donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Md. Aslam Ghazi
Title :
   Zikre Ibne Safi - Haq To Yeh Hai Ke Haq Ada Na Hua

 

ذکرِ ابن صفی ......... حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
 
محمد اسلم غازی
 
میرے پسندیدہ ترین مصنف ابن صفی مرحوم پر آج کل بہت کچھ لکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کے ناولوں کی طلب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کی کتابوں کی طلب ہمیشہ رہی ہے جسے پورا کرنے کے لیے عباس حسینی مرحوم ابن صفی کے ناولوں کو دوبارہ اور سہ بارہ شائع کرچکے تھے۔ بعد میں دیگر اداروں نے بھی موقعے اور طلب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ناول شائع کیے۔ بک اسٹالوں پر ہمیشہ سب سے زیادہ تعداد ابن صفی کی کتابوں کی ہی ہوتی ہے۔ پہلے ہر ماہ ان کا صرف ایک ناول چھپتا تھا۔ آج کل تو ایک ساتھ کئی کئی ناول چھپ رہے ہیں۔
ابن صفی کے ناول میں اس وقت سے پڑھ رہا ہوں جب میں ساتویں جماعت میں تھا۔ میرا ایک ہم جماعت دوران کلاس اساتذہ کی نظریں بچا کر ناولیں پڑھا کرتا تھا۔ اسی سے لے کر میں نے بھی کچھ ناول پڑھے تھے جن کے بعض واقعات میرے ذہن سے چپک کر رہ گئے تھے۔ اس وقت میں ابن صفی سے ناواقف تھا۔ بعد میں جب میں شعوری طور پر ابن صفی کے ناول پڑھنے لگا اور ان کے ناول ’’خوفناک جنگل ‘‘ اور ’’گیارہواں زینہ‘‘ پڑھے تو یاد آیا کہ یہ وہی ناول ہیں جو میں اسکول میں پڑھ چکا ہوں۔ ابن صفی نے تقریباً 300 ناول لکھے ہیں۔ میں وہ سب ناول پڑھ چکا ہوں۔ بعض تو کئی کئی بار پڑھے ہیں۔ بعض سیریز بھی کئی کئی بار پڑھی ہیں۔ مثلاً: شعلہ سیریز ، شکرال سیریز، ڈیڑھ متوالے سیریز، ڈاکٹر دعاگو سیریز،بوغا سیریز، ڈاکٹر ڈریڈ سیریز وغیرہ ۔ ان کا ناول’’زمین کے بادل‘‘ میں نے شاید دس بار پڑھ لیا ہوگا۔ اس میں ابن صفی نے اپنے تخلیق کردہ دونوں ہیروؤں، کرنل فریدی اور عمران، کو ایک ساتھ پیش کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ان کا سب سے اچھا ناول ہے۔ ابن صفی مرحوم اور ان کی تصنیفات سے میرے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میں نے اپنے چھوٹے بھائیوں اور اپنے بچوں کو بھی ان کے ناول پڑھوائے۔ اب انہیں بھی ان کا چسکا لگ چکا ہے۔ میرے ایک چھوٹے بھائی کے پاس تو ان کے تقریباً تمام ناول ہیں۔ 
ابن صفی منفرد طرز نگارش کے مالک تھے۔ ان کی تحریریں پڑھنے کے بعد ، مولانا ابوالاعلی مودودی ؒ کی تحریروں کے سوا ،مجھے کسی اور کی تحریر بالکل نہیں جچی ۔ ایچ. اقبال ، ہمایوں اقبال وغیرہ نقالوں کو میں سخت نا پسند کرتا تھا اور غلطی سے بھی ان کے ناول پڑھ نہیں پاتا تھا۔ البتہ اکرم 
الہ آبادی اور عارف مارہروی کے جاسوسی ناول پڑھ لیا کرتا تھا۔ کیونکہ ان میں بھی ادب کی چاشنی اور پلاٹ اور کہانی کی ندرت مل جاتی تھی۔ اکرم الہ آبادی کے کردار سپرنٹنڈنٹ حضور احمد خان اور سارجنٹ بالے نیز عارف مارہروی کے کردار میجر نیازی اور کیپٹن افضال (فریدی حمید کی طرز پر) اور قیصر حیات نکھٹو عرف مارشل کیو (عمران اور ایکسٹوکی طرز پر) گوارا تھے۔ اکرم الہٰ آبادی کا تخلیق کردہ ایک منفی کردار ڈاکٹر سالازار ایک عجیب و غریب کردار تھا۔ اس کے علاوہ ابن صفی کے کردار قاسم کی نقل ’’شوکت عرف سُکّٹ‘‘ کو بھی اکرم الہٰ آبادی نے بہتر انداز میں پیش کیا تھا۔ سچائی یہ ہے کہ یہ دونو ں حضرات بہتر لکھتے ضرور تھے لیکن کبھی بھی اس بلند معیار تک نہیں پہنچ سکے جو ابن صفی نے قائم کیا تھا۔
 
