donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Naseem Ahmad Naseem
Title :
   Urdu Adab Ka Aik Purana Land Scape


 

اردو ادب کا ایک پُرانا لینڈاسکیپ


ڈاکٹر نسیم احمد نسیم


        ملک نیپال صرف 500 میل طویل اور 80 میل عریض علاقے میں پھیلا قدرتی حسن سے مزین ایک اہم خطۂ ارض ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ اپنے جغرافیائی محل و قوع اور تہذیب و ثقافت کے سبب سیاحوں، سنتوں، فن کاروں اور دانشوروں کے لیے کشش کا باعث رہا ہے۔ یہاں پہاڑوں پر جس قدر قدرت کی رعنائیاں جھلملاتی ہیں، اسی طرح ترائی کے علاقے بھی فطری حسن و جمال سے آراستہ ہیں۔ یہ ایک کثیر لسانی ملک ہے۔ یہاں سرکاری زبان نیپالی کے علاوہ تقریباً دو درجن زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں گرونگ، تبّتی، برمی، اودھی، تمنگ، سیلتھالی، نیواری، ہندی، بھوجپوری اور اردو روز مرہ کے استعمال میں ہیں۔ ان میں اردو کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ یہ نیپال کے گوشے گوشے میں بڑے پیمانے پر بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہاں اردو کے آغازاور ارتقا کا شاندار پس منظر رہا ہے۔ 


        1856ء میں انگریزی فوج نے اودھ پر قبضہ کرلیا اور نواب واجد علی شاہ کو معزول کرکے ان کے نابالغ فرزند برجیس کو سلطنت کا نائب مقرر کردیا۔ اس سے قبل کہ نواب اسیر زنداں ہوتے وہ چھپ چھپاکر کلکتہ پہنچ گئے۔ سلطنت کی اس روح فرساشکست و ریخت سے نواب کی بیگم حضرت محل حددرجہ کبیدہ خاطر ہوئیں۔ انھوں نے اودھ کو مزید تباہی سے بچانے کا عزم کیا اور محل سے باہر آکر فرنگیوں کے مقابل صف آراہوگئیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس غیرت دار اور اولوالعزم خاتون نے انگریزوں سے مثالی جنگ کی۔ لیکن اخیر میں انھیں پسپا ہونا پڑا۔ انگریز حکام نے بہت کوشش کی کہ وہ ان کی ماتحتی قبول کرلیں، لیکن حضرت محل نے ذلت کی زندگی پر ہجرت کی صعوبت کو ترجیح دی۔ وہ اپنے فرزند اور چند فدائیوں کے ہمراہ نیپال کی راجدھانی کاٹھمنڈو پہنچیں اور تاحیات وہیں مقیم رہیں۔


        نیپال میں اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج انہی مہاجرین کی رہین منت ہے۔ ان میں جو مہاجر شعراء تھے، انھوں نے لکھنؤ کی یادگاری محفلیں یہاں بھی آباد رکھیں۔ برجیس قدر نے 1857ء سے 1875ء کے دوران اپنے رفقاء اور وفاداروں کے ساتھ مل کر نیپال میں شعر و ادب کی جو قندیلیں روشن کیں، ان کی ضوپاشی آج بھی نگاہ کو خیرہ کرتی ہے۔ قابل ذکر امر ہے کہ بالکل اجنبی اور نامانوس ماحول میں بھی اسی طرح ادب کی آبیاری ہوتی رہی جس طرح اودھ کی محفلوں میں ہوتی تھی۔ عوام میں ان کی محفلوں کی دھوم تھی۔ اس زمانے میں نیپالی کے بہت سے شعراء نے ان سے اثر قبول کیا اور اردو کی طرف راغب ہوئے۔ نصراللہ حریفؔ، خواجہ نعیم الدین بدخشیؔ، غلام محمد خانقاہیؔ، برجیس قدرؔ، صاحب زادہ موصوفؔ، منشی محمد حسینؔ، منشی بہادر سنگھ احقرؔ، بھولاناتھ فلکؔ، اشفاق رسول ہاشمی سرورؔ، امیرالدین واثقؔ حکیم خواجہ حسنؔ شاہ، فاروق احمد عارفؔ ، معظم شاہ رضانیازیؔ جیسے شعراء کی مساعی کا ثمرہ ہے کہ نیپال میں اردو شاعری کا باضابطہ آغاز ہوا اور ارتقائی مراحل طے ہوتے رہے۔ملاحظہ کریں مذکورہ شعراء کے چند اشعار:

طغیانیٔ سیال جو حد سے گذر گئی
مقراض موج دامن دریا کتر گئی

نصراللہ حریفؔ

تیری دوست دشمن کریں سب مدارا
کرم اور احساں ہے مجھ پر تمہارا
دعا گو ہے تیرا ہمیشہ بدخشیؔ
بلند تیرے اقبال کا ہو ستارا

خواجہ نعیم الدین بدخشیؔ

کشتی شکست گانِ جہاں کی تلاش میں
مقراض موج دامن دریا کتر گئی

 غلام محمد خانقاہیؔ

کیونکر سنا کریں گے یہ غواص بحر عشق
مقراض موج دامن دریا کتر گئی

برجیس قدرؔ

قتل بھی تو نے کیا ہائے رکاوٹ کے ساتھ
رگ جاں دیکھ یہ باقی ہے ستمگر اپنی

 صاحب زادہ موصوفؔ

یہ بو اور رنگ تھا مشک ختن میں کب بھلا پہلے
ہمارے یار کی زلف معطر سے چرایا ہے

 بھولاناتھ فلکؔ

اشک گلگوں ہیں ٹپکتے چشم گریاں سے میرے
بارش خوں ہو رہی ہے جان جاں برسات میں

منشی بہادر سنگھ احقرؔ

        سرزمین نیپال پر محولہ بالا شعری کاوشوں کے ساتھ ہندو نیپال کے مابین صدیوں پرانا تہذیبی، لسانی اور ثقافتی رشتہ بھی ہے۔ اس باہمی اختلاط نے بھی نیپالی زبان و ادب کو اردو کے لفظی اور شعری سرمائے سے مالا مال کیا ہے۔ نیپال کے بے شمار ادیبوں نے نہ صرف اردو کو پسند کیا، بلکہ باضابطہ زبان سیکھی اور اس کے فروغ میں سرگرم معاون بنے۔ان قلم کاروں میں عظیم شاعر اور دانشور موتی رام بھٹ جسے بھانو بھگت اچاریہ  (1871ئ) کے بعد نیپال کا سب سے بڑاادبی ستون تسلیم کیا جاتا ہے، کانام ناقابل فراموش ہے۔ وہ 1923ء میں کاٹھمنڈو میں پیدا ہوا۔ ابتداً اس نے نیپالی کے ساتھ سنسکرت اور ہندی پر عبور حاصل کیا۔ پھر وہ مہاجر شعراء کی صحبت میں رہ کر اردو کی طرف متوجہ ہوا، اور نہ صرف لکھنا پڑھنا سیکھا، بلکہ اردو میں جم کر شاعری بھی کی اور دیکھتے دیکھتے اس نے نیپال میں اردو کے لیے نہایت ہی خوشگوار ماحول پیدا کردیا۔ موتی رامؔ کا تتبع کرتے ہوئے دوسرے بہت سے نیپالی کے شعراء بھی اردو میں مشق سخن کرنے لگے۔ دراصل نیپال میں وسیع پیمانے پر غزل کو اسی نے متعارف کرایا۔ اس نے غزل کے فن کو اس کے پورے تہذیبی اور روایتی لوازمات کے ساتھ برتا۔ لیکن صد حیف کہ اردو کا یہ مایۂ ناز نیپالی شاعر صرف 40 سال کی عمر پاکر دائمی سفر پہ روانہ ہوگیا۔ بہت تلاش و جستجوکے باوجود اس کی اردو شاعری تک رسائی نہ ہوسکی۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ فی الوقت اس کے اردو کلام نایاب ہیں۔


