donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Nasreen Rayees Khan
Title :
   Urdu Zaban Ki Nashonuma

اردو زبان کی نشو ونما

 

  ڈاکٹر نسرین رئیس خان

 

آج سے تقریباً آٹھ یا نو سو سال پہلے جو تاریخی حالات تھے۔ ان میں  نئے تصورات اور ان کے زیر اثر جو تاثرات بن رہے تھے۔ او رہمارے ماحول کا بدلتا ہوا رنگ ڈھنگ اور نئے حالات سے متاثرذہن جس طرح کام کر رہے تھے۔ ان کا اثر آپسی تعلقات کے علاوہ رہن سہن ،آداب زندگی اور بات چیت کے طریقے سلیقے پر بھی مرتب ہو رہا تھا۔

ہندوستان کے شمال مغربی علاقے کے لوگ سپاہیوں  ،تاجروں  ،کاریگروں  اور کارگزاروں  کے روپ میں  دہلی اور اس کے قرب وجواز میں  آ آکر بس رہے تھے۔ اور اس علاقے میں  رہن سہن اختیار کرنے پر یہاں  کے رسوم و آداب اور لب و لہجے اور نفسیات کو بھی اپنارہے تھے۔

جہاں  بھی انسان قیام کرتا ہے ۔روز مرہ کی زندگی میں  شریک ہوتا ہے ۔وہا ں کے معاملات اور معلومات سے بھی وہ بے تعلق نہیں  رہ سکتا۔ اور شادی بیاہ کرنے کی صورت میں  وہ ان کے طور طریقے اور رسم و رواج کو بھی جوں  کے توں  یا تھوڑی بہت بدلی ہوئی صورت میں  اختیار کر لیتا ہے۔ اور اس طرح باہر سے آنے والوں  اوریہاں  کے شہروں  قصبوں  اور گائوں  سے متعلق لوگوں  میں  میل جول اور ربط و ضبط بڑھتا ہے تو ان کا لب و لہجہ ان کی زبان ان کا محاورہ اور روز مرہ بھی اس سے متاثر ہوتا ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔کہ زبان بیشتر اپنے پہلے سے چلے آئے ہوئے زندگی کے طریقے سلیقے میں  تبدیلیاں  کر لیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بدلائو زیادہ وسعت اور گہرائی حاصل کر لیتا ہے۔ اور تاریخ وتہذیب کے بدلتے ہوئے ۔رخ اور رویّے کے ساتھ زبان بھی ایک نئی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

باہر سے آنے والے اور مقامی آبادی میں  اگرنسلی اختلافات اور طبقاتی فرق و امتیاز کم ہوتا ہے۔ تو وہ بہت جلد ایک دوسرے سے گھل مل جاتے ہیں ۔ ان کی بات چیت لین دین اور رہن سہن میں  قربتوں  اور اپنایتوں  کے سلسلے بڑھتے ہیں  ۔ اور دوریوں  کے رشتے کم ہوجاتے ہےں ۔

ہندوستان میں  جب سنٹرل ایشیا، افغانستان ،بلوچستان اور سرحدی آبادیوں  کے لوگ آئے۔ اپنے بچوں  اوربیویوں  کو بھی ساتھ لائے۔ تو یہاں  ان کی گھر گرہستیاں  بھی یہاں  والوں  کی طرح قائم ہوگئیں ۔ اور یہاں  والوں  سے قریبی رشتہ داریاں  قائم ہو جانے کی صورت میں  دونوں  کے رسم و رواج بھی ایک دوسرے سے متاثر ہوئے بنا نہیں  رہے۔ جیسے جس کے حالا ت تھے۔ تعلیم و تربیت تھی۔ ماحول اور مزاج تھا۔ اس کے مطابق ان خاندانوں  اور کنبوں  نے یہاں  کی زندگی کو اختیار کیا۔ یہاں  کے لوگوں  سے ذہنی رشتے اور سماجی تعلقات بڑھائے۔ اور ایک نے دوسرے کا رنگ اور آہنگ یعنی طور طریقہ اختیار کیا۔

دہلی میں  ہم حضرت امیر خسروؔ کی شخصیت کو اگر سامنے رکھیں  تو یہ سمجھ میں  آجائے گا کہ آنے والے اور یہاں  آکر بس جانے والوں  میں  تاریخی اور تہذیبی طور پر کیا تبدیلیاں  آئیں ۔ آنے والے اگر واپس گئے۔ تو یہاں  کی زندگی ذہن اور تہذیب کی کیا کیا باتیں  ان کے ساتھ چل کر دہلی سے کابل ،تاشقند ،بخارا، آذر بائیجان اور مختلف ملکوں  اورشہروں  میں  پہنچیں  حضرت مولاناروم کا مشہور شعر ہے    ؎

