donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Majnu Gorakhpuri
Title :
   Urdu Mein Drame Ki Rawayet

اردو میں ڈرامے کی روایت
 
مجنوں گورکھپوری
 
ڈرامہ یا ناٹک ہندستان کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ہندستانی شاعری کی طرح اتنی ہی پرانی چیز ہے جتنی کہ خود ہندستانی زندگی۔ ناٹک کا لفظ اتنا پرانا ہے کہ آج صحیح طورپر یہ بتانا بھی دشوار معلوم ہوتا ہے کہ پہلے پہل یہ کب بنا، اور اس کا رواج کیسے ہوا؟ اتنا معلوم ہے کہ ناٹک ”ناٹ “ سے نکلا ہے جسکے معنی ناچ کے ہیں۔ اسی طرح ” روپک “ کا لفظ بھی بہت پرانے زمانے سے استعمال ہوتا چلاآیا ہے اور اس کی صحیح تاریخ بھی معلوم نہیں۔ ”روپک “کے لفظی معنی بھیس بدلنے کے ہیں اور سنسکرت زبان میں یہ ناٹک کے معنی میں استعمال ہوتا رہا ہے، چھان بین سے جہاں تک پتہ لگایا جاسکتا ہے سنسکرت ناٹک کی بنیاد مذہب کے ساتھ ساتھ پڑی جس میں ، مکالمہ یا بات چیت ”رگ وید “ سے لیا گےا، ایکٹنگ یا نقالی ”یجروید “ سے گانا ”سام وید “ سے ناچنا ”اتھروید “ سے۔ ایک اور روایت یہ ہے کہ اس دنیا میں جس نے سب سے پہلے رنگ شالہ یا اسٹیج بنوایا وہ راجہ نہش ہے۔ اس نے گندھرپ اور اپسراؤں کو بلایا اور اداکاری یعنی ایکٹنگ کی خدمت انکے سپرد کی۔ 
 
ناٹک کے فن پر ہندستان میں سب سے پہلی کتاب ”ناٹ شاستر “ ہے جس کو بھرت نامی ایک رشی کی تصنیف بتاتے ہیں۔ جب اندر اسن میں ایک اسٹےج تےار ہوچکا تو اس کی نگرانی اسی بھرت کے سپرد ہوئی اور اسکو حکم ملاکہ وہ ناٹک کے فن پر ایک کتاب لکھے۔ 
 
ان تمام روایتوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب سے کم سے کم دو ہزار برس پہلے ہندستان میں ناٹک کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ اورحضرت عیسیٰ سے کوئی چار سو سال بعد یہ فن اپنے کمال کو پہنچ چکا تھا۔ سنسکرت کا مشہور ناٹک کا ر کالی داس جو ہندستان کا شیکسپئےر مانا جاتا ہے اور جس کی شکنتلاساری دنیا میں شہرت حاصل کرچکی ہے اسی زمانے میں گزرا ہے۔ مگر وہ خود کئی ایسے ناٹک کاروں کا ذکر کرتا ہے جو اس سے پہلے ہوچکے تھے اور جن کا وہ خود قائل تھا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کالی داس سے پہلے بھی ہندستان میں ناٹک کافن کافی ترقی کر چکا تھا بہر حال جس ملک میں آشو گھوش ، بھاس ، کالی داس ، بی بھوتی ہرش ، اور راج شیکھر جیسے ڈرامہ لکھنے والے پیدا ہوچکے ہوں وہ دوسرے مہذب ملکوں سے فخر اور ا عتماد کے ساتھ آنکھیں ملاسکتا ہے۔ 
 
برہمنوں کے زوال کے ساتھ سنسکرت زبان کا بھی زوال شروع ہوا اور اس کی جگہ مختلف پراکرت زبانوں نے لے لی۔ ان کا اثر ناٹک پر بھی پڑا برہمنوں اور پنڈتوں کے ہاتھ سے نکل کر عوام کی چیز ہوگیا اور بجائے سنسکرت کے پراکرت میں لکھا اور دکھایا جانے لگا۔ اس کالازمی نتیجہ یہ ہوا کہ پلاٹ میں بے اعتدالیاں پیدا ہوگئیں زبان کا معیار گرگیا۔ بات چیت فحش اور غیر مہذب ہونے لگی اور ناٹک بازار کی چیز ہوکر رہ گیا۔ 
 
