donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Imam Azam
Title :
   Urdu Ki Taraqqi Mein sarkari,Neem Sarkari Aur Razakar Tanzeemon Ka Kirdar

اردوکی ترقی میں سرکاری، نیم سرکاری اوررضاکارتنظیموں کا کردار
 
گیسوئے تحریر:ڈاکٹرامام اعظم
 
رنگارنگ نسلی، مذہبی اورلسانی آمیز ے سے تیارتہذیبی وراثت کی آئینہ دار ملک کانام ہندوستان ہے جس کاماضی انتہائی شاندار سیکولر پولیٹیکل کردار کاحامی رہاہے۔ بنابریں تہذیبی اختلاط واتحاد کے تقاضے کے تحت یہاں زبانیں معرض وجود میں آتی رہیں اور پھلتی پھولتی رہیں۔یہاں سینکڑوں زبانیں اور بولیاں رائج ہیں مگر کسی بھی زبان یابولی پر کسی مخصوص نسل، مذہب یافرقہ کالیبل نہیں لگا یاجاسکتا۔ہاں زبانوں اور بولیوں کے اپنے علاقے اور خطے ضرور متعین ہیں مگر ان خطوط میں بسنے والے تمام نسل ، دھرم اور فرقہ کے لوگوں نے علاقائی زبان کے ارتقامیں حسب استطاعت حصہ لیا ہے جو کثرت میں وحدت کی روح کامظہراورہندوستان کی مشترکہ تہذیب کانتیجہ ہے۔
 
اردوزبان اسی مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی دین ہے، جواپنے سیکولرمزاج، مخصوص شیرینی اور حلاوت کے سبب اپنی بہنوں کوپیچھے چھوڑکرعلاقائیت کی حدود پھلانگ گئی۔دربار شاہی ہویانوابی، راجے، راجواڑوں اور جاگیرداروں کے دربارہوں یازمینداروں کی دیوڑھیاں سبھی میں اس کا عمل دخل ہوگیا۔ یہ واحد زبان تھی جو پورے غیر منقسم ہندوستان میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ حتیٰ کے برطانوی دورحکومت میں بھی سرکاری دفتروں ،عدالتوں میں اس کاچلن عام تھا، بازاروں اور اسٹیشنوں پر اردو کے بورڈ نظرااتے تھے اور پورے ملک میں اس کی تعلیم وتدریس کی سہولت میسر تھی اردو نے آزادی کی تحریک میںلہوکوگرمانے کاجوکارنامہ انجام دیا اس کی اتنی تقسیم ہندکے بعد اسے تقسیم کی وجہ بتا کر مطعون ومعتوب کردیا گیا جب کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جس طرح ہندوستان کی تعمیروترقی میں بلاامتیاز نسل ، دھرم اور زبان سبھی ہندوستانی کارول رہا ہے اسی طرح اردو زبان و ادب کاارتقابھی سبھی نسل، دھرم اور فرقہ کی کاوشوںکامرہون منت ہے لیکن ایک سیاسی حادثہ نے اسے ایک مخصوص فرقہ کے ساتھ جوڑدیا ہے ۔نتیجتاً آزادی کے بعد تین دہائی اس پر بڑی کٹھن گذری اسے مسلمانوںکی زبان قراردے کرقومی دھارے سے کسی حدتک الگ کردیا گیا کہ اپنے ہی وطن میں یہ مہاجرکی سی زندگی جیتی رہی اس لئے اسے وہ مقام نہیں مل سکاجس کی یہ مستحق تھی۔
 