کردار نگاری ابن صفی کا بے مثال وصف تھا ۔وہ کردار نگاری کے شہنشاہ تھے۔ انہو ں نے جو کردار تخلیق کیے وہ زندہ جاوید ہوگئے۔ قاری ان سے اس قدر متاثر ہوجاتا ہے کہ وہ انہیں جیتے جاگتے زندہ پیکر محسوس کرنے لگتا ہے۔ کم از کم میں تو فریدی، حمید، عمران اور دیگر مثبت اور منفی کرداروں سے اس قدر مانوس اور ان کا اتنا گرویدہ ہوگیا کہ جب ابن صفی کا انتقال ہوا تو مجھے لگا گویا فریدی حمید اور عمران وغیرہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ میں کئی دنوں تک ملول رہا۔ کبھی کبھی مجھے یہ خیال بھی آتا کہ ابن صفی سے تو ان شاء اللہ آخرت میں ملاقات ہوگی لیکن کیا ان کے کرداروں سے بھی ملاقات ہوسکے گی؟ پھر میں خود ہی اپنے اس مضحکہ خیز خیال کو ذہن سے جھٹک دیتا ! 
 
ابن صفی نے لگ بھگ 30سالوں تک اپنے کرداروں کو تقریباً 300ناولوں میں پیش کیا۔ لیکن جو کردار اوّل روز جیسا پیش کیا تھا وہ آخری دن تک ویسا ہی رہا۔ مجال ہے کہ ان کی پیش کش میں کہیں کمزوری یا جھول آجائے؟ ان کے تخلیق کردہ لازوال اور زندہ جاوید کرداروں میں کرنل فریدی کو سب پر فوقیت حاصل ہے۔ غیر معمولی عقل و ذہانت ، قوت و طاقت، مردانہ حسن ووجاہت اور اعلیٰ انسانی اخلاق و کردار کا حامل یہ کردار خود ابن صفی کو بھی اپنے تمام کرداروں سے زیادہ عزیز تھا۔ ’’زمین کے بادل‘‘ میں انہوں نے اسے عمران پر فوقیت دی ہے جو ان کے کرداروں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ تیسرا کردار کیپٹن حمید ہے۔ ان کے علاوہ انور، رشیدہ ،انسپکٹر آصف ، قاسم، جولیانا فٹز واٹر، روشی، صفدر ، تنویر، جوزف، سلیمان، کیپٹن فیاض ،ظفر الملک، جیمسن، سرسلطان، رحمان صاحب ، عمران کی بہن ثریا، انسپکٹر ریکھا،استاد نرالے عالم، سنگ ہی، فنچ، تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا( ٹی تھری بی) وغیرہ سب مستقل کردار ہیں جو ان کے ناولوں میں بار بار سامنے آتے ہیں۔ ان سب کو ابن صفی نے بڑی چابکدستی سے تخلیق کیا اور برتا ہے۔ ہر کردار اپنی الگ شخصیت اور نفسیاتی خصوصیات رکھتا اور جیتا جاگتا کردار لگتا ہے۔ تیس سالوں تک اور سینکڑوں ناولوں میں ان خصوصیات میں معمولی سی تبدیلی نہیں آئی اور جھول محسوس نہیں ہوا۔ میرا یہ احساس بھی ہے کہ ابن صفی کے علاوہ ان کرداروں کو کوئی اور پیش نہیں کرسکتا۔ ان کے علاوہ بھی کئی کردار ہیں جن کے ذکر سے مضمون طوالت اختیار کر لے گا۔ 
 
ابن صفی نے ایسے بھی کئی کردار تخلیق کیے ہیں جو صرف ایک بار کسی ناول میں پیش کیے گئے لیکن اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ مثلاً ’’بیباکوں کی تلاش‘‘ میں صبیحہ،شعلہ سیریز میں خانم،چاندنی کا دھواں میں صوفیہ اور جیلانی، ساتواں جزیرہ اور خوفناک جھیل میں سائرہ اور قلندر بیابانی ، سہمی ہوئی لڑکی اور قاتل کا ہاتھ میں رضیہ ،’ڈیڑھ متوالے ‘میں توبیک وقت کئی زندہ جاوید کردار پیش کیے گئے تھے ۔ مثلاً کبڑا( ہمبگ دی 
گریٹ )اور اس کی لمبوتری بیوی رانی آف ساجد نگر،نواب صفدر جنگ اور اس کے مصاحبین نینایعنی نسیم النساء خاتون ، منشی کرامت اللہ ہارڈی، شیخ ثناء اللہ شارٹی، شیخو عرف ٹونی اورخمیسو ڈاکو، ’گیت اور خون‘ میں صفیہ، ستاروں کی چیخیں اور ستاروں کی موت میں مردنگ ،ریگم بالا میں سب انسپکٹر واجد، دشمنوں کا شہر میں نادر وغیرہ۔ یہ فہرست بھی بہت طویل ہے ۔بلکہ یہ کہنے میں ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان کے ہر ناول میں ایک دو ایسے کردار ضرور ہوتے ہیں جو اسی ناول تک محدود ہوتے ہیں لیکن ذہنوں سے ایسے چپک جاتے ہیں کہ بھُلائے نہیں بھولتے۔ ابن صفی کے تخلیق کردہ ہر کردار کی نفسیاتی تحلیل کرکے ان پر طویل تجزیاتی مضامین لکھے جاسکتے ہیں۔
 
