کرتی ہے۔ہمارا ملک مختلف زبانوں کا گہوارہ ہے جسے زبانوں کا عجائب گھر کہا جا سکتا ہے۔جہاں ہر ریاست کی ایک الگ زبان موجود ہے ۔یہ علاقائی زبانیں اپنی جگہ اہمیت کی متقاضی ہوتی ہیں لیکن ہماری تہذیب کو برقرا ررکھنے کے لئے جو زبان ہمیشہ پیش پیش رہی وہ اردو ہی ہے جو عوامی جذبات و محسوسات کی پاسداری کرتی رہی ہے۔ اردو نے ہمیشہ ہماری ضرورتوں کوبھی پورا کیااور اس نے ہماری روح کو ، ہمارے دل کو اور ہمارے ذہن کو وہ غذا عطا کیا جس سے ہماری تسکین ہوسکتی تھی۔اسی لئے یہ فلموں کے لئے قابلِ قبول اور قابلِ قدر زبان بن گئی۔لہذایہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو کے بغیر ہماری فلموں کی تاریخ مکمل ہوسکتی ہے ،نہ ہی ان کی مارکیٹنگ ممکن ہے اور نہ ہی یہ قابل قبول اور قابلِ قدرہو سکتی ہیں ۔یہاں میں اس جھمیلے میں پڑنا نہیں چاہتا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ان فلموں کو کس زبان کا سرٹیفکیٹ دے کر ریلیز کیا جاتا ہے مگر ہر خاص و عام اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اردو زبان کے استعمال کے بغیر کوئی بھی فلم باکس آفس پرکامیا ب نہیں ہو سکتی ہے۔اردو چونکہ ایک زبان ہی نہیں بلکہ اس کی وابستگی ایک مکمل تہذیب سے ہے جسے ہندوستانی تہذیب مانا جا تا ہے۔ لہذا جب بھی ہندی کے نام سے جو نغمے ، مکالمے اور کہانیاں لکھی گئیں ان پرسیدھی سادی اردو ہی نہیں بلکہ فصیح و بلیغ زبان غالب رہی۔عموماً ہر شخص خوبصورت نغمے ، معیاری مکالمے اور مقصدیت سے پُرکہانیاں دیکھنااور سننا پسند کرتا ہے اس لئے عوام کی پسند کو سامنے رکھ کر نہایت سہل اندازی سے کام لے کر اس کی معیار سازی کے لیے اردو کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

     اردو کی بدولت ہی کامیاب فلمیںبنتی اور چلتی ہیںپر بحث کرنے کے بجائے اس حقیقت پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ اردو زبان کے فروغ میں فلموں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔یہ بات مشہور ہے کہ عموماً اسی قماش کی فلمیں کامیاب اور قابلِ قدر تصور کی جاتی ہیں جن کی کہانی کے ساتھ ساتھ مکالمے اور نغمے اچھے ہوتے ہیں ۔لہذایہ کہا جا سکتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے ذریعہ اردو شاعری ، اردو کے بہت سارے الفاظ و تراکیب ،ضرب الامثال، کہاوتیں اور محاور ے آج عوام تک پہنچے اور زباں زد عام و خاص ہوئے ہیں۔ذرا فلموں کے ٹائٹل پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ وہ اتنے معنی خیز ہوتے ہیںکہ بذاتِ خود ان ٹائٹل سے ادبیت چھلکتی ہے اور جتنی کامیاب فلمیں ہیں ان کے نام اردو زبان سے ہی مستعار ہیں۔مثلاً دل دیا درد لیا ،جس دیس میں گنگا بہتی ہے ، صنم بے وفا ،ہم تمہارے ہیں صنم ،کہو نہ پیار ہے، ہم آپ کے دل میں رہتے ہیں،میرے ہمدم میرے دوست ، ہمراز، میرے ہمسفر،دل تیرا دیوانہ، دو گز زمیں کے نیچے وغیرہ ۔اس کے علاوہ بہت سی فلموں کے نام اردو کے مشہور اشعار کے مصرعوں پر مشتمل ہیں۔اسی طرح جب ہم ٹائٹل کی طرح تھیم پر بات کریں توکئی فلمیں ایسی مل جائیں گی جن کا تھیم بذاتِ خود ٹائٹل کی کامیاب ترسیل پیش کرتاہے ۔فلم ’’ نیا دور‘‘ کا ٹائٹل اور تھیم ظاہر کرتا ہے کہ ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے جس میں سڑک بنانے کا کام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں میں ایک امنگ اور جذبہ ہونا چاہیے۔اسی طرح فلم ’’ سنگھرش‘‘ ( حالانکہ ٹائٹل ہندی ہے مگر اردو میں مستعمل ہے )میں شروع سے آخر تک لڑتے ہیں مگر اختتام پر سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔یہاں یہ تلقین کی گئی ہے کہ سمجھوتے کے لیے بھی سنگھرش کرنا لازمی اور ضروری ہے۔

