donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Salim Ahmad
Title :
   Zar Parast Muashra : Ehsas Tanhayi Aur Ghazal

 

زرپرست معاشرہ، ’’احساس تنہائی اورغزل
 
سلیم احمد
 
زر پرست معاشرے میں احساسِ تنہائی کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ جب نظامِ زر نے تمام بنیادی انسانی رشتوں میں زہرگھول دیا ہو، اس وقت فرد کے پاس اپنے احساسِ بے چارگی اور بے بسی کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔ لیکن احساسِ تنہائی کی تہ میں ایک بے پناہ عدم تحفظ کا احساس بھی موجود ہوتا ہے۔ عدم تحفظ کے معنی یہ ہیں کہ معاشرے میں اب فطری زندگی بسر کرنے کی ضمانت نہیں رہی، اور یہ عدم تحفظ ہمیشہ تحفظ کی ایک ہی صورت سوچتا ہے: پیسے کا حصول! یوں احساسِِ تنہائی نظام زر سے پیدا ہوکر زر ہی میں اپنی نجات ڈھونڈتا ہے، اور نجات کے لیے دوسرا لفظ خدا ہے۔ ہر اُس معاشرے میں جو احساسِِ تنہائی کا شکار ہوتا ہے، باطنی طور پر زر ہی کو خدا سمجھا جاتا ہے۔ ہم اپنے جذباتی وجود میں اس خدا کو مانیں یا نہ مانیں لیکن ہمارے وجود کی اندرونی تہوں میں اس کی ’’لاشریکیت‘‘ کا احساس جاگزیں ہوتا ہے۔ عدم تحفظ کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ یہ فرد اور معاشرے کے درمیان اس کے فطری رشتے کو توڑ دیتا ہے اور فرد کو معاشرہ اپنے سے باہر ایک ایسی قوت معلوم ہونے لگتا ہے جو اسے مٹانے کے درپے ہے۔ یہ قوت اس پر ہمہ وقت دبائو ڈالتی رہتی ہے، اور جب یہ دبائو زیادہ سخت ہوجاتا ہے تو فرد کا شعور ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ لارنس ایک حصے کو انفرادی شعور اور دوسرے حصے کو سماجی شعور کہتا ہے۔ سماجی شعور سے فرد کی ذات میں ’’سماجی انسان‘‘ پیدا ہوتا ہے، یعنی شعور کی وہ کیفیت جو زر پرست معاشرے کی مصلحتوں سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ سماجی انسان حقیقی انسان کی ایک مسخ شدہ شکل ہے۔ حقیقی انسان کی اقدار ’’حیاتی اقدار‘‘ ہوتی ہیں۔ سماجی انسان کی اقدار ’’زر‘‘ کی اقدار ہوتی ہے۔ سماجی شعور اور سماجی انسان پیدا ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ معاشرے میں حیات کی اقدار کے بجائے زر کی اقدار کا دور دورہ ہورہا ہے۔ ہمارا پرانا معاشرہ حیاتی اقدار کا معاشرہ تھا۔ نیا معاشرہ زر کی اقدار کا معاشرہ ہے۔ لیکن اس پر میں کہیں اور بات کروں گا۔ ابھی تو صرف یہ دیکھیے کہ اس مسئلے کا غزل سے کیا تعلق ہے۔ غزل ایک تخلیقی کام ہے اور تخلیقی کام کی شرط یہ ہے کہ اس کا تعلق حیات کی اقدار سے ہو۔ اس لیے غزل کی تخلیقی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ زر کی اقدار سے جنگ کرے۔ لیکن زر کی اقدار سے سماجی انسان پیدا ہوتا ہے اس لیے غزل کا کام ’’سماجی انسان‘‘ سے پیکار ہے۔ ہمیں اپنے وجود کی گہرائیوں میں اس عنصر کو تلاش کرنا چاہیے جسے ’’پیسے‘‘ نے نہیں چھوا، اور اس کی مدد سے حیاتی اقدار کو زندہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہاں بہت احتیاط کے ساتھ میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کے معنی جذباتی ہونے اور جذبات کے خروش میں پیسے کی اہمیت سے انکار کے نہیں ہیں۔ یہ انکار ہمیں پیسے کی خدائی سے آزاد نہیں کرتا، اس کا اور اسیر بنا دیتا ہے۔ چوں کہ یہ جذبات پرستی خود زر پرست معاشرے کا ایک مظہر ہے۔ اس طرح غزل کی تخلیقی نوعیت اس کے جذبات پرستی سے آزاد ہوجانے میں مضمر ہے۔ جدید غزل کے بعض حصوں پر مجھے کبھی کبھی یہ خوش گمانی گزرتی ہے کہ یہ جذبات پرستی اور اس کے صابن کے بلبلوں جیسے رنگین اظہار سے گریز کا نتیجہ ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ گریز کس حد تک حقیقی ہے اور کہاں تک پہنچ سکتا ہے، لیکن جیسا کہ ڈاکٹر اجمل نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اصل مسئلہ تو شعور میں آجانا ہے پھر اس سے رہائی کی ہزار صورتیں ہیں۔ جدید غزل نے اگر جذبات پرستی سے شعوری جنگ شروع کی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں یہ کاوش بھی ایک حقیقی تہذیبی اور تخلیقی قدر کا درجہ رکھتی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ میں وہ اشعار سنائوں تو کچھ کام تو آپ بھی کیجیے۔
 
[مضامین سلیم احمد۔مضمون ’’جدید غزل‘‘ مرتب: جمال پانی پتی۔ ص 479۔ ناشر، اکادمی بازیافت]
سلیم احمد
++++++++++++++++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 443