ابن صفی مرحوم کا طرز نگارش اس قدر رواں ،شگفتہ اور چٹخارہ دار ہے کہ قاری پڑھتے پڑھتے کبھی نہیں اوبتا۔ یہ ناممکن ہے کہ ان کا ناول پڑھنا شروع کرکے قاری درمیان سے چھوڑ دے۔ میری طرح ان کے لاکھوں قارئین ہوں گے جنہو ں نے ان کے اکثر ناولوں کو کئی کئی بار پڑھا ہوگا۔
 
ابن صفی کے ناولوں کے پلاٹ بے حد چست اور گتھے ہوئے ہوتے ہیں۔ کہانی کو تیزی سے آگے بڑھانے اور پھیلانے کے فن میں مرحوم کامل مہارت رکھتے تھے۔ وقوعہ نگاری کے فن پر بھی انہیں مکمل دسترس حاصل تھی۔ واقعات بڑی تیزی سے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے ان کے ناول بہت تیز رفتار اور دلچسپ ہوتے ہیں۔
 
انہوں نے بعض مہماتی اور ایڈونچر سے بھرپور ایسی کہانیاں لکھی ہیں جن میں قاری ناول کے کرداروں کے ساتھ خود کو جنگلوں اور پہاڑوں کے درمیان محسوس کرتا نیز انہیں کی طرح خوف، سنسنی،تحیر ، اضطراب اور امید و بیم کی کیفیتوں سے گزرتا ہے۔ مثلاً پہاڑوں کی ملکہ، درندوں کی بستی، خوفناک جزیرہ،زمین کے بادل وغیرہ ۔ ابن صفی کے ان مہماتی ناولوں نے رائیڈر ہیگرڈ اور دیگر غیر ملکی مصنفین کے ناولوں کے اردو ترجموں کی مانگ بالکل ختم کردی تھی۔ ابن صفی کے ناولوں میں شہروں اور مقامات کے تذکرے اتنی خوبی سے کیے گئے ہیں کہ وہ فرضی ہونے کے باوجود حقیقی معلوم ہوتے ہیں ۔ تارجام، ٹیکم گڑھ، شکرال وغیرہ ہماری دنیا کے ہی خطے لگتے ہیں۔
 
وہ آرٹس گریجویٹ تھے لیکن ان کی قوت متخیلہ کسی سائنسداں سے کم نہیں تھی۔ اپنی ناولوں میں انہوں نے ایسی ایسی محیرالعقول مشینوں اور آلات سے متعارف کرایا تھا جو40/30 سالوں بعد واقعی عالم وجود میں آگئیں۔ مثلاً ’’ساتواں جزیرہ‘’ میں انہوں نے آئیڈنٹیٹی کاسٹ اکوپمنٹ یعنی شناخت ڈھالنے کا آلہ پیش کیا جس کے ذریعے کرنل فریدی چہرے، آنکھوں، ناک اور ہونٹوں وغیرہ کی مختلف ساختوں کو یادداشت کے سہارے یکجا کرکے مجرم کا حلیہ تیار کرلیتا ہے۔ آج کل پولس اور خفیہ محکمے یہ مشین استعمال کرکے مشتبہ ملزموں کے چہروں کے خاکے روزانہ اخبارات میں شائع کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کنفیشن چیئریعنی سچ اگلوانے والی مشین کاتذکرہ اپنے کئی ناولوں میں کیا ہے ۔ اسی طرح ’چاندنی کا دھواں‘ میں ابن صفی نے ایک ایسا TVپیش کیا تھا جس کی تصاویر فضاء میں دیکھی جاسکتی تھیں۔ تقریباً 25-20 سال قبل ایک فرانسیسی کمپنی نے ممبئی کے گرگاؤں چوپاٹی ساحل پر اسی طرح کا ایک شو کیا تھا جس میں ہوا میں تصاویر نظر آتی تھیں۔ اسی طرح زیرولینڈ سیریز کے ایک ناول میں ابن صفی کے تخیل نے تصاویر اور آواز کی طرح انسان کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسمٹ (منتقل) کردیا تھا۔ ممکن ہے کہ سفر کا یہ جدید ترین طریقہ بھی سائنس جلد ہی دریافت کرلے۔ 
 
