donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Rahat Mazahri
Title :
   Mewat Ki Banjar Dharti Par Lahlahata Chamanistane Ilm


میوات کی بنجر دھرتی پرلہلہاتاچمنستان علم


اَراوَلی پبلک اسکول،موسیٰ پور:

 

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری ،قاسمی،


بیسویںصدی کی شبانہ روز سائنسی ایجادات وکاوشوںکی روشنی میں اکیسویںصدی کے کسی بھی ماہ سال میں ہماراوطن ہندوستان بھی مرّیخ پرقدم رکھ کردنیاکے ساتھ اپنا نام فاتحین سیارہ جات کی فہرست میں شامل کرانے کی پوزیشن میں ہے۔جیساکہ ’ناسا،اوراِسرو،کی رپورٹ کے مطابق2021میں ہندوستانی خلابازچاند پرپہنچ جانے کی حالت میں ہیں،مذکورہ بالاتوقعات کے مطابق وہ دن دورنہیں کہ جب اقوام عالم کے شانہ بشانہ ہم مسلمان بھی مریخ کے باشندے کہلائیں۔مگرقبل ازاںاپنی سست رفتاری اور علوم عصریہ سے نابلدی یاپہلوتہی کے سبب ابھی ہم ہندوستانی مسلمان اسی اُدھیڑبُن میں ہیں کہ کیا ایساممکن بھی ہے یانہیں؟

ممکن ہے کچھ کمزورایمان لوگ اس موضوع کو لے کرمفتیان کرام کے ساتھ ماتھاپچی میں بھی مشغول ہوں۔کہ کیا ایک مسلمان کے لئے اس روئے زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیارہ کوبھی اپنامستقر اورٹھکانابناناجائزہوسکتاہے؟بقول شاعراس کوپڑھ کرگئے لوگ مرّیخ پر٭ہم سے نالاںکلام الٰہی مگر۔مگرہمارے ملک کے چندماہرین تعلیم ،بعض ہمدردان قوم واہل دانش حضرات کے اقدامات سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ اب مذکورہ قسم کے طلسم کے خول سے ہندوستانی مسلمان جلدی ہی باہرآنے والااوران فرسودہ توہمات کوخیربادکہنے والاہے جیساکہ ایک تعلیمی جائزہ سفرمیں احقرکواپنے کچھ دوستوںکے ساتھ علاقۂ میوات میں ہندوستانی کوہی سلسلہ کے قدیم ترین پہاڑ’اراولی، جس کے بارے محققین کی رائے یہ ہے کہ یہ پہاڑہندوستانی سرحدکے سنتری ہمالیہ سے بھی زیادہ پراناپہاڑ ہے، اس کے وسیع دامن میں زیراہتمام ’اراولی ایجوکیشن سوسائٹی موسیٰ پور،فیروزپورجھرکہ،میںقائم ’اراولی پبلک اسکول ،سینئیر سیکنڈری،کے(APS) طرزتعلیم اوراس کی عالی شان خوبصورت بلڈنگ کے 10ایکڑکے وسیع وعریض رقبہ پرمشتمل تعمیرات کے دیداراوراس کے بانی جناب محمداسرائیل(سابق آئی اے ایس افسر حکومت ہند)کی شبانہ جدوجہدسے ہمیںعبرت کے ساتھ ایک جذبہ بھی ملا،اسی سے چندکلومیٹوکے فاصلہ پراسلامیات کی خدمت کے لئے خاموشی کے ساتھ مصروف عیدگاہ مہوکے دامن میںقائم دینی ادارے مدرسہ افضل العلوم کے طریقہ تعلیم وحسن تنظیم جس کے بانی وسرپرست اعلیٰ مفتی ظفرالدین جوکہ راجدھانی میں دہلی میںقیام پزیر ہیںنیز اپنی دینی اصلاحی ،تبلیغی ،سیاسی ا ورسماجی سماجی خدمات کے لئے ایک مسلّم اورسراپافعال شخصیت کے طورپر مشہورومعروف ہیںان کی کاوشوں اورمدرسہ کے منتظم ماسٹرمحمدقاسم کی انتہائی لگن وجانفشانی سے یہ یقین ہوگیاکہ جلدی ہی یہ خواب پوراہوتانظرآتاہے،ایک زمانہ تھا کہ جب اہل میوات کی شناخت دہلی اوراس کے اطراف میںقدیم عربی جہالت، نخوت علم وحکمت سے بے نیاز،اخلاق سے عاری،خودغرض،رہزن،لوٹ مار اورخوف خدسے بے بہرہ قوم کے طورپرہوتی تھی،مگربانیٔ تبلیغ،حضرت مولانامحمدالیاس کاندھلویؒ اورمرکزحضرت نظام الدینؒ سے ان کاروحانی واخلاقی تعلق جڑجانے کے بعددنیاکی نظرمیںآج ان گنوارمیواتیوںکا وہ مقام ومرتبہ پرکہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ہند کے باشندے بھی آج ان میواتیوںکی دینداری،ان کے خلوص،میزبانی اوراسلام کی اشاعت ،دعوت وتبلیغ میںان کی انتھک قربانیوںاوران کے مخلصانہ جذبات کے تحت ان کی ناہموارپگڑیوںکے چھورکی زیارت کواپنے لئے دارین کی سعادت تصورکرتے نہیںتھکتے،

لگتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکوینی طورپر جس طرح ان کی دینی رہنمائی کے لئے مشائخ کاندھلہ کاانتخاب فرمایاتھااسی طرح علوم عصریہ کی جانب اس قوم کی رہنمائی کے لئے اراولی ایجوکیشن سوسائٹی کے بانی جناب محمداسرائیل صاحب(سابق آئی اے ایس افسر) کوچن لیاگیاہے،جوکہ محمداسرائیل صاحب کے لئے بڑی سعادت مندی اورخوش نصیبی کی علامت ہے۔بقول شخصے،ایں سعادت بزوربازونیست ٭تانہ بخشدخدائے بخشندہ۔

کیونکہ جناب محمداسرائیل صاحب کے دل میں اپنی قوم کے لئے ایک جذبہ خیرنہاںتھااللہ تعالیٰ نے اسی لئے ان کی رہنمائی ہندوستان کے مایہ ناز ماہرتعلیم ،جامعہ ہمدردکے چانسلرجناب سیدحامدمرحوم کی جانب ان کی طرف فرماکر یہ اہم کام موصوف کیلئے مزیدآسان فرمادیا،کہ اسرائیل صاحب نے جوخواب اپنے دل میں پتانہیںکب سے پال رکھاتھااس کے ظہورکی تاریخ خداکے یہاںمقدرتھی،اسرائیل صاحب کی برق رفتاری،یاڈیزل اسپرٹ کہ سرکاری عہدہ سے ان کی سبکدوشی 31مئی 1999 کوہوئی اور یکم جون1999کو تعمیری کام شروع کراکے یکم جولائی 2000 کواسکول میںزورشورسے باقاعدہ تعلیم کاافتتاح بھی کرادیانیز اپنی روشن دماغی اورافسرانہ صلاحیتوں، تعلقات اوررسوخ کو بروئے کارلاکرسیدحامدکے مشورہ سے اس کے قیام کابیڑااٹھاتھا حامدصاحب جن کواس سے پہلے کئی درجن سے بھی زائد ملی ،تعلیمی اورقومی اداروںکے سنگ بناانتظام وانصرام کاپختہ تجربہ تھا،ان کے قیمتی مشوروںکوبرائے کارلاکران حضرات نے میوات کی اوبڑکھابڑدھرتی ،بنجر ،سنگلاخ زمین پراراولی پہاڑکی گودمیںایک علمی چمنستان قائم کرکے اپنی نسلوںکووہ تحفہ دے دیاجس پر دنیاکی سیکڑوںبادشاہتیں اورسلطنتیں بھی قربان کی جاسکتی ہیں   ؎قلم گوید کہ من شاہِ جہانم۔

حامدصاحب کی دریادلی بھی قابل ذکرہے کہ انھوںنے اراولی کاتعاون نہ صرف سرکاری ،نیم سرکاری اداروںجیسے مولاناآزادایجوکیشن فاؤنڈیشن دہلی،اوراسلامک ڈیولپمینٹ جدہ بینک ہی سے نہیں کرانے پراکتفاکیابلکہ ان کوان ہی دنوںحکومت اترپردیش اردواکیڈمی کاجانب سے اردوکی خدمات کے اعتراف میں مبلغ 7لاکھ روپئے کی جوخطیررقم ملی اس کو بناکم وکاست کے اراولی اسکول کاعطیہ میں پیش کراپنی سچی اسلامی حمیت اورسخاوت کی مثال تازہ کردی۔

کہتے ہیں کہ بابائے تعلیم سرسیدمرحوم نے خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی منظومہ کتاب ’مدّوجزراسلام، المعروف بہٖ ’مسدّس حالی سے خوش ہوکریہ فرمایاتھا کہ خدانے اگرمجھ سے حشرمیں پوچھاکہ دنیاسے کیالایاہے؟ تومیں مولاناحالیؔ کو پیش کردوںگا،اسی طرح حامدصاحب اوراروالی اسکول کے تعلق سے بھی حامدصاحب یہ مقولہ بہت مشہورہے کہ’جب باری تعالیٰ مجھ سے پوچھے گاکہ دنیاسے اپنی مغفرت کا کیاسامان لایاہے؟ تومیں کہہ دوںگاکہ میںنے محمداسرائیل سے اراولی پبلک اسکول کھلوایاتھا،

