donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Imran Akif Khan
Title :
   Urdu Zaban Aur Asre Jadeed Ke Challenge


اردوزبان اور عصر جدید کے چیلنج


عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
85،ڈیگ گیٹ گلپاڑہ‘بھرتپور ‘راجستھان


بہت خوبصورت‘غمگین لمحوں کو خوشنما بنا نے والی اور کانوں میں حقیقی رس گھولنے والی اردوزبان مختلف مسایل ‘جد و جہد اور مشکلات کا سامنا کر تی ہو ئی 21ویں صدی تک پہنچی ہے ۔21ویں صدی چو نکہ عا لمی یگانگت کی صدی ہے ‘آج ساری دنیا ایک گائوں بن گئی ہے ۔سات سمندر پار کی دھمک بر ق رفتاری سے یہاں پہنچ جاتی ہے اور یہاں کے ہلچل وہاں گونجتی ہے۔سائنس اور ترقیات کی اس صدی میں سب کچھ ہورہا ہے مگر اردو زبان کو متعدد اور عظیم چیلنج درپیش ہیں جن میں سے کچھ تو معاصر دنیا کی دین ہیں اور اکثر وہ ہیں جو اپنوں کی کارستانی کے سبب پیدا ہو گئے۔ان کی وجہ سے پل پل اس کی جان پر بن آتی ہے اورلمحہ لمحہ اسے کسی انہونی کا خدشہ رہتا ہے ۔ذیل میں ایسے کچھ چیلنجوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے اردو متزلزل رہتی ہے ۔


(1)  لسانی چیلنج :

اردو زبا ن کو سب سے پہلے لسانی چیلنج کا سامناہے ۔ہندی والوں کا ایک بڑا طبقہ‘ طلبا ‘اساتذہ ‘ہندی اخبارات‘جرائد‘نیوز چینلس ‘بلکہ مکمل میڈیا بے تکلف اورشان سے اردو کے جملے ‘فقر ے ‘ استعارے اور محاورے روز مرہ کی زبان میں استعمال کرتا ہے ۔فلموں کے گانے اور نغمے اردو کے ہی مرہون منت ہیں جنھیں بڑے شوق سے گایا جاتا ہے مگر اسے اردو نہ کہہ کر ’ہندی ‘ کہا جاتا ہے ۔


(2)  رسم الخط کا چیلنج :

وقفے وقفے حکومت ‘انتظامیہ یا کچھ ’بڑے ‘لوگوں کی جانب سے بڑی شدو مد سے یہ آواز اٹھا ئی جاتی ہے کہ اردو کا رسم الخط تبدیل کر دیا جائے ۔جب کبھی ایسا مطالبہ کیا جاتا ہے اردو کے تن نازک میں زلزلے پیدا ہوجاتے ہیں ۔اس لیے نہیں کہ اس کا وجود مٹ جائے گا بلکہ اس لیے کہ اس جڑی جو تہذیبی روایات اور اقدار ہیں ‘اسی طرح لاکھوں کروڑوں مداحوں کے جذبات بے موت مارے جائیں گے ۔ایک عظیم تہذیب کا خاتمہ ہو جائے گا جسے یہ صدیوں سے دلوں سے لگائے آرہے ہیں۔


(3)  تلفظ کا چیلنج:

اردو پڑھنے والے جاننے والے اور سمجھنے والوں کی اکثریت رو میں الفاظ اور جملوں کا غلط استعمال کر ڈالتی ہے۔یہاں تک کہ اردو کے بڑے بڑے اسکالر ز اور پرو فیسران اس مرض میں مبتلا ہیں ۔طلبا اورعوام اس طرز کو سنتے ہیں اور اس قول پروفیسر ‘دانشور و اسکالر کو دلیل بنا کر ہر جگہ بولتے ہیں ۔حالانکہ اس سے نقصان ہوتا ہے اور اردو کی اصل روح مٹ جاتی ہے ۔یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے اردو کو بہت نقصان ہوا ہے ۔یہ غیرو ںکی جانب سے نہیں اپنوں کی جانب سے ہے ۔درد برھتا جارہا ہے مگر اس کاعلاج و مداوا ابھی تک دریافت نہیں ہو سکاہے۔