ابن صفی بڑے صاحب قلم ادیب تھے۔ وہ بہترین نثار اور اعلی درجے کے شاعر تھے۔ان کا ہر ناول زبان و ادب کااعلیٰ نمونہ ہے۔ صرف ایک مثال پیش ہے:
* ’’خداکی پناہ۔ ۔ ۔ تو ابھی تک اسی لڑکی کا چکر چل رہا ہے؟‘‘
’’ اور دیکھو کب تک چلتا ہے !‘‘ صفدر نچلے ہونٹ دانتوں میں دبائے عمران کو گھورتا رہا ۔
’’ لیکن ایک بات ہے!‘‘ عمران کچھ دیر بعد بولا۔ ‘‘جسے یہ پیغام دینا تھا اسے شاید وہ بھی نہیں جانتا تھا ورنہ میرے حوالے کیوں کرجاتا ہے‘‘
’’سوچتے اور کڑھتے رہیے !‘‘ 
’’ہائیں۔۔۔ کیا مطلب ؟ کیا آج کل تم بیگمات میں زیادہ اٹھ بیٹھ رہے ہو؟ یہ کڑھنا وڑھنا بولنے لگے ہو۔۔!‘‘ (گیارہ نومبر)
ان کی نثر اور نظم میں کون زیادہ بہتر ہے یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ اگر وہ شاعری پر توجہ دیتے تو اردو کے عظیم شاعروں میں ان کا شمار ہوتا۔ 
یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی جاسوسی نگاری نے اردو سے ایک بڑا شاعر چھین لیا۔
وہ اردو کے عظیم نقاد بھی تھے۔ مثلاً:
* ؂ ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھا ۔۔۔ جوش ؔ کے اس شعر پر ’خوفناک جزیرہ‘ میں فریدی کی زبانی بڑا اچھا 
تبصرہ کرایا ہے ۔ ’’ ہے ہے۔۔بعض اوقات میں جوش کی پیغمبری کا قائل ہوجاتا ہوں۔ کیا شعر کہہ دیا ظالم نے ۔‘‘ لیکن ایک ناول میں جوش کی ترقی پسند 
شاعری کو انہوں نے فریدی ہی کی زبانی ’’ پتھر پھوڑنے ‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔
* بعض ترقی پسند اور جدید نقادوں پر اس طرح طنز کرتے ہیں: 
صاحبزادے ادبی ذوق رکھتے تھے۔ ذہین بھی تھے ۔ لہذا جارحیت پسندی نے انہیں نقاد بنادیا۔ ایسے دھواں دار تنقیدی مضامین لکھتے تھے کہ اچھوں اچھوں 
کی پیشانیاں بھیگ جائیں۔اکثر پڑھے لکھے لوگ شیخ صاحب سے کہتے ’’ لونڈا قابل ضرور ہے۔ مگر اسے قابو میں رکھو ۔ا رے وہ تو میرؔ و غالبؔ کے منہ آنے 
کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی مصحفیؔ کے گریبان پر ہاتھ ڈالتا ہے اور کبھی حالیؔ کا مفلر گھسیٹ لیتا ہے۔‘‘
یہ باتیں شیخ صاحب کے پلے نہ پڑتیں ۔ پھر بھی اخلاقاً کہتے ’’ جی میں سمجھا دونگا۔ ان لوگوں سے کہیے کہ بچہ سمجھ کر معاف کردیں آئندہ ایسی حرکت نہیں 
کرے گا!‘‘۔باپ بیٹے میں یہ تضاد دیکھ کر لو گ عبرت پکڑتے اور خاموش ہوجاتے ۔
ایک بار خود شمس الدین سے کسی نے پوچھا تھا۔’’میاں اس قدر جامے سے باہر کیوں رہتے ہو؟‘‘ 
