donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Gholam Shabbir Rana
Title :
   Vladimir Propp



ولاد ی میر پروپ

 

( Vladimir Propp)


 ڈاکٹر غلام شبیررانا


      
         روسی دانش ور ولاد ی میر پروپ (1895-1970) نے روسی شہرسینٹ پیٹرز برگ (Saint Petersburg)میں مقیم ایک جرمن خاندان میں جنم لیا ۔ تعلیم کے ابتدائی مدارج ہی سے اس ہو نہار طالب علم نے اپنے اساتذہ کو اپنی ذہانت سے بہت متاثر کیا ۔ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ولادی میر پروپ نے اعلا تعلیم کے لیے سال 1724میں قائم ہونے والی روس کی مشہور وفاقی سرکاری جامعہ’’ سینٹ پیٹرز برگ سٹیٹ یو نیورسٹی‘‘ (SPbSU) میں داخلہ لیا ۔اس یو نیورسٹی میں وہ پانچ سال (1913-1918) زیر تعلیم رہا۔یہاں روسی اور جرمن لسانیات اس کے پسندیدہ مضامین تھے ۔ان مضامین میں اس نے گہری دلچسپی لی اور اپنی ذاتی محنت اور لگن سے اپنے ساتھیوں اور اساتذہ کو بہت متاثر کیا ۔ مستقبل میںروسی اور جرمن لسانیات میں اس کی دلچسپی اس کے لیے اہم ترین موضوع ثابت ہوا۔اس جامعہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گیا اور مختلف مدارس میں جرمن اور روسی زبان کی تدریس پر مامور ہوا۔کچھ عرصہ بعد وہ کالج کی سطح پر جرمن زبان پڑھانے لگا ۔سال 1928میںاُس کی معرکہ آرا تصنیف  ’’Morphology of Folk tales‘‘  روسی زبان میںشائع ہوئی ۔سال 1932میں اس کا تقرر لینن گراڈ یو نیورسٹی میں ہو گیا ۔اس نے اپنی باقی زندگی اسی جامعہ میں تدریسی خدمات انجام دینے میں گزاری۔سال 1958میں جب ولادی میر پروپ کی تصنیف ’’Morphology of Folk tales‘‘   کے تراجم  یورپ میںانگریزی زبان میں ہونے لگے تو وہ شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچا۔ ادب کے بعض سنجیدہ قارئین اور محققین کی رائے ہے کہ مصنف نے اپنی اس کتاب کا نام پہلے ’’A morphology of wondertale‘‘ تجویز کیا مگر ناشر نے من مانی کرتے ہوئے wondertale کے بجائے Folk Tale رکھ لیا ۔شاید ناشر کو یہ گمان تھا کہ اس کی یہ اختراع ادب کے عام قارئین کے لیے زیادہ پر کشش ثابت ہو گی۔ ادب کے زیرک نقادوں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ فکشن کے وضاحتی اسلوب کے تجزیاتی مطالعہ کے سلسلے میں ساختیات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔  تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ولاد ی میر پروپ کا شمار فکشن میں تخلیقِ ادب کے وضاحتی اسالیب کے ساختیاتی مطالعہ کے اہم بنیا دگزاروں میں ہوتا ہے۔ ولادی میر پروپ نے روسی لوک داستانوں کے تجزیاتی مطالعہ میں جس تدبر ،فہم وفراست اور بصیرت کا ثبوت دیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔لوک داستانوں کے مو ضوعات میں پائی جانے والی غیر معمولی وسعت،ندرت اور تنوع کے باعث ولاد ی میر پروپ نے لوک داستانوں کی کلاسی فکیشن کا تصور پیش کیا ۔وہ موضوعات کے اعتبار سے لو ک داستانوں کی تقسیم اور درجہ بندی کا داعی تھا۔اس نے مضامین اور ان کے مرکزی خیال کے لحاظ سے بھی لوک داستانوں کی تقسیم کی جانب توجہ دلائی۔ادب میںساختیاتی مطالعہ کی راہ ہموار کرنے کے سلسلے میںولادی میر پروپ کی خدمات کا ایک عالم معترف ہے ۔ بیانیہ کے ساختیاتی مطالعہ کے سلسلے میں قارئین کی نگاہ جن ممتاز نقادوں پر پڑتی ہے ان میں ولاد ی میر پروپ ( Vladimir Propp)  اور فرانسیسی ماہر لسانیات کلاڈ لیوی سٹراس (Claude Lévi-Strauss)کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ولادی میر پروپ نے فکشن کے تجزیاتی مطالعہ کو جدید ادبیات میں رو بہ عمل لا کر روسی ادبیات میں ساختیاتی مطالعہ کی راہ ہموار کر دی ۔ روسی فکشن میں ساختیاتی مطالعہ کے مظہراس کے نظریات نے فکر و نظر کے نئے دریچے وا کر دئیے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کے تصورات کو جدید لسانیات میں تازہ ہوا کے جھونکے سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ذو ق ِ سلیم سے متمتع ادب کے ذہین قارئین کو ساختیات کے ان قدیم بنیاد گزاروں کی علمی و ادبی خدمات کے بارے مثبت شعور و آ گہی فراہم کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔اس سے پہلے ممتاز ادیب اور نقاد الیکزنڈر وسیلو وسکی(Alexander Veselovsky)نے روسی لوک کہانیوں پر تحقیقی کام کیا ۔الیکزنڈر وسیلو وسکی(1838-1906) نے تقابلی ادبیات کے موضوع پر جن فکر پرور خیالات کا اظہار کیا انھیں اس کی پیش کردہ ادبی تھیوری کی حیثیت سے پزیرائی مِلی ۔فرانس سے تعلق رکھنے والے نقاد جوزف بیدئیر (Joseph Bédier) نے بھی اس جانب توجہ دلائی کہ رزمیہ میں تخلیقِ ادب کے سوتے کیسے پھوٹتے ہیں۔ جوزف بیدئیر (1864-1938)نے اس امر پر اصرار کیا کہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تخلیقی فعالیت در اصل تخلیق کار کی ذاتی فہم وفراست اور بصیرت کی مر ہونِ منت ہے ۔تخلیقی فعالیت کو کسی ہر دل عزیز روایت کا ثمر سمجھنا درست نہیں۔ اپنے نظریات کی توضیح کے سلسلے میں اس نے قرونِ وسطیٰ کے غنائی شاعروںکی تخلیقات کواپنی دلچسپی کا محور بنایا ۔ قرون وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی حسن و رومان کی داستان ٹرسٹن اور ایسولڈ ( Tristan and Isolde) پر اس کے تجزیاتی مطالعہ کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔آج کے دور میں جب ان مشاہیر کا ذکر کم کم ہوتا ہے تو رام ریاض (ریاض احمد شگفتہ)( 1933-1990) کا یہ شعر ذہن میں گردش کرنے لگا۔ 

