donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Imam Qasim Saqi
Title :
   Goyem Mushkil Wagarna Goyem Mushkil


گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل


امام قاسم ساقی

چنا منڈیم، ضلع کڈپہ ،آندھرا پردیش


آئے دن کڈپہ کے ادبی منظر ناموں میں تذکراتی و تنقیداتی مضامین کی فراوانی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں کچھ تذکرہ نگاروں نے تنقید کو محض نکتہ چینی کے زاویہ نظر سے دیکھا ہے، تو کچھ نے ذاتی بغض و عناد کے پیش نظر کسی فنکار کی غلطیوں کو نکالناتنقید سمجھا ہے۔ تنقید کا اولین اصول یہ ہے کہ وہ ذاتی بغض و عناد سے پاک ہو۔ کیوں کہ ہر تذکرہ نگار تنقیدی رائے قائم نہیں کرسکتا اور ہر نثر نگار نقاد نہیں بن سکتا۔ خود کو نقّاد ثابت کرنے کی اوٹ پٹانگ میں کسی فنکار کو ذاتی بغض و عناد کے دائرے میں پرکھنا اور کسی کی نکتہ چینی کرنا محض اپنی حماقت کی دلیل پیش کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

کہنے کا ماحصل یہ ہے کہ تنقید نگار اپنی تنقیدی رائے قائم کرنے سے پہلے فنّی تحقیقات کو ڈوب کر سمجھنے کی کوشش کرے۔ تخلیق کار کی گہرائی کی وسعت کو سمجھے اور پرکھے۔ اس نسبت سے علامہ اقبال کاایک شعر ملاحظہ ہو:

اے اہلِ نظر، ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شیے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

آج کل کے تذکرہ نگاروں میں یہ خصوصیت نمایاں طور پر پائی گئی ہے کہ اپنے گروہ کے شاعروں کی تعریف کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں اور حریف گروہ کی اول تو تعریف کرتے ہی نہیں اگر کرتے بھی ہیں تو دبی زبان سے اور اس میں چوٹ ضرور کرتے ہیں۔ انہیں ذاتی اعتراضات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عبادت بریلوی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’ ان اعتراضات کی کوئی اہمیت نہیں جو صرف ذاتی پرخاش اور شخصی مخالفت کے نتیجے میں کئے جاتے ہیں‘‘۔

(اردو تنقید کا ارتقائ،  از عبادت بریلوی، صفحہ نمبر:126)

چند تنقیدی مضامین کے مطالعہ سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ تنقید نگار اپنے آپ کو نقاد ثابت کرنے کی غرض سے تخلیق کار کے صرف عیوب کو ظاہر کرتا ہے۔ تنقید محض خوبیوں اور خامیوں کو الگ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بتانا بھی تنقید ہے کہ ان خامیوں کو کیسے دور کیا جائے اور خوبیوں کو مزید بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ تذکرے، تبصرے، تقریظات، تنقیص اور تنقید کے دائرے حدود الگ الگ ہیں۔لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا بھی ہے مگر شعر فہمی، تخلیق شعر سے کہیں زیادہ کٹھن مرحلہ رکھتا ہے کیوں کہ تخلیق کار کی سوچ تک ہر قاری و سامع کی سوچ پہنچ نہیں سکتی۔ اس نوعیت کی ایک کتاب جس میں تقریظ، تذکرے، تنقیص اور تنقید کے مراحل پائے گئے ہیں۔ ’’سخن گسترانہ بات‘‘ کے نام سے حال ہی میں یعنی فروری2013؁ء کو منصہ مشہود پر آچکی ہے۔ اس کتاب کے مرتبین شہر کڈپہ کے دو نوجوان شعراء جن کے نام سردار ساحل اور انور ہادی ہیں۔ اس کتاب کے تخلیق کار جعفر امیر صاحب ہیں جن کی بے باکی اور باغیانہ لہجہ ان کی بھر پور شخصیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کتاب میں کُل آٹھ عنوانات اور چندذیلی تاثراتی عنوانات پر مشتمل مضامین شامل ہیں۔ جعفر امیر صاحب کی شخصیت کو واضح کرتے ہوئے سردار ساحل ؔنے لکھاہے :

’’جعفر امیر صاحب سادہ مزاج، بے باک اور قلندرانہ طبیعت کے مالک ہیں۔ آپ بچوں کو بھی اتنی ہی عزت دیتے ہیں جتنی عزت بڑوں کو دیتے ہیں، جو بھی چیز آپ کو بُری لگتی یا بھلی لگتی یا آپ کو کسی پر تنقید یا کسی کی تائید کرنی ہے  آپ دل میں کچھ بھی چھپائے بغیر بے باک طریقے سے بیان کردیتے ہیں۔ آپ کے مطالعہ سے جتنی کتابیں گزری ہیں باقاعدہ آپ نے اپنے ان پر تنقید ی تاثرات کا اظہار کیا ہے‘‘۔