اس پر وہ ہنس کر بولے تھے۔’’حسن تدبیر۔۔۔ جس طر ح مداری تماشائیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پہلے بنسری اور ڈگڈی بجاتا ہے اسی طرح میرے 
مضامین کے عنوانات بھی محض توجہ مبذول کروانے کے لیے ہوتے ہیں۔اگر اپنی تنقید کو جوش کی شاعری کا نام دوں تو لوگ سرسری نظر ڈالیں گے اور صفحہ 
الٹ دیں گے ۔ ۔۔ لیکن اگر میرے تنقیدی مضامین کا عنوان جوش اور پاپوش ہو تو خود سوچیے کیا ہوگا؟ آپ اسے ضرور پڑھیں گے۔ جلد شہرت حاصل 
کرنے کا بہترین طریقہ ۔ بھلا اس سے جوش صاحب کا کیا بگڑے گا۔۔۔ لیکن میری شہرت مسلم ہے ۔(پاگلوں کی انجمن)
* ’’ ٹیڈی جمپرا اور ٹیڈی شلوار میں کیسا لگوں گا؟‘‘ حمید بولا
’’اتر آئے گھٹیا باتوں پر!‘‘ فریدی نے کہا
’’بھوک مجھے لفنگا بنا دیتی ہے!‘‘
’’اب ادیبوں کی سی باتیں کرنے لگے! ‘‘ فریدی مسکرایا
’’خوب یاد دلایا ۔ سنا ہے ادب میں جمود ہوگیا ہے؟ ‘‘
فریدی کچھ نہ بولا ۔ حمید بکتا رہا۔’’ میرا مقدر ہی خراب ہے۔ ابھی حال ہی میں افسانہ نگاری شروع کی تھی کہ یہ بری اطلاع ملی۔ کل شام ریڈیو پر چند جغادری 
قسم کے ادیب مع ایک محترمہ اردو افسانہ کے انحطاط کے اسباب تلاش کر رہے تھے۔ ایک بزرگوار بولے جاسوسی ناولوں کی وجہ سے لوگ مختصر افسانے 
سے بے توجہی برت رہے ہیں۔ وہ محترمہ حقارت سے بولیں ‘ اور یہ ناول بھی انگریزی کا چربہ ہوتے ہیں۔ دوسرے صاحب بولے کہ محترمہ ہمارا مشاہدہ ہی 
جب انگریزوں کا چربہ بنتا جارہا ہے تو پھر یہ ناول کیوں نہ ہوں؟ ویسے ان جغادری ادیبوں میں ایک صاحب ایسے بھی تھے جو واشنگٹن ارونگ کے انداز 
بیان ۔۔۔اور جان رکسن کے طرز انتقادکی نقالی کر کے جغادری ادیب بنے ہیں ۔ بس یہی کہنا پڑتا ہے کہ اگر وہ خدا کے وجود کے قائل ہوں تو خدا ان کی
مغفرت فرمائے۔‘‘ ( اشاروں کے شکار)
وہ بہت اچھے طنز و مزاح نگار تھے۔ قاری کو بے ساختہ مسکرانے اور قہقہ لگانے پر مجبور کرنے والی ان کی تحریروں کو عوامی مقامات مثلاً بس یا 
ٹرین میں پڑھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔ میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ دوران سفر ان کی تحریر پڑھتے ہوئے باوجود کوشش کے میں اپنی ہنسی نہ روک پایا اور میرے آس پاس کے ہم سفرمجھے حیرت سے تکتے رہے۔ انہوں نے کئی طنزیہ و مزاحیہ مضامین اور ناول لکھے۔ اگر وہ باقاعدگی سے طنزو مزاح نگاری کرتے تو یقیناًاُردو کے سب سے بڑے مزاح نگار ہوتے۔انہوں نے ہندوستان اور پاکستانی فلمی گانوں پر بھی کئی بار اپنے طنز ومزاح سے پھلجڑیاں چھوڑی ہیں۔
 