یہ بات درست ہے کہ زبان کے فروغ کامعاملہ کسی سرکاری پالیسی اورچندمخصوص لوگوں کےچاہنے،نہ چاہنے پرمنحصر نہیںہوتابلکہ زبانیں مستقبل کا سفر خودہی طے کرتی ہیں سواردو بھی سخت جان نکلی اور اپنا سفر جاری رکھا۔ اس کاکوئی مخصوص لسانی خط نہ ہونا بھی اس کے حق میں مضرثابت ہوا۔ وہ اس طرح کہ آزادہند کے جمہوری آئین میں اسے جوتحفظات ملے ان سے جموں کشمیر کے علاوہ دیگر لسانی خطے مستفیض نہ ہوسکے کسی حدتک آئین کی پاسداری سرکاری سطح پرکی جاتی رہی۔ماضی کی متصادم سوچ سرکاری کاوشوں پرحاوی رہی، اب بھی پورے طورپر یہ فکر تبدیل تونہیں ہوئی ہے مگر انتخابی سیاست اوراقلیتی ووٹ بینک پر دسترس پانے کی پالیسیاں کسی نہ کسی سطح پر اردو کے حق میں یقیناًمثبت رول اداکرتی رہی ہیں۔ یہ امر مسلم ہے کہ جوزبانیں سرکاری نظام میں عمل دخل نہ رکھتی ہوں، ان کے درخشاں مستقبل کاتصورخوش فہمی پرمبنی ہوگا۔
 
تاہم ہماری حکومت نے آئین کی پاسداری میں زبان اردو کے حق میں جوکچھ کیا اور کررہی ہے اس سے انحراف کرناکفر ان نعمت کے مترادف ہوگا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ۱۹۶۹ءUPSC کے امتحانات میں انگریزی کے علاوہ ہندوستان کی قومی زبانوں کے استعمال پر زوردیئے جانے کے لوک سبھا کےایک فیصلہ کے جوسرگرمیاں سامنے آئیں اس کے نتیجہ میں سنٹرل ہندی ڈائرکٹوریٹ میں اول ایک اردو سیل قائم ہوا جس نے تھوڑی وسعت اختیارکرکے ترقی اردو بورڈکی شکل میں۱۹۹۵تک جیسے تیسے اپناوجود برقراررکھا۔ اس کے وجود سے فروغ اردو کے تئیں جوتوقعات وابستہ کی گئیں وہ توپوری نہیں ہوسکیں مگر اپنے محدود دائرہ کارمیں جو کچھ یہ کرسکا اسے اگلے قدم کازینہ ضرور قراردیاجاسکتاہے۔ اس کے بعدحالات کے تقاضے نے سیاست دانوں کی منفی سوچ میں تبدیلی کی لہرپیدا کی نتیجتاًریاستی سرکاروں نے اردو اکیڈمییاں قائم کرنی شروع کیں۔ ان اکادمیوں نے اردو زبان کے فروغ میں بنیادی سطح پر وکوئی کارنامہ انجام نہیں دیا اور نہ اپنے اغراض ومقاصد کو کماحقہ پورا کرپائیں کیوں کہ ان میں زیادہ سے زیادہ سرکاری فنڈسے استفادہ کاررجحان غالب رہا مگر اردو ادب کی افزائش اور ادیبوں وشاعروں کومالی طور پر مستفیض کرکے ادبی کارگزاریوں کیلئے متحرک رکھا۔ ان میں بعض اکادمیاں گاہے گاہے خاصی متحرک وفعال رہیں۔ ادبی و لسانی مذاکرے، مباحثے ،سمیناروں اور مشاعروں کااہتمام کرکے اردو زبان وادب کی ترویج کومحدود سطح تک ہی سہی مگر ایک سمت دینے میں معاون رہیں۔یہ اکیڈمیاں بہت کچھ کرسکتی تھیں اور کرسکتی ہیں اگر تو بھی خوش اور میں بھی خوش، کے رویئے سے اوپر اٹھ کر حسب استطاعت مخلصانہ طور پر راہ فروغ کے روڑ ے ہٹانے کی سعی کریں اورGrass footپر توجہ دے سکیں تو اہم کارنامہ انجام دے سکتی ہیں کہ قطرہ قطرہ دریا می شود، ان کے علاوہ نیشنل کائونسل کارایجوکیشن ریسرچ ایند ٹریننگ ،قومی کونسل برائے گروغ اردو زبان، نیشنل بک ٹرسٹ، ساہتیہ اکیڈمی، کونسل فارانڈین میڈیسین، یونانی نینشل اوپن سکول اردو سیل NCERT،ریاستی سطح کاٹیکسٹ بک کارپوریشن اردو زبان وادب اور درسی کتابوں سےمتعلق کام کرتے رہے ہیں جوپورے طور پر قابل امینان تو نہیں رہے ہیں لیکن یہ مثبت پہلورکھتے ہیں کہ یہ کام اردو زبان کی مجموعی ترقی سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔
 