بشنو ازنے چوں  حکایت می کند

از جدائی ہا شکایت می کند

 

’’نے‘‘ کے اس خاص حوالے کے ساتھ ہندوستانی تہذیب کے اس دور کی ایشیائی تہذیب پر اثر اندازی کی نشاندہی کرتا ہے ۔

فارسی پر ہندوستانی روایتوں  اورحکایتو ں کے بہت اثرات ہیں ۔ خود فارسی کی مشہور کتاب گلستاں  میں جو حضرت شیخ سعدی کی لافانی ادبی تخلیق ہے۔ان اثرات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔جن سے یہاں  تک اندازہ ہوتا ہے ۔کہ حضرت شیخ سعدی ہندوستان آئے تھے۔ اس سے ہم وسطی عہد میں  ایرانی تہذیب مرکزی ایشیائی تمدن کے اثرات کو بھی پرکھ سکتے ہیں ۔ اور باہمی روایت کے تاریخی اور تہذیبی نتائج کو بھی۔

اردو کی ابتدائی نشوونما ابتداً پنجاب،ملتان اور لاہورجیسے تاریخی او رتہذیبی شہروں  کے اس ماحول میں  ہوئی۔ جس نے اپنی تہذیب کی حدود کو ادھر سے ادھر تک پھیلا دیا تھا۔ مسعود سعاد سا مان کی فارسی شاعری اس کے بہترین نمونے پیش کرسکتی ہے۔ ہندوی تخلیق سندیش راسک ،جس کا تخلیق کار عبددھ مان یا عبدالرحمان ہے۔ اس کے بہت عمدہ نمونوں  میں  ہے۔ اس تصنیف سے پتہ چلتا ہے کہ عربی فارسی الفاظ بدلی ہوئی شکل میں  ہماری علاقائی زبانوں  میں  داخل ہوتے جارہے ہیں ۔ اور اس طرح زبانوں  کا قدیم انداز اور مزاج بدلتا جارہا ہے ۔اور وہ نئے سانچوں  میں  ڈھل رہے ہیں ۔ اگر ملتانی ،لاہوری اور پھر دہلوی زبان کو سامنے رکھیں  تو ان میں  ارود کا ابتدائی رنگ اور لفظی آہنگ مل جائے گا۔

اردو کی نشو و نما میں  دو ادار وں  کا اثر خاص طور پر کام کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ان میں  ایک ادارہ خانقاہ ہے ۔جہاں صوفی معاشرہ ہر طرح کے لوگوں  کی اخلاقی ترتیب کرتا تھا۔ او راس میں  مذہب خلت، ذات پات ،اور طبقات کا فرق حائل نہیں  ہوتا تھا۔  اقبالؔ نے ایک موقع پر یہ شعر کہا ہے   ؎

بندہ وصاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تری سرکار میں  پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

ایک ہی صف میں  کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

یہ مسجدوں  کا ہی نہیں  خانقاہوں  کا ماحول بھی تھا۔ اور بڑی حد تک مدرسوں  کا ماحول بھی صوفیوں  کے یہا ں انسانوں  میں  تفریق اورتقسیم کی روایت نہیں  ملتی۔ وہ تو سب کو ایک سمجھتے تھے۔ اب کوئی راجا ہو یا رنک ہو۔ سب ایک ہےں ۔اونچی ذات اور نیچی ذات ان کی نظر میں  کوئی معنی نہیں  رکھتی۔ سب کے ایک ساتھ اٹھنے بیٹھنے بولنے بات کرنے خوشیوں  اور غموں  میں  شریک ہونے کا نتیجہ اور بڑا نتیجہ یہ ہوا کہ زبان میں  ہرطبقے ہر خیال اور ہر سطح پرگزاری جانے والی زندگی کے عناصر گھل مل کر ایک ہوگئے۔

دہلی جس کوا س زمانے میں  دہلو کہتے تھے۔ اس کا شہری ماحول گلیاں  او ربازار تیج تہوار، اس ملے جلے کلچر کے چلتے پھرتے نقش پیش کرنے لگے۔ کبیرؔ اس دور کے کچھ بعد کے عوامی شاعر ہیں ۔ ان کا یہ دوھا اس دور کی تہذیبی زندگی کو پیش کرتا ہے ۔

