donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Noorain Ali Haq
Title :
   Adab Mokalma Aur Naujawan


ادب ، مکالمہ اور نوجوان


نورين علي حق


زندگي کے تمام شعبوں ميں آج نئي نسل کو اہميت دي جارہي ہے اور نئي نسل جس طرح تمام شعبوں ميں اپني مضبوط اور مستحکم نمائندگي درج کرارہي ہے اس سے بھي سر مو انحراف کي گنجائش نہيں ہے ۔ صنعت و حرفت ، اقتصاديات ، معاشيات ، فلم انڈسٹري ، تجارت ، تکنيک ، کمپيوٹر ہر جگہ نوجوانوں کي بھر پور نمائندگي موجود ہے ۔

البتہ اردو کے اکثرو بيشتر سميناروں اور کانفرنسوں ميں نوجوانوں کي کاہلي ، سست روي ، جہالت ، کم علمي ، عدم دلچسپي کا بھر پور ماتم آج ايک عام سي بات ہوگئي ہے اور اس ميں بھي کسي شک و شبہ کي قطعي کوءي گنجائش نہيں  کہ اس رويے کو عام کرنے ميں نوجوانوں کا بھي کافي حصہ ہے ۔ اردو کے ريسرچ اسکالر اور اردو پڑھنے والے نوجوان عام طور پر لاابالي پن اور بے راہ روي کے شکار ہيں ۔ ديگر زبانوں کے ريسرچ اسکالروں اور سميناروں و کانفرنسوں کي کيا صورت حال ہے ۔ اس سے ميں ذاتي طور پر بہت زيادہ واقف نہيں ہوں ۔ اس ليے اس حوالے سے کچھ نہ کہنا ہي بہتر اور مناسب ہے ۔ ليکن ان دنوں کسي بھي زبان کے رسالے ميں نوجوانوں کي نمائندگي سے مايوس ہونا حقيقت واقعہ کے خلاف ہے ۔ نوجوانوں اور نئے قلم کاروں کے ساتھ ہزارہا ناانصافيوں اور نظر انداز کيے جانے کے باوجود ہر رسالے ميں کچھ تحرير يں نوجوانوں کي ضرور ہوتي ہيں ۔ مثال کے طو رپر ہم يہاں اردو کے چند اہم رسالوں فکر و تحقيق ، اردو دنيا ، ايوان اردو ، آجکل ، نيا دور، آمد ، ثالث ، امکان ، ذہن جديد، مژگاں وغيرہ کي مثال پيش کرسکتے ہيں ، جن کے ہر شمارے ميں دھاردار قينچيوں کے بھر پوراستعمال کے باوجود نوجوانوں کي کچھ تحريريں جگہ پاتي ہيں ۔

اردو کے سميناروں کا ايک عام رجحان ہوگيا ہے کہ وہاں متعلقہ موضوع کے ماہرين ہي مدعو کيے جاتے ہيں ، جس کي وجہ سے نوجوان اس صف ميں نہيں آپاتے ، جس کا بعض حضرات يہ مطلب نکالتے ہيں کہ اردو ميں نئے لکھنے والوں کا قحط ہے ۔ بہر حال اس زمانے ميں قحط الرجال سے بھي انکار نہيں کيا جاسکتا ۔ ليکن قحط کا گراف اتنا بھي بڑھا ہوا نہيں ہے کہ چند سميناروں ميں تلاش بسيار کے باجود مقالے لکھنے کے ليے چند نواجون نہ مليں ۔ ايم اے ، ايم فل ، اور پي ايچ ڈي کے ايسے ريسرچ اسکالروں کي خاصي تعداد اردو ميں موجود ہے جو اردو سے متعلق کسي بھي سمينار کے ليے اچھے اور دلچسپ مقالے لکھ سکتے ہيں ، جہاں انہيں موقع ديا جاتا ہے ۔وہ موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہيں اورسميناروں ميں دادوتحسين سے بھي نوازے جاتے ہيں ۔ ليکن ايسے لوگوں کي بھي کمي نہيں ، جو تعلقات کي بنياد پر سمينار پڑھنے پہنچ جاتے ہيں اور ان کا تلفظ تک درست نہيں ہوتا ۔