جب مسلمان اس ملک میں آئے تو ہندستانی ناٹک کی حالت ابتر ہوچکی تھی۔ اور اس کی جگہ یہی بھگت بازی یا نقالی رہ گئی تھی۔ مسلمان اصل فن سے ناواقف تھے، انہوں نے سوانگ یا رہس کو نہ صرف اپنی تفریح کاسامان پایا بلکہ اس کو ہندستانی زندگی کا ایک لازمی جزو سمجھا اوراپنی تفریح اور عوام کو خوش رکھنے کے لئے ان چیزوں کو فروغ دیا۔ مسلمان بادشاہوں اور نوابوں کی سرپرستی میں بھانڈوں اور نقالوں کی ایک مستقل نسل پیدا ہوگئی جو آج تک باقی ہے موجودہ ہندستانی تھیٹر کے اصل بیج یہی سوانگ اور رہس تھے۔ 
 
موجودہ ہندستانی ڈرامہ ایک بالکل نئی چیز ہے جس کی بنیاد انیسویں صدی کے بیچ میں پڑی اگرچہ براہ راست پرانے سنسکرت ناٹک کااثر اس پربہت کم پڑا تاہم یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگاکہ موجودہ ہندستانی ڈرامہ ایک ایسی نئی چیز ہے جس میں پرانے ہندستانی ناٹک اور انگریزی ڈراموں کے اثرات برابر ملے جلے ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے اورموجودہ ہندستانی تماشوں کو قاعدے سے ترتیب دیا جائے تومعلوم ہوگا کہ ان میں بہت ایسے ہیں جن کو طبع زاد کہا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر یاتو سنسکرت ناٹکوں اور ہندو روایتوں سے لئے گئے ہیں یا عربی اور فارسی قصوں کی نقلیں ہیں یاانگریزی ڈراموں کے چہرے ہیں جو تماشے عربی اور فارسی سے لئے گئے ہیں اور وہ اکثر حسن وعشق کی داستانیں ہیں۔ 
 
موجودہ جدید ہندستانی ناٹکوں میں سب سے پہلا ناٹک شاہی دربار کا تربیت یافتہ ہے۔ میری مراد سید آغاحسن امانت کی اندر سبھاسے ہے جو واجد علی شاہ کی فرمائش پر لکھی گئی امانت نے ہندستانی ناٹک کے لئے ایک نیا راستہ نکالا۔ واجدعلی شاہ ناچ رنگ کے جتنے دلدادہ تھے سب کو معلوم ہے ان کے مصاحبوں میں ایک فرانسیسی تھا اس نے بادشاہ سلامت کو ”آپیرا “ کی لذت سے واقف کیا۔ ”آپیرا “ فرانسیسی ناٹک کی ایک قسم ہے جس میں ناچ گانے کا خاص دخل ہوتا ہے۔واجد علی شاہ کو یہ چیز بھاگئی اور انہوں نے اسی نمونے پرامانت سے اندر سبھا تےار کرائی جس کی خلائق میں دھوم ہوگئی۔ اس بناپر کہا جاسکتا ہے کہ ہندستانی تھیٹر میں جو ناچ گانے کا عنصر اس قدر غالب ہے اس کاسبب یہی ہے کہ ناچ گانا اس کے خمیر میں ہے۔
 
واجد علی شاہ کے لکھنو¿ جانے پر اندر سبھا کو اپنا ڈیراخیمہ اٹھانا پڑا قیصرباغ میں بسنے والے بمبئی پہنچے اوروہاں اپنا بازار اور اپنے گاہک پیدا کئے پارسیوں کو تجارت کے لئے نیاسامان ہاتھ آیا۔انگریزی تھیٹر کااُن پر پہلے سے اثر تھا انہوں نے بڑے بڑے شہروں میں تھیٹر کی کمپنیاں کھول دیں اور نہ صرف پرانے سنسکرت ناٹکوں اور ہندو دیو مالاو¿ںسے تماشے تےار کئے بلکہ عرب اورایران کی پرانی داستانوں اور حکایتوں کو بھی کام میں لے آئے۔ 
 