کبیر اکھڑا بازار میں  مانگے سب کی خیر

 نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر

SOH÷SOHاس کو ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ جب بیر نہیں  ہوتا تو دوستی اپنائیت میں  بدل جاتی ہے ۔اور یہی اپنائیت ہے ،جس کی طرف کبیر نے اشارہ کیا ۔اگر دیکھا جائے ،تو کبیر کا یہ دوہا اس کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ اس وقت کی بول چال کی زبان کیا ہوگی۔ یا کیا ہونا چاہئے۔

خسرو درباری شاعر ہیں ۔ مگر ان کا تعلق صرف سلاطین کے دربار ہی سے نہیں  ہے ۔صوفیوں  کی خانقایوں  سے بھی ہے ۔ اور ان گلیوں  اور بازاروں  سے بھی جہاں  عام لوگوں  کی زبان اور بولی ٹھولی سننے کو ملتی ہے ۔اس وقت غزلیں  بھی رائج ہےں ۔ گیت بھی، چمولے بھی جس کو چو بولے بھی کہنا چاہئے۔ اور خاص طور پر دوہے بھی ۔دوھا اور چمولہ دیہات اور قصبات کی زبان میں  اب بھی رائج ہیں ۔ اور بہت مقبول ہےں ۔ حضرت امیر خسرو کی شاعری میں  دوھا، چوپائی اورعوامی گیتوں  کے بہت ہی رسیلے اور سجیلے نمونے ملتے ہیں ۔ جن کے بول آج بھی کانوں  میں  رس گھولتے ہیں ۔

حضرت محبوب الٰہی اور دوسرے میں  صوفیوں درویشوں  اور فقیروں  کی درگاہوں  اور خانقاہوں  میں  دوہے چوپائیاں  اور پیار بھرے گیت اکثر گائے جاتے ہوں گے اس کا کچھ اندازہ اس امرسے بھی ہوتا ہے ۔کہ آج بھی خانقاہوں  میں  قوالی اور گیتوں  کی شاعری کی پیش کش کے وقت ایسے ہندوی اشعار پیش کیے جاتے ہیں ۔ جن کی زبان ہندوی اور اردو دونوں  سے مختلف نظر آتی ہے ۔یہ در اصل اس دورِ زندگی کی یادگارہیں ۔ یا بدلتے ہوئے رویوں  اور روشوں  کا عکس پیش کرتے ہیں ۔ جو زبان کے نشو و نما پانے کے دور میں  ہمارے لب و لہجے نفسیات اور شعرو شعورکا حصہ رہے ہیں ۔

عورتوں  کے گیتو ں میں  اب بھی اس زمانے کے شعری نمونوں  کی جھنکار مل جاتی ہے ۔اور اس عقیدت کا پتہ چل جاتا ہے۔ جس کے جذبات کو اس زمانے کے دوہوں  چمولوں  میں  پیش کیا جاتا تھا   ؎

میں  تو جھاجھن بجا آئی یار کی گلی میں 

میں  خوشیاں  جگا آئی یارکی گلی میں 

امیر خسرو کی بعض ہندوی غزلیں  ارود کے ابتدائی نشو و نما کے انداز او راسلوب کو پیش کرتی ہیں ۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں  کہ دہلی ،لاہور ،ملتان ،گجرات اوردکن میں  اردو کے پروان چڑھتے وقت مقامی فضا اور تہذیبی ماحول کیا رہاہے۔ اور ایسے کسی ماحول کے نہ ہونے کی صورت میں  اردو جیسی ملی جلی زبان اور بولی ٹھولی ترقی پا کر خانقاہ اور دربار میں  داخل ہوہی نہیں  سکتی۔

اردو کے ارتقا کی تاریخ میں  فورٹ ولیم کالج اپنی تصانیف کے لحاظ سے ایک نشانِ منزل کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس لیے کہ اس سے پہلے ہمارے یہاں  نثر پر برائے نام ہی کچھ کام ہوا تھا۔ جیسے جدید اردو نثر کے پس منظر کی حیثیت سے پیش نظر رکھا جاسکتا ہے ۔