       کس  نے  پہلا  پتھر  کاٹا  پتھر  کی  بنیاد  رکھی 
       عظمت کے سارے افسانے میناروں کے ساتھ رہے 

     لوک داستانوں کا تجزیاتی مطالعہ اس امر کامتقاضی سمجھا جاتا ہے کہ اس کی صحیح خطوط پر درجہ بندی کی جائے ۔ بادی النظر میں لوک کہانیوں کی یہ درجہ بندی ہر قسم کی تحقیق اور تجزیاتی مطالعہ میں اساسی حیثیت رکھتی ہے ۔ لو ک کہانیوں کے اس قسم کے تنقیدی تجزیات میں ابتدائی نوعیت کے مطالعات کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ تجسس اور حسن و خوبی سے لبریز لوک کہانیوں میں مافوق الفطرت عناصر کے علاوہ جانوروں کی موجودگی بھی قارئین کے لیے دلچسپی کا سبب بنتی ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ پری اور شہزادے کا رومان، ماہی گیر اور مچھلی کی کہانیاں ،مداری اور بندر کے مکالمے ، صیدِ زبوں اور صیاد کی بات چیت سے لوک کہانیوں میں حیرت کی جو فضا پیدا ہوتی ہے وہی ان لوک کہانیوں کا مزاج بن جاتی ہے ۔ ولاد ی میر پروپ نے لوک کہانیوں کی تقسیم کے بارے میں لکھا ہے :

,,The most commom division is a division into tales with fantastic content,tales of everyday life,an danimal tales.At first glance everything appears to be correct.But involuntarily the question arises,"Don,t tales about animals sometimes contain elements of the fantastic to a very high degree?Is it possible to consider such an indicator as sufficiently precise?,, (1)                                                                                                                                       
     ولاد ی میر پروپ نے تاریخ اور اس کے مسلسل عمل  پر ہمیشہ گہری نظر رکھی ۔ طلسم ہوش ربا قسم کی کہانیوں میں یہ بات حیران کن ہے کہ کس طرح شجر ،حجر ،طیور ، چرند اور درندے لوک کہانیوں میں سر گرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔ لوک کہانیوں کا ہر قسم کا تجزیاتی مطالعہ اس امر کا متقاضی ہے کہ اسے وسیع اور کثیر الجہتی موازنہ کی اساس پر استوار کی اجائے ۔ لوک داستانوں کے تجزیاتی مطالعہ کے دوران با لعموم تکنیک اورطریق ِ کار پر پُوری توجہ نہیں دی جاتی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متعدد حقائق سرابوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔ساختیاتی مطالعہ کو اس سارے سلسلے میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے اسی کے معجز نما اثر سے لو ک کہانیوں کے متن،مواد اور ہئیت کے بارے میں حقائق کی گرہ کشائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ ولاد ی میر پروپ نے لو ک کہانیوں کے تجزیاتی مطالعہ میں تاریخی صداقتوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے :   

