donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Fariyad Azer
Title :
   Pen Drive Aur Ahmad Alvi


 

پین ڈرائیو اور احمد علوی
 
ڈاکٹر فریاد آزرؔ 
 
کنہیا لال کپور نے فرمایا تھا۔۔۔              
’’ایک مفکر کا قول ہے اور اتفاق سے وہ مفکر میں ہی ہوں کہ اردو کا ہر شاعر عظیم ہوتا ہے۔‘‘میں کپور صاحب کے اس سنہرے قول کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں اور اور احمد علوی کے ساتھ ساتھ خود کو بھی عظیم تصور کرنے لگا ہوں، لیکن پریشانی یہ ہے کہ ایک عظیم انسان دوسرے عظیم انسان کو بالکل نہیں گردانتا، لہٰذا مجھے بھی احمد علوی کو بالکل نہیں گرداننا چاہئے لیکن شاید میری عظمت میں کچھ کمی رہ گئی ہے غالباً یہی وجہ ہے کہ میں احمد علوی صاحب کو نہ صرف گردانتا ہوں بلکہ کئی گنا زیادہ گردانتا ہوں کیوں کہ وہ بیک وقت کئی شخصیات کے مالک ہیں ۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ اس عہد میںآدمی بھی ہیں اور انسان بھی جب کہ ’’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔‘‘اسی طرح وہ مزاح نگارکے ساتھ طنز نگار بھی ہیں۔ان کے مزاح کو ان کی طنز سے جدا کر کے دیکھنا ۷۶ فیصد ناممکن ہے۔ ان کا مزاح ان کےکی طنز کے ساتھ گلے ملتے ملتے اس قدر چپک گیا ہے جیسے رباعی کے ساتھ عمر خیام ۔ملاحظہ فرمائیں پین
 
ڈدرائیو کا دیباچہ:
 
’’’طمانچے دہلی اردو اکادمی کو اس قدر پسند آیا کہ اکادمی کے قابل اور ایماندار افسروں نے ایک عدد انعام ’’طمانچے‘‘ کی بھی جھولی میں بھی ڈال دیا۔یہ ابھی تک نہیں معلوم نہیں ہو سکا کہ انعام کتاب کے عنوان سے ڈر کر دیا گیا یا حقیقت میں کتاب اس لائق تھی۔بعد میں یقیناً شرمندگی ہوئی ہوگی۔مگر جس طرح تیر کمان سے اور بات زبان سے واپس نہیں لی جا سکتی اس لئے انعام بھی واپس نہیں لیا جاسکتا۔اسی لئے وہ ابھی تک میرے پاس ہے۔ اس بار انعام ملنے کی توقع بہت کم ہے کیوں کہ اس بار کتاب میں سے چن چن کر غلطیاں نکال دی گئی ہیں۔‘‘
 
موصوف کا دیباچہ اتنا دلچسپ لگا کہ پورا دیباچہ ایک سانس میں پڑھ گیا جب کہ ان کا کلام پڑھنے میں بار بار سانس لینے کی ضرورت پڑی۔اگر دیباچہ نگاری کو اردو ادب کی ایک مستقل صنف تسیم کر لیں تواحمد علوی صاحب کا شمار صفِ اول کے دیباچہ نگاروں میں ہوگا۔ میں تو یہاں تک سوچنے لگا ہوں کہ اپنی بھی آئندہ کتاب کا دیباچہ احمد علوی صاحب سے ہی لکھواؤں۔لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ ان کی شاعری قابلِ ذکرنہیں ہے۔میرے نزدیک ان کی شاعری نہ صرف قابلِ ذکر ہے بلکہ قابلِ فکر بھی ہے۔داڑھی کو طالبانی علامت کہنے کے پس منظر میں ان کا قطعہ ملاحظہ فرمائیں:
 
مبارک ہو نیائے مورتی کو
تمھارے نیائے کا کوئی ہے ثانی
اگر داڑھی ہے طالبانی سمبل
تو ہے پی ایم بھی اپنا طالبانی
زعفرانی سیاست پرگجرات کے پس منظر میںیہ قطعہ ملاحظہ فرمائیں:
سرخ گجرات میں کیسر کی ہے رنگت یارو
کتنی مکروہ ہے ووٹوں کی سیاست یارو
یہ ہنر سیکھئے جا کر نریندر مودی سے
کس طرح ہوتی ہے ووٹوں کی سیاست یارو
 