 جدید اردو نثر کا سلسلہ آغازفورٹ ولیم کالج کی نثری تصانیف سے ہوتا ہے ۔اس سے پیشتر نثر کے جو نمونے ملتے ہیں ، ان میں  نثر اپنے اپنے زمانے کے صناعانہ رجحان سے زیادہ متاثر ہے ۔اس وقت میں  اردو نثر زیادہ تر قصے کہانی کے لیے کام میں آتی ہے ۔کوئی علمی کام اس سے نہیں  لیا جاتا ۔فورٹ ولیم کالج میں  تاریخ ،تہذیب، روایت اوربڑی حد تک جغرافیہ جیسے موضوعات نثر نگاری کے لیے کام میں  آئے۔ تو اردو نثر کا تعلق علم و ادب سے نئے ذہنی رشتوں  کے ساتھ قائم ہوا۔ اور رفتہ رفتہ یہ سلسلہ آگے بڑھا اور اس میں  نئی وسعتیں  آئیں ۔

اخبارات و رسائل کی اشاعت نے صورتحال کو بدلنے میں نمایا ں طور پر حصہ لیا۔ اخبارات و رسائل نئے موضوعات پر اپنے یہاں  مضمون، مقالے اور خبر نامے شائع کرتے تھے۔ اور پڑھنے والوں  کا دائرہ بھی اسی نسبت سے وسیع تھااور ہوتاجاتا تھا ۔اس اعتبار سے جدید اردو نثر کی اشاعت و مقبولیت اور اثرو تاثر کے دائرے میں  اضافے کے ساتھ ساتھ اردونثر کے اسلوب فکر او رطرز ادا میں  تبدیلی اور ترقی ہوئی۔ محض قصے کہانیاں  کافی نہیں  تھیں ۔ ذہن کو بدلنے اور نئی فکری سطح پر لانے کے لیے نئی علمی معلومات اور فکرو نظر کے نئے زاویوں  سے واقفیت بھی ضروری تھی۔ وہی رفتہ رفتہ بڑھ رہی تھی۔ اور نثر کے اسلوب میں نئی جہتیں  اور طرز ادا میں  نئے زاوئےے پیدا ہو رہے تھے۔ جس کو ہم ٦٣٨١ئ کے بعد اردو نثر کے مختلف نمونوں  میں  سامنے آتا ہوا دیکھتے ہیں ۔

سر سید اس زمانے کے پہلے ایسے شخص ہیں ۔ جو اپنے عہد کی نثر کے نئے نئے نمونوں  کو اپنی تحریروں  میں  بھی پیش کرتے ہیں ۔ اور اپنی تنقید و تبصرے میں  بھی ٧٥٨١ئ کے غدر کے بعد عام لوگوں  میں  مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ سر سید اس مایوسی کو ختم کرنا اور طرز فکر کو بدلنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں  نے اوران کے رفقانے جن میں  حالیؔ ،شبلیؔ ،نذیر احمد اور مولانا حسین آزاد بطور خاص شریک ہیں ۔ اردو نثر میں  قابل ذکر اورلائق تعریف کارنامے انجام دئےے ۔ان لوگوں  نے اس وقت کے انداز فکر کو موضوع بنا کر جیسے ہم احساس محرومی اور مایوسانہ سوچ سے تعبیر کر سکتے ہیں  بہت کچھ لکھا۔ اور مختلف زاویوں  سے اپنے عہد کی سوچ و فکر کو پرکھنے اور تعبیر و تنقید کی منزل سے گزارنے کی کوشش کی۔ ہم اس سلسلے میں  سر سید کے ایسے مضامین کا حوالہ دے سکتے ہیں ۔ جس میں  انہوں  نے قوم کو احساس محرومی اور شکست کے ماحول سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔

اس زمانے کے عام پڑھے لکھے مسلمانوں  میں  جو سوچ کا معیار اور سمجھ بوجھ کا انداز تھا اسے ہم اس تبصرے میں  سر سید کے مضمون تہذیب الاخلاق میں سامنے آتا ہوا دیکھتے ہیں  ۔

’’اگر ہماری قوم میں  صرف جہالت ہی ہوتی تو چنداں  مشکل نہ تھی ۔ مشکل تو یہ ہے کہ قوم کی قوم جہل مرکب میں  مبتلا ہے …غلط او ربے اصل باتوں  کی پیروی کرنا ۔اور اپنے پیدا کیے ہوئے خیالا ت کو امور واقعی اور حقیقی سمجھ لینا اور پھر فرضی بحثیں  بڑھاتے جانا اور دوسری بات کو گو وہ کیسی ہی سچ اور مناسب کیوں  نہ ہو نہ ماننا لفظی بحثوں  پر علم و فضیلت کا دارومدار ہونا ان کا نتیجہ ہے ‘‘

