donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Nadeem Siddiqui
Title :
   Main Dashte Zindagi Me Khule Sar Nahi Rahi : Ada Jafri


مَیں دشتِ زندگی میں کھلے سَر نہیں رہی: ادا جعفری


   ۱۹۹۵ میں ادا جعفری کی سوانحی خود نوشت’ جو رہی سو بے خبری رہی‘ کی خبر پڑھی چند دِنوں کے بعد روز نامہ جنگ (کراچی) کے زیر اہتمام اس کتاب پر ایک مذاکرے کا انعقاد ہوا اور اُس کی تفصیلی رپورٹ ’جنگ‘ ہی میں اہتمام سے شائع کی گئی۔ وہ بھی ذہن میں موجود ہے۔

اُردو شاعرات کی فوری طور پر اگر کوئی فہرست مرتب کی جائے تو اس مختصر ترین فہرست میں ادا جعفری کا نامِِ نامی اوّلین حیثیت کا حامل ہوگا۔ ایک سانس میںیہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ادا جعفری مشہورِ زمانہ پروین شاکر کی پیش رَو محترم شاعرہ ہیں بلکہ اگریہ کہا جائے کہ نسائی احساسات و جذبات کے اظہار کو اگر پروین شاکر نے ایک بے مثل شعری پیکر دیا ہے تو محترمہ ادا جعفری ہمارے شعری ادب میں اسی جرأت کی موسس تھیں۔ انہوں نے جس زمانے اور جس تہذیب و ادب و آداب میں آنکھیں کھولی تھیں، اُس ماحول میں وہ ایک غیر معمولی جرأت کی حامل خاتون کہی جانے کے قابل ہیں۔

 ادا جعفری کی شخصیت اور ان کے فکری رُجحانات کے پس منظر کو سمجھنے کیلئے ان کی سوانحی کتاب کا مطالعہ ناگزیرہے۔ شاعری تو  رودادِ حیات کی ایک اِجمالی شکل ہوتی ہے کہ اس میںآدمی از خود کئی پابندیاں اختیار کرتا ہے مگر ظالم نثر اپنے لکھنے والے کو بالکل آزاد رکھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے جس طرح چاہے اپنی بات کہے۔ نہ تو اس میں کوئی بحر ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں قافیے ردیف کی کوئی پابندی لازم قرار پاتی ہے۔ بلکہ لکھنے والے کے سامنے ایک طرح کا کھلاآسمان ہوتا ہے کہ وہ کتنا اُڑتا ہے اور کہاں کہاں اپنی اُڑان کے کمالات دِکھاتا ہے یا صرف پَر پھڑ پھڑا کر زمین پر آرہتا ہے۔

 ادا جعفری کی آج جب سناؤنی ملی تو ذہن میں ان کی اس کتاب کے تمام ابواب ہی نہیں اس زمانے کے تمام اوراق بھی کھلتے چلے گئے، جنہیںاس کتاب میں ادا ؔنے اپنے قلم سے ایک زندگی دیدی ہے۔