    اسی طرح زبان پر گفتگو کی جائے تو ہمیںاردو سرٹفکیٹ سے مارکیٹ میں آنے والی فلمیں پاکیزہ، امراؤ جان ادا،ہیر رانجھا ، میرے حضور، میرے محبوب،تاج محل ، یہ عشق نہیں آساں وغیرہ سے بحث نہیں ہے مگر ہندی کے نام پر بننے اورچلنے والی98 فی صد فلموں کی زبان میں وہ شیرینی اورحلاوت پائی جاتی ہے ،لہجہ میں وہ بانکپن موجودہے اور انداز بیان میں وہ ا نوکھا اور نرالا پن ہوتا ہے کہ سامعین بھر پور لطٖف اٹھاتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔فلم ’’ صاحب بی بی اور غلام‘‘ میں مینا کماری جو زبان استعمال کرتی ہے ویسی میٹھی اور پیاری زبان آج بڑے بڑے پروفیسر بھی شاید ہی استعمال کریں۔ فلم ’’سیتا اور گیتا‘‘میں ہیرو ئن جب یہ کہتی ہے ۔’’ کیا بک رہے ہو‘‘ تو جواب میں ہیرو کہتا ہے ۔’’ بک نہیں رہا ہوں فر ما رہا ہوں۔فلم’’ شعلے‘‘کے مکالمے ’’ آج پوچھوں گا اللہ تعالیٰ سے۔۔اس نے مجھے دو چار بیٹے اور کیوں نہیں دئیے ۔۔۔اس گاؤں پر شہید ہونے کے لیے۔‘‘میں سادگی ، سلاست ، روانی اور فراوانی کے ساتھ ساتھ جو درد و کسک اور امنگ و لولہ موجود ہے اس کا جواب نہیں۔اسی طرح فلم’’ وقت ‘‘ کے وہ الفاظ ’’ جن کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں وہ اوروں پر پتھر پھینکا نہیں کرتے۔‘‘   


    مذکورہ حوالہ جات کے علاوہ ہزاروں ایسی مثالیںہمیں مل جاتی ہیں جن میں ادبیت موجود ہے۔لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو جیسی فصیح وبلیغ زبان کے کئی الفاظ کے علاوہ بہت سے مکالمے فلموں کے ذریعے عوام تک پہنچے اور مشہور و مقبول ہوئے ۔ اسی طرح غزل فہمی کا شوق مشاعروں اور کتابوں سے کہیں زیادہ فلموں کے ذریعے عوام کو حاصل ہواہے۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اشعار

سرفروشی کی تمنّا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا کتنا زور بازوئے قاتل میں ہے


فانوس بن کہ جس کی حفاظت ہوا کرے

وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے


مدّعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے


ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

زمانہ خود ہم سے ہے زمانہ سے ہم نہیں

    بیشتر فلموں میںبار ہااستعمال کرنے کی بدولت ضرب الامثال کی حیثیت اختیارکرگئے ہیں۔عموماً فلمیں نثری مکالموں پر مبنی ہوتی ہیں مگر ’’ہیر رانجھا‘‘منظوم مکالموں پر مبنی فلم ہے۔کیفی اعظمی کے منظوم مکالموں نے ایک طویل فلم کو ہر دلعزیزاور غیر معمولی شہرت عطا کیا۔ اس کے علاوہ اس کے نغموں نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا۔ جس کا یہ مشہور نغمہ

ان کو خدا ملے ہے خدا کی جنہیں تلاش

مجھ کو بس اک جھلک مرے یار کی ملے

     میں ادبی چاشنی بھی ہے ، لذت بھی ہے ، ندرت بھی ہے ، جدت بھی ہے اور شاعرانہ لطافت بھی۔اسی قماش کے نغموں کا ایک طویل سلسلہ ہماری فلموں میں موجود ہے ۔ جس کی تصدیق کے لئے میں ایک نغمے کے صرف ایک مصرعہ کاحوالہ دینا چاہتا ہوں ۔ جس کے بول ہیں

