donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Shahidul Islam
Title :
   Urdu Sahafat Ka Janaza

 

اردو صحافت کا جنازہ 
زندہ لاش کی حیثیتوں کے مالک اخبارات کی کہانی 
 
 
برجستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہدالاسلام
 
فدوی لاہوری نے کیا خوب کہا ہے ع
 
چل ساتھ کہ حسرت دل مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
 
یہ شعراُردو صحافت کے جنازہ کوکاندھا دینے والے اُن محبان اردو پر شایدپوری طرح فٹ بیٹھتا ہے جو اردوصحافت کے عصری منظر نامہ کا جائزہ لینے اوراس کی صحت کو سدھارنے کی بظاہر کوشش کررہے ہیں۔ دہلی اُردو اکادمی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے بھی ’’اردوصحافت کی زندہ لاش‘‘کے گور و کفن کا بندوبست کرنااپنے فرائض منصبی کا حصہ سمجھااور یوںآنے والی نسلیں ہرگز ہرگز یہ نہیں کہہ پائیں گی کہ اُردو صحافت کے جنازے کو دھوم سے نہ نکالا گیا یااس حوالے سے اُردو اکادمی نے بخالت کو راہ دینے کی کوشش کی۔سہ روزہ سیمنار میں مقالہ نگاروں کے آفاقی تصورات و خیالات کے اظہار کیلئے بہترین اسٹیج کی فراہمی کے ساتھ ہی ساتھ چونکہ اکادمی نے مرغ و ماہی کاشاہانہ انتظام بھی کیا لہٰذا مستقبل کا مؤرخ یہ شکوہ بھی کرنے کاحق کھو بیٹھا ہے کہ ’’ اُردوصحافت‘‘کے حسرتِ دل کاخیال نہ رکھا گیااور اُردوصحافت کو مرحوم و مغفور قراردینے سے قبل شیدائیانِ اُردونے سرہانۂ صحافت کے بیٹھ کرگریہ و آہ بکا کی رسم پوری نہیں کی۔ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلااُردو صحافت کی موجودہ صورتحال کیا ہے اور اس کی تصویر و تقدیرکیسے بدلی جاسکتی ہے؟اس پر درجنوں مفکرین و مقررین نے یوں تو سیر حاصل گفتگو کی اور بعضوں کے ذریعہ اندیشہ ہائے دراز کاکچھ حد تک اظہار بھی واجب سمجھاگیا۔ یقینایہ سلسلہ مزید آگے بھی بڑھے گا مگراس کے باوجود یہ نکتہ بحث کا ہنوز متقاضی ہے کہ کیوں نہیں اب’’ اردو صحافت‘‘ کوہی’’ زندہ لاش‘‘ تصور کرلیاجائے؟ جبکہ فی زمانہ اُردوصحافت صرف 
اورصرف کاغذی اعتبارسے ہی اوج ثریا کی جانب قدم بڑھارہی ہے،عملاًاِسے ازکار رفتہ قراردیاجاچکاہے۔سوال کرنے والوں کے اس سوال پرکہ کیابو العجب ا ور بوالہوس کہلانے والی ’’موجودہ اُردوصحافت‘‘ کیلئے ایسے کسی سمیناروں کاانعقاد بو الفضول نہیں ہے؟کیا جواب دیاجائے؟یہ بہرحال قابل غور ضرور ہے۔ 
 
