donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Safdar Imam Quadri
Title :
   Hashiyai Abadiyan Aur Urdu Adab


 

حاشیائی آبادیاں اور اردو ادب


صفدرامام قادری


    جمہوریت نے استحصال کے پنجوں سے عہدنو میں جب اپنا نیا رول سوچا، اس وقت جاگیردارانہ سماج سے پسپا ہوئیں آبادیوں کے گوناگوں مسائل ابھر کر سامنے آنے لگے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ ان حاشیائی آبادیوں سے تعلق رکھتا تھا جنہیں سماج نے کبھی وہ جگہ فراہم نہیں کی جہاں وہ عام انسانی درجے کو حاصل کر سکیں اور روٹی، کپڑا اور مکان کی سطح بھی حتمی طور پر پا سکیں۔

    گذشتہ دوسو برسوں میں پوری دنیا میں جو انقلابات سامنے آئے یا اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جس قدر بھی جنگیں لڑی گئیں، ان میں دیہی عوام، خواتین، پسماندہ اور دلت آبادیاں اور اقلیت کے فرزندان سے متعلق مسائل مرکزی اہمیت رکھتے تھے۔ کہنا چاہیے کہ نئی دنیا میں انصاف اور مساوات کے لیے جو خواب اور تمنّائیں پیدا ہوئیں، ان میں انہیں حاشیائی آبادیوں کی زندگی کا درد اور سوزوساز پوشیدہ ہے۔

    شعروادب کے بارے میں جب ہم یہ دعویٰ پیش کرتے ہیں کہ یہ ہماری زندگی کا آئینہ ہے تو گذشتہ دوصدیوں میں لازماً ان حاشیائی آبادیوں کے دردو داغ بھی ادب کا بنیادی حصّہ بنے ہوں گے۔ دنیا کے ہر گوشے میں جب یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ادب انسان کی ضمیر کی آواز ہے اور دنیا میں جہاں جہاں ظلم اور بے انصافی موجود ہے، وہاں ادب انسانی ضمیر کی آواز بن کر آزادی اور انصاف کی طلب میں احتجاج اور انقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

    انگریزوں نے جب اس مُلک پر پنجہ گڑایا، شعروادب کے ماہرین نے ان سے قلم و قرطاس کی سطح پر مقابلہ کیا۔ جنگِ آزادی کے رہنماؤں میں سے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے انگریزوں سے قلم سے بھی لڑائی لڑی۔ ابوالکلام آزاد، حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر، ظفرعلی خاں، جوش ملیح آبادی وغیرہ نے یا حالی، شبلی، اکبرالہ آبادی اور علّامہ اقبال؛ سب کے سب ہندستان کی آزادی اور ظلم سے مقابلہ آرائی کے لیے ہماری زبان کا استعمال کررہے تھے۔ نثر نگاروں میں پریم چند کی تو مکمل یہی شناخت ہے کہ وہ آزادی کی جنگ اپنے افسانوں اور ناولوں کے سہارے لڑرہے تھے۔

    آزادی کے بعد انگریزوں سے جدوجہد کا سلسلہ تو ختم ہوا لیکن ملک میں ہزارطرح کے مسائل تھے جن سے عوامی زندگی نبردآزما تھی۔ مسائل نئے نئے طریقوں کے سامنے آرہے تھے اور استحصال کا پنجہ نئی شکلوں میں سامنے دکھائی دے رہا تھا۔ اب حاشیائی آبادی کی پہچان اور ان کے حالات سے باخبری اور بالآخر انہیں استحصال سے نجات کے دروازے تک پہنچانے کی ذمّے داری جس طرح سیاست دانوں کی تھی، اُسی  طرح شاعروں اور ادیبوں کی تھی۔ آخر اس جمہوری نظام میں کمزور اور پسماندہ زندگیوں کی کون پشت پناہی کرے گا۔ ہمارے شعرا اور ادبا پر آزادی کے بعد ایک بڑی دنش ورانہ ذمّے داری عائد ہوئی اور آزادی کے بعد ہمارا ادب ایک نئے رجحان کے ساتھ ابھرا۔

    شاعری کی ایمائیت کے مقابلے نثر کی اختصاصی گفتگو سے نئی حقیقتوں کی ادبی ترجمانی ذرا شفّاف طریقے سے سامنے آتی ہے۔ ڈراما، داستان، افسانہ اور ناول ادب کی وہ اصناف ہیں جن میں انسانی زندگی کی تفصیلات، دکھ اور درد، غم اور خوشی کے نہ جانے کتنے مفاہیم ہیں جن کی صراحت کے ساتھ ترجمانی ملتی ہے۔ کہنے کو یہ فسانے ہیں لیکن حقائق کا ایسا مستحکم پس منظر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہمارا پورا عہد اپنے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اس ادب میں موجود ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ رفتہ رفتہ ہمارا فکشن عہدِ جدید کی شفّاف ترجمانی کے لیے بیش از بیش اعتبار حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