دراصل آزادہندوستان میں اردو زبان کی بقاوسالمیت کی جدوجہدمیں بنیادی رول رضا کارتنظیموں نے ہی اداکیاہے۔ انجمن ترقی اردو ہند نے ملک گیر سطح پر ایک طرح سے آئینی حقوق دلانے میں زبردست سرگرمی دکھائی اور اردو کے تئیں منفی رجحان کی خاموشی سطح پر ارتعاش پیدا کیا تو دوسری طرف ادبی سرمایہ کابازیافت اور اشاعت پر بھی خاصی توجہ مرکوز کی جس کے سبب زبان کسمپرسی کی حالت سے نکل سکی مگر پچھلے چند برسوں سے اس کی فعالیت مجروح نظرآتی ہے لگتاہے اس نے بھی سرکاری عنایات پر تکیہ کرلیا ہے جب کہ ماضی کے مقابلے میں اب کامیدان کھلا ہے اور Grassrootکی طرف نظرکریں تو ہندوستان میں اگر اردو باقی رہی ہے تو وہ مدارس اسلامیہ کی مرہون منت ہے۔چوں کہ بیسویں صدی کے آغاز میں ملک کے سیاسی تیور کو بھانپتے ہوئے ہمدردان ملت نے اپنے مذہبی تحفظ وتشخص کے لئے مدارس کاجال بچھا دیا۔ ان مدارس کے توسط سے درسیاست سے لے کر اسلامیات تک کی اشاعت بکثرت منظر عام پر آئین جن کے سبب اردو کومسلمانوں کی دھارمک بھاشا قراردینے کا بھرم بھی پھیلایاگیا۔ تاہم ان مدارس اسلامیہ کے ذریعہ زبان کو استحکام توضرور ملامگر زمانے کے تقاضے کے مطابق عصری علوم اور ادب سے ان کی بیگانگی کے باعث اردو کے مجموعی فروغ میں ان کایک رخی تعاون کارفرمارہاہے اگران کی جدیدکاری ممکن ہوپائی تو ان کارول سرکاری تعلیمی ااروں سے زیادہ مستحکم ہوگا۔
 
اسی طرح مقامی رضاکار کی تنظیمیںبالخصوص جنوبی ہندوستان میں اردو میڈیم تعلیمی درس گاہیں قائم کرکے کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں ان تنظیموںنے مسلمانوں کے اس طبقے کوجواپنے بچوں کوانگلش میڈیم اسکولوں میں جھونک کران کے مستقبل کودلدل میں دھکیل رہے ہیں، انہیں اپنی کارکردگی سے باور کرادیاہے کہ اردو میڈیم کے فارغین بورڈوں، یونیورسٹیوں اور مسابقاتی امتحانوں میں بھی امتیازی حیثیت حاصل کرسکتے ہیں۔ کاش!اس نوع کی کاوشیں شمالی ہندوستان میں بھی نظر آئیں۔ان کے علاوہ اردوکے فروغ میں پرنٹ میڈیا، نشریاتی ادارے فلم انڈسٹریز کے رول بھی گراں قدررہے ہیں۔ اب توان کامیدان اور بھی وسیع ہوگیاہے بالخصوص الیکٹرونک نشریاتی ادارے سے نمایاں کام لیاجاسکتاہے۔
 