ویسے عصر حاضر کے ائمہ صحافت کاخیال خواہ کچھ بھی ہو مگر یہ اپنی جگہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ فی زمانہ ہندوستان کی اردو صحافت بیک وقت دومتضاد کیفیتوں سے دوچار ہے۔ ایک طرف محققین وناقدین کاایک طبقہ یہ نتیجہ اخذکررہاہے کہ اردو صحافت موت کے تکلیف دہ عمل سے گزررہی ہے اور آخری ہچکیاں لے رہی ہے وہیں دوسری جانب حکومت ہند کے اعدادوشمارسے اس خیال کی نفی ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ تاثربھی پوری شدت کے ساتھ ابھرتاہے کہ وطن عزیزمیں اردوصحافت کی نشوونما کاعمل پورے عزم و استقلال کے ساتھ جاری ہے۔لہٰذاقبل اس کے کہ عصری اردوصحافت پر گفتگوکے سلسلے کوآگے بڑھایاجائے،یہ ناگزیرمعلوم ہوتاہے کہ حکومت ہند کے اُن اعداد وشمارپر طائرانہ نگاہ دوڑالی جائے جو اردو صحافت کی ترقی کاپیغام پیش کرنے کاباعث بن رہے ہیں اور جن سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتاہے کہ ملک میں اردو صحافت کا مستقبل خاصاروشن اورتابناک ہے۔حکومت کی نگاہ سے اردوصحافت کودیکھنے اورسرکاری چشمہ لگاکر موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے سے بلامبالغہ یہی نتیجہ سامنے آتاہے کہ اردوصحافت ترقی کی شاہراہ عظیم پر نہایت برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔صرف قومی دارالخلافہ دہلی سے ہی اِس وقت اردو کے50سے زائدایسے روزنامہ اردواخبارات شائع ہورہے ہیں جنہیں ڈی اے وی پی پابندی سے اشتہارات دے رہی ہے۔ ریاست اتر پردیش سرکاری لحاظ سے اردوصحافت کو سب سے زیادہ سیراب کرانے والی ریاست ہے۔یوپی میں اردوصحافت کو بظاہر گھریلو صنعت کادرجہ حاصل ہوچکاہے کیونکہ یہاں کے تقریباً88 اردو روزناموں کوہماری حکومت اشتہارات سے نواز رہی ہے ۔صرف ریاستی راجدھانی لکھنؤ سے ہی تقریباًتین درجن اردوکے روزنامہ اخبارات شائع ہو رہے ہیں جو یقیناہمیں اورآپ کو خوشی کا سوغات دینے کیلئے کافی کہلا سکتے ہیں۔اسی طرح آندھرا پردیش سے15،بہار سے20، جموں و کشمیر سے26،مغربی بنگال سے8،مہاراشٹر،کرناٹک اوراتراکھنڈ سے5-5، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ سے4-4،پنجاب، ہریانہ، راجستھان،تمل ناڈو اورچھتیس گڑھ سے ایک ایک اردوروزنامہ کو ڈائریکٹوریٹ آف اڈورٹائزنگ اینڈویژول پبلی سٹی(ڈی اے وی پی) نے اپنی فہرست میں باضابطہ جگہ دی ہوئی ہے، جنہیں اشتہارات کی ترسیل کی جارہی ہے۔حکومت ہند کے دستاویزات پر نگاہ دوڑانے کے بعد بالعموم اور ڈی اے وی پی کے پینل پر توجہ مرکوز کرنے کے بعد بالخصوص اردو صحافت کے ارتقاء کی جو تصویر ابھرتی ہے،اس سے فرحت کااحساس ہونا فطری بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عام طورپر اس تاثر کو بڑی شدت کے ساتھ رواج دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ ہندوستان میں اردوذرائع ابلاغ کاسفر نہایت کامیابی کے ساتھ آگے کی جانب گامزن ہے، مگرایک طبقہ یہ سوال بھی کھڑا کررہاہے کہ سرکاری اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر محض اردو اخبارات کی اشاعت کے سلسلے میں بے پناہ اضافہ کو اردو صحافت کی کامیابی کی دلیل قرار دیناکہاں تک درست ہے؟بیشک یہ سوال بھی بجائے خود بحث طلب ہے کیونکہ سرکاری گوشواروں میں حقیقت کاعنصریوں بھی کم شامل ہوا کرتاہے، مبالغہ آرائیوں اور فریب کاریوں کی جلوہ سامانی زیادہ دیکھی جاتی رہی ہے۔گوکہ حکومت کے اعدادوشمار کی روشنی میں صرف دہلی سے شائع 
ہونے والے اردو اخبارات کا ہی مجموعی سرکولیشن اکتوبر2010میں 15لاکھ86ہزار سے بھی زائدتھا،جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم ایک لاکھ کا مزید اضافہ درج کرلیاگیاہے لیکن جب ہم اسی دہلی میں قارئین کی حقیقی تعداد جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر کا دوسرا رُخ موجب تشویش بن کرابھرتا ہے۔دہلی میں مجموعی طورپر 75 اخباراتی مراکزہیں جہاں قومی دارالحکومت سے شائع ہونے والے اخبارات کے تقسیم کاروں کی جمعیت (اخباری اصطلاح میں جنہیں سیلزمین کہاجاتاہے) روزانہ علی الصباح اخباروں کی ترسیل کے فرائض انجام دیتی ہے۔ ان مراکز کازمینی سطح پرجائزہ لے کر اردو روزناموں کے سرکولیشن کی بابت حقیقی نوعیت جاننے کی کوشش کی گئی تو پتہ یہ چلا کہ میروغالب کے اس گہوارۂ علمی میں تواردوصحافت کاجنازہ تقریباًتیارہوچکا ہے اور قارئین کی تشویشناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے جس پرمصلحتاًپردہ ڈالاجاتارہا ہے۔ جواہر لال نہرویونیورسٹی کے ’’ہندوستانی زبانوں کے مرکز‘‘سے وابستہ ایک تحقیقی مقالہ میں حیرت انگیز انکشاف کے ساتھ یہ بتایاگیا ہے کہ دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ(نام ظاہر کرنا مناسب نہیں البتہ یہ بتادیناضروری سمجھتا ہوں کہ مذکورہ اخبار کے ذمہ داربھی اردو اکادمی کے اس سمینار میں بحیثیت مقالہ نگار شرکت فرمارہے ہیں) کی تقسیم سے متعلق تفصیلات کاجواجمالیہ محقق کے ہاتھ آیا، اس کے مطابق دہلی میں اس اخبار کاسرکولیشن محض1060 تھاجبکہ سرکاری سطح پر مذکورہ اخبار کی تعداد اشاعت اکتوبر 2010 میں 63704تھی اور یہی اخبار دہلی کادوسرا سب سے بڑا اردو اخباربھی تھا۔ دستاویزی خاکہ کی روشنی میں اخبارات کے مراکزپر پہنچ کرمحقق کے ذریعہ علاقہ جاتی لحاظ سے اس کی تصدیق کرلینے کے بعد بھلا کیوں کر خوش فہمیوں میں مبتلا ہوا جائے؟یہ سوال توجہ طلب ہے۔یہ المناک صورتحال کسی ایک روزنامہ کی نہیں ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی اخبارشاید ہی ایسا ہوجو غلط دعووں کے ذریعہ اپنی بلند قامتی کااظہار لازم نہ سمجھتا ہو۔خیر مبالغے اور مغالطے کو راہ دینے کا مقصد کیا ہے اور ذمہ دارانِ اخبارات کے مفاداتِ خصوصی کی تکمیل میں یہ دروغ گفتاریاں کس حد تک معاون و مددگار ہیں،یہ تواُن بے ضمیراردو صحافت کے موجودہ اماموں کے دل سے پوچھئے جومدیران و مالکان کا لاحقہ اپنے ناموں کے ساتھ جوڑکر پست قامتی کو طوالت دینے میں تو لگے ہیں مگراپنے اخبار کیلئے 5000روپے ماہانہ کے عوض یواین آئی کی اُردو سروس تک خریدنہیں سکتے۔ان حالات کو ذہن میں رکھ کراگر آج ناقدین یہ تصور کرتے ہیں کہ اُردو صحافت اور ایمانداری کے درمیان اب کوئی رشتہ بھی نہیں رہ گیا ہے،تو ایسے تبصروں کو تنقیص کانام دینا مناسب نہیں کیونکہ اُردو صحافت میں گندم نما جو فروشوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور حقیقت تو یہ بھی ہے کہ چندایک اداروں کو چھوڑکر پوری اردو صحافت بے حس،بے ضمیر،بداعمال اوربد کرداربن کر رہ گئی ہے اورفطری طورپرذلیل و خواربھی ہورہی ہے۔ استثنائی صورتوں کے علاوہ اردو صحافت کا موجودہ مزاج و انداز دونوں اہل نظر کی نگاہ میں قابل گرفت اور لائق مؤاخذہ قرارپاچکا ہے۔ اُردوصحافت کے ہیجانی مزاج کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک واقف کار نے جب برسوں قبل مسخرے پن کے ساتھ یہ کہاتھاکہ’’ اگر آنکھیں موند کربھی اُردو صحافت کے اماموں کے کسی مجمع پر کوئی پتھر پھینکوگے تو یقین مانوکہ سنگ بازی کاشکار ہونے والامدیریامالک اخلاقی اعتبارسے بے ضمیر ہی نکلے گا،کسی ایماندار،پاک باز اورحق پسندکوپتھرنہیں لگے گا‘‘تو اُس وقت مذکورہ ریمارک ہمیں بھی بہتوں کی طرح ہی جاہلانہ محسوس ہوا مگر وادئ اُردوصحافت کی برسوں خاک چھاننے اور گندم و جو کے فرق کو سمجھ لینے کے بعد آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس حقیقی کیفیت سے اس وقت 
اردوصحافت گزررہی ہے، اس کے اظہارکیلئے ہمارے پاس مناسب لفظ موجود ہی نہیں
 
دہلی میں اردو صحافت کی دُرگت کیاہے،یہ جاننے کیلئے لفظی موشگافیوں اور دانشوروں کے عالمانہ تبصروں پراکتفاکرنے کی بجائے پچھلے دنوں جب ایک سروے کاسہارا لیاگیاتو’’اردوصحافت‘‘کی ایک عجیب و غریب مگر سچی و پکی یہ تصویرابھر کر سامنے آئی کہ مفاداتِ خصوصی سے کلیتاًپاک قارئین کے درمیان اردوصحافت بے اعتبار ہو چکی ہے۔ جے این یو کے ایک محقق نے دہلی کے 50چنندہ افراد سے اخبارات کی خریداری کی بابت سوالات کئے اوریہ جاننے کی کوشش کی کہ ان کے گھروں میں اُردو کاکون ساروزنامہ خریداجاتاہے؟ ان منتخبہ افرادکی فہرست میں اردوکے نمائندہ شاعروں، ادیبوں اور استادوں کے علاوہ سیاست داں،آئی اے ایس وآئی پی ایس افسرس،ڈاکٹرس اور انجینئرس کو بھی شامل کیاتاکہ یہ پتہ لگ سکے کہ اردوروزناموں سے دہلی کے عام اردوخواں اشرافیہ کاکیارشتہ ہے؟رجحان جاننے کی یہ کوشش بہرحال اس نتیجہ پر پہنچی کہ اردواخبارات سے باشعور اردوقاری کاتعلق قریب الختم ہے۔ 50 منتخبہ افراد میں10بھی ایسے نہیں نکلے جوپابندی کے ساتھ اردواخبارات خریدتے ہیں۔6صاحبان (جن میں ایک شاعرہ بھی شامل ہیں)اردواخبار کی پابند قاری ہیں۔4قارئین کارشتہ اردواخبارات سے اس حد تک وابستہ ہے کہ جب انہیں مرضی ہوئی کسی اسٹال سے اخبار خریدلائے(روزانہ نہیں)جبکہ باقیماندہ 40میں سے 31افراد تواردواخبارات بالکل ہی نہیں خریدتے کیونکہ (بقول ان کے)وہ ان کے ذوق سلیم کی تسکین کیلئے ناکافی یا نامناسب ہے۔ 50میں سے9افراد ایسے بھی سامنے آئے جو بعض اوقات اِدھر اُدھرسے(مفت میں) اردو اخبارات حاصل کرتے ہیں جو مستقل ان کی اخبار بینی کا حصہ توہے لیکن وہ بھی اردواخبارات خریدکرپڑھنا بہرحال اسراف مانتے ہیں۔آخر یہ صورتحال کیوں ہے؟اس پر غالباً غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
 