ابن صفی بنیادی طور پر اصلاحی اور تعمیری رجحان رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کے ناولوں میں نیکی کو ہمیشہ ظفرمند اور باطل کو ہمیشہ شکست خوردہ پیش کیا گیا ہے۔ وہ چاہتے تو اپنے کرداروں کو اُس دور کے فیشن کے مطابق جدید تہذیب کے نمائندے بنا کر پیش کرسکتے تھے۔ لیکن ان کے کردار اخلاقی گراوٹوں سے پاک اور اعلیٰ اخلاق و تہذیب کی نمائند گی کرتے ہیں۔ فریدی اور عمران دونوں انتہائی پاک باز بلکہ زاہد خشک قسم کے کردار ہیں۔ حمید کو دو چار بار شراب پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن بہ ایں طور کہ انجام کار اس کی فضیحتی ہی ہوتی ہے اور وہ بھی آئندہ کے لیے توبہ کرکے قاری کو شراب کے اثرات بد سے محفوظ رہنے کا سبق دیتا ہے۔
 
عشق معاشقے کی برائی سے بھی ابن صفی کے کردار اور ناول عموماً پاک رہتے ہیں۔ ابن صفی کا ایک کردار گرانڈیل قاسم جنسی طور پر ہمیشہ ناآسودہ رہتا ہے کیونکہ اس کے پہاڑ جیسے جسم کے مقابلے میں اس کی بیوی کاجثہ گلہری جیسا ہونے کی وجہ سے دونوں میں کبھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوپاتے۔ اس لیے قاسم ہمیشہ موٹی تازی عورتوں کو دیکھ کر للچاتا اور جاگتے میں بھی ان کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔ ابن صفی نے اپنے اس کردار کو بھی کبھی جنس زدگی کا شکار نہیں ہونے دیا اور اس کی خواہشات اور بے چینی کو ہمیشہ طنز و مزاح کے پردوں میں چھپا کر ہی پیش کیا۔
 
