donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Rasheed Ahmad Siddiqui
Title :
   Aashiq

عاشق
 
رشید احمد صدیقی
 
میرؔ کا مشہور شعر ہے:
سخت کافر تھا جس نے پہلے میرؔ
مذہبِ عشق اختیار کیا
خدا جانے وہ کون کافر تھا اورکافری کی وہ کون سی ساعت جب عشق و عاشقی کے مرضِ مبارک کی طرح ڈالی گئی۔ جن کی شامت شعراء قرار پائے اور جوابدہ فدوی قرار دیا گیا۔ ہمارا اُردو شعر و ادب اسی کفر و کافری کا ’’عجائب خانہ‘‘ ہے جس میں زندہ و مُردہ ہر طرح کے عجوبے اس کثرت سے ملتے ہیں کہ عقل دنگ اور جامۂ ہستی تنگ نظرآنے لگتا ہے۔
 
امراض کے بارے میں جدید تحقیقات کا فیصلہ یہ ہے اور میرا خیال ہے کہ امراض و جدید تحقیقات میں دونوں سے نہیں تو ایک سے آپ کا سابقہ ضرور رہا ہوگا کہ ہر مرض کے مخصوص جراثیم ہوتے ہیں اور اسی سبب سے ہر مرض کی علامتیں یکساں ہوتی ہیں۔ لیکن جس مرض کا نام عشق ہے اس کی علامتیں اور اُس کے مریض طرح طرح کے ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر دنیا کے سمجھدار لوگ ایک عجیب پھیر میں پڑگئے ہیں یعنی عشق فن ہے یا سائنس۔ عاشقوں کے کرتب دیکھ کر تو کہنا پڑتا ہے کہ یہ فن ہے لیکن پڑھے لکھے لوگوں کی بات سن کر اُس کے سائنس ہونے میں شبہ نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ ایک بات اور ہے یعنی بعض ایسے لوگ جو ہماری آپ کی طرح لکھے پڑھے کم اور دال روٹی کی طرف سے کسی قدر مطمئن ہیں وہ عشق و عاشقی کو خلل دماغ سے بھی تعبیر کرتے ہیں!
 
عاشقی کی ایک نامکمل سی مثال بڑے آدمیوں سے دی جاسکتی ہے۔ جس طرح عاشق پر سے ہر قسم کا محاسبہ اُٹھالیا جاتا ہے، اسی طرح بڑے آدمیوں سے بھی کسی قسم کا محاسبہ نہیں کیا جاتا۔ عاشق جس پر چاہے عاشق ہوجائے، اُس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ بڑا آدمی جو چاہے بگاڑ دے آپ اُس کا کچھ نہیں کرسکتے۔ بڑا آدمی جو چاہتا ہے کہہ ڈالتا ہے، عاشق بھی جب جی میں آتا ہے شعر پڑھ دیتا ہے۔ البتہ وہ موقع بڑا نازک ہوتا ہے جب بڑا آدمی شعر پڑھنے لگتا ہے۔ بڑا آدمی لڑتا کبھی نہیں، سرنگ ہمیشہ لگاتا ہے، عاشق جوئے شیر لاتا ہے اور خودکشی کرلیتا ہے۔ بڑا آدمی کامیاب ہوتا ہے تو ولایت چلا جاتا ہے… عاشق کو بُرے دن دیکھنے پڑتے ہیں تو جنگل کی طرف بھاگتا ہے اور پنجۂ مژگانِ آہو کو پُشت ِخار کے طور پر استعمال کرتا ہے!
 
آپ کو ایسے عاشق بھی کثرت سے ملیں گے جن کو محبوب سے دور کا بھی سروکار نہیں ۔ محبوب ہو یا نہ ہو وہ عاشق ہیں۔ رقیب ہو یا نہ ہو وہ بدگمان ہوں گے۔ تعزیرات ِ ہند ہو یا نہ ہو وہ جیل خانہ بھیجے جاسکتے ہیں۔ اور ضرورت ہو یا نہ ہو وہ زندہ رہ سکتے ہیں۔
 