اردوصحافت کا قریب سے جائزہ لینے والے مشاہدین بہرحال اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ شمالی ہند میں بالعموم اور دہلی میں بالخصوص غیرمعمولی طورپرقارئین کی تعدادمیں کمی واقع ہوجانے کے باوجود حالات مایوس کن نہیں ہیں،کیونکہ قارئین کی تعداد میں تخفیف کے ساتھ ہی ساتھ مصنوعی قلت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ صورتحال بالکل واضح ہے۔ایک طرف عام قارئین کی نگاہ میں اردو صحافت ’بے کار‘چیزبن چکی ہے۔مفاد خصوصی سے آزادیا مستثنیٰ عام قارئین کی اکثریت کیلئے اردوکے اخبارات خریدنا اور انہیں پڑھنا تضیع اوقات اوراسراف کے زمرے میں ہے تو دوسری جانب دم توڑرہی اردوصحافت مالی بحران کے باعث اپنی شبیہ کو بہتر بنانے اور مخصوص فکری و نظریاتی خول سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے۔صورتحال یہ ہے کہ اردوروزناموں کے ذمہ داران اوراردو صحافت کواپنے گھروں سے بے دخل کرچکے عام اردوخواں طبقے کے درمیان ایک خاص قسم کی معرکہ آرائی ہے۔ قاری کو جو کچھ چاہئے وہ اردو کے ان اخبارات میں شائع نہیں کئے جاتے جبکہ اس کے برعکس اخبارات میں جو کچھ موجود ہوتاہے اس میں عام اردوقارئین (جواب اردواخبارات خریدنے سے گریزاں ہیں) کی بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ نہ قارئین جھکنے پہ آمادہ ہیں اور نہ ہی اردواخبارات کے مدیران اپنارویہ تبدیل کرنے کے آرزومند۔یہ ایک ایسی کشمکش پر مبنی صورتحال ہے جس سے اردو صحافت اس وقت جوجھ رہی ہے۔اردو صحافت کے معیار کی پستی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ آج اردوکاہر بڑا اورصاحب طرزادیب و شاعرجس کی مکمل زندگی اردو سے متعلق رہی ہے،وہ بھی اسے خریدنا گوارا نہیں کرتا۔
 
دہلی سے شائع ہونے والے اردو روزناموں کی اکثریت معیاری خبروں کی اشاعت سے زیادہ مسلمانوں کے مسئلے پر مبنی سنسنی خیز خبریں شائع کرنے میں زیادہ یقین رکھتی ہے،کیونکہ قارئین کے ایک طبقے کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کایہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔ممتازصحافی ظ۔انصاری نے صحافت کے مزاج کی تشکیل کااحاطہ کرتے ہوئے بالکل صحیح لکھاہے کہ کسی زبان کی صحافت کامزاج چار خلطوں سے ترتیب پاتاہے۔1۔خود اس زبان کاعمومی مزاج۔2۔ پڑھنے والوں کاطبقہ،گروہ اور تہذیبی معیار۔3۔وہ مادی اور ذہنی حالات جن میں کسی زبان کی صحافت پروان چڑھ رہی ہو۔اور 4۔ ادارے کامنشا۔بہ نظرغائر دہلی کی اردوصحافت کو دیکھنے اور ان چاروں اجزائے لازمہ کوپیش نظررکھ کریہاں کے اخبارات کاجائزہ لینے کے بعدیہ بات ابھرکرسامنے آتی ہے کہ دہلی کی عصری اردوصحافت کاخمیرمذکورہ چارخلطوں پر اٹھا ہے۔ زبان کی سطح پراردوکی حالت چونکہ فرحت و انبساط کاکوئی پیغام نہیں دے پاتی لہٰذا صحافت کی نشوونماء میں اس کااثر فطری طورپرنمایاں ہے۔ دہلی کے اردواخبارات کے قارئین کی اکثریت چونکہ اب مدرسہ کے فارغین پر مشتمل ہے جو مختلف اداروں سے ملازمتی انسلاک کے باعث بیرون دہلی سے یہاں آکر اقامت پذیرہیں،لہٰذا ان کے جذبات و احساسات کاپورا پوراخیال رکھنااور ان کے علمی مذاق کو پیش نظر رکھ کر اخبارات کے صفحات کو ترتیب دیناذمہ داران اخبارکی پہلی کوشش ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دہلی سے شائع ہونے والے روزناموں میں ملی تنظیموں کی خبریں دیگرتمام خبروں سے زیادہ نمایاں اہمیت کے ساتھ شائع کی جاتی ہیں کیونکہ اگرایک طرف بسااوقات’پیڈنیوز‘کی صورت میں شائع ہونے والی ان خبروں سے اخبارات کی کفالت یامدیران اخبارات کے ذاتی مفادات کاحصول ممکن ہوجاتاہے تو دوسری جانب ایسی خبروں کو مخصوص دائرے میں پذیرائی بھی حاصل ہوتی ہے جس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اخبارات کے ذمہ داران بالخصوص ایسی ملی تنظیموں کے ذریعہ منعقد کی جانے والی تقاریب میں بطور مہمان ذی وقار مدعو کئے جاتے ہیں جہاں اخبارکے مدیران یامالکان کو بہ آسانی ایک’ عوامی پلیٹ فارم‘ بغیر کسی محنت کے حاصل ہوجایاکرتاہے۔گوکہ اس قسم کی پیش رفت سے اخبارات میں معیاری گراوٹ نمایاں طورپرجھلکتی ہے تاہم یہ اس وجہ سے قابل گواراہوچلاہے کیونکہ حکومت کی سطح پر یاعام معاشرے میں اردو روزناموں کو کوئی اہمیت اور وقعت حاصل نہیں رہ گئی ہے ، لہٰذااخباری کاروبارسے وابستہ شخصیتیں ملی تنظیموں اور مسلم قائدین کے دوش بدوش قدم سے قدم ملاکر چلنااپنے اخبار کے وجود کی برقراری کیلئے ضروری سمجھتی ہیں۔دراصل اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے جب اردوروزناموں کوعام قارئین نے’خداحافظ‘ کہہ دیااور دیگر زبانوں کے اخبارات کو متبادل کے طور پرخریدنا شروع کردیاتو بھلا اردو اخبارات کے ذمہ داران کیوں کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنے وجودکی برقراری کیلئے ایک مخصوص طبقے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کانسخہ آزمانا لازم سمجھا۔ یوں اردوکے اخبارات جوآزادئ ہند کے بعد نظریاتی لحاظ سے’ مشرف بہ اسلام‘ ہوچکے تھے،انہیں ’مومن کامل ‘بنانے کی کوشش کی جانے لگی۔نتیجہ فطری طور پر یہ برآمدہوا کہ اردواخبارات مذہبی طبقے کے گردطواف کرتے نظرآنے لگے ۔یوں مسلم تنظیموں و قائدین کی ایک بڑی جمعیۃ جنہیں قومی میڈیا سے خاصی شکایتیں اور تحفظات رہی تھیں، انہیں اردوذرائع ابلاغ نے خودسے قریب کرنے کی حکمت عملی اختیارکی ۔دراصل یہ ان کی مجبوری بھی تھی کیونکہ ایسے ستمگرانہ ماحول میں جبکہ اردوصحافت کے 
ساتھ خودعام اردو خواں طبقے کا بھی رویہ مشفقانہ نہیں رہ گیاتھا، مذہبی طبقوں کاخیال رکھنا اوران کے گلے شکوے کو صحافتی ترجیحات کاجزولازم سمجھ لینا اردوصحافت کوزندہ رکھنے کیلئے ضروری بھی تھا۔ اگرایسا نہیں ہوتاتوعین ممکن تھاکہ جو مٹھی بھرطبقہ آج اردوصحافت کوبہ نظر استحسان دیکھ رہاہے ،اس کے سایۂ عاطفت سے بھی محرومی ہاتھ آتی اورپھر یہ بھی طے تھاکہ جس طرح اردو صحافت فکری و نظریاتی اعتبار سے موت و حیات کی کشمکش میں تادیرمبتلا رہنے کے بعداب عالم نزع میں پہنچ کر صحافتی زندگی کاانوکھا سفرطے کررہی ہے،اسے یہ دوربھی دیکھنے کو نہیں مل پاتااورجاں کنی کاقلیل عرصہ طے کرلینے کے بعد اس کی موت واقع ہوچکی ہوتی۔
 
