donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Shahnawaz Farooqui
Title :
   Ilm Aur Musalman

علم اور مسلمان
 
…شاہنواز فاروقی…
 
انسان کی زندگی میں ایمان کے بعد سب سے زیادہ اہمیت علم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ایمان کے بعد سب سے زیادہ اصرار علم پر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم کی فضیلت کو ظاہر کرنے کے لیے کہا کہ علم رکھنے والا اور علم نہ رکھنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے علم کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کہیں اہلِ ایمان سے کہا ہے کہ تم تفکر سے کام کیوں نہیں لیتے؟ کہیں فرمایا ہے کہ تم تدبر کو کیوں بروئے کار نہیں لاتے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ علم انبیاء کا ورثہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبی اور علم لازم وملزوم ہیں۔ انبیاء دنیا میں علم کے ساتھ تشریف لاتے ہیں اور وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے علم کی ایسی دولت چھوڑ جاتے ہیں جس سے صدیوں تک انسانوں کی بے شمار نسلیں سیراب ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ انبیاء کی ضد کے طور پر پیش کیے گئے ہیں ان کا ورثہ مال و متاع اور دنیا کی پرستش کے سوا کچھ نہیں۔
 
علم کی اہمیت اتنی بنیادی ہے کہ اس کے بغیر انسان کی زندگی کا وجود ممکن ہی نہیں۔ انسان کا انفرادی اور اجتماعی تشخص کسی نہ کسی طرح کے علم کا محتاج ہے۔ انسان کھانے پینے، یہاں تک کہ چار قدم چلنے کے لیے بھی علم کا محتاج ہے۔ انسان نے اس دنیا میں جو کچھ تخلیق اور ایجاد کیا ہے اس کی بنیاد بھی علم پر رکھی ہوئی ہے۔ انسان کا دوسرے انسانوں سے تعلق علم کا مرہونِ منت ہے، یہاں تک کہ انسان اپنے خالق، اپنے مالک اور اپنے رازق کو بھی علم ہی کی وجہ سے جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں 800 سے زیادہ مقامات پر علم اور اس کے متعلقہ تصورات کی جانب انسانوں کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ غور کیا جائے تو علم شعور کی بنیاد ہے۔ علم کے بغیر شعور اور شعور کے بغیر انسان کا تصور محال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو فرشتوں پر جو فضیلت دی اس کا ایک حوالہ علم بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے اشیاء کے اسماء معلوم کیے۔ چونکہ فرشتوں کو اسماء کا علم عطا نہیں کیا گیا تھا اس لیے وہ چیزوں کے نام بتانے سے قاصر رہے۔ چونکہ حضرت آدمؑ کو اشیاء کا علم عطا کیا گیا تھا اس لیے انہوں نے اشیاء کے نام بتا دیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو انسان کے ماضی، موجود اور ممکن کا انحصار علم پر ہے۔ علم نہ ہو تو انسان کا کوئی ماضی نہ ہو۔ علم نہ ہو تو انسان کا کوئی حال نہ ہو۔ اور علم نہ ہو تو انسان کا کوئی مستقبل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جہل کو تاریکی اور علم کو روشنی کہا جاتا ہے۔ شیکسپیئر نے کہا ہے کہ اصل مسئلہ ہونے یا نہ ہونے کا ہے۔ غور کیا جائے تو انسان کا ہونا علم کے ساتھ مشروط ہے۔
 