,,Historical realities can be of great assistance in explaining the fate of a plot.The bylina is rich in realities,and the number increases as epic poetry develops.Among such realities are proper and place names,which must be studied in accordance with contemporary onomastics and toponymics and not the means of the conjectural association of like-sounding words.,,

(2)              اس کے مطالعے جہاں اس کی اہم ترین بصیرتوں کے آ ئینہ دار ہیں وہاںان کی تاریخی ،ساختیاتی اور لسانی اہمیت بھی مسلمہ ہے ۔                                              روسی لوک کہانیوں کے آغاز و ارتقا کے موضوع پر اس نے جن مباحث کا آغاز ولاد ی میر پروپ نے کیا ان کی حقیقی کیفیات اس کی تصنیف روسی لوک کہانیاں (       The Russain Folktale             )میں نظر آ تی ہیں۔ مصنف کا حقیقت پسندانہ اور تجزیاتی نقطہ  ٔ نظر قاری کے لیے ایک منفرد تجربہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کتاب کا وسیع موضوع اور قلب و نظر کو مسخر کرنے والا متنوع موضوعات سے مزین اسلوب قاری کو جہانِ تازہ میں پہنچا دیتاہے ۔ مصنف نے اس امر کی صراحت کر دی ہے کہ لوک داستانوں میں حرفِ صداقت کی جستجو لاحاصل ہے ۔ صدیوں سے مقبول لوک کہانیاں اورروایتی قصے ہر دور میں قارئین کی دلچسپی کا محور رہے ہیں۔ لوک کہانی کا مقصد محض تفریح ہے اور اس کی تخلیق میں اصلاح اور مقصدیت کی تلاش وقت اور محنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں ۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ لوک کہانیوں کے بر عکس روایتی قصوں ، اسطور اورداستانوں میں کسی حد تک سبق آموز واقعات بھی پائے جاتے ہیں۔ روایتی قصہ اصلی النسل داستان گو بیان کرتے ہیں جوروایتی قصے(myth)کے  نسل در نسل  راوی سمجھے جاتے رہے ہیں۔ ان میں عقائداور طلسمات کااپنا رنگ ہوتا ہے ۔ جب روایتی قصے(myth) میں سماجی اور معاشرتی افادیت عنقا ہونے لگے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ لوک کہانی کے رُوپ میں سامنے آرہا ہے ۔ تحیر کے عنصر سے لبریزروسی لوک کہانیوںمیں اختصاصی مہارت رکھنے والے اس جری نقاد نے کہانیوں کی ساخت اور ہئیت کے بارے فکر و خیال کی جو شمعیں فروزاں کیں ان کے معجز نما اثر سے سفاک ظلمتیں کافور ہوئیں اور روشنی کا سفر جاری رکھنے میں مدد ملی ۔ انسانی ہمدردی اورجذبۂ انسانیت نوازی اس رجحان ساز نقاد کے اسلوب کا نمایاں وصف ہے ۔ ولاد ی میر پروپ نے روسی لو ک کہانیوں کے بارے میں اپنے تجزیاتی مطالعات جس دیانت اور ذہانت سے پیش کیے ان کے ساختیاتی فکر پر دُور رس اثرات مرتب ہوئے ۔

       مزاح زندگی کی نا ہمواریوں ،بے اعتدالیوں ،بے ہنگم ارتعاشات اوربدوضع تضادات کے ہمدردانہ شعور سے عبارت ہے جسے فنی نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے پیرایۂ اظہار عطا کیاجاتا ہے۔اس کی اصلیت ،نوعیت اور تاثیر کی تفہیم اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک اس کے پس پردہ کار فرما احساسات ،جذبات اور نفسیاتی عوامل پر گہری نظر نہ ڈالی جائے ۔ ولاد ی میر پروپ نے طنز و مزاح کے محرکات کے بارے میں لکھا ہے :

      ,,Laughter occurs when two elements are present: the funny object and the laughing subject.As a rule ,nineteenth -and twentieth century thinkers studied either one or the other:the comic object in works on aesthetics,the laughing subject in works on psychology. Yet the comic is determine dby neither the formerno rthe later,but by influence on us of objective phennmena.  (3)           
    