گلوبلائیزیشن کے زمانے میںبین الاقوامی سطح اور ہندوستان کی سطح پر بھی مختلف ادارے تیزی کے ساتھ تجارتی اعتبار سے اپنابازار تلاش کررہے ہیں اور ہندوستانی باہر کے ملکوں میں صرف انفارمیشن ٹیکنولوجی کے میدان میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں جوکام نہیں ہوپاتاہے وہ یہاں کےاداروں کوبھیج دیتے ہیں۔ اور ہندوستان میں یہ کام مکمل ہوکرصبح تک امریکہ کے اداروںتک پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے اس زمانے میں محض سرکاری اداروں پربھروسہ کرکے کسی زبان کوفروغ نہیں دیاجاسکتا۔سسٹم کے ساتھ جب تک اردو زبان کارشتہ نہیں جوڑاجاسکتاوہ کبھی بھی اپنی طرف دوسروں کومتوجہ نہیں کرسکتی اس لئے دانشوروں کویہ بات گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ سسٹم کے ساتھ اور وقت کے تقاضوں کے لحاظ سے اس زبان کوکس طرح اس قابل بنایاجائے کہ وہ ہماری ضرورتوں کوبھی پورا کرسکے اور ان تقاضوں کے مابین چلنے کے قابل ہوسکے جس سے معاشی واقتصادی خوشحالی کے دروازے واہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمیں اس بات پر خاص توجہ کی ضرورت ہے کہ جہاں اردو بولنے یاسمجھنے والے ہیں، خواہ وہ ہندوستان ہو،پڑوسی ملک ہویادوردرازکے علاقے اس کیلئے ترسیل وابلاغ کانیٹ ورک ہیں بہت ہی مستحکم اور کارآمدبناناہوگا۔ ایسے Softwareتیار کرنے ہوںگے جس سے ہرطبقہ جواردوجانتاہواسے آسانی سے جس جگہ چاہے بیٹھ کراستفادہ کرسکے اور ان کے ذریعہ روزی روٹی کے وسائل حل کرسکے۔
مایوسی کی کوئی بھی بات کسی بھی طرح سے ذہن میں نہیںرکھنی چاہئے۔بے اعتنائی برتنے والوںکی جماعت ہویاافراد،کسی زبان کونظراندازنہیں کرسکتے اگراس زبان میں زمانے وحالات کے ساتھ چلنے کی صلاحیت ہو۔ہندوستان میں اردوسے مقبول کوئی زبان ہے ہی نہیں۔ تریپورہ سے لرکرراجستھان تک اور کشمیرسے کنیاکماری تک آپ جس گلی کوچے میں چلے جائیں آپ کواردوکے فلمی گانے ،غزلیں ،قوالیاں اور اس کی شاعری کا لطف اٹھاتے ہوئے لوگ مل جائیں گے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی کثیرآبادی اردوسے بے اعتنائی نہیں برتتی بلکہ ہمارے ترسیل وابلاغ کے مستحکم نیٹ ورک نہیں ہونے کے سبب اس کی توسیع اشاعت اس پیمانہ پرنہیں ہوپارہی ہے جس سے کہ عام آدمی بھی گھربیٹھے ارد وزبان سیکھ لے اور اس کی دلچسپی جوابھی دیکھنے کوملتی ہے وہ مزیداپناگہرانقش بناسکے۔ اسی لئے اردوپروگرامنگ، اردوسکھانے کے آسان نسخے، دوسری زبانوں کے لوگوں کواردوسکھانے کے الگ الگ طریقوں کواپنانے کی ضرورت ہے اوران کوعملی طورپر اس زبان کے فروغ کیلئے شامل کرنے کے مرحلوں کوطے کرناضروری ہے۔ تامل زبان بولنے والا جواردوگیتوں اورغزلوں کوسن کرلطف اندوز ہوتاہے تامل زبان کے ذریعہ ہی اسے اردوکی روح تک پہنچا نے کاوسیلہ تیارکرناچاہئے۔
 