علم کا ذکر ہوتا ہے تو برتر اور کمتر علم کا سوال بھی ضرور سامنے آتا ہے۔ انسان جاننا چاہتا ہے کہ برتر علم کیا ہے اور وہ کہاں سے آتا ہے؟ اور کمتر علم کسے کہتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں؟ دنیا میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تک رسائی کے لیے انسان کو وحی کی ضرورت نہیں، انسان خود اپنے تخیل اور تفکر کی مدد سے خدا کی موجودگی کا ادراک کرسکتا ہے۔ لیکن وجودِ باری تعالیٰ کے سلسلے میں ایک موہوم سا احساس کافی نہیں۔ انسان خدا سے حقیقی تعلق استوار کرنے کے لیے اس کی ذات اور صفات، اس کے احکامات اور اس کے خوش اور ناراض ہونے کی بنیادوں کے علم کا محتاج ہے۔ اس کے بغیر وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب نہیں ہوسکتا، اور مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے علم کے لیے وحی کا علم ناگزیر ہے۔ انسان اپنی عقل سے صرف اتنا جان سکتا ہے کہ اس زندگی اور کائنات کا کوئی نہ کوئی بنانے والا ہے۔ یہ بات بھی تمام انسان نہیں جان سکتے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو علم وحی کی برتری پوری طرح سے عیاں ہوکر سامنے آتی ہے۔ اس لیے کہ وحی کا علم من جانب اللہ ہے، اس لیے صرف علم وحی سو فیصد درست ہے۔ انسان کی نظر اور عقل کے نقص کا یہ عالم ہے کہ انسان صحرا میں دور سے چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ لیتا ہے۔ قریب جاتا ہے تو اس کی نظر اور ادراک کی حقیقت عیاں ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ جسے پانی سمجھ رہا تھا وہ صرف چمکتی ہوئی ریت تھی۔ انسان پانی میں پڑی ہوئی چھڑی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے ٹیڑھی نظر آتی ہے۔ چھڑی کو پانی سے باہر نکالا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیدھی ہے۔ اسی طرح شدید محبت اور شدید نفرت بھی انسان کو چیزوں اور حالات و واقعات کی تہہ تک نہیں پہنچنے دیتیں۔ غصے کی حالت میں انسان کے علم اور فہم کا بڑا حصہ موجود ہوکر بھی غیر موجود ہوجاتا ہے۔ اس لیے مرزا یاس یگانہ چنگیزی نے بالکل ٹھیک کہا ہے ؎
علم کیا علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
عقل اپنی جگہ ایک حقیقت اور انسان کی ضرورت ہے، مگر عقل صحیح طرح سے کام کرنے کے لیے علمِ وحی کی محتاج ہے، بالکل اسی طرح جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لیے بنائی گئی ہیں مگر دیکھنے کی صلاحیت کے لیے وہ (سورج کی) روشنی کی محتاج ہیں۔ قرآن مجید انسان کے گمان کو علم تسلیم نہیں کرتا، بلکہ وہ تو یہ تک کہتا ہے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ قرآن مجید اپنے آغاز ہی میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں شک نہیں۔ اس کے برعکس جدید فلسفے کی بنیاد یقین کے بجائے شک پر رکھی ہوئی ہے۔ اقبال کا ایک مشہور شعر ہے ؎
مرا دل مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر یقیں کا ثبات
کہنے کو یہ اقبال کی ذاتی واردات کا بیان ہے لیکن درحقیقت یہ شعر جدید پڑھے لکھے مسلمانوں کی ایک اجتماعی تصویر ہے۔ اس تصویر میں یقین علمِ وحی کی ’’عطا‘‘ ہے، اور گمانوں کے لشکر جدید علوم کی ’’بخشش‘‘ ہیں۔
 