ابن صفی نے ہر قسم کے کردار پیش کیے لیکن تہذیب اور شرافت و ادب کو کبھی پامال ہونے نہیں دیا۔ کیپٹن حمید اور اس کا دوست دیوزاد قاسم اُن کے ایسے کردار ہیں جو ہر وقت شرارت و شوخی اور ایک دوسرے سے نوک جھونک کرتے رہتے ہیں۔ ان لاابالی کرداروں کو پیش کرتے ہوئے بھی ابن صفی کا قلم تہذیب و اخلاق کی حدوں کی کس طرح پابندی کرتا ہے اس کے چند نمونے ملاحظہ فرمایئے۔ئ* ’’ایک تو وہ حرامی مارے ڈال رہا ہے۔ کئی سال پہلے کے پیسے باقی تھے وہ بھی نہیں دیے۔‘‘
اور تب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتی ہے۔ 
’’تب تو جی معاف کردو‘‘ قاسم بولا ’’بہت ہلکی گالی دی تھی تم نے‘‘ (زہریلا سیارہ) 
* قاسم کچھ بڑبڑایا تھا۔ یقیناًکوئی گندی سی گالی رہی ہوگی۔ (نیلم کی واپسی) 
* ’’خیر سگالی کیا ہوتی ہے؟‘‘
’’تم نے دیکھا۔ اُردو میں آکر اس میں بھی گالی شامل ہوگئی۔‘‘ 
’’ہو ہی نہیں سکتا۔ تم غلط بول رہے ہو۔ خیرسالی ہوگا۔‘‘ 
’’خیرسگالی ہی درست ہے۔‘‘ 
اس پر خیر سگالی کو بھی ایک گندی سی گالی ہضم کرنی پڑی تھی۔ (موروثی ہوس) 
* ایک گندی سی گالی قاسم کے ذہن میں گونج کر رہ گئی اور اس نے سختی سے ہونٹ بھینچ لیے کہ کہیں زبان سے بھی نہ پھسل جائے اور پھر اس کی زبان ! 
چھٹانک بھر کی گالی بھی ڈیڑھ من کی معلوم ہوتی تھی۔ (دہشت گر) 
* ’’خبردار جو میری بیوی کا نام لیا۔ گدّی سے زبان کھینچ لوں گا اور حمید کی تو .....!‘‘
اتنی خوفناک گالی تھی کہ حمید کو پسینہ آگیا لیکن کرتا کیا، سننی ہی پڑی کیوں کہ قراقاخان تھا (دہشت گر) 
ابن صفی کے بعض منفی کرداروں پر بھی ان کی نیک مزاجی اور پاکیزہ کرداری کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً سنگ ہی، جو جرائم اور اخلاقی گراوٹوں میں 
غرق ہے ،چونکہ عمران کو بھتیجا کہتا ہے (عمران پر اپنی برتری جتانے کے لیے) اس لیے ان عورتوں کی طرف بری نگاہ نہیں ڈالتا جو اپنے آپ کو عمران سے منسوب کردیتی ہیں۔ اسی طرح ’فنچ‘ ’ننھا شیطان یا ننھا فتنہ ہے لیکن وہ شراب بھی نہیں پیتا اور خواتین کا بھی احترام کرتا ہے۔
ابن صفی کا تعمیری و اصلاحی رجحان اپنے کرداروں کی اخلاقی پاکیزگی اور بدی پر نیکی کی فتح کے اظہار تک ہی نہیں رُکتا بلکہ یہ آگے بڑھ کر باطل نظریات پر ضرب کاری لگاتا اور اسلام کے روشن نظریے کی تبلیغ بھی کرتا ہے۔ مثلاً :
* عمران اپنے کرشچین ماتحت جوزف کو یومیہ شراب کی چھ بوتلیں پینے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن اپنے مسلم ماتحتوں کو نشہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ابن صفی اپنے بعض کرداروں کی زبانی شراب کے حرام ہونے کی بات کہلواتے ہیں۔ 
* بابا سگ پرست سیریز اور نیلم کی واپسی وغیرہ میں انہوں نے پردے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔
* صحرائی دیوانہ میں انہو ں نے کرنل فریدی کی زبانی کہلوایا ہے کہ کالی کملی والے( حضرت محمدؐ) اس (فریدی) کے استاد ہیں۔
* ان کے ناولوں میں خالص توحید پر بھی درس ملتے ہیں۔ ’’ تیسری ناگن ‘‘ سیریز کے آخری ناول ریگم بالا میں ایک جگہ حمید اور قاسم کی گفتگوکے دوران وہ 
موقع نکال لیتے ہیں: 
اچانک قاسم نے ٹھوکر کھائی اور حمید کو بھی اپنے ساتھ لیتا ہوا ڈھیر ہوگیا۔ 
’’ ارے مردود ۔۔۔ !‘‘ حمید کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔ 
’’ قیا قروں۔۔۔ سالی جندگی اجیرن ہوغئی ہے۔ اللہ میاں نے اتنا بڑا ڈیل ڈول دیا تھا تو لونڈیوں کے چکر میں نہ ڈالا ہوتا!‘‘
’’ خاموش رہو ۔۔۔ کفر نہ بکو ۔۔۔ بے ہودے۔۔ اللہ میاں نے نہیں تمھارے ابا میاں نے لونڈیوں کے چکر میں ڈالا ہے !‘‘ حمید اٹھتا ہوا بولا۔
* ایک ناول میں ابن صفی نے معاشرتی اور اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لیے سماجی اور مذہبی اصلاحی تحریکات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غالباً حکیم محمد اقبال صاحب ،
جو’ جماعت اسلامی پاکستان‘ کے رکن تھے ، کے زیر علاج رہنے کی وجہ سے ابن صفی کا تعمیری و اصلاحی رجحان اسلامی اور تحریکی رجحان میں تبدیل ہوگیا تھا۔
* ’’پاگلوں کی انجمن‘‘ میں انہو ں نے استاد نرالے عالم سے ایک غزل نما نظم پڑھوائی ہے جس کا ہر شعر اشتراکیت کارد اور اسلام اور شریعت محمدیؐ کے تفوق کا 
اظہار ہے۔ چند شعر ملاحظہ فرمائیں ؂
ایک دن جلال جبہ و دستار دیکھنا
ارباب مکر و فن کو سر دار دیکھنا
قرآں میں ڈھونڈتے ہیں مساوات احمریں
یارو نیا یہ فتنۂ اغیار دیکھنا
ورد زباں ہیں خیر سے آیات پاک بھی
ہے اہرمن بہ خرقہ و پندار دیکھنا
کل تک جو بتکدے کی اڑاتا تھا دھجیاں
اس کے گلے میں حلقۂ زنار دیکھنا
لائی گئی ہے لال پری سبزہ زار میں
ہوتے ہیں کتنے لوگ گنہ گار دیکھنا
فرصت ملے جو لال حویلی کے درس سے
ایک بوریہ نشیں کے بھی افکار دیکھنا
سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں، یوروپ اور امریکہ کی عالمی ریشہ دوانیوں اور مغربی تہذیب کی کمزوریوں کابھی انہوں نے کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کے کئی ناولوں میں بتایا گیا ہے کہ مشنری چرچوں اور پادریوں کے بھیس میں سرمایہ دار ممالک کے مغربی ایجنٹ کام کرتے ہیں۔ مثلاً سبز لہو اور تابوت میں چیخ وغیرہ۔ 
 