(4)  اردو میں تحقیقی ‘طبع زاداور بنیادی کا م کافقدان:

روزنامہ راشٹریہ سہارا کی3ستمبر 2013کی اشاعت میں ایک حیرت انگیز خبر شائع ہو ئی جس کی سرخی تھی ’’اردومیں بیشتر تھیسس بغیرپڑھے ہی پاس کر دیے جاتے ہیں ۔پھر اس کے ضمن میں متعدد اردو دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آج اساتذہ کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کی کارکر دگیو ں کا بغور جائزہ لے سکیں بس ان کے مفوضہ کام مکمل دیکھ کر ان کی بنیاد پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کی ڈگریاں دیدی جاتی ہیں ۔ اگر کبھی دیکھنے کا وقت بھی ملتا ہے تو غیر معیار کاموں کو ہی پاس کر دیا جاتا ہے۔اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ آج اردو زبان میں تحقیقی اور طبع زاد کاموں کا بڑی تیزی سے فقدان ہوتا جارہا ہے اس کے بجائے تراجم سے کام لیا جارہا ہے جو اردو کے لیے غیر مناسب علامت ہے۔‘‘


یہ خیالات دانشوروں نے ایک تقریب میں کیے تھے بلکہ قصۂ درد سنایا تھا ۔آج کی صورت حال مذکورہ خیالات سے جدا نہیں ہے ۔آج بیشتر مقالے اور امور بس تکمیل کی بنیاد پر پاس کردیے جاتے ہیں ۔یہ اردو کے وجود کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔اگر اس کا مدوا بر وقت نہیں ہو سکا تو بعید نہیں کہ ایوان اردو میں الّو بولنے لگیں۔


(5)  تراجم اور زبانوں کی منتقلی :

 چمنستان اردومیں یہ امور خزاں بر پا کر نے کے مترادف ہیں کہ اپنے ذہن و ماغ سے متن لکھنے کے بجائے تراجم سے کام چلا یا جاتا ہے۔چنانچہ اردو صحافیوں کی ایک بڑی تعداد معاصر انگریزی اخبارات اور ویب سائٹوں سے ترجمہ کر کے مضامین لکھتی ہے ۔ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ حالات کی برہم زلفوں کا خود جائزہ لیں اوران پر’ اپنی ذاتی ‘رائے پیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج حالات حاضرہ پر ہزارو ں مضامین لکھے جاتے ہیں‘سینکڑوں اداریے‘نظرات ‘احوال ‘ پیش گفتار لکھی جاتی ہیں مگر حالات سدھرنے کے بجائے مزید خراب ہوجاتے ہیں ۔


ایک دو ر وہ بھی تھا ‘اردو کا زرین عہد‘جب حقیقی اور ذہن و دماغ سے اردو رشحات قلم بن کر صفحات کو معطر کر تی تھی ۔اس کی خوشبوئوں سے نہ صرف ماحول درست ہوتے بلکہ آتشیں فضامیں برف کی بارشیںہو جاتی تھیں اور کشیدہ ماحول جذبۂ ہمدردی اور انسانیت سے بھر جاتے تھے ۔لیکن آج یہ سب باتیں ‘یہ سب خیالات ماضی کے قصے ہو گئے ۔


(6)  جدیدیت :