عشاق یا شعراء کا ذکر ہو تو بہک جانا کچھ تعجب کی بات نہیں… لیکن اس سلسلے میں بے موقع نہ ہوگا اگر عشاق کے دو ایک مخصوص ٹائپ کا ذکر کردوں۔ اُردو شعر و شاعری میں میرؔ کا کون منکر ہوسکتا ہے۔ یہ حزن والم کے سب سے بڑے مفسر قرار دئیے گئے ہیں۔ لیکن آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ حزن والم نے میرؔ کی شخصیت تعمیر کی تھی، میرؔ کی شخصیت نے حزن والم کو نہیں اپنایا تھا۔ یہی سبب ہے کہ میرکا حزن و ملال شخصی نہیںکائناتی تھا، اُن کا مشہور شعر ہے:
مِرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
میرؔ محبت سے اتنا سروکار نہیں رکھنا چاہتے تھے جتنا ناکامیوں کو اپنے سلیقے سے نباہنا، سنوارنا چاہتے تھے۔ میرؔ محبت سے کامران ہونا ہی نہیں چاہتے تھے۔ محبت کا یہ تصور کچھ بہت زیادہ جیتا جاگتا تصور نہیں ہے، اس لیے کہ یہاں محبت کی حیثیت ثانوی اور درد و الم کی اساسی بن جاتی ہے۔ اس کے خلاف غالبؔ کا عاشق شخص پہلے ہے اور عاشق بعد میں۔ وہ اپنی انفرادیت کو محبت میں ضم نہیں کرتے۔ میرؔ کا عاشق محبت کے سمندر میں موج کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بحر سے علیحدہ نہیں ہوتا، اس لیے کہ علیحدہ رہ نہیں سکتا۔ غالبؔ کا عاشق دریائے محبت کی موج نہیں ساحل ہے، وہ دریائے مے کو چیلنج دیتا ہے کہ تُو دریائے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں، ساحل کا ساحل دریا سے ہم کنار ہے لیکن اپنی تشنگی کو سیرابی سے رُسوا نہیں کرتا۔
 
…عموماً) اردو شعر و شاعری کا عاشق کہیں نعرے لگاتا ہے، کہیں رو رو کر اپنے حقوق طلب کرتا ہے۔ کبھی کبھی انا للہ پڑھ کر چائے پینے اور جھوٹ بولنے لگتا ہے۔
 
چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا اس دنیا کے پردۂ سیمیں پر ہمارا فلم اسٹار کس کس طرح شعر پڑھتا، سوانگ بھرتا، قلابازیاں کھاتا، انتقال فرماتا اور حشر اُٹھاتا رہتا ہے۔ انہی ہنگامہ آرائیوں سے ہمارا شعر و ادب بھرا پڑا ہے۔ہم کو بتایا گیا ہے کہ شاعری زندگی کا آئینہ ہے اور اصلی ادب وہی ہے جس میں زندگی کے اصلی خدوخال نظر آئیں۔ تنقید کے اس نظریے سے جب ہم اُردو شعر و ادب کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک سے ایک عجیب مناظر آتے ہیں۔ لیکن بات ایک ہی ہے۔ نئے ادب کو پُرانے اصول سے پرکھیے تو اس میں اور ہسپتال، پولیس یا پریس رپورٹ میںکوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اسی طرح پرانے ادب کو نئی عینک سے دیکھیے تو بھی یہی رپورٹیں سامنے آئیں گی۔ جب صورت ِحال یہ ہو تو کیا حرج اگر ہم آپ پولیس، ہسپتال یا پریس کی رپورٹوں سے اُردو شعروادب کا جائزہ لیں اور عاشق کے کاموں کی کھتونی شروع کردیں۔
…ہسٹری شیٹ بہت طویل ہے…اس لیے اُردو شاعری میں عاشقی کے درجے پر تھوڑی سی گفتگو اور کرکے اس سلسلے کو ختم کرتا ہوں۔
 
اردو میں ہمارے شعراء نے عاشق کی آڑ میں وہ سب باتیں بیان کردی ہیں جو کائنات میں انسان کی پوزیشن کو واضح اور متعین کرتی ہیں اور جنہیں صنائع بدائع اور مخصوص اسالیب ِبیان سے علیحدہ کرکے دیکھیے تو ایک نہایت ہی ذہین، بالغ نظر اور متمدن قوم کے بڑے دلنشین اور قیمتی نقوش ملیں گے۔ انسان حقیقتاً کائنات کا سب سے بڑا باغی ہے۔ وہ معمولی سے معمولی چیز کو اپنی اونچ اور استعداد سے بلند سے بلند درجہ پر فائز کردیتا ہے اور کائنات کے بڑے سے بڑے مظہر و مظاہرے کو اپنی استعداد ِکار سے بے بود و بے سپر قرار دیتا ہے۔
 
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 566