donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Md. Nezamuddin
Title :
   2013 ka Adabi Manzar Nama

 

 

2013

کا ادبی منظر نا مہ 


محمد نظام الدین چمپارنی

ریسرچ اسکالرشعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی

2013

،کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل سال رہاہے۔ ایک طرف قو می اوربین الاقوامی سطح پر سیاسی اتھل پتھل اور کرسی کے حصول کی خاطر تگ ودو دیکھنے کو ملا تو وہیں ادبی حلقوں میں نیا جوش وخروش اور مثبت سر گرمیوں کا نیا جہاں آبا د نظرآیا ۔ اردو ادب میں دو نظر یے ’’ادب برائے نجا ت ‘‘ (آمد، پٹنہ ، ہندوستان ) اور ’’ادب برائے تبدیلی ‘‘( اجرا، کراچی، پاکستان ) ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی تعاون سے سہ روزہ عالمی کانفرنس، اردومیں نیا سافت ویئر ، اردوکی بورڈ ، علا مہ اقبال کی فکر وفن پر جگہ جگہ سیمینار، مرزاغالب کے فلسفہ کی نئی افہام وتفہیم سے متعلق ادبی نشست وسیمینار ،ابن صفی کی ہمہ جہت پہلو پر گفت وشنید، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کی جانب سے ٹیگور پر وجیکٹ کے تحت ٹیگور شناسی کتاب کی اجرائ۔اس سال کے اہم کارنامے ہیں۔ 

جہاں تک اردو ادب میں تخلیقات ، تصنیفات اور تحقیقات کا سوال ہے تو اس میدان میں بھی بیش بہا اور گرانقدر کارنامے ادب کے بحرذخار میں اضافہ کی حیثیت سے منظر عام پر آئے ۔ اگر ہم فکشن کی با ت کریں توافسانہ اور ناول وغیر میں شائع شدہ اہم او رمعیاری کتابوں کی ایک لمبی فہر ست ہے۔ تووہیں اگر غیر فکشن میں طبع شدہ کتابوں کا مجموعی جائزہ لیں تو اس کی طویل قطار ہے ۔ جس پر مفصل گفتگو کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ 

سب سے پہلے شاعری کے اصناف میں شائع شدہ اہم کتابوں کا جائز ہ پیش خدمت ہے:


(۱۔جدید اردو مثنوی فن او رفکر ی ابعاد ۔(ظفر انصاری ظفر


یہ کتا ب جدید ا ردو مثنوی کے فن اور اس کے دیگر لوازمات کے بارے میں ایک منفرد اور اہم کتا ب ہے۔ اس کتاب میں جدید مثنو ی کے نکا ت ، تکنیک اور دوسری لوازمات کے تعلق سے مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کتا ب میں جدید اردو مثنو ی کے فنی اور فکری ابعاد کا خوبصورت اسلو ب اور اندازمیں نا قدانہ جائز ہ بھی لیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کتا ب میں 1874سے 2012تک کے عرصے میں لکھی گئی مثنویوں کا فنی اور فکری احاطہ بھی کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کتا ب جد ید اردو مثنوی کی افہام وتفہیم کے با ب میں معاون و مدد گار ہے۔ 


(۲۔آٹھواں آسمان ۔( پروفیسر محمد علی اثر 


یہ پر وفیسر محمد علی اثر کا مجموعہ کلام ہے۔ اس مجموعہ میں حمد ونعت کے علاوہ نظم ، رباعی اور قطعہ وغیر ہ بھی شامل ہے۔  اس مجموعہ کی خاص با ت یہ ہے کہ اس میں دو رحاضر سے متعلق کلام موجود ہے۔ گوکہ پر وفیسر محمد علی اثر تمام اصناف پر دستر س رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے جذبات اور احساسات کے اظہا رکا ذریعہ شاعری میں نظم کو زیادہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں شاعری کے میدان میں بھی ان کی ایک منفر دشنا خت قائم ہے۔ 


۳۔کما ن ۔شعری کلیات (جلد اول )ترتیب و تدوین : فیروز مظفر 


یہ پر وفیسر مظفر حنفی کا شعری مجموعہ ہے۔ جس میں تمام طرح کی نظمیں ، عشقیہ غزلیں اور طنزیہ غزلیں شامل ہیں۔ پروفیسر مظفر حنفی کا شمار  ہما رے عہد کے معتبر اور مستند ادیبوں اور شاعروں میں ہو تا ہے۔ وہ پچھلے ساٹھ برس سے بے تکان پر ورش لوح وقلم میں مصروف ہیں۔ اور ان کی تصنیفات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ لیکن وہ اپنے جذبات کے اظہا رکا وسیلہ شاعری کو بنا تے ہیں۔  جس میں گہرائی ، گیرائی اور فکری جہات کا ٹھاٹھیں ما رتا سمندر نظر آتا ہے۔ 


