donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Shahnawaz Farooqui
Title :
   Maafi

 

معافی
 
شاہنواز فاروقی
 
معافی کا تصور مذہبی کائنات کے روشن ترین ستاروں میں سے ایک ہے، اور بنیادی طور پر اس کا تعلق خدا کے ساتھ ہے، اس لیے کہ خدا صرف خالق، مالک اور رازق ہی نہیں ہے، وہ سب سے زیادہ معاف کرنے والا بھی ہے۔ اس کے معاف کرنے کی استعداد ایسی ہے کہ اگر دنیا کے سات ارب انسان ایک ہزار کھرب گناہوں کے ساتھ بھی سچی توبہ لے کر اس کے پاس جائیں تو وہ ایک لمحے میں سب کو معاف کردے گا۔ اس کے رحم وکرم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کفر اور شرک کو سخت ناپسند کرتا ہے لیکن وہ کافروں کو زندہ رکھتا ہے، انہیں رزق دیتا ہے، ہر طرح کی خوشیوں سے نوازتا ہے، اور اگر کسی کو اپنے کفر اور شرک کا احساس ہوجائے اور وہ خدا کی طرف پلٹ آئے تو خدا اسے معاف کرکے اپنا بنالیتا ہے۔ انبیاء و مرسلین چونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا سب سے بڑا مظہر ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے بعد وہی سب سے زیادہ معاف کرنے والے ہوتے ہیں۔ رسالت اور نبوت کی پوری تاریخ اپنی نہاد میں درگزر اور معاف کردینے کی تاریخ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سردارالانبیاء ہیں اس لیے آپؐ سب سے زیادہ معاف کرنے والے بھی ہیں۔
 
اہلِ مکہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی اذیت نہیں دی؟ مگر جب مکہ فتح ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام دشمنوں اور تکلیف پہنچانے والوں کو معاف کردیا، اور معافی کا یہ عمل فتح مکہ سے زیادہ بڑی فتح تھی، اس لیے کہ اس فتح سے معاف کرنے کے عمل کی پوری حقیقت اور اس کا جمال آشکار ہوا۔
 
غور کیا جائے تو معاف کرنے کا عمل کوئی مجبوری یا معذوری نہیں ہے۔ معاف کرنا اس کو نہیں کہتے کہ چونکہ ہم کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اس لیے اسے معاف کردیتے ہیں۔ معاف کرنا یہ ہے کہ ہم اپنے دشمن یا حریف سے اس کے ظلم کا بدلہ لینے پر پوری طرح قادر ہیں، لیکن قدرت رکھنے کے باوجود ہم بدلہ نہیں لیتے بلکہ اسے معاف کردیتے ہیں۔ معاف کرنے کی یہ جہت بھی اللہ تعالیٰ کی معاف کرنے کی صفت سے برآمد ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام انسانوں کو ایک لمحے میں سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ قدرت رکھنے کے باوجود انسانوں کو معاف کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں فاتح بن کر لوٹے تو وہ ہر ظلم کا حساب لینے یا کم از کم انصاف کرنے پر قادر تھے۔ مگر آپؐ نے انصاف بھی نہیں کیا۔ آپؐ نے احسان کیا، اور احسان کا مرتبہ انصاف سے بلند تر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ وہ محسنوں سے محبت کرتا ہے۔ اللہ خود معاف کرنے والا ہے اور اسے یہ پسند ہے کہ اس کے بندے بھی معاف کرنے والے ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ معاف کرنے کا حقیقی تصور کیا ہے؟
تلسی داس کا ایک دوہا ہے   ؎
تلسی داس کھڑا بجار میں مانگیں سب کی کھیر
نا کاہُو سے دوستی نا کاہُو سے بیر
مطلب یہ ہے کہ تلسی داس بازار میں کھڑے ہیں اور سب کی خیر مانگ رہے ہیں۔ ان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی نہ کسی سے دوستی ہے نہ کسی سے دشمنی ہے۔ تلسی داس کا بازار دراصل تلسی داس کی دنیا ہے، اور اس دنیا میں رہتے ہوئے تلسی داس نے تعلق میں بے تعلقی پیدا کرلی ہے، چنانچہ وہ اب نہ کسی کی جانب راغب ہیں اور نہ کسی سے بیزار ہیں۔ ہندو ازم اور عیسائیت میں رہبانیت کی طویل روایت موجود ہے اور تلسی داس کے اس دوہے پر اس روایت کا اثر ہے۔ یہ روایت غیر معمولی ہے مگر ادھوری ہے۔ اس لیے کہ یہ روایت انسان کو دشمنی کی منفیت سے تو بچا لیتی ہے مگر دوستی کی مسرت اور اس کے منفی کو مثبت میں بدلنا نہیں سکھاتی۔ چنانچہ اس روایت کے دائرے میں معاف کرنے پر تعلق سے زیادہ لاتعلقی کا اثر ہے۔ انسانوں سے لاتعلق رہ کر انہیں معاف کرنا مشکل نہیں۔ مشکل یہ ہے کہ انسان کا انسانوں سے تعلق ہو اور انسان پھر بھی معاف کرنے والا ہو۔ اس کی ایک مثال میر تقی میرؔ کا یہ شعر ہے   ؎
 