مذکورہ ادارہ کودیکھ کردل بار بارہمارے سینوںمیں بھی یہی انگڑائی لیتاہے کہ ملک میں ایک بار کومسلم تعلیمی اداروںکاجال اسی طرح بچھ جاناچاہیئے کہ جس طرح حکومتیں اور کاروباری افراد،کارپوریٹ گھرانے، صنعتی اکائیوں اورفیکٹریوںکے جال بچھانے کے لئے منصوبہ سازی کرتے رہتے اورکسی وقت بھی اپنے کو اس تگ ودوسے فارغ تصورنہیں کرتے،

ایک سوال یہاں مسلم قوم اوراس کے رہبروںسے یہ بھی ہے کہ ہم مسلمانوںکے تعلیمی ادارے انگلیوںپرگنے جانے ہی کی حدتک محدودکیوں؟

آخرجب ہم بات ہندستانی اقلیتوںکی بات کرتے ،ان کادکھڑاروتے ہیں توخود کوملک کی سب سے بڑی اقلیت شمارکراتے ہیںمگر جب بات آتی ہے اس تنگ وتاریک خول سے باہرآنے اورکچھ نیاکردکھانے کی توسارے منصوبوںپرپانی پھرجاتااورہم کواپنے یہ تمام خیالات ومنصوبے شاید خودہی دیوانہ کی بڑمحسوس ہونے لگتے جن کو ہم فوراََخیال فاسد کی طرح جھٹک کر دم لیتے ہیں ورنہ تو کیاوجہ ہے کہ ملک کی دوسری اقلیتوںکے تعلیمی ادارے ہم سے گنتی میں بھی زیادہ اور نتائج میں بھی ازحدفعال ہیں،آخراس سست روی کا کیاجوازہے ؟اور ہے توکب تک؟آج ہم مسلمانوںکی تنزلی میںیہ چیز بھی دیکھی جاتی ہے کہ جہاں دنیامیں علم وسائنس کی روشنی اورترقی کے سبب اقوام عالم سے چھوت چھات کاماحول مٹتاجارہاہے وہیں مسلمان ،دنیاکی نظرمیں مزیداچھوت بنتاجارہاہے جیساکہ ہم خبروںمیں پڑھتے اورسنتے ہیں کہ کسی مسجد کے ملاجی ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی مایہ نازفلمی ہیروئن بھی غیرمسلم علاقہ میں رہائشی فلیٹ خریدنے سے اس لئے محروم کردی گئی کہ وہ خودکو مسلم کہتی ہے،توپھرجولوگ ہمارے روشن دماغ فلمی ہیرو،ہیروئینوںکے ہاتھ اپنامکان کرائے پریافلیٹ قیمتاََبھی بیچنے کے لئے تیارنہیںتوپھر وہ لوگ ہمارے بچوںکواپنے تعلیمی اداروںمیںداخلہ کیسے دے سکتے ہیں؟جس سے کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوںیا مدمقابل بن سکیں۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جبکہ مسلم آبادی ہی سے یہ بیچارے اتنے خوف زدہ ہیں کہ تخمینہ کے مطابق اگر بڑھتی مسلم آبادی کاذکر ان کے خواب میںبھی آجاتاہے توڈرسے کپڑوںمیں پیشاب خطاہونے کاخطرہ بن جاتاہے،جیساکہ تخمینہ کے مطابق2050تک دنیاکی کل مسلم آبادی ،عیسائی آبادی کے مساوی ہونے کے امکانات ہی سے ہمارے برادران وطن اورطاغوتی دنیا کی ایک لابی غصہ سے دانت کاٹ رہی ہے،واضح ہوکہ دنیامیں فی زمانہ سب سے بڑی آبادی عیسائی، دوسرے نمبر پرمسلم اورتیسرے پر ہندوبھائی ہیں،اعدادوشرح کے مطابق2010میںدنیامیںعیسائی 2.17ارب اورمسلم1.6ارب تھے،جوکہ آئندہ2050میںعیسائی2.9اورمسلمان2.8ہونے کاامکان ہے یعنی مسلم آبادی کاتناسب 30% کے اضافہ کاحامل ہوسکتاہے جبکہ عیسائیت کا ایک فیصد زائدہے یعنی31%ہونے کی پیشین گوئیاں ہیں، اس کے باوجود اتناوائے ویلامچایاجارہاہے، سوال یہ ہے کہ جب آپکی آبادی کے اضافہ ہی سے غیروںکی نیندحرام ہے توپھر آ پ کواپناگلاکٹوانے لئے ہتھیارکوئی کیوںدینے لگاہے؟لہٰذااس کے لئے خودہم کوہی کنواںکھودنااورپانی پیناہوگا۔اس کے علاوہ کوئی چارۂ کارنظرنہیںآتا ،میرے ایک کرم فرمادوست کی زبان پرایسے مواقعات پرایک شعر بہت زیادہ ہوتاہے۔لہٰذامیںبھی اسی پراپنی بات ختم کرتاہوں۔

شکوۂ ظلمت شب سے یہ کہیں بہترہے
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلائے رکھئے۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 576