ہندوستان کی دیہی اور افلاس زدہ تہذیب اور مغرب کی نمائشی تہذیب کے فرق کو ابن صفی نے انتہائی طنزیہ انداز میں ’’ساتواں جزیرہ‘‘ اور اپنے دیگر ناولوں میں پیش کیا ہے۔ وہ مغربی تہذیب کے مظاہر پر بھی بڑی بے باکی سے پر مزاح طنز کیا کرتے ہیں۔ مثلاً:
* ’’ اس لڑکی کی پتلون تو ڈھیلی ہی کرادیجیے۔ بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے دو تربوز آپس میں لڑتے جھگڑتے چلے جارہے 
ہوں۔‘‘(ڈیڑھ متوالےأ* ڈاکٹر دعاگو سیریز میں ڈاکٹر کی نرس کے لپ اسٹک لگے ہونٹوں پرعمران طنز کرتا ہے ’’جیسے بلبل الٹ گیا ہو۔ ۔۔‘‘
* ساتواں جزیرہ میں انگریزی تہذیب کے متوالوں پر طنز ہے کہ وہ بیت الخلاء کے طور پر کھڈی کے بجائے کموڈپسند کرنے لگتے ہیں۔ 
* ’’انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کا سب کچھ غلط کردیا تھا۔ صرف ٹونٹی دار اور بغیر ٹونٹی کے لوٹے کوغلط نہ کر سکے کیونکہ ہندو اور مسلمان صرف اسی ایک 
بات پر متفق تھے کہ چاہے جان چلی جائے ہم تو کاغذ ہرگز استعمال نہیں کریں گے ۔‘‘(پاگلوں کی انجمن) 
* ’میناروں والیاں‘ میں جدید طبقے میں رائج بے حیائی پر اس طرح انگشت نمائی کی ہے:
’’آج سردی بڑھ گئی ہے ‘‘ ایک کہہ رہی تھی۔
’’ پرواہ نہ کرو‘‘ دوسری آواز آئی۔
’’ تھوڑی تکلیف اُٹھاؤ اور اپنے شوہر کے کرتوت سے آگاہ ہوجاؤ۔‘‘
’’ مجھے یقین نہیں آتا۔ ‘‘
’’بس جیسے ہی وہ آئے تم اس کی گاڑی کے پیچھے چھپ جانا اور دیکھنا کہ وہ کیسے انداز میں مجھ سے عشق کرتا ہے‘‘۔
صفدر بے حس و حرکت بیٹھا رہا ۔ دوسری نے کہا ’’تم مخواہ مخواہ مجھے پریشان کرتی ہو ۔ مجھے اس سے سروکار نہیں کہ وہ باہر کیا کرتا ہے۔‘‘
’’ مجھے حیرت ہے کہ تم کیسی عورت ہو ؟‘‘ 
’’میں بھی تو خاور کو چاہتی ہوں اور اسے اس کا علم نہیں!‘‘
’’ تب تو او ر بھی اچھی بات ہے ۔ اس وقت تم اسے پکڑ و اور اسی کو بنیاد بناکر اس سے چھٹکارا حاصل کرو!‘‘
’’ کس لیے‘‘ 
’’ اس لیے کہ خاور سے شادی کرسکو!‘‘
’’ہشت۔۔ اس کے بعد مجھے کسی دوسرے خاور کی تلاش ہوگی ۔ شوہر ایک ضرورت ہے اور محبوب ۔۔۔ہا۔۔۔ کسی محبوب کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتی‘‘
’’کمال ہے !‘‘
’’ میں اپنے ذہن کو اچھی طرح سمجھتی ہوں ۔ مجھے اس میں بڑی لذت محسوس ہوتی ہے کہ میرا شوہر خاور کے وجود سے لا علم ہے !‘‘
صفدر کی کھوپڑی سلگنے لگی۔ و ہ قطعی بھول گیا تھا کہ یہاں اس کی موجودگی کس بنا پر ہے ۔ اس نے کھڑکی سے سر نکال کر کہا۔’ ’ آپ بلا شبہ شوہر سے چھٹکارا 
حاصل کرکے خاور سے شادی کر سکتی ہو ۔ محبوبیت کے لیے میں اپنی خدمات پیش کردوں گا۔‘‘
* ابن صفی نے ’’ تصویر کی اڑان ‘‘ میں بھی جدید تہذیب پر ایسا ہی کاٹ دار طنز کیا ہے ۔
ابن صفی میرے اُستاد ہیں کیونکہ اُن کی تحریریں پڑھ کر میں نے اردو لکھنا سیکھا ہے۔ وہ میرے معالج بھی ہیں کیونکہ اُن کے ناول ’’تزکِ دوپیازی‘‘ پڑھ کرخارش کے چالیس سالہ پرانے مرض سے مجھے نجات ملی تھی۔مختلف پیتھیوں کے ذریعے اُس کا علاج کرانے کے باوجود مجھے شفا نہیں ملی تھی۔ ’’تزکِ دوپیازی‘‘ میں ہیرو نے ایک مریضہ کی کھجلی کا سبب مچھلی کے ساتھ مسور کی دال استعمال کرنا اور اُس کا علاج تُلسی کے پتوں کا لیپ اوربطور دوا اُنہیں کھانا بتایا ہے۔ میں نے پرہیز کے طور پر مچھلی کے ساتھ مسور کی دال، جو کہ میری مرغوب ترین ڈش تھی، کھانا ترک کردیا اور ساتھ ہی تُلسی کے پتوں کا استعمال بھی شروع کیا۔ حیرتناک طور پر مجھے چند ہفتوں میں ہی چالیس سالہ پرانے مرض سے نجات مل گئی۔ 
ابن صفی کے ناولوں میں مجھے صرف یہ بات اکثر کھٹکتی ہے کہ ان کا ہیرو اپنے کسی ساتھی پر اپنا میک اپ کرکے اور مجرموں کے گروہ کے کسی فرد کا بھیس بدل کر مجرموں کے درمیان گھس جاتا ہے ۔ وہ زیادہ تر اسی طریقے سے مجرم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ یا مجرم ٹولے کا کوئی فرد (زیادہ تر لڑکی) مجرمانہ زندگی سے بے زار ہوکر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہیرو کی مدد کرتا ہے۔ 
ابن صفی کی حیات میں اگریہ اعتراض ان کے سامنے آتا تو مجھے اندازہ ہے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے! اپنے مزاحیہ اور طنز آمیز طرز میں وہ لکھتے :’’ یہ تو ممکن نہیں کہ فریدی /عمران کو خواجہ عمرو کی گلیم اور زنبیل مل جائے یاوہ گنڈے تعویذوں کی مدد سے کامیابی حاصل کریں ۔ آپ کے پاس مجرموں کو پکڑنے کی اگر کچھ اور تدبیریں ہوں تو بتائیں تا کہ ان دونوں کووہ تدبیریں سجھائی جا سکیں۔۔۔۔ ۔‘‘
محمد اسلم غازی 
Mobile: 09869106329 
Email: maghazi.jih@gmail.com
+++++
Comments


Login

You are Visitor Number : 816