اردوصحافت کی زندہ لاش کو ڈھونے کی غرض سے حال کے دنوں میں صحافتی بدعت کی ایک نئی قسم یہ بھی دریافت کرلی گئی ہے کہ مخصوص حلقے سے ’حق نمک‘ اداکرنے والے صحافیوں کو عوامی تقاریب میں انعام و اکرام سے نوازاجائے تاکہ ان کا حوصلہ بلند رہے اور وہ مستقبل میں مزید ایمانداری کے ساتھ اپنی اس روش پر قائم رہ سکیں۔اس صورتحال کانتیجہ یہ برآمد ہورہا ہے کہُ اردو صحافت میں گندم نماجوفروشوں کی تعداد خوفناک حدتک بڑھتی جارہی ہے اور’من تراحاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘ کے نظریے اور طریق�ۂکار کے پیش نظراچھی اور سچی خبروں کی ترسیل عنقا ہوتی جارہی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید مضحکہ خیزہوجاتی ہے جب اس روش پرقائم رہنے والے دہلی کے اردواخبارات خوداردو زبان و ادب کے ساتھ بھی انصاف پسندانہ سلوک اختیار نہیں کرپاتے اور نتیجے کے طور پربعض اوقات اردوکے ممتاز دانشور اور قلمکار بھی زیادتی کے شکار بن جاتے ہیں۔
 
دراصل اردوصحافت کے مزاج کی تشکیل میں مادی اور فکری قلاشی کاخاصا عمل دخل نظرآتاہے۔ اردو اخبارات کے مشاہدین کی اس رائے سے اب اتفاق نہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیںآتی کہ عصری اردو صحافت کی ترجیحات میں ذاتی منفعت کے حصول کی کوشش زیادہ کارفرماہے،صحافتی تقاضوں کو برتنااور خود اردوزبان و ادب کے ساتھ بھی کم از کم شریفانہ سلوک روارکھناوغیرہ ذیلی درجہ کی چیزیں قرارپاچکی ہیں۔ اردواخبارات میں شامل اشاعت ہونے والی ادبی ونیم ادبی خبروں، تجزیوں، تبصروں اور مضامین وغیرہ کا تعلق صحافتی قدروں کو تندرستی اور توانائی بخشنے سے عبارت نہیں بلکہ اس کاسیدھامقصد مخصوص ادبی گروہ ، شخصیت یاادارے کی مدح سرائی اورقصیدہ خوانی کے ذریعہ مادی فائدے حاصل کرنے کی تدابیراختیار کرنے سے ہی ہے۔
 
دہلی سمیتشمالی ہند کے اردو اخبارات کے مالکان کی فکری و نظریاتی رویوں پر شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے معروف نقاداور مستند صحافی وہاب اشرفی نے ایک خصوصی انٹرویومیں کہاتھا:
 
’’شمالی ہند میں اردو اخبارات کو جولوگ چلا رہے ہیں،ان میں اکثر ایسے کاروباری ذہن کے لوگ ہیں جو پشتینی بے ایمان ہیں۔انہیں صحافت کے تقاضوں کو برتنے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اردو صحافت کو ایک خاص نہج پر چلایاجارہاہے۔اکثر خبروں کو ’مسلمان‘ کیاجاتا ہے،یااس کاختنہ کیا جاتاہے۔ آخرکیوں؟ میں یہ سمجھتاہوں کہ یہ احساس کمتری کی ایک بڑی علامت ہے۔ ۔۔۔مسئلہ دراصل روزی روٹی کاہے۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اردو پڑھ کرہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔میں یہ سمجھتاہوں کہ صرف اردوپڑھ کر بھی اعلیٰ مناسب کا حصول ممکن ہے بشرطیکہ آپ میں صلاحیتیں موجود ہوں۔یہ کاروباری سلسلہ شروع ہوگیا ہے،اس سے اردوصحافت بھی اثرانداز ہوئی۔ اردوصحافت کا 
کوئی ڈیکورم نہیں ہوسکاہے۔ ایک دو اخبارات کو چھوڑدیاجائے تو اردو صحافت سے جڑے لوگوں کو پیسے بہت ہی معمولی ملتے ہیں۔یہ اردو کاہی قصہ ہے کہ جو اردواخبار کامالک ہوتا ہے وہی خواہ مخواہ کا مدیر بھی ہوتاہے ۔ مختصراًیہ کہ اردوصحافت کی بہت سی خامیاں ہیں۔ ۔۔۔لوگ اردوصحافت کے تعلق سے صرف تاریخ دوہراتے ہیں،الہلال نے کیا کام کیا؟مولانا آزاد کی صحافتی خدمات کیا ہیں؟اس پر تو خاصا کچھ لکھاجاتارہاہے لیکن اس کے برعکس صحافت کے موضوع پر تنقیدی کتاب نہیں لکھی گئی ہے جس کی عصری صحافت کو سخت ضرورت ہے۔ان ساری خامیوں کو دورکرنے کی ضرورت ہے ۔سچ تو یہ بھی ہے کہ اردو صحافت بڑی صحافت کا اٹنڈنٹ بن کر رہ گئی ہے۔یہ پیچھے پیچھے چلنے والی شئے ہے ،آگے بڑھنے والی چیز نہیں ہے۔اس زبان کے پاس کوئی اپنی ایسی خبررساں ایجنسی نہیں ہے جس سے کوئی بڑا صحافی وابستہ ہو اوروہ عالمی معیار کی خبریں بروقت دینے کی اہلیت رکھتی ہو۔بنیادی خامی یہ ہے کہ جو لوگ اردوصحافت کے امام ہیں،وہ صحافتی فکر نہیں رکھتے۔۔۔۔ برلا جیسی کمپنیاں بھی اخبار چلارہی ہیں لیکن ان کا اپنا ایک اسٹرکچرہے،وہ ایک ساخت رکھتی ہیں لیکن اس کے برعکس اردو کے اخبارات کے ذمہ داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ اخبار کیلئے کسی بھی بے روزگار کو پکڑلیتے ہیں،ایک عدد کارڈ اسے جاری کردیاگیا۔وہ الٹی سیدھی باتیں لکھ کر صاحبان اخبار کو بھیج دیتاہے جسے شائع کردیا جاتاہے۔۔۔۔جنوب میں اس کے برعکس اردوصحافت کو ایمانداری کے ساتھ فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔آج’سیاست‘حیدرآباد کاایک انتہائی مقبول عام اخبار ہے۔اس کے بانی (عابدعلی خاں) نے مجھے خود بتایاتھاکہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے زیورات فروخت کرکے’سیاست‘کی بنیاد رکھی تھی۔ ایمانداری کے ساتھ صحافتی تقاضوں کاخیال رکھتے ہوئے اردواخبارات اگر اسی طرح شمالی ہند بشمول دہلی میں جاری کئے جائیں توکوئی وجہ نہیں کہ اردواخبارات ترقی سے ہمکنارنہ ہوں۔‘‘
 