وہ میری شاہِ خوباں، وہ میری جانِ جاناناں

    اب ذرا اس میں پائے جانے والے شاعرانہ تصوراور نازک خیالی سے پہلے ’’شاہِ خوباں‘‘ کی ترکیب پر غور کیجیے ۔جہاں نغمہ نگار اپنے محبوب کو ’’شاہِ خوباں‘‘ کہتا ہے جو ٹھیٹ فارسی ہے۔مگر اسے انپڑھ ، گنوار اور جاہل آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ شاہ خوباں کا استعمال نغمہ نگار نے اپنے محبوب کے لئے کیا ہے۔دراصل خوباں کے معنی لڑکی کے ہیں مگر شاہِ خوباں یعنی’’ تمام حسین لڑکیوں کی بادشاہ ‘‘کہہ کر نغمہ نگار نے جوادبی چاشنی پیدا کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔جسے امیر خسرو ؒنے تقریباً آٹھ سو سال قبل اس طرح کیا تھا۔

 بسیار خوباں دیدہ ام    لیکن تو چیزے دیگری

    جس سے استفادہ کرتے ہوئے نغمہ نگار نے نغمگی ، شیرینی اور لطافت پیدا کردی ہے۔اردو کے نامور شعرا نے بھی اس ترکیب کا استعمال نہیں کیااور آج کا شاعر تو شاید ’’ شاہِ خوباں ‘‘ سے واقف بھی نہ ہو ۔مگر فلمی نغمہ نگاروں نے اسے استعمال کرکے عوام تک پہنچادیا۔اسی طرح فلم ’’ وقت ‘‘ کا مشہور نغمہ

اے مری زہرہ جبیں ، تجھے معلوم نہیں

تو ابھی تک ہے حسیں اور میں جواں

    اب ذرا اسی نوعیت کے چند نغموں سے پہلے بعض مشہور اشعارکا حوالہ دیتا چلوں جن میں ادبی رمق اپنے عروج پر دکھائی دے گی۔

دن بھر دھوپ کا پربت کاٹا ، شام کو پینے نکلے ہم

جن گلیوں میں موت بچھی تھی ان میں جینے نکلے ہم


چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہے جام ہے یہ

قدرت نے جو ہم کو بخشا ہے وہ سب سے حسیں انعام ہے یہ


دیکھا ہے زندگی کوکچھ اتنا قریب سے

چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے

    ان اشعار میں پائے جانی والی کیفیت کے علاوہ نازک خیالی ، شاعرانہ نزاکت ، جدت ، ندرت ملاحظہ فرمائیں۔آپ کو معلوم ہوگا کہ ان نغموں میں سہل ِ ممتنع کا جو پہلو کارفرماہے اسے ہر قاری اور سامع محسوس کرتا ہے اور بھرپور لطف بھی حاصل کرتا ہے۔یہاں ترسیل بھی کامیاب ہے اورنغمگی بھی موجود ہے۔اسی لیے ان نغموں کو شہرت حاصل ہوئی ہے۔اسی طرح بہت سی غزلوں اور نغموں کو کلاسیکی مقام اور مرتبہ کے علاوہ آفاقیت فلموں کے ذریعہ حاصل ہے۔جن کو سنتے ہوئے آدمی اپنے آپ میں گم ہو کر رہ جاتا ہے اور ذہنی سکون و قلبی اطمینان پالیتا ہے ۔اب ذرا ہندی کے نام پر لکھے گئے نغموں کے ذریعہ کیسی معیاری اردو عوام تک پہنچی ملاحظہ فرمائیں۔لیکن اس پہلے یہ سوچ کر سر نہ کھپائیں کہ یہ تو خالصتاً اردو الفاظ ہیں ۔اس کے بر عکس یہ دیکھ کر خوش ہوں کہ اردو کس طر ح عوام تک پہنچی ۔حالانکہ ایک ذی شعور کو اردو کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا دکھ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔کیونکہ یہ ہماری مادری زبان ہے اور مادری زبان ماں کی زبان ہوتی ہے ۔مگر ہم جس ملک میں سانس لے رہے ہیں وہاں اس کے علاوہ بھی ہمارے ساتھ بہت کچھ ہو رہا ہے جسے ہم برداشت کر رہے ہیںجب ہم اتنا سب کچھ سہہ سکتے ہیں تویہاں بھی ہمیں سمجھوتہ کر لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ فلم ’’ دیدی ‘‘ کامجروح سلطان پوری کا گیت ہے جس کا دوسرا بند ملاحظہ ہو۔


