donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Md. Wasiullah Husaini
Title :
   Dr Wazahat Hussain Rizvi Aur Urdu Novelet


ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی اور اردوناولٹ


 محمد وصی اللہ حسینی

                    

ادب میں دوطرح کے قلم کارہمیشہ رہے ہیں۔ ایک وہ جو بہت کثرت سے لکھتے ہیں ، دوسرے وہ جو بہت کم لکھتے ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ زیادہ لکھنے والے مشہور تو ہوجاتے ہیں لیکن کوئی دیر پانقش چھوڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے برعکس کم لکھنے والے، اگرچہ کبھی کبھار ہی لکھتے ہیں لیکن جوکچھ لکھتے ہیں وہ بہت اہم ہوتاہے ۔ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی کا تعلق دوسرے قبیل سے ہے۔ انھوںنے اگرچہ بہت کم لکھا ہے،لیکن جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس کا حق اداکردیا۔ مثال کے طورپر اردو ناولٹ پر انھوںنے کام کیا اور اپنی محنت ، دیدہ ریزی، تحقیقی صلاحیت اور تنقیدی بصیرت سے ایک نیاجہان دریافت کیا۔ اس موضوع پر ان کی دوکتابیں ’ اردو ناولٹ کا تحقیقی وتنقیدی تجزیہ ‘ اور ’اردو ناولٹ: ہیئت ، اسالیب اور رجحانات ‘ ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں ۔آج وہ کتابیںنئے لکھنے والوں کیلئے مشعل ِراہ ثابت ہورہی ہیں۔

ناولٹ ایسا موضوع ہے جس پر اردو میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔  ناولٹ تو خوب لکھے گئے ،لیکن ناولٹ پر بہت کم لکھا گیا۔ اگر کچھ لوگوں نے کچھ لکھا بھی توان میں سے زیادہ ترنے لکیر پیٹنے کاکام کیا۔ ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی نے نہ صرف اس نظرانداز کی گئی صنف ِ ادب پر قلم اٹھایا بلکہ اس کے مالہ وماعلیہ پر مدلل گفتگو کی۔ان کا دور ِطالب علمی سے ہی یہ شعاررہا ہے کہ انھوںنے صرف ان موضوعات کوتحقیق وتنقیدکیلئے منتخب کیاجو نئے اور اچھوتے رہے ہیں۔ حالیہ دور میں جب کہ زیادہ ترطلباء اپنی تھیسس کیلئے آسان اور پامال موضوعات منتخب کرکے ’کٹ -پیسٹ‘ سے کام چلارہے ہیں ،انھوںنے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کیلئے اردو ناولٹ جیسا خشک اور غیرممسوس موضوع منتخب کیا اور ’اردو ناولٹ کا تحقیقی وتنقیدی تجزیہ‘ جیسی قابل قدرکتاب لکھ کر یہ ثابت کردیا کہ یہ دنیا مردانِ جفاکش کیلئے تنگ نہیں ہے۔ ایسے وقت میںجب کہ اس موضوع پر اردو میں دوچار مضامین ومقالات کے علاوہ کوئی مواد دستیاب نہ ہو ایک ضخیم کتاب لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایسے کام کیلئے واقعی’ چیتے کا جگر‘اور’ شاہیں کا تجسس ‘چاہئے۔

اردو ناولٹ پر کام نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ راہ بڑی دشوار گذارتھی۔ اس پر چلنا پل صراط پر چلنے کے مترادف تھا۔یہی سبب ہے کہ اس پر قلم اٹھانے کی ہمت بڑے بڑوں کو نہیں ہوئی۔ مذکورہ دونوں کتابوں پر گہرائی سے نظر ڈالنے کے بعد احساس ہوتاہے کہ ڈاکٹر رضوی کا اردو ناولٹ پر تنقیدی محاکمہ سوئی کے ناکے میں اونٹ گذارنے کے مصداق ہے۔نئی نسل کے ممتاز نقادحقانی القاسمی نے بالکل درست لکھا ہے:

’’ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی نے ایک غیر مسوس موضوع کو اپنی تحقیق کامرکزومحور بناکر بھیڑ سے الگ شناخت قائم کرلی ہے کہ زوال  ِعلم وتحقیق کے عہد میں اس طرح کے موضوع کا انتخاب ہی اپنے آپ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ تحقیق وتنقید ( تحقید) کی وہ پرانی رہ گزر نہیں ہے جس پر تحقیق کے جانے کتنے قافلے گزرچکے ہیں۔ یہ ادب کائنات سے بالکل نیا مکالمہ ہے، ایک نیا تنقیدی ڈسکورس اور ایک نئی منزل جہاں ان کے سواکوئی دوسرا نہیں ہے۔‘‘