        بیسویں صدی کے آغاز میں ساختیات،روسی ہئیت پسندی اور نئی تنقید نے خو ب رنگ جمایا ۔اسی عرصے میں تنقید میں نیا آ ہنگ دیکھنے میں آیا جسے بیانیہ کے مباحث سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ روسی کہانیوںکا تجزیاتی مطالعہ کرتے وقت ولادی میر پروپ نے کہانیوں کے مرکزی خیال اورمشترک موضوع کی جستجوکو بہت اہمیت دی۔اپنی افتاد طبع کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نے لوک کہانیوں کو مختصر ترین صرفیہ (morphemes )میں بانٹ کر ان ادبی ریزوں میں سے مفاہیم و مطالب کے گوہر تلاش کرنے کی سعی کی ۔ ولادی میر پروپ نے پریوں کی عام لوک کہانیوں میں سے طلسمات سے وابستہ کہانیوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ ولادی میر پروپ نے لوک کہانیوں کے تجزیاتی مطالعہ کے لیے جس ساختیاتی ماڈل کاانتخاب کیا اس کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔ ولادی میر پروپ نے   لوک داستانوںکے واقعات اور افعال سے تعلق رکھنے والے اکتیس آزاد اور خود مختار بیانیہ یونٹ دریافت کیے جن میں مماثلت کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس کا خیال تھا کہ یہی حساس بیانیہ یونٹ لوک کہانیوں کی ساخت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دورانِ تحقیق وہ اس نتیجے پر پہنچاکہ واقعات اورافعال کے یہ بیانیہ یو نٹپریوں کی سب لوک کہانیوں کو ایک ڈوری میں پر و دیتے ہیں اس لیے وہ ان کی ترتیب پر زور دیتا ہے اور ان کے حقیقی انداز کو ملحوظ رکھنے پر اصرار کرتا ہے ۔واقعات اور افعال کے بیانیہ یونٹ کے بارے میں ولاد ی میر پروپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اِن کا کہانی کے پلاٹ اور مقام سے گہرا تعلق ہے ۔اُس نے واضح کیا کہ بیانیہ یونٹ جو واقعات اور افعال کے آئینہ دار ہوتے وہی لوک کہانی میں محوری حیثیت رکھتے ہیں جب کہ موضوع،شکل،کردار،پلاٹ اور کردار کو لوک کہانی میں ثانوی حیثیت حاصل ہے ۔ وہ پریوں کی لوک کہانیوں میں سات اہم کرداروں کا بھی ذکرکرتا ہے ۔ اس نے پریوں کی لوک کہانیوں میں پائی جانے والی ایک ہی بنیادی ساخت کی جانب بھی اشارہ کیا ۔دنیا بھر میں داستان گو صدیوں سے یہ لوک کہانیاں اپنے سامعین کو زبانی سناتے چلے آئے ہیں۔یہ لوک کہانیاں معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان معتبر ربط کا وسیلہ سمجھی جاتی ہیں۔اس طرح کا لوک ادب جن میں لوک کہانیاں بھی شامل ہیں تہذیبی،ثقافتی،تاریخی ،عمرانی اور معاشرتی حوالے سے تاریخ کے ہر دور میں دنیا کی مختلف قوموں کے ادب اور فنون لطیفہ کی تعمیر و ترقی کے لیے نشانِ منزل ثابت ہوئی ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید دور میں علم و ادب کی تابانیوں کے سوتے در اصل ماضی کی اِن لوک کہانیوں سے پُھوٹتے ہیں۔لوک ادب نے ہر عہد میں قارئین کو نشانِ منزل دیا اور ان خطوط پر زیرک تخلیق کاروں نے جدت اور تنوع کو ملحوظ رکھتے ہوئے نئے آفاق تک رسائی کی مقدور بھر کوشش کی۔

      ساختیاتی فکر کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں  ولاد ی میر پروپ کی فہم و فراست کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ  سے دیکھا گیا۔جہاں تک کہانی کے مختلف عناصر کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی کا تعلق ہے اس مقامِ شوق میں وہ کھویا گیا اور اس کا احساس اس کا ساتھ نہ دے سکا۔ مثال کے طور پر تخلیق کاروں اور لوک کہانیوں کے مختلف کرداروں کے مزاج کی کیفیت (Mood  ) اور لوک کہانیوں کے گہرے تناظرپر وہ کچھ کہنے سے قاصر رہا ۔ اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ  ولاد ی میر پروپ نے لوک کہانیوں کے جو تجزیات پیش کیے وہ قدیم لوک کہانیوں اور جدید ادب کی تفہیم کے سلسلے میں کوئی مفید اور موثر لائحۂ عمل پیش نہیں کرتے ۔ ولاد ی میر پروپ سے پہلے رولاں بارتھ اور کلاڈ لیوی سٹراس نے لوک کہانیوں اور ساختیاتی تجزیہ کا جو ارفع معیار پیش کیا اُسے کلاسیک کا درجہ حاصل ہے ۔  ولاد ی میر پروپ نے لو ک کہانیوں کے تجزیاتی مطالعہ کے دوران میں جونتائج اخذ کیے ان کی بنا پر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ عناصر کی درج ذیل پانچ درجہ بندیاں ہی وہ مقیاس ہیں جو لوک کہانیوں کی تشکیل و توضیح میں اساسی حیثیت رکھتی ہیں۔  