اس طرح کے بہت سارے قطعات کی روشنی میں میں کہ سکتا ہوں کہ مزاحیہ شاعر کو فکریہ شاعری سے پرہیز کرنا چاہئے کیوں کہ ایسی حالت میں فکر کا عنصر اس قدر حاوی ہو جاتا ہے کہ مزاح دامن چھڑا کر بہت دور بھاگنے لگتا ہے۔ فکریہ شاعری کے سلسلہ میں آنجہانی فکر تونسوی بھی خاکسار کی اس رائے کی تردید نہیں کر سکتے تھے۔لیکن اس معاملے میں بھی دیگر معاملات کی طرح علوی صاحب آسانی سے شکست تسلیم کر کے نہیں بیٹھ جاتے بلکہ میلوں تک طنز کا لٹھ لے کر مزاح کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں۔اس سے ان کو دو فائدے ہوتے ہیں۔اگرمزاح پکڑ میں آ جاتا ہے تو اسے اپنی شاعری میں بڑی خوبصورتی سے فٹ کر دیتے ہیں اور اتفاق سے پکڑ میں نہیں بھی آتا ہے تو اس دوڑ بھاگ کی ورزش کی وجہ سے علوی صاحب آج تک شوگر کے مرض سے نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ اس عمر میں بھی بڑی اچھی صحت کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
 
عموماً اردو کے شعرا تنگدستی سے دو چار نظر آتے ہیں،ہو سکتا ہے کہ یہ مرزا غالب کی سنت پر عمل پیرا ہوں لیکن خدا کا شکر ہے کہ علوی صاحب شاعر ہونے کے باوجود مالی طور پرکسی سے فیضیاب ہونے کی نہ صرف کوشش نہیں کرتے بلکہ جہاں تک ہو سکتا ہے دوسروں کو فیض پہنچانے کی طرح طرح کی تراکیب ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ان کا دوسرا مزاحیہ شعری مجموعہ ’پین ڈرائیو‘ شائع ہوا تو میں سمجھا کہ موصوف بڑی برق رفتاری سے شاعری کرتے ہیں کیوں کہ یہ مجموعہ نہ صرف زخیم ہے بلکہ ’طمانچے‘ کی اشاعت کے کچھ ہی ماہ بعد منظرِ عام پر آ گیا لیکن ’پین ڈرائیو‘ کے مطالعے بعد پتہ چلا کہ یہ بھی یہ علوی صاحب کی فیاضی کی ایک مثال ہے۔اتنی ضخیم کتاب کی طباعت پر اپنے ذاتی قیمتی اور نوٹوں کی ضخیم گڈی خرچ کرنے کی صرف ایک ہی وجہ رہی کہ کہ قارئین کو’’ پین ڈرائیو‘‘ کی شکل میں’’طمانچے‘‘ بھی مفت پڑھنے کو مل جائے۔اس فیاضی کا اعتراف علوی صاحب نے پین ڈرائیو کے دیباچے میں خود کیا ہے:۔’’میرا دوسرا "شعری مجموعہ پین ڈرائیو  آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
اس کے ساتھ طمانچہ کی شاعری آپ کو مفت مل رہی ہے۔"
 
اگر اسی طرح علوی صاحب اردو کے قارئین کو مفت خوری عادت ڈالتے رہے تو قارئین ہر شاعر سے نہ صرف یہی امید رکھنے لگیں گے بلکہ تقاضے بھی کرنے لگیں گے۔میں ایک ایسے قاری سے واقف ہوں جو نہ صرف مجھ سے بلکہ میرے تمام شاعر دوستوں سے بڑے خلوص کے ساتھ ان کے تمام شعری مجموعے حاصل کر لیتے ہیں اور ورق گردانی کے بعد ردی کی دوکان پر بیچ ٓآتے ہیں۔ایک دن یہی قار ی صاحب مجھ سے فرمانے لگے کہ علوی صاحب دو ٹکے کے شاعر ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ فرمانے لگے کہ ان کے دونوں شعری مجموعے صرف دو ٹکے یعنی دو روپئے میں بکے۔‘خدا کا شکر ہے کہ مرزا غالب زندہ نہیں ہیں ورنہ وہ ایک ٹکے پر بھی نہیں ٹِکے ہوتے۔
 
احمد علوی صاحب زندگی کے شاعر ہیں اور ان پر مردہ پرستی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ انھوں نے ہمیشہ اہم ز ندہ شاعروں کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ اس ضمن میں بہت سارے شعراکا نام لیا جا سکتا ہے مثلاً منور رانا،کرشن بہاری نور،جاوید اختر،بشیر بدرمعین شاداب،ندا فاضلی ایم آر قاسمی، شہباز ندیم ضیائی وغیرہ۔ایک قطعہ ’’فریاد‘‘ عنوان سے بھی اس کتاب میں موجود ہے۔اب یہ فریاد کون صاحب ہیں؟ مجھے نہیں معلوم لیکن کنھیا لال کپور کا سنہرا قول یا دآتا ہے تو خاکسار کو بھی اپنی عظمت کا احساس ہونے لگتا ہے اور بغیر کسی چوں چرا کے اس فریاد کو فریا آزر تسلیم کر لیتا ہوں یہ سوچ کر کہ علوی صاحب نے جب اتنے شعرا کو یاد رکھا تو فریاد آزر جیسے عظیم شاعر کو کیسے بھول سکتے ہیں،بے شک کتابت یعنی کمپوزنگ کی غلطی سے میرا تخلص چھوٹ گیا ہوگااور فریاد آزر کی جگہ صرف فریاد کے عنوان سے قطعہ چھپ گیا۔میری خوش فہمی (غلط فہمی)کی وجہ خود مذکورہ قطعہ بھی ہے جو کہ خاکسار کے حال میں مستقبل کی غمازی کر رہاہے۔
 