بیشک وہاب اشرفی کا لہجہ خاصا کرخت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی کہی گئی باتوں سے بہت زیادہ عدم اتفاق کا جواز بھی موجود نہیں کیونکہ یہ برحق ہے کہ اردو صحافت مسائل کے بحر بے کراں میں غوطہ لگارہی ہے۔ان کی اپنی کچھ مجبوریاں بھی ہیں، اردو کشی پرمبنی صورتحال کومسلسل فروغ دیاجارہاہے جس کی وجہ سے اشتہارات کی فراہمی میں بھی نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔اخبارات کی ترسیل کی دشواریاں اضافی مصیبت کا پیش خیمہ بنتی چلی جارہی ہیں،کاغذکی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے جس سے اخبارات کی تیاری پر صرفہ بڑھ رہا ہے۔مجموعی اعتبار سے جو صورتحال ابھرتی ہے وہ یہی کہتی ہے کہ واقعی اردواخبارات کااجراء اور اس کی ترسیل کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں،دشواریوں کی فہرست اگر مختصر ہو تواس سے جان چھڑائے جانے کا راستہ اور طریقہ ڈھونڈاجاسکتاتھا مگر یہاں تو مسائل کاایک انبار ہے۔معیاری خبررساں ایجنسیوں کافقدان، اچھے لکھنے والوں کی قلت،اشتہاری سلسلوں میں بخالت، مالی بحران سب سے بڑی مصیبت!!! کسے شمار میں لایاجائے،کس کس کاشکوہ کیاجائے،واقعی نا موافق حالات میں جو لوگ صحافتی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اور اخبارات کی اشاعت و ترویج کا حقیقی معنوں میں بوجھ برداشت کررہے ہیں، وہ مبارکباد کے مستحق ہیں، کیوں کہ اردو اخبارات اس ملک میں دوہری ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ایک طرف صحافت کافریضہ ہے،دوسری جانب ملت غریب کی رہنمائی کانہایت پر خلوص جذبہ!
تحقیق کاروں اور ناقدین کو بھلے ہی ملت اسلامیہ ہندکے غم میںآنسو بہانے کی اردو اخبارات کی روایت اچھی نہ لگے ،مگر یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ مابعد آزادی اردو صحافت نے از خودیہ ذمہ داری اپنے اوپرعائد کر لی ہے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ 
کیلئے وہ اپنا سرگرم اور قائدانہ کردار نبھائے۔ اردوصحافت کے بعض ناقدین اس سلسلے میں ایک’’ لکشمن ریکھا‘‘ کھینچنابھی چاہتے ہیں کہ اردوصحافت کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں۔قربان علی انڈیانیوزمیں منیجنگ ایڈیٹرہیں۔برسوں اردو صحافت سے وابستہ رہ چکے ہیں اور صحافت کیلئے ضابطہ اخلاق کی پابندی انہیں بہت عزیز ہے۔موصوف نے بی بی سی کو خداحافظ کہنے کے بعدگوکہ برقی ذرائع ابلاغ سے اپنا صحافتی رشتہ استوار کرلیامگرالیکٹرانک میڈیاکی غیرذمہ دارانہ روش اور اردوصحافت کے احتجاجی رویے کو وہ ایک ہی نظریے سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں:
 
’’اردوصحافت پروفیشنل ازم سے دور ہے۔ہندی اورانگریزی میں بھی یہ صورتحال تھی،لیکن انہوں نے خود کو تبدیل کرلیا۔ ایک زمانہ تھاکہ اردواخبارات کے مدیرکوقوم کالیڈر تصورکیا جاتاتھاکہ صاحب یہ جو مشعل راہ دکھائے گاہم اسی کوقبول کریں گے۔وہ نظریہ آج تک اردوایڈیٹرس میں موجود ہے۔اردو ایڈیٹرس آج بھی خود کو قوم کا رہنما تصور کرتے ہیں۔ان کا یہ موقف ہواکرتاہے کہ ہم جو کہہ رہے ہیں،وہ حرف آخرہے،قوم اسے تسلیم کرے۔ ملک میں جتنے بھی جذباتی ایشوزابھرے ان کوہوادینے میں اردوپریس کابھی بڑارول ہے۔ دہلی میںیہ جذبہ اس وجہ سے زیادہ شدیدہے کیونکہ تقسیم ہند کااثردہلی اور یوپی میں جنوبی ریاستوںیا مہاراشٹر وغیرہ علاقوں کے مقابلے زیادہ ہوا اورمسلم اشرافیہ کی اکثریت ہجرت کرگئی۔۔۔۔میں اس معاملے میں اردو اخبارات کی تعریف کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے سن 1947 کے سانحہ اورقتل و غارت گری کے بعد بھی اردوصحافت کوزندہ رکھا۔یہ یقیناایک معرکہ کاکام تھالیکن یہ اُس زمانے کے اردواخبارات کے ذمہ داران کاقائدانہ کردارتھا۔ ۔۔۔اِس وقت شمالی ہندبالخصوص دہلی میں جوسرگرمیاں صحافت کے نام پرانجام پارہی ہیں،انہیں’’صحافت‘‘ قرار دینامشکل ہے۔آج کی اردوصحافت قوم کو مذہب کے نام پر مشوروں سے نوازرہی ہے کہ وہ ان کے بتائے ہوئے راستے پرچلیں۔ پرسنل لا کے معاملے میں’’اردوپریس ‘‘نے وہ واویلامچایاکہ آپ پوچھئے ہی نہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کیلئے ایک مدت سے شوربرپاہے۔بابری مسجدکے ایشو کولے کر ’’اردوپریس ‘‘برسوں کھیلتی رہی۔یہ صحافت ہرگزنہیں۔۔۔۔ ہندی میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ ’’ہر پیشے کاایک دھرم ہوتا ہے‘‘۔ جس طرح انجینئرکاکام انجینئرنگ کے فرائض انجام دینا ہوتاہے،ڈاکٹر کاکام مریضوں کا علاج کرنا ہوتا ہے،ٹھیک اسی طرح اخبار کاکام اطلاعات رسانی ہے۔ڈاکٹرس و انجینئرس جس طرح بلا تفریق مذہب و ملت اپنی خدمات انجام دیتے ہیں،صحافت کیلئے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ اسی طرح کسی تفریق کے بغیر خبریں اور معلومات فراہم کرائیں لیکن اس کے برعکس کیا ہورہا ہے؟یہ ہم اور آپ سے پوشیدہ نہیں۔بہ حیثیت مجموعی اس خطے میں اردو صحافت یا ٹیلی ویژن چینلوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہوا ہے ،اسے صحافت سے حقیقی معنوں میں کوئی سروکار نہیں۔‘‘
 