 ادا جعفری کے شعور نے جس زمانے میں آنکھیں کھولی تھیں وہ زمانہ اس دَور کی طرح کھلی فضا یا آزاد روِش پر نہیں تھا اخلاق ، ادب وآداب کے نام پر نجانے کس کس طرح کی پابندیاں ایک اصول اور ضابطے کی شکل میں موجود تھیں جن سے رو گردانی کرنا کسی بھی ’جرم‘ سے کم نہیں تھا۔ اُتر پردیش کا تاریخی شہر بدایوں جسے مدینۃ الاولیا بھی کہا گیا ہے اس شہر کی ’ ٹونک والی حویلی‘ سے ان کی  مذکورہ سوانحی کتاب شروع ہوتی ہے۔ اس حویلی اور اس وقت کے بدایوں کا وہ ماحول کیا رہا ہو گا کہ ادا جعفری اپنی پختہ عمر تک جسے اس کی تمام تر جزٔیات کے ساتھ ذہن میں سجائے رہیں۔ انہوں نے ایک جگہ بڑی یاس و حسرت کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’۔۔۔۔۔۔ میں بڑی حویلی میں پیدا ہوئی۔ عجب حقیقت ہے کہ بڑی حویلی کو اپنا گھر کہتے ہوئے ایک سفاک یاد میرے روبرو آجاتی ہے۔ جب مجھے اچانک احساس ہوا تھا کہ مَیں یہاں رہتی ہوں لیکن یہ میرا گھر نہیں ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔اس جملے کے آخری ٹکڑے میں ایک کرب اپنی معنوی گہرائی کے ساتھ ہمارے دِل میں ایک ہَول کا احساس دِلا تا ہے۔ ان کی یہ کتاب بظاہر ایک آپ بیتی ہی ہے۔یقیناً’ ٹونک والی حویلی‘ سے جو شروع ہوتی ہے مگر اس میں ایک دُنیا جہان سمیٹ دیا گیا ہے۔ عموماً شعرا میں ایک حسد کا رُجحان عام ہے اور اگر شاعر کوئی عورت ہو تو یہ رویہ مستزاد بن جاتا ہے مگر ادا جعفری اپنے ظرف اور اپنے قلمی کردار سے اس کتاب میں جس طرح سامنے آتی ہیں وہ بھی ایک روشن مثال ہے:’’۔۔۔ ہماری اُردو شاعر خواتین اپنی الگ پہچان بھی رکھتی ہیں اور ساکھ بھی، اپنا اپنا رنگِ سخن ہے اور اپنی اپنی جرأت اظہار۔ زہرہ نگاہ، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، پروین شاکر، شاہدہ حسن، فاطمہ حسن، عشرت آفریں،شبنم شکیل، پروین فنا سید ، عرفانہ عزیز، تنویر انجم،، عذرا عباس، منصورہ احمد، اور میری ایک بہن زیتون بانو جو شاعری اور افسانہ نگاری دونوں میں اپنی پہچان رکھتی ہیںاُردو اور پشتو دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ انکے بعد متعارف ہونے والی خواتین میں بھی کئی اور معتبر نام ہیں۔۔۔۔‘‘

 ادا جعفری کا اوّلین تشخص یقینا ایک شاعر ہی کے طور پر مسلمہ ہے مگر نثر میں ان کی مذکورہ تصنیف بھی اعتبار اور اپنے اسلوب  کامثالی نمونہ بن گئی ہے۔ جس طرح وہ شاعری میں ایک تکلف اور بعض حدود کی از خود پابند نظر آتی ہیں اسی طرح اس کتاب میں بھی اُن کی ذہانت اور ان کی متانت جلوۂ خفی بنی ہوئی ہے۔

 جمیل الدین عالیؔ کا مذکورہ کتاب کے حوالے سے ایک تبصرہ یاد آتا ہے کہ کچھ بھی لکھا جائے اور کسی انداز سے لکھا جائے اس میںہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس میں ادب کس درجہ نفوذ ہو سکا یا ہوا بھی۔ ادا جعفری کی یہ کتاب ادب اور زندگی سے بھری ہوئی ہے۔ اس کتاب میں دُنیا جہان کے سفر بھی موضوع بنے ہوئے ہیں کہ جو ہماری معلومات میں اضافے کا سبب بن گئے ہیں۔ ادا جعفری گزشتہ دن اس دُنیا سے رُخصت ضرور ہوئی ہیں مگر وہ اپنی تحریروں میں ، اپنے شعروں میں زندگی کی ایک مجسم ادا بن گئی ہیں ایک ایسی زندگی جس سے موت شرمندہ رہتی ہے۔ ادا ؔکا یہ ایک شعر ان کی فکر اور ان کے مزاج کا کیسا عمدہ منظر پیش کر رہا ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مَیں دشتِ زندگی میں کھلے سَر نہیں رہی÷ اک حرفِ آرزو کی رِدا مل گئی مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ایسی صاحب رِدا اداؔ(جعفری) کا رُخصت ہونا یقینا ہمارے پورے ادب کا، ہماری پوری تہذیب کا ناقابل ِ تلافی نقصان ہے۔ مگر یہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ وہ اپنے قلمی کردار میں زندہ  و تابندہ ہیں    ۔ 

NadeemSiddiqui

*******************************

 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 383