donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Maqsood Elahie Sheikh
Title :
   Likh Raha Hoon

مقصود الٰہی شیخ


لکھ رہا ہوں


       دوستو! میں۔ اپنے اس دوست کا تعارف آپ سے کراتا ہوں جو تقریبا"چالیس پچاس سال  کھویا رہا، غائب رہا، ان معنوں میں کہ ہمارا کوئی رابطہ ہی نہ رہا تھا اب اچانک  ملا تو وہ  بہت کچھ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مصنف بن چکا تھا ۔ خود خوش رہ کر دوسروں کو مسکرانے کا موقع دینے والے موصوف کا نام نامی اور اسم گرامی ہے ایس ایچ جعفری ۔ موصوف کی دو کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظرعام پر آ کر سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں ۔ دونوں کتابوں کے عنوانات میں مزاح گندھا ہوا ہے ۔

جنوں میں کیا کیا کچھ

ایس ایچ جعفری
 
  دوسری کتاب ہے :۔

کچھ لکھ نہ سکے، کچھ لکھ بھی گئے

ایس ایچ جعفری
 
 ," ایس ایچ جعفری کی پہلی کتاب " لکھ رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
 ملنے پر مجھے لگا جیسے کوئی پوشیدہ، دبا ہوأ خزانہ دریافت ہوأ اور بلا شرکت غیرے مجھی کو  مل گیا  ہے۔ یہ ملنا انٹر نیٹ کے ذریعے تھا مگر ملاقات مسیحا وخضر سے سے بڑھ کر تھا جن کے بچھڑے یار ملتے ہیں وہی اس قسم کے جذبات سمجھ سکتے ہیں ۔ اس سے بھی بڑھ کر لگا، رفیق دیرینہ لکھاری بن کر میری طرح پوپ کہانیاں لکھ رہا ہے ۔ ( میرا قیاس غالب ہے آپ مجھے جانتے ہیں اور میری یہ نئی طرز کی ٹوٹ کر پھوٹتی کہانیاں پڑھتے رہتے ہیں)  پہلا تاثر یہی تھا اس لئے میرے دماغ میں جانے کیا کلبلایا کہ عنوان کی لکھت دیکھتے ہی منیں پختی رائے ہو گیا ۔ ارے! یہ بھی پوپ کہانیاں لکھنے لگا ؟ کتاب پر رنگ برنگے الفاظ اسی طرز پر لکھے تھے  جیسے میری پوپ کہانیاں یا ان کے عنوانات ہوتے

ہیں ۔

ایس ایچ جعفری کے مزاحیہ مضامین بغیر ملمع تھے ۔ اصلی چاندی سونے کا ورق در ورق جان کر بوجھ کر برائے تقویت ایمان تناول کیا یعنی نظروں سے دل میں اتارا ۔ یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا جب میں نے کتاب پڑھی تو طنز و مزاح مسکراہٹ سے سوا رنج و اندوہ میں ڈھل، ڈوب گیا ۔ ایسا سماں آپ نے پاکستانی بلکہ ہندوستانی فلموں میں دیکھا ہو گا جب ہیرو، ہیروئین سے کہا کرتا تھا/ ہے کہ آنسو پونچھ دو، ذرا مسکراؤ ۔۔۔۔ یوں ہیروئین کے لبوں پر آنے والی قاتل مسکراہٹ تاثیر میں تریاق و مرہم بن کر شائقین کو بھی کھلکھلا دیا کرتی تھی ۔
ایس ایچ جعفری اپنے جلو میں پورا ماضی لے آیا ۔ کتاب کے چند صفحے پڑھتا اور خلائی جزیروں میں کھو جاتا ۔
  کیا کیا کہانیاں اور سنگی ساتھی یاد آ آ گئے ۔ ہمارا حلقۂ یاران سر تا سر پاکستانی تھا ۔ ہم لندن میں رہتے تھے ہفتہ میں ایک بار پاکستانی کھانا کھانے ایسٹ لندن کے اس وقت کے واحد حلال ریستوران میں جاتے جو کوشر پکاتے اور ہم کھا کر پھولے نہ سماتے، ہم نے حرام نہیں کھایا! ہم اپنی وطنیت، زبان و اقدار کے پاسبان تھے ۔ دوسری طرف انگریزوں سے ملتے تھے ۔ دوست بنتے بناتے تھے  ۔ یہ بے موقع بات ہو گی کہ خواہ مخواہ  صنف و جنس کی صراحت کی جائے ۔ انگریزوں کے آگے بچھتے نہیں تھے ۔ کچھ  ان کے اچھے ورثے میں ملے لچھنوں سے آگاہی حاصل کرتے، ہمہ پہلو فوائد اٹھاتے اور کوشش ہوتی ان کو اپنے رنگ میں رنگ لیں پر وہ ہوتے ہی اس قدر سفید تھے کہ ان پر دوسرا رنگ، کوئی سا رنگ چڑھتا ہی نہیں تھا ۔  اس کوشش میں ہمارے کئی دوست  دور تک نکل گئے اور کئی نے موسیقی کا رسیا ہونے کی بنا پر چچا غالب کی طرح اعلٰی معیار ڈومینوں کو بڑی عزت دی ۔ بعض نے جلد اپنی عقل و بصیرت کو رہنما بنایا اور ہمدوش ثریا اور ہمکنار و ہم آغوش جین و جولی ہوئے نہ ہوئے، نگاہوں ہی نگاہوں میں حال دل پڑھ، پڑھا لینے میں کسی نجومی کی سی مہارت حاصل کر لی ۔ آج ہم پر کل کی حقیقت پوری طرح عیاں ہو چکی ہے ۔۔۔۔ ہمارے نظرئیے بہت سدھر گئے ہیں اور جانتے ہیں طنز میں مزاح اور مزاح میں طنز کیا گل کھلاتا ہے  ۔ 