اردوزبان کے دانشوروں کونصابی کتابوں کے تراجم اوربالخصوص سائنس کی کتابوں کے ترجمے میں فارسی آمیز،اوق ودشوارلفظوں کی جگہ عام فہم اور آسانی سے سمجھ میں آنے والے الفاظ کاکثرت سے استعمال کرناچاہئے تاکہ طالب علموں میں دلچسپی باقی رہ سکے۔ یہاں لفظی ترجمہ یاترجمہ برائے ترجمہ کردیاجاتاہے جس کوسمجھنے میں دشواریاہونے لگتی ہیں ۔ایسا کرنادرست نہیں ہے ۔ باضابطہ لفظ سازی کے ایسے ادارے ہونے چاہئیں، جوجدید علوم وفنون کی اصطلاحات وضع کرسکیں اور ان اصطلاحات کواردو کی ساخت کے مطابق بنائیں جس میں اس لفظ کے ساتھ مکمل اجنبیت کااحساس نہ ہوایسا کرناایک مشکل کام ہے پھر بھی سرکاری نیم سرکاری اور رضاکارتنظیمیں اگرسنجیدگی سے اس پرغورکریں تویہ مسئلہ اتناپیچیدہ اور دشوار نہیں رہ جائے گا۔ اردوکادامن بہت ہی کشادہ ہے اس میں دنیا بھرکی زبانیں سموسکتی ہیں مگرضرورت ہے ان غیرملکی لفظوں کی اردوکے مطابق تراش خراش کرنے کی۔ طوالت کے خیال سے میں مثالیں پیش کرنا نہیں چاہتا لیکن برسبیل تذکرہ میں ایک لفظ انگریزی کاہائی جیک لیتاہوں آپ اس کاترجمہ اغواکریںگے۔ ہائی جیک جیساچھوٹالفظ اغواسے کہیں زیادہ وسیع اورمخصوص معنی رکھتاہے جب ہم لفظ ہائی جیکر، بولتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ طیارہ یاہوائی جہاز کے اغواکرنے والے لوگ ہیں۔ کیا ایساممکن ہے کہ ہم سمندری لیٹروں کیلئے قزاق اور ہوائی لیٹروں کیلئے ایسا ہی کوئی لفظ وضع کریں جس کے اندر ہائی جیکرجیسی معنویت پوشیدہ ہوگویاایک لفظ اپنے اندر پورامعنی سمولیتاہے اس طرح ترجمے بھی ہوجائیںگے۔ نئے الفاظ بھی آجائیں گے اورزبان کی ضرورت بھی پوری ہوجائے گی جووقت کے عین مطابق ہوگا۔
 