زندگی صرف محبت ہی نہیں کچھ اور بھی ہے
بھوک پیاس کی ماری اس دنیا میں
عشق ہی ایک حقیقت نہیں کچھ اور بھی ہے
تم اگر آنکھ چراؤ تو یہ حق ہے


    حسرت ؔ جئے پوری کا یہ گیت اپنے اندر کتنی ادبی چاشی رکھتا ہے ذرا غور کریں۔


 جانے کہاں گئے وہ دن ، کہتے تھے تیری راہ میں
 نظروں کو ہم بچھائیں گے
چاہے کہیں بھی تم رہو، چاہیں گے تم کو عمر بھر
تم کو نہ بھول پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    آنند بخشی کا یہ گیت ملاحظہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زباں پہ درد بھری داستاں چلی آئی


بہار آنے سے پہلے خزاں چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداس رات ہے ویران دل کی محفل ہے

 نہ ہمسفر ہے اور نہ منزل ہے
 یہ زندگی مجھے لے کر کہاں چلی آئی

    شیلندر کالکھاہوا فلم ’’ سنگم‘‘ کا یہ گیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوست دوست نہ رہا ، پیار پیار نہ رہا

 زندگی ہمیں ترا اعتبار نہ رہا۔۔۔۔

    اندیور کالکھاہوا فلم ’’ ہولی آئی رے‘‘ کا یہ گیت ۔۔۔۔میری تمنّاؤں کی تقدیر تم سنوار دو

 پیاسی ہے زندگی اور مجھے پیار دو

فلم ’’ ساتھی ‘‘ کا مجروح سلطان پوری کا لکھا یہ گیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا پیار بھی تو ہے، یہ بہار بھی تو ہے

تو ہی نظروں میں جانِ تمنّا،تو ہی نظروں میں

    بے حجاب لکھنوی کا گیت فلم ’’ آگ ‘‘سے دیکھیے۔زندہ ہوں اس طرح کہ غمِ زندگی نہیں

                    جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں
                    وہ مدتیں ہوئی ہیں کسی سے جدا ہوئے
                    لیکن یہ دل کی آگ ابھی تک بجھی نہیں

    اندیور کا یہ گیت فلم ’’اپکار ‘‘سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیوانوں سے مت پوچھو


                    دیوانوں پہ کیا گذری ہے
                    ہاں ان کے دلوں سے یہ پوچھو
                    اوروں کو پلاتے رہتے ہیں
                    اور خود پیاسے رہ جاتے ہیں
                    یہ پینے والے کیا جانیں
                    پیمانوں پہ کیا گذری ہے

    ساحر لدھیانوی کا فلم’’ کبھی کبھی‘‘کا یہ ٹائٹل سانگ اپنی مثال آپ ہے۔یعنی

                    کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
                    کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لیے
                    تو اب سے پہلے ستاروں میں بس رہی تھی کہیں
                    تجھے زمیں پہ بلایا گیا ہے میرے لیے

    ساحر لدھیانوی کا اسی فلم کا یہ گیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں پل دو پل کا شاعر ہوں


                    پل دو پل مری کہانی ہے
                    پل دو پل میری جوانی ہے۔۔۔۔۔۔
                    کل اور آئیں گے نغموں کی
                    کھلتی کلیاں چننے والے
                    مجھ سے بہتر کہنے والے
                    اور تم سے بہتر سننے والے
                    کل مجھ کو یاد کرے کوئی کیوں
                    کوئی مجھ کو یاد کرے
                    مصروف زمانہ میرے لیے کیوں
                    وقت اپنا برباد کرے

    آخرالذکر فلم ’’ کبھی کبھی ‘‘ کے اس نغمہ میں پائی جانے والی کیفیت کو ذہن میں رکھ کر اب ذرا دور حاضر کے بڑے اور نامور شعرا کے کلام کا جائزہ لیں ۔جس میں شاعر نے اس بات کی خواہش ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد بھی اچھے فنکار آئیں گے اور سامعین بھی اچھے ہوں گے مگر آج کے فنکاروں کے لکھے جانے والے نغموںپر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پتہ چل جائے گا کہ کس نوعیت کے نغمے منظرِ عام پر آرہے ہیں اور سامعین کی ذہنیت کیسی ہے اور وہ کیسے نغمے سننے کے عادی ہیں۔