ایس ایچ جعفری نے ایسے ہی تو نہیں قلم سنبھال سنبھال کر استعمال کیا ہے ۔ وہ فل مارکس کا حقدار ہے ۔ میں نے کارل مارکس نہیں لکھا ۔ کتاب پڑھئیے آپ بھی ہماری طرح مصنف کو پورے نمبر دیں گے ۔ ایک حالیہ سروے میں کھوج لگا لیا گیا ہے کہ ان دنوں کتاب خرید کر پڑھی جا رہی ہے ۔ شہروں سے زیادہ دور دراز علاقوں میں جہاں موڈرن برقی سہولیات از قسم ٹی وی، انٹر نٹ وغیرہ کا چلن تا حال فل فلیجڈ  نہیں ہواٗ!!۔

دفعتا" ایک پرانی بات یاد آ گئی، سن لیجئے ، کیا ہرج ہے؟

پہلے تو میں یہ تباؤں کہ جعفری کے دلہا بھائی بہت ہی احترام کی نگاہوں سے دیکھے جانے والے اعلٰی سرکاری افسر ایس ایس جعفری اور میرے دو درجہ بڑے بھائی ایس مقبول الٰہی دونوں نیک نام بیوروکریٹ، اب ایسے پراگندہ عادات افسران کہاں جو اپنے گھر والوں کی سفارش قبول کرنا گناہ سمجھتے ہوں ۔ عزیزگان کی کلرکی کے  لئے بھی اہلیت و قابلیت کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوں اور جائز تعارف / سفارش کو بھی ورطۂ این و آں کے خانے میں  پرے دھرتے ہوں ۔ ایک یوم پاکستان کی تقریب میں محترم ایس ایس جعفری صاحب  نظر آئے ۔ پہلے بوجہ احترام کترایا پھرخوردوں والی کیفیت طاری کر کے، داد وصولنے والے شاعروں کی تقلید میں فدویانہ سلام کیا ۔ وہ عمر بے وقوفی کی تھی منہ سے نکلا محترم آپ کچھ کمزور لگ رہے ہیں ۔ بس جی! پکڑے گئے ۔ فرما یا آ پ کامطلب ہے میرا وزن کچھ کم ہوأ ہے ، سمارٹ لگ رہا ہوں ۔ جب ایس ایچ جعفری کی کتاب پڑھی تو وہی رنگ مزاح  یاد آ گیا ۔ یہ سب اس لئے بتا رہا ہوں کہ جفعری کو یہ " ٹنگ ان چیک " کا مزاحی ورثہ لندن کے ادبی ماحول سے نہیں اپنی خاندانی زبان دانی کی روایات سے ملا ہے ۔ اگر اس حقیر نے  بقول ایس ایچ جعفری نقادوں کو بتا دیا ہوتا تو کتاب پر تبصرہ نا قابل فہم سے قابل فہم بن جاتا لہذا قصہ یوں ہے کہ ہم دونوں ( میں اور ایس ایچ جعفری) برسوں لندن میں رہے اور ایک ہی دفتر میں کولیگ رہے ۔ یہ دفتری اصطلاح ہے ۔ ہم گہرے اور گاڑھے دوست بن گئے ۔ (اب اس وقت کی لندن کی قابل رشک باتوں کا کیا ذکر؟ ) پھر بچھڑنے کے چالیس پچاس نہیں تو پینتالیس سال بعد فون پر ملے کتابوں میں ملے ای میل کو ذریعہ و واسطہ بنا کر اب تک مل رہے ہیں ۔ امکان یہ ہے کہ ایس ایچ جعفری کا غصہ سوا اور خفا ہونے کا گراف ہزار فی صد  بڑھ گیا ہو گا ۔ وہ شاعر نہ سہی ایک مصنف ہے اور نخرہ ان کا بھی کم نہیں ہوتا ۔ اللہ بچائے ۔ اس کے ہاتھ میں قلم ہے اور وہ طنز و مزاح کا تیراک ہے ۔ (ہائے وہ ہائیڈ پارک کے سبزہ زار اور جھیل اور ٹیمز کے کنارے اور مانومنٹ پر دوپہر اور خالی خالی گلیوں  کے مٹر گشت!(تب ٹریفک کم ہوتی تھی) وہی کیف ۔۔۔۔ حافظہ ہاتھ سے نکل گیا اور جا ٹھہرا کلکتہ میں غالب کے ہمنشین کی جانب جس نے تیرمارا توغالب کو کھینچ کے، تیر غالب ککو لگا یا نہیں اس بارے مین تاریخ میں تین ح رف درج نہیں ہیں پرخلش ہمیں ہنوز محسوس ہو رہی ہے !۔