     1۔تخلیق کارکی شخصیت اور اس کی تخلیقی فعالیت ۔

     2۔  لوک کہانی کے اتار چڑھاؤ کے تخلیقی عمل کے دوران میںمربوط عناصر کا نشیب و فراز سے گزرناجس میں تکنیک ،اعلان،سیلِ زماں کے تھپیڑے،آفاتِ نا گہانی،محرومی، مجبوری،جبر کے مختلف انداز اور             بد قسمتی وغیرہ شامل ہیں۔
     3۔شخصیت کے عزائم ،مقاصد اور ترجیحات،اس کی منشا،ترغیب اور تحریک 
     4۔ مختلف مواقع پرلوک کہانیوں میں ڈرامہ کی صورت میںکردار ادا کرنے والی شخصیت کے اظہار کی متنوع صورتیں ۔
     5۔لوک کہانی میں پائے جانے والے صفاتی عناصر اور متعدد  لوازمات جیسے ڈائن کی کٹیا،بُھوت محل میں لٹکی مٹی کی ٹانگ اور چڑیل کی خون آشامی۔
            بیانیہ یونٹ جو واقعات اور افعال کا آئینہ دار ہے اس میں شامل ان اکتیس عناصر کی فہرست دی جارہی ہے جن کی  ولاد ی میر پروپ نے لوک کہانیوں کے تجزیاتی مطالعہ کے بعد نشان دہی کی۔ ان عناصر کی علامات ، تشریحات ، مباحث ، ان میںسے کچھ جوڑو ںکی صور ت میں ہوتے ہیں جیسے روانگی ، واپسی وغیرہ ۔ایسی کیفیات دنیا کی تمام زبانوں کے ادب میں جلوہ گرہیں َ
       پہلا دائرۂ کار :ابتدائی کیفیات اور تعارف
     1 ۔ غائب ہو نا: لوک کہانی کا کوئی اہم کردار گم ہو جاتاہے جس کے بعد کہانی سنسنی خیز صورت اختیار کر لیتی ہے ۔

                     آوا زدے کہاں ہے 
                     دنیا میری جواں ہے 
                     تم نہ جانے کِس جہاں میں کھو گئے 
                    ہم بھری دنیا میں تنہا ہو گئے

     2 ۔ امتناع :  ہیرو کوکسی کام کی ممانعت کر دی جاتی ہے اور اس ممنوعہ کام سے باز رہنے کی نصیحت کی جاتی ہے ۔

                     آج کی رات نہ سونا یارو 
                    آج ہم ساتواں در کھو لیںگے

     3 ۔حکم امتناع کی خلاف ورزی:  لو ک کہانی کا ہیر و پند و نصائح ،حکم امتناعی اور تنبیہہ کو خاطر میں نہیں لاتا اور نتائج سے بے پروا ہو کر من مانی کرتا ہے ۔

     4۔ٹوہ لگانا  :ہیرو کا رقیب سادیت پسندی کے مرض میں مبتلا ہے اور وہ ہیرو کی جاسوسی کرکے اسے اذیت دینا چاہتا ہے ۔

     5۔ترسیل:  برادرانِ یوسف ،کینہ پرور حاسداورآستین کے سانپ رقیب کو مطلوبہ معلومات تک رسائی میں مدد دیتے ہیں۔اس کے بعد ہیرو مصائب و آلام میں گِھر جاتا ہے ۔

     6۔فریب کاری:جو فروش گندم نما رقیب لوک کہانی کے ہیرو کو جُل دینے پر تُل جاتا ہے اور اُسے نا کردہ گناہوں کی سزا دینے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آتا ہے ۔

     7۔سازش :سازشی عناصر کے مکر کی چالوں اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور لا علمی میں دشمن کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ 