(سخن گسترانہ بات،  صفحہ نمبر:9,10)

گزشتنی میں جعفر امیر صاحب نے ’’گزشتہ آنچہ گزشت‘‘ کے ضرب المثل    گزرے ہوئے لمحات کے اثرات پیش کرتے ہوئے شعر اور شاعر پر اپنی رائے زنی کی ہے۔ ان کے نزدیک شعر صرف محسوسات کو لفظی پیکر عطا کرنے کا نام ہے اسی نوعیت سے انہوں نے بھی وقفہ در وقفہ تک بندی کی ہے وہ لکھتے ہیں:

’’شعر تو اصل میں ایسے ہی محسوسات کو لفظی پیکر پہنانے کا نام سمجھتا ہوں۔ اس لیے میں نے شعر گوئی کی کوشش ہی نہیں کی ورنہ اصول شاعری البتہ تک بندی تو ہر ایرا غیرا بھی کرلیتا ہے، میں نے بھی کی ہے۔ میرے لیے کوئی بڑی بات نہ تھی‘‘۔

(کتاب مذکور،  صفحہ نمبر: 15)

مندرجہ بالا اقتباس سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف نے شاعری کو تک بندی سمجھ کر لکھنے کی کوشش کی ہے۔ آگے وہ لکھتے ہیں:

’’ ان دنوںمجھے بھی تک سے تک ملانے کا چسکا ہو چلا تھا۔ شہمیری اولیاء کا مشاعرہ تھا جو طرحی ہوا کرتا تھا، میں طرح پر ردوکد کے بعد ایک مصرعہ بناپایا تھا‘‘۔

مندرجہ بالا اقتباس سے جعفر امیر صاحب کے دو پہلو اجاگر ہوتے ہیں پہلے تو وہ شاعری کو تک بندی سمجھ کر کرتے ہیں، دوسرا یہ کہ الفاظ کے انتخاب کا فقدان نظرآتا ہے۔ مندرجہ بالا سطور میں جو لفظ’ردوکد‘ انہوں نے استعمال کیا ہے وہ کہاں تک درست ہے آپ ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔اس لفظ کے بجائے آپ ’ردوبدل‘ ، ’کدو کاوش‘  یا ’ تگ و دو‘ استعمال کرسکتے تھے۔ جو شخص شاعری کو محض تک بندی سمجھتا ہے وہ شاعر کی گہرائی و گیرائی کو کہاں سمجھ پائے گا۔

’’کہیں ہم نہ بھول جائیں‘‘ کے عنوان سے کڈپہ کی ادبی فضا کا انہوں نے جو تذکرہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے مگر چند الفاظ کا استعمال، فقرے  قاری پر کراں گزرتے ہیں۔ چندسطور ملاحظہ ہوں:
’’ وہی نعت بیس تیس سال تک کڈپہ میں ہر مذہبی یا ادبی تقریب میں پڑھی جاتی تھی اور لوگ سنتے نہ تھکتے تھے۔‘‘

(صفحہ نمبر:20)

آخر سطر پر غور کیجیے کہ’لوگ سنتے نہ تھکتے تھے‘ یعنی وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لوگ سنتے ہوئے تھکتے نہ تھے مگر جملے کے معنی اس کے متضاد میں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ نہ سنتے تھے نہ تھکتے تھے۔اس طرح کے کئی خامیاں ان کی تحریر میں ہمیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ جوشخص ساغر جیدی کی رباعی میں لفظ’’تن بدن‘‘پر طنز کیا ہو، وہی شخص اپنی تحریر میں ’’سنہ اور سال‘‘ کا استعمال کس انداز سے کیا ہے ملاحظہ ہو:

چونکہ برجستگی اور زود گوئی کی بات آچکی ہے ایک واقعہ اور بھی عرض کردوں تو شاید قاری پر گراںنہ گزرے، سنہ اور سال یاد نہیں‘‘۔

(صفحہ نمبر:25)

اس مضمون میں انہوں نے مخدوم محی الدین کی غزل سے ایطائے خفی اور ایطائے جلی کا ذکر چھیڑا ہے مگر خود بھول گئے ہیں کہ انور اللہ انور کے جس مطلع کی انہوں نے تعریف کی ہے اس میں حرف روی کی خامی پائی گئی ہے۔ مزید ایں کہ موصوف کو تذکیر و تانیث کا بھی لحاظ نہیں انہوں نے ’’ہُڑ دنگ‘‘ کو مونث کے طور پر استعمال کرکے اپنی لا علمی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس نوعیت کے دو جملے ملاحظہ ہوں:

’’ سامعین کی ہُڑ دنگ مچی تھی‘‘

(صفحہ نمبر:25)