اردو کے لیے ایک بڑا چیلنج جدیدیت ہے۔نہ جانے کیوں اردو والے اس احساس کمتری کے شکار ہو گئے ہیں کہ جب تک ہم ارد و اور انگریزی بولنے چالنے اور لکھنے پڑھنے میں یگانگت نہیں کر یں گے قدامت پسند کہلائیں گے ۔چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یوم پیدا ئش کو ’’حسین ڈے ‘‘کے عنوا ن سے منایا جاتا ہے ۔اسی نام سے اخبارات و مجلوں میں اشتہارات و پیغامات دیے جاتے ہیں ۔جبکہ ہندی والے کسی طرح ہندی کا دامن نہیں چھوڑتے اور راجیو گاندھی کے یوم وفات کو ’’بلیدان دیوس‘‘کے نام سے مناتے ہیں۔یہ دو نمونے آپ کی خدمت میں پیش ہیں ایسے بہت سے نمونے آپ کو ملیں گے ۔ ایک طرف ہندی والے ہیں جو کسی صورت ہندی کے ساتھ دوسری زبانوں کا امتزاج بر داشت نہیں کر تے اور ایک ہم اردو والے جو انگریزی سے دل و جان کا رشتہ رکھتے ہیں ۔ یادرکھیے!یہ سوچ اور طریقہ اردو کے لیے سم قاتل ہے ۔اسی کے ساتھ اردو والوں کو خدشہ ہو رہا ہے کہ معاصر دنیا اسے اردو کے قالب و لباس اور تہذیب میں برداشت نہیں کر ے گی ۔ ’اردو والا‘ کہلاناآج گالی بنتا جارہا ہے لہٰذا اردو کو اپنے گھروں سے نکال دواور اپنے بچوں کو اس کے سائے سے بھی دور رکھو۔یہ رجحان تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور اردو کے بلند و بالا محلات مٹی میں مل رہے ہیں ۔


 (7)ادب اور فن کے معیار میں زوال: 

چھوٹے اداروں کا تو ذکر کیا آج بڑی بڑی دانش گاہوں کی فارغین نئی نسل کا حال یہ ہے کہ نہ اسے ادب سے صحیح معنوں میں واقفیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ فن  جانتی ہے۔یہ تو بہت بڑی باتیں ہیں ‘وہ اپنے جذبات تک کا اظہار ادبی انداز میں نہیں کر سکتی ۔ کہانیاں افسانے ‘ناول اور نظم و غزل تو دور کی بات ۔چھوٹے چھوٹے جملوں کی ساخت اس کے لیے مشکل ہوجاتی ہے۔ہاں دوسرو ںکی غزلیں ‘نظمیں ‘اشعار اور مغلظات انھیں ازبر ہوتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج عوماً 18 سال۔ 19سال22سال اور30سال کے قلم کار نظر نہیں آتے ’جو بھی ہیں یا تو وہ خاندانی ہیں یا پھر عمر رسیدہ ۔یہ صورت حال بھی اردو کی زبوں حالی کی علامت ہے ۔


(8)  اردو۔ انگریزی:

اسی سے ملتی جلتی ایک پریشانی یہ ہے کہ جن اداروں کواردو کا منبع ‘مرکز اور گھر کہلانے کا شرف حاصل ہے ۔یونیورسٹیو ں‘جامعات کے اردو شعبوں میں تمام امور اردو کے بجائے انگلش میں کیے جاتے ہیں ۔بہانہ یہ کیا جاتا ہے کہ ملازمین اردو سمجھ نہیں سکتے اس لیے مجبوراً ایسا کیا جاتا ہے ۔یہ کوئی مجبوری نہیں ہے ۔بس بات ہے ۔ارود شعبوں کے سربراہوں اور ذمے داروںکو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ یہ باتیں چھوٹی چھوٹی ضرور ہیں مگران کے اثرات بہت شدید اور مہلک ہوتے ہیں ۔ 


(9)  سوشل میڈیا کا چیلنج:

فی زمانہ انٹرنیٹ معلومات کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن یہاں بھی اردو زبان میں سائنسی و تحقیقی مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس ضمن میں سرکاری اداروں پر کڑی ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کو آزاد ہوئے 63 سال کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ہم آج تک اردو زبان میں مستند ترجمے کی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ ترجمے کی سہولت اگر میسر آجائے تو کم از کم انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے بیش بہاخزانے سے کسی طور تو بہرہ مند ہوا جاسکتا ہے۔