۴۔جہان غالب ۔ مدیر :ڈاکٹر عقیل احمد ۔نگراں :پرو فیسر شمیم حنفی 


غالب  اکیڈمی دہلی کی طرف سے شائع ہو نے والا ’’جہان غالب ‘‘ اپی نوعیت کا منفرد رسالہ ہے۔ جس میں غالب کے حوالے سے مضامین شائع کیے جا تے ہیں۔ ارد وکے آفاقی شعرامیں غالب کا مقام سرفہرست ہے۔ غالب پر آج بھی رسالوں میںگوشے اور نمبر شائع ہو تے رہتے ہیں۔ اور نت نئے انکشافات ہما ری حیر ت و استعجاب میں اضافے کے باعث بنتے رہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ’’جہان غالب ‘‘ جیسے رسالہ صرف مطالعہ غالب کے لیے مخصوص کیے جا تے ہیں ۔ جس میں صرف غالب پر تحریریں ا ورمضامین شامل ہو تے ہیں۔ اس سال کا ’’ جہان غالب ‘‘ گلستان غالب میں ایک اہم پھو ل کا درجہ رکھتا ہے۔ 


(۵۔ مجاز :شخص وشاعر۔(پرو فیسر علی احمد فاطمی


اہم اور معروف ترقی پسند ناقد پرو فیسرعلی احمد فاطمی کی کتا ب ’مجاز :شخص وشاعر‘ مجا ز صدی کے قومی اوربین الاقوامی سمیناروںکے لیے لکھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔ اس کتا ب میںترقی پسند شاعر مجا ز کے ہمہ جہات پہلو ئوں پر عالما نہ گفتگو کی گئی ہے۔ جس سے مجا ز کی شخصیت اور شاعر ی کوسمجھنے می کافی مدد ملتی ہے۔ پر وفیسر فاطمی کاخیال ہے کہ شاعر ترقی پسند ہو جد ید سب ہما رے اردو زبان کے شاعر ہیں ۔ انہیں خلوص او رہمدردی سے پڑھنے ، سمجھنے اور نئے تناظر میں پیش کر نے کی ضرورت ہے۔ 


۶۔ کلیات آل احمد سرو ر۔ مر تب : محی بخش قادری 


آل احمد سرور کے چا رشعری مجموعوں پر مشتمل یہ کلیات ہے۔ محی بخش قادری نے یہ کلیات ترتیب دے کر ایک اہم فریضہ انجا م دیا ہے۔ اور آل احمد سرور کے خیالات کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کر نے کی سعی کی ہے۔ جس کی اہمیت اور افادیت ہمیشہ قائم رہے گی ۔ اس کلیات کے مطالعہ کے بعد سر ور صاحب کی شاعر ی سے متعلق رائے نیزاپنی شاعر ی کے متعلق وہ کیا سو چتے تھے ، تمام پہلو واضح ہو جا تاہے۔ 


۷۔بڑا شہر اور تنہا آدمی ۔ شاعر : پر ویز شہر یار 


پر ویز شہر یار ادبی دنیا میں ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے جا نے جا تے ہیں ، لیکن حا لیہ دنوں میں ان کا اولین مجموعہ شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔ جس میں انہوں  نے عصرحاضر کی شہر زندگی کے انفرادی اور اجتما عی مسائل کو اپنے منفرد لب ولہجہ میں بیان کر نے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے غزل سے زیادہ نظم کو اپنے جذبات کے اظہا رکاذریعہ بنا یا ہے۔ 


۸۔شاید ۔ شاعر: جعفر ساہنی 


موجودہ عہد میں غزل جن شعرا کے حوالے سے متعارف ہے یا جن شعرا کے یہاں فی الوقت غزل پورے آب وتا ب اورزیب تن کے سا تھ جلوہ گر ہے۔ ان میں ایک نا م جعفر ساہنی کا ہے۔ ان کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے شاعر ی کے سا تھ ساتھ کہانیاں بھی تخلیق کیں ہیں۔ 


جعفر ساہنی کی غزلیں ان معنوں میں اہم ہیں کہ انہوں نے بہت اہم سلگتے ہو ئے اور سنجید ہ وپیچید ہ موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنا یا ہے۔ زند گی کے داخلی اور خا رجی دونوں عناصر کی شاعر ی میں یکسا نیت کے سا تھ سامنے آئے ہیں۔ 