مگران سب سے معقول استفادہ اور زبان وادب کے حقیقی فروغ کاانحصار بنیادی طورپر اردودانی اور اردو تعلیم پرہے۔لہذاترجیحی طورپر ثانوی سطح تک اردو تعلیم کے ملک گیر نظام کومستحکم کرنے کی ضرورت ہے تکنیکی اورپیشہ ورانہ تعلیم کواردومیڈیم بنانے کی ضرورت ہے کیوںکہ کمزوربنیادپرعظیم الشان عمارت کی تعمیرریت کے قلعہ کے مانندہوگی۔ اس لئے اس مقصدکے حصول کیلئے سب سے پہلے رضاکارتنظیموںکو سرگرم وفعال بناناہوگا۔اردو زبان کی ترقی میں غیرسرکاری اور رضاکار تنظیموں کااہم رول ہے۔ مثال کے طور پر ریاست بہار کے حوالے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہاں حکومت اردوکے نام پر نعرے بازی اور پروپگنڈوں کے اصول پرکاربند ہے۔ سرکاری دفتروںمیں اردوکی تختیاں تک آویزاں نہیں ہیں۔ وہیں دربھنگہ ضلع میں ایسے اسکول بھی موجودہیں جہاں بچوں کواردوکی جگہ سنسکرت پڑھنے کیلئے مجبور ہوناپڑتاہے ۔بیشتراردواساتذہ کی اسامیاں اسکولوں اور کالجوں میں برسوں سے خالی پڑی ہیں۔ میرامقصدیہاں حکومت کی بے اعتنائی کادکھڑارونانہیں ہے۔ دراصل یہ ابھی ایک راست پہلوہے جس کی نشاندہی ہونی ہی چاہئے۔ حکومت کی بے توجہی اورناسازگارماحول کے باوجوداردوکی آبیاری ہورہی ہے۔ اردوکی آبیاری میں ریاست اورحلقہ کی مختلف ادبی، تعلیمی اورثقافتی تنظیموں کابڑاکلیدی رول ہے۔ شمالی بہار میں دربھنگہ ضلع ایسا مردم خیزخطہ ہے جہاں اردو کی تحریک کسی نہ کسی طورپر جاری ہے۔ ضلع کے دوردرازعلاقوں اورقصبوں میں بھی اردوتحریک کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ کوئی اتفاقی عمل نہیں ہے بلکہ لو گ اپنے اپنے طورپراردوکی آبیاری میں ہمہ تن مصروف ہیں۔دربھنگہ میں بعض ایسی تنظیمیں ہیں جہاں غیراردوداں طبقہ اردوکی تعلیم حاصل کررہاہے۔ وہیںکچھ ادبی تنظیموں میں اردو ادبی سرکار،ادبی دالان، بزم رہبروغیرہ موجودہ دورمیں زبان اردو کے فروغ اور ارتقا میں عملی طورپر فعال نظرآتی ہیں، خاص طورسے نئی نسل کے لوگوں کوان تنظیموں سے فائدہ پہنچ رہاہے۔ بعض اردواساتذہ بھی ان تنظیموں کے توسط سے زبان وادب کی بقامیں عملی طورپر اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود یہاں اردو کونظرانداز بھی کیاجاتاہے۔ لیکن اردو کے جیالوںکے عزائم کبھی پست نہیں دکھائی دئے۔ یہاں سے شائع ہونے والے رسالے ’’تمثیل نو‘‘جہاں اردو ، الہدیٰ،دربھنگہ میں اردوتحریک کی زندہ مثال ہیں۔وہیں مدارس میں مدرسہ امدادیہ، دارالعلوم مشرقیہ حمیدیہ، دارالعلوم احمدیہ سلفیہ اوردیگر ادارے مثلاًمولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی،مانو،کے فاصلاتی تعلیم کے اسٹڈی سنٹرس ،کالج آف ٹیچرزایجوکیشن،مانو،مانوپالی ٹکنک، مانوآئی ٹی آئی ،کامران مانوماڈل اسکول، شفیع مسلم ہائی اسکول ، صغراگرلس ہائی اسکول، درسگاہ اسلامی، سلفیہ یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل ،ان سی پی یوایل کے فنکشنل اوروکیشنل کورسیزکے مراکز وغیرہ کااردوکے بقاوتحفظ میں بڑاہم رول ہے۔
 
پچھلی دہائی سے اردوپرچھائی گھٹاکچھ صاف ہوئی ہے۔ اردو کے احیاکی راہ استوارہوتی نظرآتی ہے۔ اس سلسلہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان این سی پی یو ایل اور مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی،مانو بالخصوص قافلہ توجہ ہے۔ سابقہ ترقی اردوبورڈکی موجودہ شکل این سی پی یوایل ،ڈاکٹر حمیداللہ بھٹ کی ڈائنامک طباعی کے طفیل اردوکے ہمہ جہت فروغ کی راہیں استوارکررہی ہے تومانو تعلیمی وتدریسی محاذ پراردو اور راہل اردو کوعصری تقاضے کاحامل بنانے میں کامیابی سے پیش قدمی کررہی ہے۔ اسی وسعت نظری کامظاہرہ کرتے ہوئے اردوکی دیگرسرکاری، نیم سرکاری اور رضا کار تنظیمیں اس کی ترویج وتعلیم میں کارہائے نمایاں انجام دے سکتی ہیں، اگرمولاناآزادنیشنل اردو یونیورسٹی کے تعلیمی مراکز کوفعال اورمستحکم بنانے میں محبان اردوکابھرپورتعاون حاصل ہوتواس کے فروغ کاسفرتیزگام ہوسکتاہے مگران سب کی کارکردگیوں کے ٹھوس نتائج کاانحصار اس امرپر ہے کہ مسلمانوں کابااثرطبقہ اردوکواپنی مادری زبان کے طورپر استعمال کرے، اس کے تئیں مخلص ہواورنئی نسل کواپنی مادری زبان کے وسیلے سے تعلیم یافتہ بنانے کاعزم کرے۔ اردوکیلئے یہ سب سے بڑی خدمت ہوگی کہ ،گیسوئے اردوابھی منت پذیرشانہ ہے۔
++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 820