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح کے حالات فکری ماحول اور اخلاقی قدروں سے اس وقت اس طبقے کو واسطہ پڑا جو قوم کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کر رہا تھا۔

سر سید اور ان کے رفقانے اردو نثر میں  جن موضوعات کو پیش کیا اور اسلوب ادا اور طرز تحریر اختیار کیا، اس کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ وہ اس وقت کے ذہنوں  پر یا سوچ پر نہ صرف اثرانداز ہوئے بلکہ انھوں نے نئی سوچ کی راہیں  کھول دیں ۔اور نئی فکر، نئے انداز، اور نئے زاویہ ہائے نظر پیدا کئے۔ جس نے نئے لکھنے والے اور نئیApproche رکھنے والے پیدا کئے۔

جدید اردو نثر کے سلسلے میں  ہم غالبؔ اور خاص طور پر ان کے خطوط کی اہمیت کونظرانداز نہیں  کرسکتے۔ جنھوں نے اردو نثر کو مقفع، مسجع عبارات سے آزادکیا۔ آداب والقاب کے پرانے طریقوں  کو بدلا، باغ وبہار ٢٠٨١ئ میں  سامنے آئی۔اس کے بعد اردو نثر نے جو ترقیاں  کیں  ان کے نمونے غالبؔ کے خطوط میں  نئے انداز کے ساتھ سامنے آئے۔ غالبؔ نے اپنے خطوط میں  بے تکلف اور سادہ طرز اختیار کیا۔ غالبؔ جس طرح اپنے دوستوں  اورشاگردوں  سے مسلسل اور بے تکلف گفتگو کرتے تھے اور اس میں  جو سادگی ، سلاست ، ظرافت ، اور طرز ادا کی ندرت ہوتی تھی اس کو اپنی نظیر آپ کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں  کہ غالبؔ نے اپنے خطوط میں  اردو نثر کے ذریعے اردو ادب کو نئے اسلوب نگارش سے روشناس کرایا۔

جدید اردو نثر کی ترقی پر غالبؔ کی سلاست وسادگی نے گہرے اثرات مرتب کئے اور وہ طرز تحریر جو دور سرسید کی خصوصیات میں  داخل ہے، دراصل وہ غالبؔ کی تحریر کا ہی عکس ہے۔ سرسید نے مایوسیوں میں  گھری اپنی قوم میں  زندگی کی نئی روح پھونکنے کی کوشش کی۔ اور یہ کوشش کی کہ مسلمانوں  میں  نئے افکار اور نئے اقدار زندگی کا اثر وتاثر پھیلے۔ سرسید ایک عظیم تحریک کے بانی تھی ۔ جس میں  ان کے رفقا بھی برابر کے شریک کار رہے۔

مولانا محمد حسین آزاد پر ہمارے زمانے کے ایک نقاد نے یہ لکھا ہے کہ ان کی تاریخی تصنیفات میں  بے شمار تاریخی غلطیاں  ہیں ۔ یہ فقرہ مولانا کے لئے بہت رواروی میں  قلم بند کیا گیا ہے ۔ مولانا کی تصانیف میں  دربار اکبری کے علاوہ باقی کسی بھی تصانیف کو ہم تاریخی تصانیت کے ذیل میں  نہیں  رکھ سکتے ۔اور پھر ان کی غلطیاں  تاریخ سے متعلق اتنی نہیں  ہےں  جتنی ظاہر کی گئی ہیں ۔

مولانا کی تحریروں  میں  دلکش انداز بیان اور شگفتہ عبارت آرائی آج بھی نے نظیر ہے۔ اردو میں  تمثیل کا موجد مولانا کو ہی خیال کیاجاتاہے اور اس کے لیے ہم نیرنگ خیال کو بطور خاص پیش کرسکتے ہیں ۔ آب حیات ان کی ایک تاریخی اورتنقیدی کتاب ہے۔ جو اپنی خوبیوں  کے اعتبار سے اپنی نظیر آپ ہے۔

مولانا حالیؔ جدید نثر کے سب سے پہلے نثرنگار ہیں  جنھوں نے اردو میں  سنجیدہ اور متوازن تنقید کی بنیادڈالی۔اور شعر وشعور پر ایک جامع نقطۂ نظر پیش کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں  کہ باقاعدہ سوانح نگاری کی ابتدائ بھی حالیؔ سے ہی ہوتی ہے۔ حیات جاوید اور حیات سعدی اس فن پر اردو کی پہلی دومنفرد کتابیں  ہیں ۔ حالیؔاردو ادب کے وہ پہلے نثر نگا ر ہیں  جنھوں نے اردو ادب کو تنقید ات عالیہ کا ایک معیاری نمونہ دیا۔ اور اس کی ایک سے زیادہ مثالیں  پیش کیں ۔