    مذکورہ نغموں میں پائی جائے والی غنائیت ،معنویت ،مقصدیت اور افادیت کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اردو شاعری کو نغمگی موسیقاروں کی بدولت ملی اور یہ وہ موسیقار ہیں جو فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ساتھ ہی نغمگی کی وجہ سے اردو زبان کے نغموں کو جو شہرت حاصل ہے اتنی شہرت اردو کے کسی بڑے سے بڑے شاعر کے کلام کو حاصل نہیں ہوئی ۔ ان نغموں کو جتنا سنا اور گایا جاتا ہے اتنا اردو کے کسی شاعر کو پڑھا جاتاہے اور نہ ہی سنا جاتا ہے۔غالب کی بیشتر غزلیں فلموں کے ذریعہ عوام تک پہنچی ہیں۔ساحرؔ لدھیانوی کی نظم ’’تاج محل‘‘ کو فلموں کی بدولت ہی شہرت حاصل ہوئی ہے۔اس کے علاوہ فلمی صنعت سے وابستہ ہونے کی بدولت ہی اردوفن کاروںمثلاً کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری ، ساحر لدھیانوی ، جاں نثار اختر ، شکیل بدایونی ، حسرت جئے پوری ، سمپورن سنگھ عرف گلزاراور جاوید اختر کے حصّہ میں شہرت ، دولت اور عزت آئی ہے۔

     اس کے باوجود ہماری نظریں اس پر نہیں اٹھتی ہیں ۔محض اس لیے کہ ان کا راست تعلق فلموں سے ہے اور ہماری تہذیب اس بات کو گوارا نہیں کرتی اور نہ ہی ہماری طبیعت اسے قبول کرتی ہے۔
    اس کے علاوہ ناقدینِ ادب بھی اس طرح کی شاعری سے کتراتے ہیں اور وہ ایسی شاعری کو فروغ دینے اورعوام میں منوانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں جن کو ان سے انسیت ہوتی ہے۔مذکورہ بالا نغموں کے معیار کی اور عوامی مقبولیت کی ایک غزل آج کے بڑے شاعرکے یہاں ڈھونڈنے سے بھی شاید ہی ملے ۔ ہمارے ناقدین گروہ بندی کا شکار ہوکر اپنے حلقہ والوں کو بڑا بنانے اور ان کی شاعری پر بحث چھیڑکران کی مارکیٹنگ میں مصروف ہیں۔اس کے علاوہ مشاعروں کے ذریعہ اکثرشعرا اپنی شاعری کی دکان چمکانے لگے ہوئے ہیں۔دراصل یہ مشاعرے آج بھانڈوں کی آماجگاہ اورمشجرے بن چکے ہیں۔جہاں پر شاعری کم مجرے زیادہ ہوتے ہیں۔اگر ہمارے شعرا پرانی طرز پر لوٹ آئیں تو عین ممکن ہے کہ فلمی نغموں میں وہی لطافت اور شیریں بیانی لوٹ آئے گی ۔حالانکہ فلم انڈسٹری تک سچّے اور ایماندار فنکاروں کی رسائی ممکن بھی نہیں ہے ۔اس لیے جو فن کار فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں وہی سنجیدگی کے ساتھ کوشش کریں تو اس کا ازالہ ہو سکتا ہے ورنہ

اونچی ہے بلڈنگ ، لفٹ میری بند ہے
کیسے میں پہنچوں دل رضا مند ہے

کے علاوہ  چولی کے پیچھے کیا ہے ، چنری کے نیچے کیاہے ۔۔۔۔منّی بد نام ہوئی،ڈارلنگ تیرے لیے۔۔۔۔۔ یہ ہلکٹ جوانی۔۔۔نمکین پانی،۔۔۔۔۔چکنی چمیلی ۔۔۔۔۔شیلا کی جوانی جیسے نغمے وجود میں آئیں گے ۔جنہیں سن کرہم کانوں میں انگلیاں رکھنے پر آمادہ ہو جائیں گے حالانکہ ان نغموں میں بھی اردو زبان ہی حاوی ہے مگر ادبیت ناپید ہے ۔

(یو این این)

Dr.B.M Davood Mohsin           
M.A, Ph.D       
Principal                                     
S.K.A.H Millath College      
Basha Nagar                      
Davangere-577001            
(Karnataka)                        
Mobile:09449202211         
e-mail:drmohameddavood@gmail.com




 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 649