مرحوم وہاب اشرفی ہوں یا قربان علی ،انہیں اُردوصحافت کے بے وقار و بے اعتبارہوجانے کااحساس یوں ہی نہیں ہے بلکہ انہوں نے21ویں صدی کے تبدیل شدہ منظر نامہ کو ذہن میں رکھ کراُردوصحافت کی ’’بے ضمیری‘‘کاشکوہ کیا ہے۔حالانکہ یہ سچ ہے کہ صحافت کا بذات خود کوئی مذہب نہیں ۔یہ معززومحترم پیشہ خودکو کسی حصار کا مکین نہیں گردانتا۔جس طرح زبان کاکوئی مذہب نہیں ہوتا، علم وفن کا کوئی دین ودھرم نہیں ہوتا،ٹھیک اسی طرح بذات خود صحافت بھی مذہبی ولسانی حدودوقیودکی کبھی پابند نہیں رہی ۔یہی وجہ ہے کہ انسان سے براہ راست 
انسانیت کی بنیاد پر سروکار رکھنا اس مقدس پیشے کاجزواعظم قرارپایا۔ صحافت کایہ آزادانہ کرداربالعموم جس طرح بحال نہیں رہ سکاہے،اسی طرح بدقسمتی سے’’اردوصحافت‘‘پربھی اس کا مکمل طورپر اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ ’’اردوصحافت‘‘اس تقاضے کو بوجوہ نبھانے سے قاصر رہی ہے۔
 
دہلی اردواکادمی کا سہ روزہ سمینارگوکہ اختتام کو پہنچ گیامگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیاعصری اُردو صحافت کے جنازہ کوکاندھادینے والوں کے نظریہ اور موقف میں کوئی انقلابی تبدیلی واقع ہوگی اور کیااُردو صحافت کی تقدیرو تصویراب سنور جائے گی؟اردوصحافت کے عصری منظرنامہ کا جائزہ لینے والوں کا قریب و دور سے مشاہدہ کرنے والے کہتے ہیں کہ اکادمی اپنے ’’حقیقی مقصد‘‘کوحاصل کرنے میں کسی حدتک کامیاب ہوگئی کیونکہ سہ روزہ تقریب کے مدعومہمانان عزام نے اکادمی کے ’کارخیر‘ کو ’’گرانقدرخدمات‘‘ کے سند سے نواز دیا ہے۔یعنی ایک تیر سے دو شکار ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال کے پیسوں کو بھی ٹھکانا لگادیا گیا اور حاشیہ بردار صحافیوں کی جانب سے اکادمی کو یہ ضمانت بھی حاصل ہو گئی کہ وہ مزید ایمانداری کے ساتھ’’ حق نمک‘‘ ادا کرتے رہیں گے اوراکادمی کی توصیف میں رطب اللسان ہوں گے‘‘ ۔مشاہدین کے مذکورہ خیال سے اتفاق نہ کرنے والوں کی نگاہ میں بھلے ہی اردو اکادمی نے ایک بڑامعرکہ سر کرلیا اوراردوصحافت کے عصری منظرنامہ کا جائزہ لینے کے مقصد سے ایک بڑا مجمع لگانے میں اُسے کامیابی مل گئی مگرجو لوگ اردوصحافت کی موت و حیات پر مبنی کشمکش والی صورتحال کے زندہ گواہ ہیں اور جنہیں اردو صحافت کے بے ضمیر ہو جانے کا احساس شدت سے ستارہا ہے،ان کا کہنا ہے کہ حقیقی معنوں میں ایسے سمیناروں سے نہ تو اردو صحافت کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے اور نہ ہی عہد حاضر کے صحافیوں کو ایماندار اور حق شناس بنانے میں ایسی جدوجہد کام آسکتی ہے۔ اردو اکادمی کے’’ ارباب حل و عقد‘‘ سے یہ ضرورپوچھاجانا چاہئے کہ اس سہ روزہ تقریب پرکیا صرفہ آیا اور پانی کی طرح پیسوں کو بہانے سے درحقیقت اُردو صحافت کا کیا بھلاہوگیا؟یہ سوال دریافت کرنے کا حق اُردو والوں کو اس وجہ سے بھی ہے کیونکہ یہ ادارہ کسی کی شخصی جاگیر نہیں !اردو زبان و ادب یا صحافت کی خدمت کا کیا صرف اب یہی تقاضا رہ گیا ہے کہ سمینار و سمپوزیم کا انعقاد کرکے زیادہ سے زیادہ حاشیہ برداروں کی فوج تیار کی جائے جو اٹھتے بیٹھتے اردو اکادمی کی شان میں قصیدے پڑھیں یااِس سے مزید آگے بڑھنے کی بھی ضرورت ہے؟ یہ دریافت کرنے والے کچھ لوگ اردو اکادمی کی نیت اور منشا پر بھی سوالات کھڑے کررہے ہیں اور یہ بتانا نہیں بھولتے کہ اکادمی ہر زمانہ میں قصیدہ خواں اور مطلب بردارطبقہ کی کفالت کی سبیل ڈھونڈتی رہی ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ ایسے اعتراضات کی حقیقت کیا ہے لیکن ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اردوصحافت کے نام پر لاکھوں یا کروڑوں روپے سمیناروں پر خرچ کرنے والی دہلی اردو اکادمی مضبوط قوت ارادی سے محروم ہے ۔اگرکم از کم اکادمی اردوصحافت کے عصری منظر نامہ پربحث و تمحیص کی حد تک بھی ایماندار ہوتی تو موضوعاتی اعتبار سے مصلحت پسندموضوعات کا انتخاب نہیں کرتی بلکہ اس کے برعکس فکری و نظریاتی وسیع القلبی دکھائی جاتی تاکہ اردو صحافت کے موجودہ مزاج و اندازاور اطوار و آداب پر کھل کر بحث ہو سکے مگرہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ سہ روزہ سمینار کے اختتام کے بعد بھی ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے والوں کو مایوسی ہی ہاتھ آئے گی کہ اردوصحافت کوفروغ دینے کے نام پر منظرعام پرآنے والے بیشتراخبارات کی موجودہ صورتحال کیاہے؟انہیں کن مصائب ومشکلات کاسامناہے؟ اردو صحافت کابنیادی مسئلہ کیاہے؟قاری کا مسئلہ کیاہے؟ان کے وسائل کس حد تک ہیں؟ زردصحافت سے 
 