      دوسرا دائرۂ کار :کہانی کی جسامت

         لوک کہانیوں کا باقاعدہ آغاز یہاں سے ہوتا ہے ۔اس مر حلے میں لو ک کہانی ہیرو کی بڑی مہم پر روانگی ،حل طلب معما کی مشکلات کے حل کی جستجواور گوہرِ مراد کے حصول تک پھیل جاتی ہے ۔
      8۔شرارت اور کمی :مخالفین کی شرارت ،اقتضائے وقت کے مطابق اقدامات کی ضرورت اور ممکنہ کمی کی شناخت ہو جاتی ہے ۔

      9۔ثالثی :اس موقع پر لو ک کہانی کے ہیرو کومسائل کی سنگینی اورحکمت عملی کی کمی کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے ۔

      10۔جوابی کارروائی : ہیرو مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے فیصلہ کن اور نتیجہ خیز جوابی کاروائی کرنے کا عزم کر لیتا ہے ۔

      11۔  ہیرو کی مہم پر روانگی :ہیرو مہم سر کرنے کے لیے روانہ ہو جاتا ہے ۔
        تیسرا دائرہ ٔکار :عطیہ دینے کا سلسلہ

      12۔ جائزہ: ہیرو اپنی استعداد کا جائزہ لیتا ہے کہ وہ کس طرح درپیش چیلنج کا سامنا کرے ،مخالفین کو زیر کرنے کے بعداپنی جرأت و استقامت کو ثابت کرے ۔

      13۔رد عمل: ہیرو ابتلا اور آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدم رہتا ہے اور انتہائی کٹھن حالات میںاستقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

      14۔حصول :جان لیوا مصائب سے بچنے کے لیے ہیرو کوئی طلسمی چیزحاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔

      15۔رہنمائی :کسی مافوق الفطرت قوت کی رہنمائی میں ہیرو منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے جہاں مزیدامتحا ن اس کے منتظر ہیں۔

       16۔جد و جہد:ہیرو اور ولن میں خوف ناک تصادم ہوتا ہے۔

     17۔چھاپ لگانا :ہیرو پر کسی خاص نشان کی چھاپ لگا دی جاتی ہے ۔

      18۔فتح  و نصرت: ہیرو کو کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وِلن کو منھ کی کھانا پڑتی ہے ۔ 

       19۔قرار داد:ہیرو کی فتح کے بعدابتدائی مر حلے کی نحوست ،بد قسمتی اور محرومی کاازالہ ہو جاتا ہے ۔

           چوتھا دائرۂ کار :ہیرو کی واپسی

       لوک کہانی کے اس آخری مرحلے میں طویل جد و جہد کے بعدکامیابی و کامرانی ہیرو کا مقدر بن جاتی ہے ۔اکثر مشکلات پر قابو پانے کے بعد وہ اپنے گھر لوٹ جانے کا عزم کر تا ہے ۔اُس کی واپسی ہنگامہ خیز نہیں بل کہ یہ ہیرو کی ذات کے لیے راحت اور مسرت کی نقیب ثابت ہوتی ہے ۔کئی مہمات میں دکھوں کے کالے کٹھن پہاڑ اپنے سر پر جھیلنے اور سخت مقامات پراپنے لہو سے ہولی کھیلنے کے بعدوہ بالآخر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتاہے ۔جب ہیرو اپنے وطن لوٹتا ہے تو بعض اوقات اُس کا پرجوش خیر مقدم کیا جاتا ہے ۔

       20۔واپسی :لوک کہانی کے وِلن کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بعد غریب الوطن ہیرو اپنی جنم بھومی کی طرف لوٹنے کے لیے رختِ سفر باندھ لیتاہے ۔ لوک کہانیوں کے غریب الدیار ہیرو کو وطن کی یاد دستانے لگتی ہے تو اس کی آ نکھوں سے جوئے خوں رواں ہو جاتی ہے اور وہ سایہ طلب انداز میںکسی نخل سایہ دار کی جانب بڑھتا ہے :   

            بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے 
            ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے 

       21۔تلاش و تعاقب :جب ہیرو مہم سر کرنے کے بعد اپنے وطن روانہ ہوتا ہے تو کینہ پرور حاسد اور اس کے خون کے پیاسے اس کی تلاش کرتے ہیں اور اس کا تعاقب کرتے ہیں۔

        22۔بچاؤ :ہیرو کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے جال میں نہیں پھنستا اور قتل گاہوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔

        23۔ہیر وکا اپنے گھر پہنچ جانا: لوک کہانیوں کا آبلہ پا ہیرو جب خرابی ٔ بسیار کے بعد اپنے گھر پہنچتا ہے توزمانہ بدل چکا ہوتا ہے ۔ہیرو پر جو صدمے گزرتے ہیں ان کے نقوش اس کے چہرے اور پورے وجود پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ اس دیار میں کوئی اس کی سر گزشت سے آ گاہ نہیں ،یہی وجہ ہے کہ کوئی اسے پہچان نہیں سکتا ۔