زیادہ ترنقادوں اور فن کاروں نے ناولٹ کوالگ صنف ِادب ماننے سے انکار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ زیادہ ضخامت ہوتو ناول اورکم صفحات ہوں تو ناولٹ ہے، یعنی باعتبارموضوع، مواد، مسئلہ اور ہیئت ناولٹ کاکوئی وجود نہیں ہے، بلکہ صرف صفحات کی تعداد سے ناول یا ناولٹ کاتعین کیا جائے گا۔ ناول اور ناولٹ لکھنے والوں تک کوعلم نہیں ہے کہ دونوں اصناف میں کیا فرق ہے۔تعجب ہوتاہے کہ عصمت چغتائی ایسی فکشن نگارنے لکھا ہے کہ ناولٹ لکھ تو سکتی ہوں لیکن بتا نہیں سکتی کہ وہ کیا ہے۔ دراصل ناول اور ناولٹ کے مابین اتنا باریک فرق ہے کہ دونوں کے درمیان خط ِ فاصل کھینچنا آسان کام نہیں ۔ بڑے بڑے ناقدین  ِادب نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔لیکن ڈاکٹر رضوی نے بڑی قطعیت اور وثوق سے ناولٹ کو باقاعدہ ایک الگ صنف قرار دیتے ہوئے ناول اور ناولٹ کی الگ الگ امتیازی خصوصیات پرتفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگرناولٹ خود مکتفی صنف نہیں ہے توالگ سے نام رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ناولٹ پر ناقدین کے اقوال کے مطابق تو افسانہ کوبھی الگ صنف ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر صفحات کی کثرت وقلت ہی اصناف کے تعین کا معیار ہے تو اس کے مطابق صرف ناول کو صنف ادب قرار دینا چاہئے۔ ضخیم ہے توناول، کم صفحات ہیں تو مختصرناول اورمزید کم صفحات ہیں تو مختصر ترین ناول۔ناولٹ اور افسانہ الگ الگ نام رکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔لیکن ایسا ہے نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ناولٹ ایک علاحدہ صنف ہے اور اس کے کچھ امتیازات اور تقاضے ہیں۔ ڈاکٹر رضوی نے اربابِ فکرونظر کے افکار ونظریات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ان پربہت سے سوالیہ نشان لگائے ہیں۔ وہ استفہامیہ انداز میں لکھتے ہیں:

’’اگرناول مختصر ترین ہو اور ناولٹ طویل ترتو خط امتیاز کیوںکر کھینچاجائے گا‘‘؟

وہ ناقدین کے خیالات اور مفر وضات کی تردید کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

’’جو چیز یں ناولٹ کوناول سے اور ناول کو طویل افسانے سے منفردکرتی ہیں وہ ہیں مسئلہ اوردائرۂ عمل ۔ ناول میں زندگی اور سماج کے مختلف النوع اور پرپیچ مسئلے ہوتے ہیں، جس کے باعث اس کا کینوس وسیع ہوتاہے اور ناول کا خالق زندگی کے گوناگوں مسئلے کوطے کرکے اس کی ترجمانی کرتاہے۔ اس کے برعکس افسانہ اور طویل افسانے میں کسی ایک مسئلہ کا ایک گوشہ ہی پیش کیا جاتاہے ۔جب کہ ناولٹ میں کسی اہم مسئلہ کے خاص پہلوؤں کی ترجمانی بڑی چابکدستی اور باریک بینی سے کرنی پڑتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر رضوی نے ناول، ناولٹ اور افسانے کی مابہ الامتیاز خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے تینوں اصناف کا تنقیدی محاکمہ کیا ہے اور طویل افسانے وناول کے مقابلے میں ناولٹ کو ایک الگ صنف قراردیا ہے ۔وہ ناولٹ کو ناول میں ضم کرنے کے بالکل قائل نہیں ہیں۔خلط مبحث نہ ہو اس کے پیش ِنظر انھوںنے باقاعدہ ناولٹ کی تعریف وضع کی ہے۔ ان کی وضع کردہ تعریف ملاحظہ فرمائیں:
’’ناولٹ زندگی یا سماج کے کسی اہم مسئلہ اور اس کے خاص پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیتاہے جس کی اپنی الگ تنظیم ہوتی ہے جو ناول سے قدرے مختصر مگر طویل افسانے سے زیادہ طویل اور تفصیلی ہوتاہے۔‘‘

مذکورہ تعریف پر غور کریں تویہ بڑی حد تک درست معلوم ہوتی ہے۔ اس سے ناولٹ کے خدوخال بالکل واضح ہوجاتے ہیں اور ناول وناولٹ کی تفہیم میں جوابہام پایا جاتاہے وہ بھی دور ہوجاتاہے۔ جو لوگ فکشن تنقیدپر نظر رکھتے ہیں وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر رضوی نے نثری ادب کی دواہم اصناف کے مابین خط امتیاز رکھینچ کرکتنابڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں بڑے بڑے نہیں پہنچے سکے۔ انہوںنے فکشن تنقید کی بلند ترچوٹی پر کامیابی کا پرچم لہراکرادبی کوہ پیمائی کا ایک نیاریکارڈ قائم کیا ہے۔ان کی تعریف سے اختلاف توکیا جاسکتاہے مگر ان کی نیت اور محنت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ انھوںنے ناولٹ کی تعریف وضع کرکے اپنی ذہانت، تنقیدی بصیرت ، دوراندیشی اور جفاکشی کاثبوت پیش کیا ہے۔ اسلامی فقہ کا ایک اصول ہے کہ اگر مجتہد کوئی اجتہاد کرتاہے اور وہ اجتہاد درست ثابت ہوتاہے تو اسے دوہراثواب ملے گا۔ لیکن اگر اجتہاد غلط ثابت ہوجاتا ہے تب بھی اسے ایک ثواب ملے گاکیوںکہ اس نے ایمانداری سے جدوجہد کی۔ چنانچہ اگررضوی صاحب کی تعریف قابل  ِقبول ہوگئی تو دوہرا ثواب ،ورنہ ایک ثواب توملے گا ہی کیوں کہ انھوںنے اردو تنقیدمیں بحث کاایک نیا باب واکیا ہے۔ماہنامہ ’نیادور‘ لکھنؤ کے ایڈیٹر ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی نے اردوناولٹ پر نئے زاویئے سے کام کرکے یقینااردوادب کے دامن کو وسیع کیاہے۔


*******************************

Comments


Login

You are Visitor Number : 577