انٹرنیٹ اور اس کی ذیلی سوشل سائٹس پر ایسا نہیں ہے کہ اردو نہیں ہے یا شائقین اردو ‘ اردو میں کام نہیں کرتے مگر اصل دکھ اس بات کا ہے کہ مذکورہ سائٹس نے اسے بطور زبان اپنے پیکیج میں شامل نہیں کیاہے ۔چنانچہ آپ کو انٹرنیٹ پر زبان کے خانوں میں تمل اور تیلگو جیسی محدود علاقائی زبانیں مل جائیں گی مگراردو ندارد ہے۔ اگروقت حاضر میں اردو کو انٹرنیٹ سے متعارف نہیں کر ایا گیا اور زبانوں کے زمرے میں اسے مقام نہ دلایا گیا تو اردوکا خاتمہ یقینی ہے۔انٹرنیٹ جس نے ساری دنیا کو جوڑ رکھا ہے اس اہم ترین سائٹ پر اردو زبان کے فروغ کیلئے کی گئی کوششیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو کے فروغ کی اہمیت کو سمجھا جائے۔ اگر ہم ملک میں علمی و تحقیقی انقلاب لانا چاہتے ہیں تو انٹرنیٹ پر اردو زبان میں معلومات کو عام کرنے کو منصوبے کے بجائے مقصد بنا کر اس پر عمل کر ناہوگا۔
اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لاہور میں منعقد ہونے والی دوسری عالمی اردو کانفرنس کے مندوبین کے خیالات پیش کر دوں ۔اس کانفرنس کا انعقاد روزنامہ ’ایکسپر یس ‘لاہور نے کیا تھا۔مقررین کے خطاب کا لب لباب یہ تھا:


’’اگر اردو زبان کو انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ فروغ دینے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ آیندہ پچاس برسوں میں ختم ہوجائے گی۔انھوں نے ذرائع ابلاغ پر اردو کو فروغ دینے کے زور کے ساتھ ایک تجویز یہ پیش کی کہ اس کے لیے مستقل ایک ادارہ بنایا جائے۔‘‘(ہندو پاک کے موقر اخبارات سے ماخوذ:اشاعت 14اکتوبر2013)


(10)  اخلاص کی کمی:


خادمین اردو ‘چاہے وہ دانش گاہوں کے اساتذہ ہو ںیا انجمنوں کے روح رواں سب میں یہ مرض یکساں پایا جاتا ہے کہ وہ اردو کے تئیں مخلص نہیں ہیں اور نہ ان کی نگاہ میں اردو کاکام کارثواب ہے۔اسے یہ لوگ عبادت نہیں بلکہ ایک ناقابل برادشت بوجھ تصو ر کر کے کر تے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فرار کا چھوٹے سے چھوٹا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اسی طرح مقررہ اوقات سے ایک ساعت بھی زیادہ قربانی نہیں دیتے بلکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ مقررہ وقت کے اختتام سے 10-5منٹ پہلے ہی فائلیں بند کر کے ایک طرف رکھ کر کمر سیدھی کی جاتی ہیں جیسے کوئی کارنامۂ عظیم انجام دیا ہو۔اردوکے حق میں یہ بات بھی بہت بری ہے او راس کے زوال کی سبب بھی۔


(11)  اردو اور انگریزی کی بے لگام قربت:

حصول معلومات کے لیے کسی غیر ملکی زبان کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس زبان کو اپنی کمزوری بنا لینا یا عوامی سطح پر اس غیر ملکی زبان پر عبور نہ رکھنے کو کم علمی شمار کرنا ایک ایسی غلطی ہے جس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہم اسی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزی زبان کو اس قدر رائج کردیا ہے کہ اب یہ معاشرتی تفریق کا سبب بن گئی ہے۔آج جو اسکول اردو میں تدریس فراہم کررہے ہیں ان کے طلبا انگریزی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے آگے خود کو کم تر محسوس کرتے ہیں اور معاشرے میں بھی ان کو نچلے درجے کا طالب علم سمجھا جاتا ہے۔