اردو صحافت کاکیارشتہ ہے؟ خبروں کی فراہمی، پیشکش اور انداز و آہنگ کے لحاظ سے اردو روزناموں کی صورتحال کیا ہے؟کمرشیل اشتہارات کس حد تک ملتے ہیں؟سرکولیشن کامعاملہ کیساہے؟ ہم عصرصحافت سے مقابلے اور موازنے کے بعد اردو صحافت کی کیا شکل سامنے آتی ہے؟ جدیدتکنیکی وسائل کو بروئے کار لانے میں اردوصحافت کس حدتک کامیاب ہے؟ ’حقیقت پسندی‘ کارجحان کس حد تک ’فرقہ پرستی‘کو فروغ دینے کا محرک بن رہاہے؟ اردو صحافت نے’خودساختہ‘قفس میں خودکوکس حد تک قید کررکھا ہے ؟صحافتی اقداروآداب اور تقاضوں کی پاسداری کس حد تک کی جارہی ہے؟اردوصحافت کے اسلوب وآہنگ پر اردو زبان کی زوال پذیری کااحساس کس حدتک غالب ہے؟احتجاج واشتعال سے یہ وادی کیوں بھری پڑی ہے؟اخلاقیات کو نباہنے کاخیال بھی ہے آیا نہیں؟درحقیقت یہ وہ سوالات ہیں،جنہیں نظر انداز کرتے ہوئے عصری اردوصحافت کاایماندارانہ طریقے سے جائزہ لیاجانا ممکن ہی نہیں مگراردو اکادمی پھر بھی مبارکباد کی مستحق بن رہی ہے کہ ایسے بیشتر سلگتے مسئلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اُس نے ایک’’ کامیاب سمینار‘‘ کاانعقاد کیااور ’’مفادات عمومی‘‘کو قربان کرتے ہوئے’’مفادات خصوصی ‘‘کوہنرمندانہ طریقے سے مقدم ٹھہرایا۔کہنے کو اُردو اکادمی کا یہ سہ روزہ سمینار قومی حیثیت کا حامل تھا،جس میں بظاہرملک کے مختلف گوشوں کے مقالہ نگاروں کو مدعو کیا گیا مگرجب ہم گہرائیوں میں اتر کر یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک کے موجودہ صحافتی منظر نامہ کو پیش نظررکھ کرصحافت کے عصری منظرنامہ کاجائزہ لینے کی یہ کوشش کس حد تک کامیاب رہی تو بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اکادمی کے ’’ ارباب حل و عقد‘‘ کج نگاہ واقع ہوئے اور یوں یہ سہ روزہ سمینار حقیقی معنوں میں قومی سمینار کہلانے کی مستحق نہیں بن سکی۔ہمیں نہیں معلوم کہ سمینار میں کیوں ملک کی کئی قابل ذکرریاستوں کی نمائندگی سرے سے ہوئی ہی نہیں،جنہیں نظرانداز کرکے اردو صحافت کے موجودہ منظرنامہ کا جائزہ لینا بڑی ناانصافی ہے۔چونکہیہ حقیقت مسلم ہے کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اردو صحافت کی دنیا الگ الگ طریقوں سے آباد ہے۔ چونکہ ہر ایک خطے میں اردوخواں آبادی کی نوعیت مختلف ہے لہٰذا ہر ایک ریاست میں اردوصحافت کی صورت حال جغرافیائی لحاظ سے دوسرے صوبوں سے مختلف بھی ہے۔اہل زبان کی آبادی،ان کے تقاضوں اورذوق سلیم کی منفردکیفیتیں بھی علاحدہ علاحدہ صوبوں میں الگ الگ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض خطوں میں اردوصحافت اپنا وجود منوانے میں کسی حد تک کامیاب ہے، جہاں اردوصحافت کاارتقائی سفر اردو خواں آبادی کے تعاون و اشتراک سے آگے بڑھ رہا ہے،لیکن بیشترریاستوں میں حالات قطعاًاطمینان بخش نہیں ہیں بلکہ ہم اسے تشویشناک ہی کہہ سکتے ہیں۔خصوصاً شمالی ہند کی صورتحال ہرگزہرگز اطمینان بخش نہیں کہلاسکتی،لہٰذا ایسے حالات کے درمیان اردو اکادمی کیلئے یہ لازم تھا کہ وہ قومی سمینار کیجغرافیہ کابھی خاص خیال رکھتی، جس سے شاید عمداًچشم پوشی کی گئی۔بیشک چند ایک قد آور صحافیوں کو اس سمینار میں مدعو کیا گیا مگراس کے ساتھ ہی بیساکھیوں کا سہارا لے کر اپنا قد اونچا کروانے والوں کو جس طرح بیش از بیش نمائندگی دی گئی ،اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ صحافتی سمینارایک طرح سے اخلاقی قدروں کا گلا گھونٹنے کا بھی سبب بن گیا۔ویسے اردوصحافت میں اخلاقی قدروں کاگلاگھونٹنے کی روایت بڑی پرانی ہے۔اس سلسلے کی عہدبہ عہد تجدیدبھی ہوتی رہی ہے۔ صحافتی سرگرمیوں کی انجام دہی کے درمیان متوازی انداز میں اردو صحافت کودریدہ دہن بناکر پیش کرنے اور چرب زبانی کامظاہرہ کرتے ہوئے مفادات خصوصی کے حصول کاماجرا تو ہم آئے دن دیکھتے ہی آرہے تھے،اب ایسے میں اگر دہلی اردو اکادمی کے سمینارمیں 
بھی ’’کھوٹے سکوں‘‘کو ’’سکۂ رائج الوقت‘ بنانے کی کوششیں دیکھی گئیں جو حیران کن بھی ہیں۔
 
کہنے کو اردوصحافت آج بھی ایک مقدس پیشہ ہے لیکن اس کے برعکس وادئ صحافتِ اردو پر ایسے ہی لوگ فی زمانہ بہت زیادہ تیزی سے ابھررہے ہیں اور مناسب مقام حاصل کرتے جارہے ہیں جن کی چرب زبانی اوردریدہ دہنی یابلیک میلنگ سے بسا اوقات اردوصحافت کو رسوائیوں کاسامناکرنا پڑا ہے۔یہ سلسلہ آج بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ گرچہ یہ صورتحال صرف اردوصحافت کی نہیں ہے،بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ معاشرتی تغیر کے تحت رونماہونے والی فکری تبدیلیوں کا زندگی کے جملہ شعبوں پر اثر دیکھا جارہا ہے اور ہر ایک شعب�ۂ حیات میں اخلاقی قدروں کافقدان ایک بڑا سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
 