۹۔شمیم سخن ۔ڈاکٹر عظیم امرو ہوی 


’شمیم سخن ‘ ڈاکٹر عظیم امروہوی کی تحقیق و تدوین پر مبنی شمیم امروہوی کے 12مراثی کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ کے مطالعہ کے بعداندازہ ہو تا ہے کہ شمیم امروہوی کے مراثی فکر وفن کی گوناگوں خصوصیات کے حامل ہیں۔ اوران کے یہاں کلا سیکی کربلائی مرثیے کے اجزائے تر کیبی اور جملہ فنی لوازمات کا بخوبی اہتمام پایا جاتا ہے۔ گو یا یہ مجموعہ شمیم امروہوی کے فکروفن کے درکو واکر نے میں معاون ومدد گار ہے۔ 


۱۰۔آوازکا پیرہن ۔کند ن سنگھ کند ن اراولی ۔مرتب : ڈاکٹر لو ک ویر 


یہ کندن کے کلام کا مجموعہ ہے۔ جسے ان کے بیٹے نے اس کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔ اس مجموعہ میں شاعری کے تمام اصناف پر کلام موجود ہے۔ غزل ، نظم اور رباعی وغیر ہ سب شا مل ہے۔ لیکن غزل کا حصہ زیادہ ہے۔ جس میں انسانی زندگی کے نشیب وفراز کی داستان موجود ہے۔ 


۱۱۔ انگلیاں خا موش ہیں۔ ڈاکٹر ممنو ن خا ن ممنو ن 


یہ ڈاکٹرممنون خان ممنون کا شعری مجموعہ ہے۔ جس میں انہوں نے زندگی کے تلخ تجربات کو شاعری کے وسیلے سے بیان کر نے کی کا میا ب کو شش کی ہے۔زندگی کے خوبصورت اور حسین لمحات ، اورمسرت وانبساط کے احساسات کے علاوہ غم ، درد،کرب او رکسک وغیرہ کے روداد بھی ان کے کلام میں موجود ہے۔ 


 ۱۲۔کلیات ۔ فضاابن فیضی ۔ ترتیب وتدوین : محمد جابر زماں 


فضا یہ کلیات صرف غزلوں کے سرمایے پر مشتمل ہے۔ اور اس میں جن مجموعوں کو شامل کیا گیا ہے ۔ ان کے نا م یہ ہیں۔ سفینہ زرگل، دریچہ سیم وزر، پس دیوار حرف اور سبزہ معنی یگانہ ۔


۱۳۔فصیل ۔ شارق عدیل 


یہ نظموں کا مجموعہ ہے۔ شارق عدیل نئی نسل کے قادرالکلام اور ما ہر فن شعرا میں سے ایک ہیں۔ انہیں شاعری کی تمام اصناف پر دسترس حاصل ہے۔ جبکہ وہ نت نئے اصناف شاعری پر کا میا ب تجر بے کے لیے جا نے جا تے ہیں۔ 

۲۰۱۳میں اردو رسائل کی بات کریں تو انشائ، سب رس، آجکل، ایوان اردو، شاعر، بیباک جیسے ماہنامہ رسائل اپنی چمک بکھیر رہے تھے۔ آمد(خورشید اکبر)، ثالث(اقبال آزاد)، جہان اردو،تمثیل نو، اردو چینل(قمر صدیقی)تحریر نو (ظہیر انصاری) جیسے رسائل نے ادب کے معیار کو بلند کیا— 2012 میں ذوقی کا ناول لے سانس بھی آہستہ اپنے موضوع کو لے کر بحث میں رہا تو اسی برس نورالحسین کا ناول ایوانوں کے خوابیدہ چراغ، رحمن عباس کے ناول خدا کے سائے میں آنکھ مچولی اور شائستہ فاخری کے ناول نادیدہ بہاروں کی تلاش شائع ہوئے اور ان ناولوں کی چمک 2013تک برقرار رہی۔ 2013 کی شروعات میں ہی ذوقی 740صفحات پر مشتمل نیا ناول آتش رفتہ کا سراغ لے آگئے۔ یہ ادب اور ناول کی دنیا میں بڑا ہنگامہ ثابت ہوا۔ پچھلے برسوں کی طرح 2013 کو بھی ذوقی کا سال کہا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کے موضوع پر ان کے ناول کو نہ صرف عوامی اور ادبی مقبولیت ملی بلکہ ایک سال میں ہی اس کا دوسرا ایڈیشن آرٹ پیپر پر شائع ہوا، اور ایک برس کے عرصہ میںہندو پاک کے جرائد و اخبار میں جتنے مضامین اس ناول پر شائع ہوئے ،یہ سلسلہ کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔


آتش رفتہ کا سراغ )ناول— مشرف عالم ذوقی)


یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی آپ بیتی ہے— ذوقی کے حساس قلم نے یہ ناول لکھ کر ہندوستانی مسلمانو ںکا حق ادا کیا ہے— سماج ، سیاست اور مذہب کا ایسا خوبصورت جائزہ اور اس موضوع پر ناول لکھنا جرأت کا کام تھا۔ ادب کی دنیا میں یہ ناول شاہکار کا درجہ رکھتا ہے اور اسے فراموش کرنا آسان نہیں۔


(خلش بے نام سی ( افسانے — صادقہ نواب

 


صادقہ نواب سحر نے افسانے بھی لکھے ہیں اور ناول بھی— ابھی حال میں ان کا افسانوی مجموعہ منظر عام پر آیا ہے— صادقہ نواب سحر گھریلو معاملات کو سلیقہ سے اٹھانے کا فن جانتی ہیں۔


(لیمنٹیڈ گرل( ناول اختر آزاد


اختر آزاد کا یہ ناول ابھی حال میں شائع ہوا ہے— یہ آج کے بگڑے ہوئے معاشرے پر خوبصورت طنز ہے— اختر آزاد فکشن میں نئی نسل کی نمائندگی کررہے ہیں۔


(نفرت کے دنوں میں ( افسانوی انتخاب مشرف عالم ذوقی 

— ۲۵ کہانیوں پر مشتمل یہ انتخاب ا ردو

افسانوی دنیا میں ایک نئے عہدکی شروعات کرتا ہے— یہ افسانے عام روایتی افسانوں سے مختلف

ہیں اور عالمی شہہ پاروں کی  یاد تازہ کراتے ہیں—


بوند بوند اجالا( ناول — احمد صغیر)— احمد صغیر اندنوں مسلسل لکھ رہے ہیں— ا فسانے بھی

اور ناول بھی— یہ ناول بھی ۲۰۱۳ میں شائع ہوا ہے— معاشرے کی ایک ستا ئی ہوئی عورت کس

طرح آزادی کے لئے آواز بلند کرتی ہے،یہی اس ناول میں دکھایا گیا ہے—


 اردو فکشن کی بات کریں تو قومی اردو کونسل کے رسالہ فکر و تحقیق نے 700صفحات پر مشتمل افسانہ نمبر شائع کیا اور 1980کے بعد کے افسانوں کا تجزیہ و محاکمہ پیش کیا۔ اس شمارہ کے افسانہ نگاروں میں عبد الصمد، سلام ابن رزاق، ذوقی، شائستہ فاخری، ترنم ریاض، تبسم فاطمہ، نگار عظیم چھائے رہے— اس خصوصی شمارہ سے اردو افسانہ کا نیا چہرہ سامنے ا ٓیا۔ ساتھ ہی گلوبلائزیشن، انفارمیشن ٹکنالوجی اور تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں آج اردو ا فسانہ کا مقام کیا ہے، اس پر بھی گفتگو کے نئے ا فق روشن ہوئے— اس برس ساہتیہ اکادمی میں نوجوان ادیب کے طور پرمعیدرشیدی کو ساہتیہ اکادمی انعام سے نواز ا گیاتو سال کے آخر میں فلمی شاعر جاوید اختر کے نام پرساہتیہ اکادمی کی مہر لگ گئی۔ اس اعزاز کی بہار سے ممبئی تک مخالفت ہوئی۔ سید احمد قادری نے کہا کہ یہ انعام کسی اردو والے کو ملنا چاہئے تھا۔ ادب میں مصلحت اور سیاست کا دخل آج بھی جاری ہے اور اسی لئے ادب کی خدمت کرنے والوں سے الگ اس کا معاوضہ غیر اردوداں اور فلمی شخصیت کو ملتا رہا ہے۔ بہر کیف، اس سیاست کی مخالفت ضروری ہے۔ 


الغرض—۲۰۱۳، ادبی تخلیقات اور کاوشات کے ا عتبار سے کافی اہمیت کا حامل سال رہا ہے— جس میں فکشن ا ور غیر فکشن میں گرانقدر کتابیں منظر عام پر آئیں۔ جواردو ادب میں اضافے کی باعث بنیں—


Address: 
Md.Nizamuddin
Room No.23,Gwyer Hall,
University of Delhi.
E-mail: nizamindia9@gmail.com
Mbob:9718048854

********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 693