donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mansoor Khushtar
Title :
   Samaj Ki Tameero Tashkeel Me Adeeb Aur Adab Ka Kirdar


 ڈاکٹر منصور خوشتر 
 
مدیر دربھنگہ ٹائمز 
 
9234772764
 
سماج کی تعمیر و تشکیل میں ادیب اور ادب کا کردار بہت ہی اہم ہے
 
المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام
 
ڈاکٹر اسرائیل رضا سے ڈاکٹر منصور خوشتر کی
 
گفتگو
 
پروفیسر اسرائیل رضا کا نام ادب و صحافت کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ اس وقت نالندہ اوپن یونیورسٹی میں رابطہ آفیسر ہیں۔ اس سے قبل پٹنہ یونیورسٹی میں صدر شعبۂ اردو اور ڈی ڈی ای(ڈائرکٹوریٹ آ ف ڈسٹنس ایجوکیشن، پٹنہ یونیورسٹی) کے ڈپٹی ڈائرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ صحافت سے بھی آپ کی وابستگی رہی۔ ایک عرصے تک آپ نے اردو اخبارات کے لیے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ان میں ـ’روزنامہ ساتھی‘،’روزنامہ قومی تنظیم‘،’دیش بدیش‘،’طائوس‘،’ایثار‘،’ہفت روزہ مثلت‘اور ’ہمارا بہار‘ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ یونیورسٹی سے وابستگی کے بعد آپ نے اخبارات کی دنیا کو خیرآباد کہہ دیا۔
گزشتہ روز اردو آپ کی دربھنگہ تشریف آوری پر المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ٹرسٹ کے سکریٹری ،سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کے مدیر ڈاکٹر منصور خوشتر نے ان سے اردو اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے خاص بات چیت کی۔ یہ گفتگو براہ راست فیس بک لائیو کے توسط سے پوری دنیا میں دیکھی گئی۔ پیش ہے اس بات چیت کا کچھ خاص حصہ:
 
سوال: آپ کئی دہائیوں سے اردو درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ پٹنہ یونیورسٹی، ڈی ڈی ای اور اب نالندہ اوپن یونیورسٹی میں بطور رابطہ آفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حالیہ چند برسوں میں کالج اور یونیورسٹیز کی سطح پر اردوکی صورت حال سے آپ کس قدر مطمئن ہیں؟
 
جواب:حالیہ چند برسوں میں درس و تدریس کے شعبہ میں گراوٹ آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بنیادی تعلیم سے ہماری بے رغبتی ہے۔یہ بات عام مشاہدہ کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ دیگر موضوعات کے لیے جتنی محنت کرتے ہیں اتنی محنت اردو کی تعلیم پر نہیں ہوتی۔ طلبہ و طالبات اور ان کے والدین سمجھتے ہیں کہ اردو ان کے گھر کی زبان ہے، بغیر پڑھے بھی اس میں اچھے نمبر لائے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ بقول داغ دہلوی  ؎
 
نہیں کھیل ائے داغؔ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
 
سوالـ:آپ نے بحیثیت صحافی بھی خدمات انجام دی ہیں۔ اردو صحافت کے موجودہ منظر نامہ پر آپ کی کیا رائے ہے؟
 
جواب: دیکھئے منصور! اُس وقت کی صحافت اور اِس وقت کی صحافت میں بہت فرق ہے۔ ہمارا زمانہ ریڈیو کا زمانہ تھا۔ ہم لوگ ریڈیو پر نشر ہونے والی ہندی اور انگریزی خبروں کو ترجمہ کر کے شائع کرتے تھے۔ پھر یو این آئی کے آغاز کے ساتھ خبروں کی فراہمی بہت آسان ہو گئی۔ اب تو انٹرنیٹ اور جدید وسائل نے اور بھی آسانیاں پیدا کر دی ہیں لیکن ابھی بھی وہی اخبارات زیادہ پڑھے جاتے ہیں جو ’فیلڈ ورک‘ پر زور دیتے ہیں۔ جن کے نمائندے ہر علاقہ میں موجود ہوتے ہیں۔ 
 
سوال: اسرائیل رضا صاحب! ابھی آپ انٹرنیٹ اور جدید ٹکنالوجی کی بات کر رہے تھے۔جدید ٹنکالوجی نے زبان و ادب کو فائدہ پہنچایا ہے یا نقصان؟
 