        موتی رام بھٹؔ کے بعد ایک نیپالی ادیب دیوندر راج اپادھیائے نے ترجموں کے ذریعے اردو کی بیش بہا خدمت انجام دی۔ اس نے میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ اور فیضؔ کے کلام سے نیپالی قارئین کو متعارف کرایا۔ مذکورہ شعراء کی شاعری نے نیپالیوں کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ ایک اور مشہور شاعر رمولا دیوی شاہ ؔنے اپنی غزلوں کے ذریعہ عوام و خواص میں خاصی شہرت حاصل کی۔ اس ضمن میں پاکستانی ادیبہ نکہت طاہرہ نیرؔ کی خدمات بھی قابل قدر ہیں۔ انھوں نے اس شاعر کے کچھ شعری مجموعوں سے کلام منتخب کرکے ’’سوز گل‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جسے کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ معروف شاعر کھڑک مان سنگھ نے نیپالی رسم الخط میں غزلیں کہیں، لیکن 95 فیصد الفاظ اردو کے استعمال کئے تاکہ ترسیلی سطح پر اردو اور نیپالی کے درمیان کم سے کم بُعد رہ جائے۔ اس سے آگے چل کر بہت امید افزا نتائج سامنے آئے۔


        آج اردو نیپالی عوام کی محبوب تو ہے ہی یہ شاہی گھرانے میں بھی پیاری رہی ہے۔ امراء اور رؤسا اردو کے الفاظ استعمال کرکے فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس کے الفاظ اخباروں، کتابوں، دفتروں، عدالتوں اور الکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہر سو مشتہر ہورہے ہیں۔ گھروں، دکانوں اور عوامی مقامات پر غلام علی، جگجیت سنگھ، پنکج ادھاس اور طلعت عزیز جیسے گلوکاروں کے کیسٹ شوق سے سنے جارہے ہیں۔ اردو ادب کی اس بے پناہ مقبولیت سے نیپالی ادب کی ہر صنف نے بھرپور استفادہ کیا ہے، جن میں گیت، غزل، کہانی، ناول اور تنقید کو خصوصی طور پر لیا جاسکتا ہے۔ یہاں غزل کے فن پر نیپالی ادب میں بحثیں ہورہی ہیں، مذاکرے ہو رہے ہیں۔ ہر ادبی رسالہ نیپالی غزلیں ضرور شائع کرتا ہے۔ فی الحال نیپالی شعراء صنف غزل کے اس قدر گرویدہ ہیں کہ انھوں نے نیپالی زبان میں اپنی غزلوں کے کئی مجموعے شائع کئے ہیں۔ نیپال سے شائع ہونے والے بیشتر معیاری رسالوں نے غزل نمبر نکالے ہیں، جن میں ’’کوپیلا‘‘ (کاٹھمنڈو)، ’’کاچولی‘‘ (پالپا)، ’’اُپہار‘‘ (جھاپا)، ’’پُرواہ‘‘ (بھکت پور)، ’’پروتساہن‘‘ (اودئے پور) کا خصوصی طور پر ذکر کیا جاسکتا ہے۔ ان غزل اَنکوں میں پرانے شعراء کے علاوہ نئی نسل کے فن کاروں نے بھی شدت سے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ موجودہ دور میں بھی اردو کے بعض نئے شعراء اپنے پیش روؤں کی طرح اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں ہمہ دم مصروف ہیں اور نیپالی ادب اور نیپالی عوام کو وسیع پیمانے پر اپنی طرف راغب کررہے ہیں۔ اور اردو کو اس کوردہ ملک میں ہمیشہ ہمیش کے لیے مستحکم اور پائیدار مقام دلانے میں اہم ترین رول ادا کررہے ہیں۔ اس لیے امید کی جانی چاہئے کہ مستقبل میں جب اردو کی بیشتر نئی بستیوں میں اندھیرا ہوگا، اس وقت بھی اس ملک میں اردو کی روشنی جگمگاتی ہوئی ملے گی۔مضمون کے اخیر میں ملاحظہ کریں ان نئے

شعراء کے چند منتخب اشعار:


دنیا کی بازگشت میں اپنی ہی ہے صدا
ایسے میں کوئی تجھ کو پکارے کہاں کہاں

 عبداللطیف شوقؔ نیپالی

فکر کو وسعت، جنوں کوحوصلہ دیتے رہے
زندگی کو ہر قدم اک رخ نیا دیتے رہے

 امیر اللہ اسعدیؔ

میں سوچتا ہوں لفظ لفظ ہے تیرا
ہے میری فکر بھی تیری، دماغ تیرا ہے

 زاہد آزادؔ

چند آنسو، چند آہیں زندگی کا ماحصل
قہقہے وہ ایک دن سب چھین کر لے جائے گا

 نثار نیپالیؔ

تنگ دل ہوتے گئے منظرؔاُدھر اہل حرم
میں اِدھر گرویدۂ حسن بتاں ہوتا گیا

منظار الحق منظرؔ

 

 

نیپال کے پرانے شعراء


       خواجہ نعیم الدین بدحشیؔ، نصر اللہ حریفؔ، غلام محمد خانقاہیؔ، برجیس قدرؔ، صاحب زادہ موصوفؔ، بہادر سنگھ احقرؔ، بھولا ناتھ فلکؔ، امیرالدین واثقؔ، کلیم خواجہ حسن شاہؔ، فاروق احمد عارفؔ، خواجہ معظم شاہ نیازی وغیرہ

 


نیپال کے نئے شعراء


        زاہد آزادؔ جھنڈا نگری، عبداللطیف شوق نیپالیؔ، غلام جیلانی راہیؔ، اشفاق رسول ہاشمی سرورؔ، امیراللہ اسعدیؔ،محمد عمر اثرؔ، خواجہ علی شاہ قنبرؔ، شوکت علی شوکتؔ، اسماعیل انصاری، نثارؔ نیپالی، فہدؔ جھنڈا نگری، محمد یونس ادیب، وصیؔ احمد مکرانی، شبانہؔ نکہت، عزیز بلگامی، اشرف القادری، زبیر احمد ناطقؔ، اشفاق احمد اشفاقؔ، امین خیالیؔ، عبدالعزیز مضطرؔ، عادل سرور، ثاقب ہارونیؔ، منظارالحق منظرؔ، ہاشم انجمؔ، نسیم نورانیؔ، خالد رمزیؔ، طیب حسن اصلاحی، ظفرؔ جنک پوری، جمال احمد خستہؔ، احسنؔ نیپالی وغیرہ

 


نیپال کے نثر نگار


      عبدالرؤف رحمانیؔ جھنڈا نگری، عبد اللہ مدنیؔ،نٹؔ کھٹ نیپالی، مصطفے مدنی، خالد صدیقی، عارف صدیقی، محمد ولی اللہ، پھول محمد، امیر اللہ اسعدی، غزالہ شاہد، عبدالغفار ثاقب، رضوانہ پروین، محمد شعیب آزاد وغیرہ

نیپال سے شائع ہونے والے اردو رسائل و اخبالات


-1 ’’پیغام‘‘ (سہ ماہی )  مدیر محمد حسن جیب۔ الحرا ایجوکیشنل سوسائٹی،براٹ نگر، نیپال
-2 ’’شاہین‘‘  مدیر خالد صدیقی، کاٹھمنڈو (فی الحال بند)
-3 ’’نورِ توحید‘‘  مدیر عبد اللہ مدنیؔ، کرشنا نگر کپل وستو، نیپال
-4 ’’السراج‘‘  مدیر شمیم احمد خان، جھنڈانگر، نیپال
-5  ’’اصلاح‘‘ (سہ ماہی)کاٹھمنڈو، نیپال
-6 ’’فیض النبیؐ  ‘‘  نیپال گنج، نیپال
-7 ’’اسلامی آواز‘‘ (سہ ماہی) کپل وستو، نیپال
-8 ’’ہمالہ کی آواز‘‘، کاٹھمنڈو، نیپال
-9 ’’الہادی ‘‘(سالنامہ)جنکپور، نیپال
-10 ’’نئی صدی‘‘ (پندرہ روزہ) باغبازار کاٹھمنڈو ۔وغیرہ ……

 

٭  ٭  ٭


Dr. Naseem Ahmad Naseem   
     Near Mirshikar Toli Masjid, 
     Kali Bagh, Bettiah-845438
           Mob. 9931004295

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 817