مزاح میرا میداں نہیں،  میں سیدھے سبھاؤ بات کروں  گا ۔
کاش میں ایس ایج جعفری کا اصلی پاکستانی نام لکھتا مجھے وہی اچھا لگتا  ہے مگر احترام دوست ہے ورنہ اس کا نام  گھر اور حلقۂ یاراں والا

  اصلی نام ہی قلمی نام ہونا چاہئے ۔ میں کہہ رہا تھا کہ کاش میں نے بتا دیا ہوتا لندن میں رہ کر ایس ایچ جے انگریز نہ بنا لیکن انگریزوں کی سارئ اچھی باتیں سیکھنے کے علاوہ اس کا " ٹنگ ان چیک " مزاح بھی " فلی " (کلی طور پر) اپنا لیا ۔ جو انگریز کا مزاح سمجھتے ہیں وہی جعفری صاحب کے ذوق و مزاح کا پیمانہ سامنے رکھ کران کی کتاب " لکھ رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ " کا لطف مطالعہ اٹھا سکتے ہیں ۔ نکتہ چینی کے بجائے نکتہ دانی کا فہم درکار ہے ۔ عدالت میں جس طرح حلفیہ بیان لیا جاتا ہے اسی طرح کہوں گا، سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا ۔ کیا اتنا کہہ کر گواہ جھوٹ نہیں بولتے؟ میں نے جعفری کی تمام تحریریں پڑھیں اور بھر پور لطف اٹھایا ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ یہ پرانی کہاوت نہیں، نئے رنگ اور انگ میں میری مخلصانہ و دوستانہ دعا ہے ۔

  دعا ابھی پوری طرح پڑھی نہ تھی اس کتاب پر اپنی نا چیز رائے لکھی نہ تھی بھائی میاں نے دوسری کتاب داغ دی یعنی دوسری کتاب لکھ دی ۔ اس کا گھونگٹ اٹھا دیا، وہی، گاڑھی اردو میں جسے رونمائی کہتے ہیں، بڑے پیمانے پرکرا دی ۔  نیم دروں نیم بیروں کا ناز و انداز ! داغ کا پھڑکاتا ہوأ شعر ہے ؎ جلوہ بے پردہ تو ہوتا ہے فقط ہوشربا ۔ وہ قیامت ہے جو چلمن کی جھلک ہوتی ہے !۔