موجودہ ہندستانی تھیٹر کے باوا آدم سیٹھ پسٹن جی فرام جی ہیں جن کو اردو شاعری سے شوق تھا اورجو رنگ اور پروین کے نام سے شعر کہاکرتے تھے انہوں نے سب سے پہلی کمپنی قائم کی جسکے مشہور ناٹک کاررونق بنا رسی اور حسینی میاں ظریف تھے۔ رونق عموماً انگریزی ڈراموں سے ترجمہ کرتے تھے اورخود اپنی طبیعت کا جوہر بہت کم دکھایا کرتے تھے۔ لیکن ظریف اپنی خداداد اپج سے زیادہ کام لیتے تھے اور بات میں بات پیداکرتے تھے۔ اگرچہ ان کی زبان میں بعض خامیاں اوران کی نظم میں فنی خرابیاں پائی جاتی ہیں تاہم ان کے تماشوں میں ایک تازگی اور دلکشی ہوتی ہے۔ انہوں نے ہندستانی قصوں سے بھی اتنا ہی کام لیا ہے جتنا کہ عرب اور ایران کی داستانوں سے۔ 
چاندبی بی ، گل بکاؤ لی، بدر منیر ، شیریں فرہاد ، لیلیٰ مجنوں ،علی بابا ، حاتم طائی ، گل باصنوبر ،ظریف کے مشہور تماشوں میں سے ہیں۔ 
 
پسٹن جی کی وفات پر ان کی کمپنی ٹوٹ گئی اور اس کی جگہ وکٹوریہ ناٹک کمپنی نے لی جو خورشید جی بالی والاکی قائم کی ہوئی تھی اس کمپنی نے منشی ناٹک پر شاد طالب بنارسی کو اپناخاص ناٹک کار مقرر کیا۔ طالب نہ صرف ناٹک کے فن کے ماہر تھے بلکہ شاعری کے اصول سے بھی واقف تھے۔ ان کی زبان بہت ستھری اور صاف ہوتی ہے۔ اور ان کے تماشوں میں جتنے اردو گانے ہیں۔ وہ بازاری انداز سے ہٹے ہوئے ہیں۔ طالب پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندستانی ڈرامے میں نثر کو بھی داخل کیاورنہ اوپیرا اور اندر سبھا کی تقلید میں اب تک اور اکثر اس کے بعد بھی ناٹک صرف منظوم ہوتے تھے۔ اور اسٹےج پر جوگفتگو ہوتی تھی وہ شعرمیں ہوتی تھی۔ طالب نے ایک ڈرامہ ”لیل و نہار “انگریزی سے ترجمہ کیا ہے باقی جتنے ڈرامے لکھے وہ زیادہ تر ہندستان کی روایتوں اور ہندستان کی زندگی سے متعلق ہیں۔ وکرم ولاس ، ہریش چندر ، اور نگار غفلت ان کے سب سے زیادہ مقبول ناٹک ہیں۔ 
 
اسی زمانے میں کاؤس جی کھٹاؤ نے الفریڈ تھیٹر یکل کمپنی قائم کی۔ اس کمپنی کے پہلے ناٹک کار احسن لکھنوی تھے جو مرزا شوق مصنف ”زہر عشق “کے نواسے ہیں اور زباں داں کہے جانے کے مستحق ہیں۔ ان کے ناٹکوں کی زبان بڑی شستہ اور با محاورہ ہوتی ہے۔ ان کے اکثر تماشے جو عوام میں مشہور ہوئے شیکسپیئر کے ڈراموں کی بدلی ہوئی شکلیں ہیں ، مثلاً خون ناحق ، ہیملےٹ سے لیا گیا ہے اور گلنار فیروز رومیو اورجولیٹ کے علاوہ دل فروش ، چلتا پرزہ اور بکاؤ لی بھی ا حسن کے مشہور تماشوں میں گنے جاتے ہیں۔ 
 
احسن کے بعد ان کی کمپنی نے پنڈت نرائن پرشاد بیتاب سے تماشے لکھوائے بیتاب کے وہ تماشے زیادہ مشہور ہوئے جنکی بنیاد ہندستان کے پرانے قصوں پر تھی مثلاً مہابھارت، رامائن ،کرشن سداماوغیرہ ”قتل نظیر “ بھی ان کا مشہور تماشہ ہے۔ باوجود تکلف اور تصنع کے بیتاب زبان میں کچے نظر آتے ہیں اور جو منظر یا حالت بیان کرتے ہیں اور اس واقعہ کی شان نہیں پیدا کرسکتے۔ 
 