اخلاقی قدروں کے فقدان سے پیدا ہونے والی ہیجانی صورتحال سے خود دہلی اردو اکادمی کایہ سہ روزہ سمینار بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا جہاں سمینار کے کنوینراور ناظم کو اسٹیج پر لفظی جنگ کرتے اور اکادمی کے وائس چیئر مین کو درمیان میں آکر جھگڑا ختم کراتے دیکھا گیا۔وہ تو مقام شکر ہے کہ ’’توتومیں میں‘‘ کی خبراخبارات میں بوجوہ شائع نہیں ہوئی ورنہ اردو اکادمی کے سہ روزہ سمینارکے اسٹیج کی ’’نظریاتی دھینگہ مشتی‘‘عام اردو داں قارئین کیلئے مزیدتکلیف دہ ثابت ہوتی۔خیراردو اکادمی کے اسٹیج پررونما ہونے والے ’’ناخوشگوار سانحہ‘‘پر ہم بہت زیادہ تبصرہ اس وجہ سے کرنا نہیں چاہتے کیونکہ جب بات نکلے گی تو دور تک جائے گی۔چونکہ شخصی طور پر پگڑیاں اچھالنے میں ہم ہرگز یقین نہیں رکھتے لہٰذا یہ بھی نہیں کہنا چاہتے کہ اس ’’فساد ‘‘کیلئے کون ذمہ دار ہے؟البتہ یہ کہتے ہوئے ہمیں ذرا بھی خوف نہیں کہ ببول کے پیڑ سے آم کی فصل کی امید کرناحماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔جب اکادمی کے اسٹیج پر نا اہل لوگ بڑی بڑی بیساکھیاں لگا کر پہنچیں گے تو فطری طور پریہی صورتحال درپیش ہوگی۔بہر کیف جملہ معترضہ کی حیثیت سے درآنے والے اس نکتہ کو صرف نظر کرتے ہوئے ہم حقیقی موضوع کی جانب مراجعت چاہیں گے اور ہم یہ بھی دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ اس سمینارسے اردو صحافت کو کیا حاصل ہوا۔
صحافت آج ایک ایسے انسان پسندپیشہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو ہمہ پہلوعلوم وفنون کااحاطہ کرتے ہوئے قارئین کونہایت جامعیت کے ساتھ صرف اطلاعات ہی فراہم نہیں کراتی بلکہ معاشرے کے ہررکن سے وابستگی رکھتے ہوئے اس کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کاباعث بھی بنتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 21ویں صدی کے تبدیل شدہ منظر نامہ میں صحافت کی اہمیت مزیددو چند ہوگئی ہے ۔یہ مسلمہ حیثیت اس پیشے کو صرف اس وجہ سے حاصل ہے کیونکہ صحافت کا بذاد خود کوئی مذہب نہیں ہے ۔یہ معززومحترم پیشہ خودکو کسی حصار کی مکین نہیں گردانتا۔جس طرح زبان کاکوئی مذہب نہیں ہوتا، علم وفن کا کوئی دین ودھرم نہیں ہوتا،ٹھیک اسی طرح بذات خود صحافت بھی مذہبی ولسانی حدودوقیودکی کبھی پابند نہیں رہی ۔یہی وجہ ہے کہ انسان سے براہ راست انسانیت کی بنیاد پر سروکار رکھنا اس مقدس پیشے کاجزواعظم قرارپایا۔ صحافت کایہ آزادانہ کرداربالعموم جس طرح بحال نہیں رہ سکاہے،اسی طرح بدقسمتی سے ’اردوصحافت‘ پربھی اس کا مکمل طورپر اطلاق نہیں ہوتاکیونکہ ’اردوصحافت‘اس تقاضے کو بوجوہ نبھانے سے قاصر رہی ہے۔
اردوصحافت کے ائمہ نے صحافت کا جودستورالعمل اور ضابطہ تیارکیاتھااور جسے انہوں نے عملی صحافت میں برتتے ہوئے تاریخ میں اردو صحافت کانام روشن کیا،آج اُسے صحافت کے موجودہ امام جوتیوں تلے روندنے میں عملاًیقین رکھتے ہیں۔مولانامحمدعلی جوہرنے کہاتھا کہ وہ 
اپنے اخبارکوقاری کا’رفیق سفر‘بنانا چاہتے ہیں،آج کی اردوصحافت کے مزاج، انداز، اطوار اور ترجیحات کو پیش نظررکھ کر یہ رائے قائم کرنامشکل ہے کہ اردوکے اخبارات قارئین کے’’رفیق سفر‘‘ہیں۔ اصولوں کی پاسداری کے لحاظ سے اردوصحافت اپنے شاندار ماضی کی امین کہلانے کی مستحق ہے؟یہ دعویٰ ہرگزنہیں کیاجاسکتا کیونکہ تغیرزماں کے درمیان ’’اردوصحافت‘‘ہنوزیہ طے نہیں کرسکی ہے کہ اس کاکردارکیاہے؟ اردو صحافت کاموجودہ منہاج نہ تومشن سے ہی عبارت ہے اور نہ ہی اس میں’کاروباری ‘ یا’تجارتی‘ خصلتیں ہی موجود ہیں۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اردو صحافت (چند ایک اداروں کو چھوڑ کر)کسی نہ کسی لحاظ سے شخصی،ادارہ جاتی،طبقاتی،مسلکی یاجماعتی وابستگی کا مظاہرہ کررہی ہے یا مالیاتی منفعت کیلئے بلیک میلنگ کو شعار بنارہی ہے۔اس خوفناک رجحان پر قد غن لگاناگوکہ ناممکن ہے مگربحث و تمحیص کے ذریعہ لوگوں میں ضمیرکو جگانے اور احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے،مگربدقسمتی یہ بھی ہے کہ دہلی اردو اکادمی نے اس سنگین مسئلے پرذرا بھی توجہ نہیں دی۔
 
ہرچند کہ اس بات کے امکانات پوری طرح موجود ہیں کہ اردوصحافت کوہم عصرصحافت کے مدمقابل کھڑاکیاجاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے بالعموم ایسا نہیں ہوسکاہے۔عصری اردوصحافت کی یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ منفی جذبوں کوبروئے کار لاتے ہوئے قارئین کے جذبات کو برانگیختگی بخشنے کی بجائے مثبت رویوں کو صحافتی ترجیحات میں شامل کیاجائے اور خوابیدہ صلاحیتوں کوجگایا جائے۔ ہم عصراردو صحافت کے رگ و ریشے میں تواناخون دوڑانے کیلئے ایک تحریکی ذہنیت کی ضرورت درپیش ہے ۔ صرف پرخلوص جذبوں کے تحت صورتحال میں کوئی انقلابی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔اس کیلئے بہترین وسائل کو بروئے کارلاناہوگا،سرمایہ کاری کامستحکم طریقہ اختیارکرناپڑے گا۔ بہترین صحافتی ٹیم تیارکرناہوگی۔فرسودہ نظریات اوردقیانوسی ذہنیت کوترک کرناپڑے گا۔عصری صحافت کی ترقی کے اسرار ورموزسے شناوری حاصل کرنی پڑے گی اورپھراس کی روشنی میں اردوخواں آبادی کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے ترجیحات کاتعین کرنا ہوگا،تب کہیں جاکر اردوصحافت کی آبرو کی بحالی ممکن ہوسکے گی۔گرچہ یہ ایک مشکل ترین کام ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ماحصل کے طورپریہ نتیجہ اخذکیاجاسکتا ہے کہ امکانات کی موجودگی کے درمیان اردوصحافت ایسے مسیحاؤں کی منتظر ہے جس کاشرمندۂ احسان ہوکریہ صنف ادب اپنی حرمت،عزت، وقاراوراعتبار کودوبارہ بحال کرسکے۔ ہماراخیال ہے کہ سالانہ’’ 17 لاکھ روپے کی بھیک‘‘ کا لالچ دے کر اردو اخبارات کو اپنا دست نگربنانے کی کوشش کرنے والی دہلی اردو اکادمی سے بہرحال یہ امید نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ اردو صحافت کو جان کنی کی صورتحال سے نکالنے میں مددگار کا رول ادا کرسکے۔
 
(مضمون نگار روزنامہ’’ ہندوستان ایکسپریس ‘‘کے نیوز ایڈیٹر ہیں)
 
shahid.hindustan@gmail.com
Mob:08802004854,09871719262
 
 
+++++++++++++++++++++++++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 885