خراب لکھنے اور پڑھنے والوں کي کمي نہيں اس ليے ان کا تذکرہ کار فضول ہے ۔ البتہ جو ادارے نوجوانوں کو بڑي تعداد ميں اکٹھا کرتے ہيں ان کا تذکرہ ہونا چاہئے ۔ چوں کہ ان کا عمومي رجحان سے ہٹاہوا رويہ کتنے ہي نوجوانوں کي عروق مردہ ميں تازہ لہو دوڑا ديتا ہے ۔ ان ميں اردو اکادمي ، دہلي اور غالب انسٹي ٹيوٹ ، دہلي خصوصي طور پر قابل ذکر ہيں ۔ يہ وہ ادارے ہيں ، جو ہرسال اپنے يہاں نوجوانوں کے ليے مخصوص سمينار  کا انعقاد کرتے ہيں  اور سينکڑوں کي تعداد ميں نوجوان شعرا، ادبا ، مضمون نگاروں اور افسانہ نگاروں کو جمع کرتے ہيں ۔ دلي اردو اکادمي کے نئے پرانے چراغ ميں سينکڑوں کي تعداد ميں شعرا اور ادبا شريک ہوتے ہيں ، جن ميں آدھي تعداد جوانوں اور نوجوانوں کي ہوتي ہے ۔ اس کے علاوہ بھي اکادمي کے ديگر سميناروں ميں نوجوانوں کي خاصي تعداد ہوتي ہے اور انہيں سن کر اور ديکھ کر ہمارے معزز بزرگان اردو مسرور و شاداں ہوتے ہيں ۔ کئي نئے افسانہ نگاروں کي حوصلہ افزاءي ہوتي ہے اور وہ اپنے فن کي طرف پوري طرح متوجہ ہوجاتے ہيں ہرسال کي طرح امسال بھي اردو اکادمي کي جانب سے نوجوانوں کو يہ موقع ديا گيا ، جس کے ذريعہ اردو دنيا متعدد نوجوانوں سے واقف ہوءي  اور انہوں نے بھي حوصلہ پايا ۔

اس ضمن ميں اگر غالب انسٹي ٹيوٹ ، دہلي کي جانب سے منعقد بين الاقوامي ريسرچ سمينار کا تذکرہ نہ کيا جائے تو بڑي نا انصافي ہوگي ۔ اس بين الاقوامي ريسرچ سمينار ميں دہلي ، يوپي ، پنجاب ، کشمير ، ہريانہ ، راجستھان، بہار ، جھارکھنڈ اور بنگال وغيرہ کي متعدد يونيورسٹيوں کے ريسرچ اسکالروں نے شرکت کي اور مقالے پيش کيے ، غالب انسٹي ٹيوٹ نے تمام ريسرچ اسکالروں کے قيام و طعام کے ساتھ اظہار مافي الضمير کے ليے زبر دست انتظام کيا ، جس کا ريسرچ اسکالروں نے بھر پور فائدہ اٹھايا ۔

غالب انسٹي ٹيوٹ کے ہي بين الاقوامي غالب سمينار کے ايک سيشن کي صدارت کرتے ہوئے بر صغير ايشيا کے معروف فکشن نگار انتظار حسين صاحب کو اپني صدارتي گفتگو ميں يہ کہنا پڑا تھا کہ اردو ميں مکالمہ کا در ہنوز وا نہيں ہوسکا ہے ۔ اس وقت غالبا سميناروں ميں پيش کيے جانے والے مقالات پر سوالات قائم کرنے کے ليے ترغيب دينا ان کا مقصد تھا اور حقيقت يہ ہے کہ اس سمينار ميں مقالوں پر بہت کم سوالا ت ہوئے تھے ۔

حالاں کہ بين الاقوامي غالب سمينار سے پہلے منعقد ہونےو الے بين الاقوامي ريسرچ اسکالرسمينار ميں تقريبا تمام مقالات پر سوالات قائم  کيے گئے تھے  ۔

حالاں کہ ريسرچ اسکالر سمينار ميں ايم اے ، ايم فل اور پي ايچ ڈي کے طلبہ ہي مقالہ نگاربھي تھے اور سامع وسائل بھي ۔ يہاں يہ بھي عرض کردينا مناسب ہے کہ تمام مقالوں پر مختلف سوالات بھي ہوئے اور ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ريسرچ اسکالروں کے باہمي تعلقات بھي مستحکم ہوئے ۔ سوال پر نہ ہي کوئي مقالہ نگار برہم ہوا  نہ ہي کسي سيشن کے صدور و مہمانان خصوصي ۔ چوں کہ سوال کرنے والوں کا لب و لہجہ انتہاءي شائستہ تھا اور ان کا مقصد مقالہ نگاروں کو ہيچ دکھانا يا انہيں جاہل بتانا ہرگزنہيں تھا ۔ جس ماحول اور فضا ميں ريسرچ اسکالر سمينار منعقد ہوا وہ ماحول اکثر سميناروں ميں نظر نہيں آتا ۔ اکثر سميناروں ميں نوجوان ہي مقالوں پر سوال کرنے کي ہمت کرتے ہيں اور کئي بار بڑوں کي برہمي کا شکار بھي ہوجاتے ہيں ۔