اردو داں حضرات کی ایک بڑی تعداد انگریزی کی طرف بکثرت مایل ہے بلکہ’ ’اردو ۔انگریزی بھا ئی بھا ئی ‘‘ کا نعرہ دیا جارہا ہے ۔ایک لنگڑا سا بہانہ بھی اس کے لیے ساخت کرلیا گیا کہ اگر ہم اردو اردو کر تے رہیں گے تو اردو نہ صرف گھروں سے بلکہ اسکولوں اوراداروں سے بھی باہر ہو جائے گی ۔اس طرح کے خدشات کا اظہار جناب مبارک کاپڑی صاحب اپنے ایک مضمون میں کر تے ہیں جس کا متن ہے:


’’آئیے آج یہ بحث کریں کہ آخر انگریزی زبان اس قدر طاقتور کیسے بن گئی؟ کیسے یہ زبان دنیا بھر کی ساری زبانوں کو چیلنج کر رہی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے انگریزی زبان کو جی بھر کر کوسا جارہا ہے، گالیاں دی جارہی ہیں۔ کوئی اسے فرنگی کہہ رہا ہے اور کوئی بیرونی بلا، جس قدر اس زبان پر لوگ اپنا بخار اتار رہے ہیں اس قدر یہ زبان طاقتور ہوتی جارہی ہے۔


انگریزی کے خلاف اس محاذ آرائی میں اردو والے بھی پیش پیش ہیں۔ اردو بچانے کی تدابیر کا پتہ کرنے کے بجائے وہ انگریزی ہٹاؤ مہم میں شریک ہوگئے مگر اس دوران اردو اسکولیں بند ہونے لگیں اور انگریزی کا چلن بڑھتا گیا کچھ اس حد تک کہ ممبئی ہی کی مثال کہ سارے مسلم محلوں سے اسکول بسیں بھر بھر کر بچے کانونٹ اسکولوں میں جارہے ہیں اور ان علاقوں میں جو چند اردو اسکولیں بچی ہیں ان کو زندہ رکھنے کے لیے ایک خیراتی ادارہ دور دراز کی جھونپڑ پٹیوں اور فٹ پاتھ کے بچوں کو ’’مفت کتابیں و بیاضیں‘‘، ’’مفت یونیفارم اور مفت کھچڑی‘‘ کا سہارا لے رہا ہے۔ شہر ممبئی میں آج درجن بھر اردو ہائی اسکولس ایسی ہیں جن سے اس سال ایس ایس سی کے امتحان میں بمشکل بیس تا پچیس طلبہ نے شرکت کی یہی نہیں اردو ذریعہ تعلیم سے اردو طبقے کا اعتماد اٹھ جانے کے لیے یہی ایک مثال کافی ہے کہ ممبئی کے پچاس سے زائد اردو ہائی اسکولوں کے پرنسپل صاحبان کے بچے بھی انگریزی اسکولوں ہی میں پڑھتے ہیں۔


اب یہ اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ اردو اسکولیں صرف زندہ نہیں بلکہ دم خم کے ساتھ اور وقار کے ساتھ زندہ کیسے رہیں گی؟ آئیے اس کا حل تلاش کریں اور اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے صدق دل سے ’’اردو انگلش بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ لگانا ہوگا۔ اردو تعلیم یا انگریزی تعلیم اس تنازع سے نکل کر ’’اردو تعلیم اور انگریزی تعلیم‘‘ اس فارمولے کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انگریزی کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔ آخر کچھ تو بات ہوگی جس کی وجہ سے اس زبان کی آج دنیا بھر میں طوطی بول رہا ہے۔


جناب کاپڑی صاحب کے مذکورہ بالا خیالات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو پر کس طرح کے نکبت و ادبار کے بادل چھائے جارہے ہیں اور اس کے خلاف کیسی سازشیں رچی جارہی ہیں۔

*******************

Comments


Login

You are Visitor Number : 911