    آزادی کے بعد جمہوریت کے استحکام نے بے آواز عوام کو ادب اور سیاست کی زبان عطا کرکے ایک نئی صورتِ حال پیدا کی۔  زمین داری اور غلامی سے توہندستانی عوام کسی طرح نکل چکے تھے لیکن نئے عہد نے پھر سے ایک اونچ نیچ کا ماحول بنایا۔ غربت اور پسماندگی کی ایسی مثالیں قائم ہوئیں جن سے ہماری بے چینی اور اضطرارمیں یگ گونہ اضافہ ہوا۔ عدم تشدّد کے پیروکاروں نے انصاف کی طلب میں تشدّد کو بھی جان میں اتارا لیکن بے امانی اب بھی مقدر کا سپاہی بنی ہوئی ہے۔ ترقی اور عدم ترقی، ہار اور جیت اور حکومت و بدانتظامی کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت ہے جس میں ہماری قومی زندگی کا نیا گھماسان دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

    اردو ادب نے ہماری قوم کو انقلاب زندہ باد سکھایا۔ سرفروشی کی تمنّا ہم نے یہیں سے اپنے دلوں میں اتاری۔ آج کے شعرا اور افسانہ نگار ہمارے پیش روؤں سے زیادہ مشکل حالات میں اپنا ادبی سفر جاری رکھنے کا مجاہدہ کررہے ہیں۔ پہلے حق اور باطل صاف صاف دکھائی دیتے تھے لیکن آج دھندلکا اتنا گھناہے کہ حقیقت اور گمان ایک دوسرے میں مل گئے ہیں۔ اس لیے جو دکھائی دے رہا ہے، اس میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کتنا شامل ہے، یہ کسی کو ٹھیک طریقے سے سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔

    پریم چند نے ترقی پسند کانفرنس کے خطبۂ صدارت میں کہا تھا کہ ادب سیاست کے آگے آگے چلنے والی مشعل کی طرح ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ذمّے داری آج ہر ادیب اور شاعر کے سامنے سوال کی طرح سے ہے۔ آج رہ رہ کر معاشرے میں انصاف اور مساوات کی پامالی کا تذکرہ سننے میں آتا ہے۔ ادب اور خاص طور پر فکشن کا موجودہ منظرنامہ اس معاملے میں کتنا حسّاس اور بااثر ہے، اسے پرکھنے کی خاص ضرورت ہے۔ آج کا ادب کسی تحریک کے زیر اثر نہیں لیکن کیا وہ انسانی مسئلوں اور اپنی آنکھوں کے سامنے بکھری ہوئی دنیا سے موضوع ومواد اخذ کررہا ہے؟

    کیا یہ ہمارے لیے سرجوڑ کر بیٹھنے کا موقع نہیں کہ مظلومین کی فہرست طویل تر ہوتی جارہی ہے اور ہماری سرگرمیاں کسی سستی کا شکار ہیں یا ہم فصیل وقت کی شاہ سرخیوں کو  اَن دیکھا تو نہیں کر رہے ہیں؟ ادب زندگی کو اس کے دکھوں سے نجات دلانے کا ذریعہ ہے لیکن اسے پہلے اس کی تشخیص تو کرلینی چاہیے کہ زخم کہاں کہاں ہے اور اسے مرہم بھی کہاں کہاں لگانا ہے۔ انسانی زندگی کو کب تھپکیاں دینا ہے اور کب اس میں انقلاب کی شعلہ سامانیاں پیوست کرنی ہیں۔
    غربت زدہ عوام، پس ماندہ طبقہ، خواتین، دیہی زندگیاں، دلت آبادی اور اقلیت طبقہ ایسی جماعتیں ہیں جنہیں جمہوریت کی ترقی کے باوجود زندگی میں نہ برابری کا ذائقہ حاصل ہوا اور نہ ان کے خواب شرمندۂ تعبیر ہوئے۔ انہیں آزادی بھی ادھوری ملی اور زندگی بھی ادھوری ہی رہ گئی۔ ان کے زخم اور آنسوؤں پر ہمارا شعروادب ہی مرہم لگا سکتا ہے۔ ہمارا ادب انہیں نئی زندگی کی خوابناک منزلوں تک پہنچا سکتا ہے۔ آج کا ادب کس حد تک ان حاشیائی آبادیوں کا مداوائے غم بن سکا ہے، اس کا احتساب اور آئندہ کا تناظر سمجھنا ہمارا بڑا فریضہ ہے، اسی لیے انجمن ترقیِ اردو، بہار کے زیرِ اہتمام ’’ہم عصر اردو فکشن میں حاشیائی آبادیوں کے یاد گار کرداروں کی عکاسی‘‘ عنوان سے ایک قومی سے می نار کا انعقاد کیا گیا ہے۔ پچیس، چھبیس فروری ۲۰۱۴ء 
کے دوران قومی اہمیت کے درجنوں نقاد، فکشن نویس، ماہرینِ لسانیات اور تحقیق کار سرجوڑ کر بیٹھیں گے اور اپنی زبان کے کارناموں کا احتساب کریں گے۔

**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 575