اسلام کا ایک کمال یہ ہے کہ وہ علم کو مجرد نہیں رہنے دیتا۔ اسلام کہتا ہے کہ علم کو عمل میں ڈھالو۔ یعنی خیال کو تجربہ بنائو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارا علم مجرد رہ جائے گا۔ مجرد علم اور عمل میں ڈھل جانے والے علم میں وہی فرق ہے جو گلاب کے پھول کی تصویر اور گلاب کے پودے پر لگے ہوئے گلاب میں ہے۔ پوری انسانیت اور خود مسلمانوں کی تاریخ میں یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اسے سمجھے بغیر ہم اپنی تاریخ کے مختلف مراحل کی معنویت کو نہیں سمجھ سکتے۔ اقبال نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے ؎
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
سوال یہ ہے کہ اس شعر میں ’’روحِ بلالیؓ‘‘ اور ’’تلقینِ غزالی‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ روحِ بلالیؓ کا مطلب یہ ہے کہ اذان کے کلمات حضرت بلالؓ کے لیے ’’قال‘‘ نہیں تھے، ’’حال‘‘ تھے۔ وہ جب کہتے تھے کہ اللہ بڑا ہے تو انہوں نے اللہ کی بڑائی کو بسر کرکے دکھایا ہوتا تھا۔ بلاشبہ تلقینِ غزالی میں غزالی کا علم اور ان کا اسلوب بھی شامل ہے مگر اپنی اصل میں تلقینِ غزالی اسلام کو بسر کرنے کا تجربہ ہے۔ یعنی غزالی کے لیے اسلام کوئی ذہنی حقیقت نہیں تھا بلکہ ایک ایسی واردات تھا جو ان کے پورے وجود کو گرفت میں لیے ہوئے تھی۔ مسلمان جب تاتاریوں سے پٹ رہے تھے تو وہ کافر اور مشرک نہیں ہوگئے تھے اور ان کی علمی میراث فنا نہیں ہوگئی تھی، اصل مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان علم کو بسر کرنے والے نہیں رہ گئے تھے۔ چنانچہ ان کے پاس علم تو تھا مگر اس میں زندگی نہیں تھی۔ ان کے پاس علم کا بیان تھا مگر اس میں ’’تاثیر‘‘ نہیں تھی، وہ لوگوں کو منقلب کرنے والا نہیں رہا تھا۔ اِس وقت بھی مسلمانوں کی اصل کمزوری یہی ہے۔ مسلمانوں نے جہاں اسلام کو بسر کرکے دکھایا ہے وہاں انہوں نے بہت بڑے نتائج پیدا کیے ہیں۔ اس کی ایک مثال مولانا مودودیؒ کا علمِ کلام ہے جس نے کروڑوں مسلمانوں کی زندگی کو بدلا ہے۔ اس کی دوسری مثال افغانستان ہے جہاں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت نے جہاد کو ’’بسر‘‘ کرکے دکھا دیا۔ نتیجہ یہ کہ افغانستان میں 30 سال کی مختصر سی مدت میں وقت کی دوسپر پاورز کو شکست ہوگئی ہے۔ اقبال نے اس سلسلے میں ایک اہم بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا:
یا مردہ ہے یا نزع کے عالم میں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے
یہ صرف فلسفے کی بات نہیں… شاعری ہو یا علم، جس چیز میں خونِ جگر شامل نہیں ہوتا اُس میں نہ معنویت ہوتی ہے نہ حسن وجمال، اور نہ ہی وہ چیز زیادہ دنوں تک زندہ رہتی ہے۔
 
اسلام میں علم کی ایک شان یہ ہے کہ علم اصل میں اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، احکامات اور آیات کے علم کو کہتے ہیں۔ لیکن اسلام میں علم کی پوری روایت خدا مرکز یا God Centric ہے۔ بعض لوگ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ اسلام کی علمی روایت میں انسان اور مادے کا کوئی مقام نہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں۔ احکامات اور آیات کے علم میں انسان اور مادے کا علم شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے علم کی جتنی بڑی روایت پیدا کی ہے دوسری امتیں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ مسلمانوں نے تفسیر کا غیر معمولی علم پیدا کیا ہے۔ علمِ حدیث کا بحرِ زخار تخلیق کیا ہے۔ وہ فقہ کے سمندر کو وجود بخشنے والے ہیں۔ انہوں نے شاعری کی کائنات تخلیق کی ہے۔ انہوں نے بے مثال داستانیں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے علمِ کلام کے دریا بہائے ہیں۔ انہوں نے اپنے علم سے آدھی سے زیادہ دنیا کو فتح کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان جتنا کچھ کرچکے ہیں اُس سے زیادہ کا امکان اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے پاس قرآن ہے۔ اس لیے کہ ان کے پاس اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے
 
۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 768