جواسیرِ گیسوئے بیگم رہا
ہاتھ میں لاٹھی کمر میں خم رہا
چین اک پل کو نہیں پایا کبھی
’’غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا‘‘
ص ۱۴۳:پین ڈرائیو
 
اچھی شاعری کی پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ قاری کے ذہن میں تجسس پیدا کرتی ہے۔پین ڈرائیو میں ایسے بے شمار قطعات اور اشعار ہیں جن کے مطالعہ سے ذہن میں سوالات ابھرتے ہیں۔
 
اس بارے میں فرماتے ہیں کیا مفتیِ اعظم
جوتے جو رکھوں آگے تو سجدے نہیں ہوتے
جوتے یہ نمازوں میں خلل ڈال رہے ہیں
جوتے جو رکھوں پیچھے تو جوتے نہیں ہوتے
 
آخری صف میں جگہ ہم کو ملی
بھاگتے دوڑتے،گرتے پڑتے
چھوٹ جاتی نمازِ عید میاں
وقت ضائع جو وضو میں کرتے
 
ہر قدم پر تھا زمانے میں ہجومِ دلبراں
اور ان پھولوں کو پالینا تجھے آساں بھی تھا
تو ہی ناداں ایک بیوی پر قناعت کر گیا
’’ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا‘‘
 
نہ دادا نہ د ادی نہ نانی پہ روئے
نہ ماموں ہمارے ممانی پہ روئے
مگر دیکھ کر مغلِ اعظم جو آئے
’’محبت کی جھوٹی کہانی پہ روئے‘‘
 
علوی صاحب نے سماجی اصلاح کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا ہے لیکن پھر بھی جہان کے حالات دیکھ کر دلبرداشتہ ہوتے ہیں اور ایسے میں طنز کے جوتے مار مار کر اصلاح کرتے نظر آتے ہیں۔
وہ ہے دنیا کا نامور غنڈہ
اس پہ تنقید کس کے بوتے کی
اس کو کیسے کہوں سپر پاور
جس کی اوقات ایک جوتے کی
 
بدن پہ سوٹ اردو کا گلے میں ٹائی اردو کی
انھیں معلوم ہے گہرائی اور گیرائی اردو کی
بجاتے ہیں ہر اک محفل میں یہ شہنائی اردو کی
کہ ساری عمر کھائی ہے فقط بالائی اردو کی
پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں
اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں
 
اردو ادب کا یہ بھی المیہ ہے دوستو
منزل ہے سب کی ایک ہی اور ایک راہ ہے۔
غالبؔ پہ ہے تمام ہر اک نقدِ شاعری
غالب سے آگے سوچنا تک بھی گناہ ہے۔
 
مشاعرے جو کراتے ہیں چندہ کر کر کے
انھیں کو صسرف میں فرشی سلام کرتا ہوں
یہ لوگ مجھ کو سمجھتے ہیں شاعرِ اعظم
میں جاہلوں کا بہت احترام کرتا ہوں
 
مبارک ہو نیائے مورتی کو
تمھارے نیائے کا کوئی ہے ثانی
اگر داڑھی ہے طالبانی سمبل
تو پی ایم بھی ہے اپنا طالبانی
احمد علوی صاحب اچھے مزاح نگار ہیں، اچھے طنز نگار ہیں، اچھے پیروڈی نگار ہیں اچھے یہ ہیں اچھے وہ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔احمد علوی پر لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے لیکن راقم الحروف کوئی پیشہ وور نقاد نہیں ہے بلکہ غزل کا شاعر ہے لہٰذا اختصار کی عادت ہے اور یوں بھی مفت میں کوئی کتنا لکھے گا؟ پھر میرا عقیدہ یہ بھی ہے کہ سب کچھ خادم ہی لکھ دے گا تو نقاد کیا جھک ماریں گے؟لہٰذامیں اپنے قلم کے گھوڑے کو یہیں لگام لگاتا ہوں مگر یہ بتانا ضروری ہے کہ احمد علوی صاحب کو ان کی اہلیہ پائے کا شاعر تسلیم کرے یا نہ کرے اگر یہ سردیوں میں نقادوں کو روزانہ پائے کھلایا کریں تو وہ ایک دن یقیناً احمد علوی صاحب کو پائے کا شاعر مشہور کر دیں گے:
 
سویرا ہوتے ہی پائے کھلائے بکرے کے
اڑد کی دال کو، سبزی کو در بدر کر دے
مجھے بھی اہلیہ پائے کا مان لے شاعر
’’مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے‘‘
*******
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 638