’’بہر کیف زندگی کی رہٹ رکتی کب ہے؟‘‘

(صفحہ نمبر:41)

پروفیسر انور اللہ اور کی شخصیت اور شاعری کا تذکرہ کرنے کے بعد ساغرؔ جیدی کی رباعیات کا مجموعہ ’’صفر‘‘ پر طنز کے کئی پہلو آپ نے اجاگر کیے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ لفظ ’برابر‘ کسی اور سے موازنہ یا مشابہ کے لیے مستعمل ہے مگر وہ بھول رہے ہیں کہ لفظ ’برابر‘ کے معنی ’مسلسل، ہمیشہ‘ کے بھی آتے ہیں ۔ساغر جیدی کا عقیدہ یہ ہے کہ تخیل کے دریا میں مسلسل یا ہمیشہ بہتے رہیں۔جعفر امیر صاحب نے کہا ہے کہ ’برابر‘ غیر ضروری بھی ہے جبکہ اس لفظ کے بغیر معنویت واضح ہوگئی ہے۔مسلسل بہنے اور صرف بہنے میں بہت فرق ہے ۔ لکھتے وقت اس بات کا علم انہیں ہونا چاہیے۔ اسی رباعی میں انہوں نے لفظ ’نصرت‘ کو لے کر ہنگامہ مچایا ہے۔ ان کی نظر میں لفظ نصرت کے معنی صرف فتح یا جیت کے ہی ہیں ۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ نصرت کے معنی  ’مدد‘  یا ’سہارا‘ بھی لیے جاسکتے ہیں۔صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس رباعی کے ذریعے ساغر جیدی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تخیل کے دریا میں مسلسل بہتے ہوئے لفظ اور معنی کے تھپیڑے جب تک نہیں کھائیں گے اس وقت تک آپ کو رباعی لکھنے کا سہارا نہیں ملے گا۔ ایک اور بات واضح کردوں کہ دریا میں لہروں کے تھپیڑے کھانے والے کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی پس منظر میں ساغرؔ جیدی نے لفظ و معنی کے تھپیڑوں میں رہنے والا رباعی کا سہارا حاصل کرنے کی طرف آمادہ کیا ہے۔

مندرجہ بالا اقتباس سے اس بات کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ شاعری لغات کے معنی و مفہوم کو سامنے رکھ کر سمجھنے کا نام نہیں ہے۔ اس کے لیے وسیع مطالعہ اور فکر کی  پرواز لازمی ہے۔

بہر کیف جعفر امیر صاحب نے  افتاد و خیزاں اپنی فکر کی کسوٹی کو سنبھالا ہے۔ شتر گربۂ صیغی کا مسئلہ قدیم شعرا سے لے جدید شعراء کے کلام میں پایا گیا ہے جس کا تفصیلی ذکر پروفیسر عنوان چشتی نے اپنی کتاب ’’کلاسیکی تنقید‘‘ میں کیا ہے۔ جعفر امیر صاحب چاہتے تو عقیل جامد کی شاعری میں بھی اس بات کو لے کر بحث کرسکتے ہیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے ساغرؔ جیدی کی شاعری پر ہجو کرنا ان کا مقصد عین ہے۔ رہی بات راہی فدائی کے کلام کی ، جعفر امیر صاحب نے صرف لغوی معنوں کو لے کر ہلا مچایا ہے۔ اس نوعیت کی شاعری کو سمجھنے کے لیے لفظ کے حقیقی و مجازی معنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے  اشارے و کنایوں کے علاوہ فکر رسا کی ضرورت ہے۔ جعفر امیر صاحب کی سوچ کے بارے میں  میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ ’’فکر ہر کس بقدر ہمت اوست‘‘۔

ذیلی عنوانات کے تحت جن شعراء کے کلام پر طنز کیا ہے اس میں راہی فدائی، حبیب احمد ساجدؔ، ظہیرؔ غازی پوری،  اوج یاقوبی، روف خلش، سلیمان اطہر جاوید، اصغر ویلوری، شارق جمال ناگپوری، اوم پرکاش راہی، باقر نقوی، وزیر آغا، علقمہ شبلی، شکیب جلالی، دانش فراز،  سرور ڈنڈا، شاز تمکنت، شرف الدین ساحلؔ، حنیف ترین، مجروح سلطان پوری، ڈاکٹر محمد علی اثر شامل ہیں۔

الغرض جعفر امیرصاحب کی کتاب ’’سخن گسترانہ بات‘‘ اپنی تقریظاتی، تاثراتی پیغام لیے اپنی جیتی جاگتی شخصیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہ تبصرہ فنی باریکیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے لکھنے کی کوشش کی ہے ۔ نہ مجھے جعفر امیر صاحب سے ذاتی بغض و عناد یا دشمنی ہے، نہ ساغر جیدی سے لگائو۔


**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 457