کچھ ہی دنوں بعد نیو الفریڈ کمپنی “ قائم ہوئی اور اس کے لئے ایک ایسے شخص نے تماشے لکھنا شروع کئے جس کو ہندستانی تھیٹر نے استاد مان لیا ہے۔ اور جس کومغربی مصنفوں کے مقابلے پر پیش کیا جاتا ہے۔ آغا حشر کے ناٹکوں کا اسٹےج پر آنا تھا کہ ان کا ڈنکا بج گیا اور اس میں شک نہیں کہ آغا حشر ہندستانی ناٹک کی فضا میں سب سے زیادہ روشن ستارہ ہیں۔ نظم اور نثر دونوں میں ان کو برابر مہارت حاصل تھی۔ وہ انسان کے جذبات کی گہرائیوں کا پتہ ہم کو بہت صحیح دیتے ہیں خاص کرعشق کی شدید حالتوں کووہ بڑی خوبی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ قتل وغارت یاجوش وخروش کے نقشے کھینچنے میں کامیاب رہتے ہیں اور ان میں اکثر تےز رنگ بھر دیتے ہیں۔ ان کے اکثر پلاٹ دوہرے ہوتے ہیں جن کو وہ بڑے سلیقے کے ساتھ نباہ لے جاتے ہیں لیکن خاتمے پران کے تماشے پھیکے اور کمزور پڑجاتے ہیں ان پر یہ بھی اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ وہ نقل وحرلت سے کہیں ز یادہ زبانی باتوں سے کام لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے تماشے بے جان رہ جاتے ہیں۔ پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندستانی ناٹک کی جو خدمت آغا حشر نے کی اس سے پہلے کسی نے نہیں کی تھی۔ عموماً وہ انگریزی ڈراموں سے پلاٹ لیا کرتے تھے، مگر بعض تماشے ان کی اپنی تصنیف بھی ہیں۔ جن تماشوں کی سب سے زیادہ دھوم ہوئی وہ ”شہید ناز “ اسیر حرص “ ”خوبصورت بلا“ سورداس “ اور ”سیتا بن باس “ ہیں۔ 
 
آغا حشر کے پیچھے ناٹک کاروں کا ایک ٹڈی دل نظر آتا ہے،۔ان میں سے بعض کے تماشے مشہور بھی ہوچکے ہیں مثلاً فیروز شاہ کابھول بھلیاں جوشیکسپیئر کے کامیڈی آف ایر رس کا ترجمہ ہے۔ امراؤ علی کا ”جہاں گیر “جو ہمیلت کا ترجمہ ہے منشی غلام علی کا ”مہر جیا “محشر انبالوی کے ”آتشیں ناگ “ ”خود پرست “ اور شکنتلا “ آغا شاعر کا ”حور جنت “ 
اتنے ناٹک کا روں کے نام گنائے جاچکے ہیں اوراب بھی نامعلوم کتنے باقی ہیں سنے والاسمجھے گا کہ ہندستانی ناٹک ترقی کی تمام منزلیں طے کرکے تکمیل کے درجے کو پہنچ چکا لیکن ہم کو افسوس کے ساتھ ماننا پڑتا ہے کہ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ امانت سے لے کر آغا حشر تک جتنے ناموں کی فہرست آپ کے سامنے ہے ا ن میں کوئی ایسا نہی جو اسٹےج سے باہر شاعری یاادب کی دنیامیں کوئی حیثیت رکھتا ہو۔ ”اندر سبھا “سے لے کر ”شکنتلا “ اور ”حور جنت “تک کوئی ناٹک ایسا نہیں جس کو لٹریچر میں گناجائے۔ جو لوگ واقعی رچا ہوا مذاق رکھتے ہیں اور ادیب یا شاعر کہے جانے کے مستحق ہیں وہ اس میدان میں نہیں آتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہندستانی ناٹک صرف تفریح اور وہ بھی ان پڑھ طبقے کی تفریح کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔ اور کیا ادبی نقطہ نظر سے اور کیا اخلاقی یاسماجی معیار سے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔ اس پر ہم کو زیادہ افسوس اس لئے ہوتا ہے کہ یہی ہندستان کبھی کالی داس اور بی بھوتی اور راج شیکھر پیدا کرچکا ہے جس ملک میں شکنتلا”مالتی مادھو “ اور کرپور منجری “ جیسے ناٹک لکھے جاچکے ہوں اسکا معیار اب خوبصورت بلا، یا ”شیریں فرہاد ہو یقینا عبرت کی بات ہے۔ 
 
بشکریہ: مشتاق دربھنگوی
 
********************
Comments


Login

You are Visitor Number : 751