جواب: دیکھئے! کسی بھی چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ جدید ٹکنالوجی کے بھی کچھ منفی پہلو ضرور ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جدید آلات و سائل نے زبان و ادب کو فائدہ زیادہ پہنچایا ہے۔ کتابوں کی عدم دستیابی کا مسئلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ آن لائن لائبریروں سے لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی زبان و ادب کو پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا ہے۔ 
 
سوال:حالیہ چند برسوں میں اردو رسائل و جرائد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود یہ شکایت عام ہے کہ رسائل کی خریداری کم ہوتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
 
جواب: میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ رسائل کی خریداری پہلے کے مقابلہ کم ہونے لگی ہے۔ اس کے ذمہ دار بہت حد تک ہم اساتذہ بھی ہیں۔ جب ہم ہی اخبارات و رسائل خرید کر نہیں پڑھیں گے تو ہمارے طلبہ و طالبات اور عام لوگوں میں خریداری کا رجحان کہاں سے آئے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ شروعات یونیورسٹی کے اساتذہ سے ہونی چاہیے۔رسائل کی خریداری کم ہونے کے باوجود رسائل و جرائد کی اشاعت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہندوستان کے زیادہ تر معیاری ادبی رسائل بہار سے ہی نکل رہے ہیں ۔ ان میں سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز، سہ ماہی صدف، ثالث، جہان اردو، تمثیل نو، زبان و ادب، کوہسار، انتخاب،دیوان،بھاشا سنگم، تحقیق وغیرہ نے اپنے معیار اور پیش کش سے بہار سے باہر بھی قارئین ادب کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ سرکاری اداروں سے نکلنے والے رسائل زبان و ادب اور بھاشا سنگم کا معیار بلند ہوا ہے۔ آپ کا رسالہ دربھنگہ ٹائمز تو باہر بھی پڑھا اور پسند کیا جا رہا ہے۔ 
 
سوال:اسکولوں میں اردو کی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ خاص طور سے پرائمری اور سکنڈری لیول پر درس و تدریس کا معیار دن بہ دن گرتا جا رہا ہے۔ درسی کتابوں کی فراہمی، اساتذہ کی کمی جیسے کئی مسائل ہیں۔اسکولی سطح پر اردو کے مسائل حل کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟
 
جواب:یہ سچ ہے کہ اسکولی سطح پر اردو کی صورت حال مایوس کن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو پڑھنے پڑھانے کا ذوق اب پہلے جیسا نہیں رہا ہے۔ پہلے ،گھروں میں ہی اتنی اردو پڑھا دی جاتی تھی کہ بچوں کو اسکول پر منحصر نہیں رہنا پڑتا تھا۔ گھروں میں بچوں کے رسائل، امنگ، نور، بتول، پیام تعلیم، کھلونا وغیرہ آتے تھے۔ جب تک ہم اپنے گھروں سے شروعات نہیں کریں گے،دوسروں سے گلہ شکوہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
 
سوال: بہار کے موجودہ ادبی اور صحافتی منظر نامہ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
 