جھلک ملاحظہ ہو، کتاب کا عنوان ہے :۔
  کچھ لکھ نہ سکے، کچھ لکھ بھی گئے

یہ عنوان ایک سطر میں سیدھا لکھا گیا ہے اور دوسری بات پڑھنے والوں کو یا ناقدین کی رہنمائی کے لئے رقم کرتا ہوں اور پہلے سے عرض کر دوں نقاش ! نقش ثانی بہتر کشد ز اول !! سونے پر سہاگہ یہ کتاب بھی طنز و مزاح  کی گھٹا گھنگھور ہے ۔ سندر سندر پوتھی اور پستک ہے ۔ لاجواب ہے ۔ ہر اونچی دکان پر دستیاب ہے ۔۔۔۔۔ اس کے سر ورق پر ٓآرٹسٹ نے اپنا کمال یوں دکھایا کہ طنز پورا اور مزاح کا ح اردو کے پہلے قاعدے کی ح حطی کی مانند  نمایاں کر دیا ہے اور متن کا سر بلند کر دیا ہے ۔ ذرا تصور کیجئے گا شب برات پر آتش بازی کا رنگ و نور فلک تا فلک زمین والوں کو گردنیں اوپرکرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جیسے، جیسے مہتابی اور شرشری کا آہنگ و ہنگام، سمے اور سماں تمام چکا چوند کردیتا ہے اسی طرح آرٹسٹ صاحب نے سرورق سازی کا لوہا منوانے کا قؔصد کیا ہو گا اور یوں رنگ بکھیر کرکتاب کے اولین صفحہ کو رنگا رنگ یعنی بھاری بھر کم  بنا دیا ۔ ماشأ اللہ ۔ سرورق ساز کا نام بھی بھاری بھرکم ہے محمد غفران احمد ۔ خدانخواستہ کہیں دو چار ہوں ( معاف کیجئے گا میری محاورے استعمال کرنے کی خراب عادت،  مدعا ہے دو چار غفران صاحبان نہیں ) اگر ان سے ملاقات ہوتو اکیلا یا اکیلے میں پکڑ کر داد دیجئے گا ۔ آخرکتاب کو پڑھ کر ٹائٹل غفران احمد غفران نے بنایا تو کتاب پڑھنے کے بعد قاری کا حق بنتا ہے کہ وہ سرورق سازی کی داد دے! کیا نہ دے ؟ اپنے اپنے عمل کی ادائیگی تو سب کا فرض ہے یا نہیں؟ ہمارا فرض تھا حضور کو نیکی بدی سمجھا دی!۔  

  میں نے دونوں کتابیں پڑھیں اور خدا نہ کرے جب ہائی کورٹ میں جاؤں گا اور شہادت سے قبل نیا حلف پہلے سے زیادہ مہارت کے ساتھ پڑھوں گا اور صاف صاف اقرار کروں گا " ایس ایچ جعفری کی دونوں کتابیں مہذب، اعلٰی اور زیر لب خنداں جسے پنجابی میں گڑکنا ( گ ڑ، ڑ پر پیش کے ساتھ ک نا) یعنی مسکرانے سے اگلی منزل قہقہے۔۔۔۔۔۔ نہیں، نہیں کئی قہقہوں کو اپنے اوپر ملسط ہونے سے روکنے کی کوشش جس میں مسکراہٹ،  پڑھنے والے کے ہونٹوں سے نکل کر محاورے کے مطابق کوٹھوں اور سچ میں لکھنے والے تک آپی آپ پہنچ جاتی ہے اور اسے آئندہ لکھنے کی پریرنا دیتی ہے ۔ 

  میں، مسمیٔ نا مشہورلکھاری اپنے یارلکھاری و مصنف دو کتب، کھلا  دعوٰی کرتا ہوں جس نے ایس ایچ جعفری کی دوںوں کتابیں : ۔

لکھ رہا ہوں" 

." جںوں میں کیا کیا کچھ

  اور

کچھ لکھ نہ سکے، کچھ لکھ بھی گئے

  یہاں ٹوٹا فقرہ جوڑتا ہوں ۔ جس نے دونوں کتابیں پڑھیں، اس نے پورا پورا ثواب کمایا ۔ جسے جسے اعزازی نسخہ ملا، وہ گرفتار ہوس مطالعہ ہوأ اور نئی کتاب کا منتظر ہے اوران لوگوں کو جنہوں نے یہ جعفرانہ کتب نہیں پڑھیں ان کو صدق دل سے تادیبی (بد) دعا دیتا ہوں روز حشر اللہ ان سے سمجھے گا ۔ 
   یہ کوئی پردے کی بات نہیں میرا دوست (یہ دعٰوی مجھے ہے) کوئی دوسرا نہیں مزاح نگار ہے ایس ایچ جعفری !! ۔

  ایس ایچ جعفری نے اپنی پہلی کتاب شائع ہونے پر بھیجی ۔ یہ محبت کا تحفہ تھا ۔ میں اسے محبوب کا تحفہ سمجھ بیٹھا اور غرور سے پھول گیا اور بھول سے ایک دوسرے دوست کو رائے زنی کے لئے اپنے یار کی اولین تخلیق بھیج دی ۔ جس دوست کو بھیجی وہ میڈیا میں چاند نہیں آفتاب  بنا چمک رہا تھا ۔ مجھے لالچ تھا کہ اپنے یار کی کتاب پر موصوف نے لکھا تو ذرا چرچا ہو گا ۔ وہی بات ہوئی ، غالب کا شعر یہاں سمجھے والوں کو سچوئشن سجھا اور سمجھا  دے گا ؎۔

  گدا سمجھ کے وہ چپ تھا میری جو شامت آئی
  اٹھا اور اٹھ کر پاؤں پاسباں کے لئے
  دونوں ہی میرے ہاتھ سے گئے ۔
  سوچنا یہ پڑے گا کس کو مناؤ
  اس دوست کو یا اس دوست کو

۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸

Comments


Login

You are Visitor Number : 601