         24۔دعویٰ  :  لوک کہانی کے اصل ہیرو کی کامیابی کے بعد کوئی ابن الوقت مسخرااور جعل ساز اچکا ہیرو کاسوانگ رچا اپنی فرضی مہم جوئی اور جُھوٹی گواہی کے ذریعے بے بنیاد مطالبات کرنے کے لیے میدان میں کُود پڑتا ہے ۔

           25۔  مقررہ کام :آزمائش کی اس گھڑی میں اصلی ہیرو کو پر کھنے کے لیے اُسے انتہائی کٹھن کام کرنے کی ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے ۔

          26۔مسائل کا حل :اپنی فہم و فراست ،دلیری اور ثابت قدمی کی بدولت ہیرومقررہ کا م کی تکمیل اور مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔

          27۔تسلیم کرنا  : جب ہیرو ہر آزمائش پر پُورا اُترتا ہے توسب لوگ اس کی اصلیت کو تسلیم کر لیتے ہیںاور اس کی پزیرائی اور قدر افزائی کی جاتی ہے ۔

          28۔انکشاف : اس مر حلے پر جعلی ہیرو کے مکر کا پردہ فاش ہو جاتا ہے ۔توہین،تذلیل،تحقیر ، رُو سیاہی اورجگ ہنسائی جعلی ہیرو کا مقدر بن جاتی ہے ۔ 

          29۔شکل کی تبدیلی: ہیرو کو ایک نئی شکل عطا کی جاتی ہے جس سے اس کی وجاہت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔

           30۔سزا  :  سادیت پسندوِلن کو اس کی بد اعمالیوں کا خمیازہ اُٹھانا پڑتا ہے اوراُس کے قبیح کردار کی وجہ سے اُسے کڑی سزا دی جاتی ہے ۔