جواب: آپ کے اس سوال کا جواب تھوڑا تفصیل طلب ہے۔ بہار کے موجودہ ادبی و صحافتی منظر نامہ کو سمجھنے کے لیے میں اُسے تین حصوں میں تقسیم کر رہا ہوں۔ یہاں کے شعرائ، ادبا اور صحافی حضرات کو آپ تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلے زمرہ میں وہ لوگ رکھے جا سکتے ہیں جو 1980 کے قبل سے لکھ رہے ہیں۔ دوسرے زمرے میں 1980سے 2000 کے بیچ جن لوگوں نے اپنی شناخت قائم کی ہے ، انہیں رکھا جا سکتا ہے اور تیسرے زمرے میں نئی نسل کے ان قلم کاروں اور تخلیق کاروں کو شامل کیاجاسکتا ہے جنہوں نے 2000 کے بعد اپنی شناخت قائم کی ہے۔ 1980ء کے قبل جن لوگوں نے بہار کے صحافتی ، شعری و ادبی منظر نامہ پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ان میں (فکشن میں) شفیع مشہدی، شفیع جاوید، حسین الحق، مشرف عالم ذوقی،عبدالصمد، غصنفر، شموئل احمد، شوکت حیات،مشتاق احمد نوری، سید احمد قادری،اقبال حسن آزاد، ذکیہ مشہدی، قمر جہاں، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، شاداب رضی ، شمیم افزا قمر، شمیم صادقہ،ایس کے جبیں، شہناز فاطمی، وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ تنقید میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر علیم اللہ حالی، پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی،اسلم آزاد، فاروق احمد صدیقی،پروفیسر عبد الواسع، نجم الہدی، انیس صدری،پروفیسر محمد غیاث الدین،فاراں شکوہ یزدانی،آفتاب اشرف، ممتاز عالم، وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ شاعری میں سلطان اختر، ظہیر صدیقی، اویس احمد دوراں، علیم اللہ حالی،متین عمادی،ناشاد اورنگ آبادی، طلحہ رضوی برق، پروفیسر عبد المنان طرزی، مناظر عاشق ہرگانوی، ناوک حمزہ پوری،ناز قادری، نسیم مظفر پوری، شبیر حسن شبیر، شگفتہ سہسرامی،فردوس گیاوی، شیدا بگھونوی، شاکر خلیق ، قوس صدیقی،افسر نبی نگری،وغیرہ کے نام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اس عہد کے صحافیوں کی بات کی جائے تو تقریباً سبھی بڑے صحافی رخصت ہو گئے۔ اس عہد کے صحافیوں میں ریاض عظیم آبادی ابھی بقید حیات ہیں اور آج بھی اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے ۔1980 سے 2000 ء کے بیچ کے فکشن رائٹرز کی بات کریں تو ان میں صغیر رحمانی، احمد صغیر، قاسم خورشید،خورشید حیات، اشرف جہاں، شائستہ انجم نوری،افسانہ خاتون،ڈاکٹر شمشاد جہاں، علینہ ملک، فرزانہ اسلم، رابعہ مشتاق، زہرا شمائل، مجیر احمد آزاد، نے فکشن کی دنیا میں اپنی مضبوط شناخت قائم کی۔ فکشن تنقید میں ڈاکٹر ارتضی کریم، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی،کوثر مظہری ، انور پاشا، خواجہ اکرام الدین،شہزاد انجم، مولابخش،سرور الہدی،راشد انور راشد، صفدر امام قادری، نسیم احمد نسیم، خورشید حیات، جمال اویسی، ڈاکٹر ممتاز احمد خاں، ڈاکٹر جاوید حیات، پروفیسر توقیر عالم، ہمایوں اشرف،زین رامش، ڈاکٹر امام اعظم،سید شاہ حسین احمد، کہکشاں پروین، مشتاق احمد، منور عالم، محفوظ الحسن، رئیس انور، ابو بکر رضوی، عبدالحنان سبحانی، محبوب اقبال، سید آل ظفر وغیرہ کے نام فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں۔ اس زمانہ میں جن شعرائے کرام نے شاعری کی دنیا میں سکہ جمایا ان میں خورشید اکبر، عالم خورشید،ڈاکٹر قاسم خورشید، خالد عبادی،شاہد اختر،راشد طراز، طارق متین، اسد رضوی،ڈاکٹر واحد نظیر،افتخار راغب، شمیم قاسمی،شنکر کیموری،اثر فریدی،معین کوثر،کاظم رضا ، افروز عالم کے نام خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔ اس عہد کے صحافیوں کی بات کی جائے تو ڈاکٹر ریحان غنی، ایس ایم اشرف فرید،اے کے احسانی،مفتی ثناء الہدی قاسمی،سید شہباز،احمد جاوید،سراج انور،راشد احمد،رضوان دربھنگوی،خالد رشید صبا، شباب انور، ریاض آتش، محمد محفوظ عالم، شگفتہ یاسمین وغیرہ نے پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں اردو صحافت کو نئی سمت اور رفتار عطا کی۔
 