حالیؔ کے اسلوب میں  دھیما پن اور سادگی پائی جاتی ہے۔ان کی سادگی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں  بے رنگی نہیں ۔ ان کی سادہ نگاری یوں  تو عام فہم اور بول چال کے الفاظ سے عبارت ہے۔ لیکن الفاظ کی خوبصورتی بھی ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ ان کا قلم بیانات کی کارگاہ میں  نشیب وفراز سے دوچار نہیں  ہوتا ۔بلکہ ان کا آہستہ پن ہر جگہ برقرار رہتاہے۔

شبلیؔ نہ صرف یہ کہ ایک بڑے عالم اور ایک بڑے فلسفی تھے بلکہ ایک نیا زاویہ نگاہ رکھنے والے ادیب بھی تھے۔ علاوہ برایں  وہ ایک بلند پایہ مؤرخ ونقاد بھی تھے۔ ا نھوں نے بھی اردو نثر کو اپنی طرز ادا سے کچھ ایسے نمونے دیئے جو آج بھی قابل قدر اور لائق تحسین خیال کئے جاتے ہیں ۔ شبلی کا اسلوب شگفتہ رواں  متواز اور علمیت سے پر ہے۔ وہ اپنے اسلوب میں  تاثر پیدا کرنے کے لئے شاعرانہ خوبیوں  سے کام لیتے ہیں ۔ شبلی کے یہاں  انقلابی اور جوشیلے مواقع اکثر وبیشتر نظر آتے ہیں ۔ ان موقعوں  پر ان کا قلم خوب خوب جادو جگاتا ہے ۔ شبلی اپنی تحریروں  کے لحاظ سے اپناایک انفرادی رنگ رکھتے ہیں ۔

نذیر احمد ایک عالم تعلیم نسواں  کے پرزور حامی تھے۔ ان کی تصانیف میں  یہ موضوع بطور خاص ہمارے سامنے آتا ہے ۔ نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہےں  ۔بحیثیت مجموعی ان کی زبان دلی کی ٹیکسالی زبان ہے ۔اگرچہ اس پر عربی کے اثرات زیادہ ہےں ۔ اور محاوروں  سے ان کی دلچسپی کا اندازہ موقع بہ موقع اپنا اثر ڈالتانظر آتا ہے۔

اسی دور نے لکھنؤ میں  سرشار اور شرر جیسے اہل قلم پیداکئے۔ شررؔ کاشمار بھی اردو کے اولین ناول نگار میں  ہوتا ہے۔ ان کے اکثر ناول لکھنؤ کی بدلتی ہوئی تہذیبی فضا اور معاشرتی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ان کی تحریروں  میں  لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب کی منہ بولتی تصویریں  ہمیں ملتی ہےں ۔ لکھنؤ کی زبان اور روزمرہ کی چاشنی شرشارؔ کی تحریروں  میں  بطور خاص ملتی ہے۔ فسانہ آزاد کو ہم ان کی ، ان کے دور کی اور لکھنوی تہذیب کی ایک نمائندہ تصنیف کہہ سکتے ہیں ۔ اردو میں  تاریخی ناول لکھنے کی روایت شررؔ سے شروع ہوتی ہے۔ وہ ایک اچھے ناول نگارہی نہیں  انشائ پرداز بھیں  ہےں ۔اور اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ان کا ایک خاص مقام ہے۔

’مصور غم‘ راشد الخیری کا ادبی خطا ب ہے۔ انھوں نے بھی اردو نثر کے سلسلے میں  گراں  قدر خدمات انجام دیں ۔ پریم چند بھی اس ذیل میں  آتے ہیں ۔ اور خواجہ حسن نظامی بھی جن کا دور کچھ بعد کا دو ر ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولوی عبدالحق، سجادحیدر یلدرم، نیاز فتح پوری ، آل احمد سرور، مجنوں  گورکھپوری، قاضی عبدالستار، رشید احمد صدیقی، اور فرحت اللہ بیگ جیسے انشاپردازوں  نے اردو نثر کو نئے اسالیب سے آراستہ کیا ہے اور نئے سانچوں  میں  ڈھالا ہے


۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸

Comments


Login

You are Visitor Number : 1159