مسئلہ يہ ہے کہ جہاں برہمي اور ناراضگي کا خدشہ ہوتا ہے وہاں اکثر نوجوان خاموش تماشاءي بنے اپني کرسيوں پر دم سادھے بيٹھے رہتے ہيں اور اپني مفروضہ جہالتوں کا ماتم کرتے بزرگوں کو ديکھتے اور سنتے رہتے ہيں ۔

ريسرچ اسکالر سمينار ميں شرکت کرنے والے اکثر مقالہ نگاروں سے مجھے ملنے اور بات کرنے کا موقع ملا ، مجھے محسوس ہوا کہ اکثر نوجوان اسکالر يہ چاہتے ہيں کہ انہيں سميناروں ميں موقع ديا جائے ۔ وہ آگے بڑھنا چاہتے ہيں ۔ وہ نئے نئے موضوعات اور عناوين پر مطالعے اور مضمون و مقالہ نگاري کا بھي شو ق رکھتے ہيں اور ان کے انداز زبان و قلم سے يہ بھي معلوم ہوتا ہے کہ وہ اچھا کرسکنے کي صلاحيت خود ميں پاتے ہيں ۔ ضرورت اس بات کي ہے کہ ہمارے اردو طبقہ کو خدائے برترو کريم غالب انسٹي ٹيوٹ کے ڈائريکٹر سيد رضا حيد ر کي طرح نوجوانوں کےليے جذبات و احساسات رکھنے والے  کچھ اور رضا حيدر عطا کر دے ، جو اپنے اداروں کي جانب سے ہر سال غالب انسٹي ٹيوٹ کي طرح ايک سمينار صرف ريسرچ اسکالروں کے ليے منعقد کريں اور وہ غالب انسٹي ٹيوٹ کي ہي طرح سمينار کے سارے انتظام و انصرام اور نظامت و مقالہ خواني کي ساري ذمہ دارياں طلبہ و طالبات کے سپرد کرکے صرف ان کي نگراني کريں اور پھر ديکھيں کہ اردو سميناروں ميں مکالمے کے امکانات موجود ہيں يا نہيں ۔ مجھے اميد ہے کہ ہمارے بزرگان اردو جس نسل نو کي تلاش ميں اکثر سمينار وں ميں سرگرداں نظر آتے ہيں ۔ ان کي وہ تلاش پايۂ تکميل کو پہنچ جائے گي  اور کئي نئے نام و دستخط اپني پوري آب و تاب کے ساتھ اردو کے منظر نامہ پر روشن و درخشاں ہوں گے ۔

 قومي کونسل برائے فروغ اردو زبان و غالب انسٹي ٹيوٹ کے اشتراک و تعاون سے منعقد ريسرچ اسکالر سمينار ميں ہمارے درجنوں اساتذہ بھي صدور و مہمانان خصوصي کي حيثيت سے شريک ہوئے ۔ خاص طور پر اين سي پي يو ايل کے ڈائريکٹر پروفيسر خواجہ اکرام ، دلي يونيورسٹي کے شعبہ اردو کے صدر پروفيسر ابن کنول اور غالب انسٹي ٹيوٹ کے ڈائريکٹر ڈاکٹر سيد رضا حيدر سہ روزہ سمينار کے تمام اجلاس ميں نہ صرف بہ نفس نفيس موجود تھے بلکہ انہوں نے طلبہ و طالبات کي بھر پور حوصلہ افزاءي بھي کي ۔

سال 2014 کے اختتام پر جب تمام شعبہ جات کيا کھويا کيا پايا کے احتساب ميں مصروف ہيں ۔ ايسے وقت اردو کے طالب علم کي حيثيت سے ريسرچ اسکالروں کي نمائندگي پر ايک سرسري نگاہ ڈالنا ميرے ليے بھي مسرت کي بات ہے ۔ اردو کے ريسرچ اسکالروں ميں امکانات بہت ہيں ۔ انہيں تراشنے اور تراش کر کندن بنانے کي ضرورت ہے ، مجھے يقين کامل ہے کہ 2015 ميں بھي اردو کے ريسرچ اسکالروں کے مضامين اور مقالات کي تعداد ميں اضافہ ہوگا اور سميناروں ميں ان کي نمائندگي گزشتہ برسوں سے زيادہ بہتر اور زيادہ صيقل ہو کر سامنے آئے گي ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 566