          31۔شادی : ہیرو کی شادی شہزادی کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وہ تخت و تاج کاوارث بن جاتا ہے ۔
       لوک کہانیوں کے دائرہ ٔ کار سے متعلق مندرجہ بالا فہرست کا مطالعہ کرنے کے بعدوہ قارئین جو لو ک کہانیوں کے بارے میں اعتدال پسند ہیں مگر ساخت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ،اُسے دائرہ ٔ کار میں شامل ان عوامل کا لوک کہانیوں پر انطباق بہ ظاہر آسان دکھائی دیتا ہے مگر عملاً ان اکتیس عوامل کو لوک کہانی پر منطبق کرنا ایک انتہائی کٹھن مر حلہ ہے ۔ لوک کہانیوں کا ہر بیانیہ ہیرو اور وِلن کے تصادم کامظہر ہوتا ہے ۔کیاانھیں زیادہ سہل اور عام فہم انداز میں پیش کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ولاد ی میر پروپ کی تھیوری کے مطابق لوک کہانیوں کے کردار محض دو قسم کے ہوتے ہیں یا تو بہت اچھے یا بہت ہی بُرے ۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوک کہانیوں پر ان اکتیس عوامل کے انطباق سے قاری کے لیے اظہار و ابلاغ اور تفہیم میں آسانی پیدا ہو سکے گی ۔اس کا جواب حددرجہ غیر اُمید افزا ہے ۔آج کے دور میں بیانیہ میں جس تصنع ،نفاست اور پیچیدگی کی فراوانی ہے وہ اہلِ نظر سے مخفی نہیں ۔لو ک کہانیوں میںکچھ بیانیہ ایسے بھی ہیں جن کے دُھندلے نقو ش ادب کے عام قاری کی سمجھ سے بالا تر ہیں۔اگر جدید دور میں ولاد ی میر پروپ کے خیالات کی اسیری قبول کر لی جائے تو لوک کہانیوں کے مطالعہ میں اکثر مواقع پر مضحکہ خیز صور ت حال پیدا ہو جانے کا خدشہ ہے ۔  ولاد ی میر پروپ کے نظریات کا مطالعہ کرتے وقتبعض اوقات یہ خیال بھی ذہن میں آتا ہے کہ دورِ جدید میںفکر و خیال کی وادی میں مستانہ وار گھو منے والے قارئینِ ادب کیااس صلاحیت سے متمتع ہیں کہ وہ لوک کہانیوں کی پریوں کے حسن وجمال،وِلن کے وبال اور ہیرو کے کمال کے سِحر سے نکل کراخلاقی تعلق کی حدود میں پیش قدمی کر کے اپنے وجود کا اثبات کر سکیں۔ روایتی لوک کہانیوں کے بیانیہ کے بارے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ کہیں کہیں ایسا بھی محسوس ہوتا ہے دانستہ لوک کہانی کی قدیم روایات سے انحراف کیاجا رہا ہے ۔اگر کسی لوک کہانی میں کوئی حسین وجمیل دوشیزہ مہم جوئی پر آمادہ ہو کر ہیرو کا کردار ادا کرنے پر کمر بستہ ہو جائے تو نقا د اُس پر ولاد ی میر پروپ کے معائر اور اصولوں کا اطلاق کرنے میں تامل کرے گا ۔
        ولاد ی میر پروپ کا خیال تھا کہ لوک کہانیوں کے عمیق مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہ کردار ہی ہیں جن کے اعجاز سے بیانیہ کی تاب و تواں کا سارا منظر نامہ نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔بُھوتوں ،چڑیلوں ،ڈائنوں اور پریوں کے موضوع پر لکھی گئی لوک کہانیاں درا صل روایتی نوعیت کے قصے (Myth)کی اساس پر استوار ہیں۔ پریوں وغیرہ کی ان کہانیوں میں تجسس اور دلچسپی پیدا کرنے کی غرض سے ان میں کئی پُر اسرار واقعات شامل کر لیے جاتے ہیں جن میں شجاعت،مہم جُوئی ،طلسمات،رہزن،رہنما اور متعدد دیگر عوامل شامل ہیں۔مافوق الفطرت عناصر،چڑیلوں اور پریوں کی کہانیاں پڑھنے کے بعد یہاںیہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیاسائنس کو جادو ٹونے کے نعم البدل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ اپنے تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ کے دوران میں ولاد ی میر پروپ نے لوک کہانیوں میں جن سا ت مختلف کرداروں کی شناخت کی ہے اُن میںوِلن ،عطا کرنے والا ،معاون،ہیرو،شہزادی اور اُس کا والد،بھیجنے والااورجعلی ہیرو شامل ہیں ۔ ولاد ی میر پروپ کے مطابق اکثر لوک کہانیوں میں دو قسم کے ہیرو دیکھے جاتے ہیں ۔پہلی قسم کے ہیرو انتہائی مظلوم ہوتے ہیںجنھیں وِلن شدید اذیتوں اور عقوبتوں میں مبتلا کرتا ہے اور لذتِ ایذا حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت ہیرو کے درپئے آزار رہتاہے ۔ہیرو کی دوسری قسم کو وہ طالب کا نام دیتا ہے ،اس قسم کے ہیرو ان الم نصیبوں اور جگر فگاروں کی مدد کرتے ہیں جو وِلن کی سفاکی اور شقاوت آمیز نا انصافیوں کا نشانہ بنتے ہیں ۔بیانیہ کی متعد د دلچسپ صورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں دو کردار متصادم دکھائی دیتے ہیںمگر ادب کے عام قاری کے لیے ان کرداروں کی شناخت حلیف اور حریف کے طور پر کرناآسان نہیں۔

       تاریخ کاایک مسلسل عمل ہوا کرتا ہے جو مورخ کے قلم اور عصری حقائق کا مظہر ہوتا ہے ۔ لوک کہانیوں کے بارے میںولاد ی میر پروپ کے نظریات کا سال 1950میں انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا ۔اس کے ساتھ ہی یورپ میں اس کے نظریات پر مباحث کے ایک غیر مختتم سلسلے کا آغاز ہو گیا ۔ علم بشریات اور علامتی ابلاغ کے شعبوں میںاس کے خیالات کی بازگشت طویل  عرصہ تک سُنی جاتی رہی مگر آخری تجزیہ میں دِل میں یہ خلش باقی رہتی ہے کہ کون سی اُلجھن کو سلجھایا گیا ۔ ساختیات کے حوالے سے پریوں کی لوک کہانیوں کے بارے میں ولاد ی میر پروپ کی بحث اس لیے ادھوری معلوم ہوتی ہے کہ اس میں کئی ضروری باتیں تشنۂ تکمیل رہ گئی ہیں ۔ لوک کہانیوں کے ساختیاتی تجزیہ اورولاد ی میر پروپ کے اسلوب کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے ؛

           خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیے 
          ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے 

 

 

. مآ خذ 

1-V.Propp:Morphology of The Folk tale,University of Texas,2009,page 5-                                           
2.V.Propp:Theory and History of Folklore,vol.5,University of Minnesota Press,1970,page,59              
3-Valdimir Propp:On The Comic And Laughter,University of Toronto press,2009,page,14-   

------------------------------------------------


  Dr.Ghulam Shabbir Rana

(Mustafa Abad Jhang City)

Comments


Login

You are Visitor Number : 68