عہد حاضر یعنی 2000ء بعد جن شعرا و ادبا اور صحافیوں نے ادب و صحافت کے میدان میں اپنی سرگرمیوں سے متاثر کیا ان میں فکشن کی طرف نظر ڈالی جائے تو سلمان عبدا لصمد،شفقت نوری،کہکشاں توحید وغیرہ کے نام خاص طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ سلمان عبدالصمد نے ناول ’’لفظوں کا لہو‘‘ لکھ کر پوری ادبی دنیا میں ہلچل پیدا کر دی۔ فکشن تنقید کی بات کریں تو ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر عبد الرافع، احمد عبدالحئی،ڈاکٹر احسان عالم، احمد کفیل نسیم،زاہد الحق، درخشاں زریں،شاذیہ عمیر، ڈاکٹر زرنگار یاسمین،ثریا جہاں،شارقہ شفتین،افشاں بانو، شمع کوثر،سیرت جہاں، علفیا نوری،نوشاد منظر، نازیہ امام،وغیرہ نے اپنی کارکردگیوں سے متاثر کیا ہے۔ شاعری میں کامران غنی صبا، جمیل اختر شفیق، ڈاکٹر منصور خوشتر،ایم آر چشتی، انعام عازمی، عامر نظر، نصر بلخی، رخشاں ہاشمی،مظہر کبریا،احمد اشفاق وغیرہ نے متاثر کیا ہے۔ صحافت کے میدان میں ڈاکٹر منصور خوشتر، نوشاد مومن،جاوید اختر،کامران غنی صبا،نور السلام ندوی،وغیرہ مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ آپ (منصور خوشتر) کی خدمات تو کئی اعتبار سے لائق ستائش ہیں۔ صحافت، تنقید اور شاعری ہر میدان میں آپ نے اپنی موجودگی کا احساس کرایا ہے۔ فکشن، تنقید ، شاعری اور صحافت کے علاوہ طنز و مزاح کے میدان میں بھی بہار کے تخلیق کاروں نے اپنے تخلیقی جوہر دکھائے ہیں۔ انشائیہ نگاری کی بات کی جائے تو ظفر کمالی، کلیم الرحمن کاکوی اور سید عبدالجلیل کی شناخت ایک اچھے انشائیہ نگار کے طور پر ہوتی ہے۔ خاکہ نویسی کے میدان میں مشتاق احمد نوری اور کلیم الرحمن کاکوی کا نام اہم ہے۔ بہار کے شعرا و ادبا نہ صرف بہار اور ہندوستان بلکہ ملک سے باہر بھی زبان و ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں افتخار راغب، احمد اشفاق، افروز عالم اور محمد شہاب الدین کے نام خاص طور سے اہمیت کے حامل ہیں۔بزم اردو قطر، بزم صدف انٹرنیشنل اور اس طرح کے کئی بڑے ادبی ادارے ملک سے باہر بھی ادب کی شمع روشن کر رہے ہیں۔ الغرض گیسوئے اردو کی شانہ پذیری میں شاعروں، ادیبوں، قلم کاروں اور فن کاروں کی ایک طویل فہرست ہے جو ہمہ دم فعال، سرگرم اور مستعد ہے۔ سر دست جو نام میرے ذہن میں آتے گئے وہ میں آپ کو بتاتا چلا گیا۔ 
 
(منصور خوشتر: بہت شکریہ اسرائیل رضا صاحب۔ میں سمجھتا ہوں کہ ناظرین و قارئین کو اس سوال کے جواب سے اندازہ ہو گیا ہوگا کہ بہار میں اردو زبان و ادب کا مستقبل انتہائی روشن و تابناک ہے۔ تفصیلی جواب کے لیے ایک بار پھر آپ کا شکریہ۔)
 
سوال: دربھنگہ ٹائمز کے بعد المنصور ٹرسٹ نے ریسرچ اسکالر ز کے لیے الگ سے ایک سہ ماہی رسالہ’تحقیق‘ کی اشاعت شروع کی ہے۔ کیا اس طرح کے رسائل اردو کے دوسرے اداروں کو نہیں نکالنے چاہئیں؟
 
جواب: ’تحقیق‘ کی اشاعت سے ریسرچ اسکالرز اور نئے لکھنے والوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم ملا ہے۔ اس طرح کے رسالے ضرور نکلنے چاہئیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہر یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے اس طرح کا ایک رسالہ ضرور شائع ہونا چاہیے۔
 
سوال: اردو والوں کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
 
جواب: ادب کا مقصد تہذیب کی پرورش اور اس کی تزئین و آرائش ہے۔ وہ ادب، ادب کہلانے کا قطعی مستحق نہیں جس سے اقدار حیات پر ضرب پڑتی ہو۔ اچھا ادب سماج کی تعمیر و تشکیل میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے اگر سماج میں تخریب کاری پیدا کی جائے تو وہ ادب کے ساتھ زنا کاری کہلائے گی۔ لہٰذا میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ ادب کو تخریب سے بچائیے اور ایک اچھے سماج کی تعمیر و تشکیل میں مثبت کردار ادا کیجیے۔ 
(ڈاکٹر منصور خوشتر: بہت بہت شکریہ، آپ نے المنصور ٹرسٹ کے لائیو انٹرویو کے لیے اپنا قیمتی وقت عنایت کیا)

***************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 446