جگر کاوی، ناکامی دنیا ہے آخر
نہیں آئے جو میرؔ کچھ کام ہوگا
 
غزل کی شاعری میں محبوب جوروجفا کی علامت ہے۔ وہ وعدہ کرتا ہے اور اسے وفا نہیں کرتا۔ اس صورت حال نے اردو شاعری کو شکایتوں کا اچھا خاصا دفتر بنا دیا ہے۔ لیکن میرؔ کہہ رہے ہیں کہ اگر محبوب وعدہ کرکے نہیں آیا تو اس میں انسانی مجبوریوں کا دخل ہوسکتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بسا اوقات انسان خواہش اور کوشش کے باوجود بعض کام نہیں کرپاتا۔ یعنی انسان کی ہر خرابی ارادی نہیں ہوتی، اس میں مجبوری کو بھی دخل ہوتا ہے، چنانچہ انسانی مجبوری کا احترام کیا جانا چاہیے اور انسان کو اس کی مجبوری کے احترام میں معاف کر دینا چاہیے۔ ان حقائق 
سے معاف کرنے کی روحانی اہمیت عیاں ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاف کرنے کی کوئی نفسیاتی، جذباتی اور سماجی اہمیت بھی ہے؟
 
معاف کرنے کا عمل محبت کا سب سے بڑا امتحان یا اس کا سب سے بڑا Test ہے۔ جو محبت انسان کو معاف کرنا نہیں سکھاتی وہ سطحی ہے، سرسری ہے، اس میں ایک کمی ہے۔ سلیم احمد کا ایک شعر ہے   ؎
جس نے تجھے دکھ سہنے کی توفیق نہیں دی
وہ اور کوئی شے ہے محبت تو نہیں ہے
یہاں دکھ  سہنے کی توفیق کا مطلب معاف کرنے کی اہلیت ہے۔ انسان کو کسی سے دکھ پہنچتا ہے تو وہ جواب میں اس انسان سے یا تو تعلق توڑ لیتا ہے یا دکھ کا جواب دکھ سے دیتا ہے۔ لیکن معاف کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو انسان دکھ سہنا سیکھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں محبت رفتہ رفتہ عشق بن جاتی ہے۔ لیکن محبت میں معاف کرنے کی اہلیت کہاں سے آتی ہے؟ اس سوال کا جیسا جواب میرؔ نے دیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ میرؔ نے کہا ہے   ؎
خوش ہیں دیوانگیٔ میرؔ سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
لوگ عام طور پر جنون اور شعور کو ایک دوسرے کی ضد سمجھتے ہیں، مگر میرؔ کے عشق نے اضداد کو یکجا کردیا ہے۔ لیکن سوال تو یہی ہے کہ یہ کام کیسے ہوتا ہے؟ میرؔ کے اس شعر کے تناظر میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ محبت میں معاف کرنے کی اہلیت محبت کی تفہیم سے آتی ہے، اور جب ایسا ہوتا ہے تو جنون اور شعور یکجا ہوکر ایک اکائی بن جاتے ہیں۔ اس طرح معاف کرنے کا عمل شخصیت کے ارتقاء کا ایک بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ انسان کی معاف کرنے کی صلاحیت جتنی بڑھتی ہے شخصیت اتنی ہی سایہ دار اور فیض رساں ہوتی چلی جاتی ہے۔ جو لوگ معاف کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں اُن کی شخصیت کی نمو رک جاتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معاف کرنے اور معاف نہ کرنے والے کے درمیان وہی فرق ہے جو حیاتیاتی وجود اور بے جان مادی وجود کے درمیان ہوتا ہے۔ حیاتیاتی وجود مسلم سے مومن بن سکتا ہے، شہید بن سکتا ہے، صدیق بن سکتا ہے۔ لیکن بے جان مادی وجود صرف خارجی طور پر بدلتا ہے۔ اس کے باطن میں کوئی نمو نہیں ہوتی۔ وہ ساری زندگی ایک پتھر کی طرح بے حس و حرکت پڑا رہتا ہے۔
 
معاف کرنے کا عمل ایک اعتبار سے دیوار میں در بنانے کی طرح ہے۔ دیوار میں در کھڑکی کھولنے کی طرح ہے۔ در اور کھڑکی سے روشنی اور تازہ ہوا کمرے میں آتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ معاف کرنے والی شخصیت دوسرے انسانوں سے دو طرفہ ابلاغ کی اہل ہوتی ہے۔ وہ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچاتی ہے اور دوسروں کے پیغامات کو ان کی اصل روح کے ساتھ وصول کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن جو لوگ معاف نہیں کرتے وہ بند کمرے کی طرح ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ یا تو بامعنی ابلاغ کی صلاحیت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں، یا پھر یک طرفہ ابلاغ کے قابل رہ جاتے ہیں۔ یعنی وہ دوسروں تک اپنی بات تو پہنچا پاتے ہیں مگر دوسروں کی بات کو سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کے قابل 
 
نہیں رہتے۔ اس کی سب سے اچھی مثال ہماری دنیا ہے، جس میں ’’خودکلامی‘‘ عام ہے اور ’’مکالمہ‘‘ نایاب ہے۔ دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں جتنے لوگ مکالمہ کرنے والے ہوئے ہیں وہ معاف کرنے کی اہلیت ہی سے مکالمہ کرنے والے بنے۔ اس کے برعکس جو لوگ معاف کرنے والے نہیں ہوتے، وہ چوراہے پر کھڑے ہوکر تقریر کرتے ہوئے بھی صرف اپنے آپ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔
 
انسانوں کو دل سے معاف کرنے کا عمل انسانوں کے درمیان نفسیاتی اور جذباتی مساوات پیدا کرتا ہے۔ معاف کرنے والا انسان معافی کے ذریعے دوسرے فرد سے کہتا ہے کہ تم سے تعلق میرے لیے ناگزیر ہے اور میں تمہیں معاف نہ کرکے تم سے تعلق توڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ اس کے برعکس معاف نہ کرنے والا دوسرے سے کہتا ہے کہ تمہاری بساط ہی کیا ہے! مجھ میں اور تم میں زمین آسمان کا فرق ہے اور میں تمہارے بغیر مر نہیں جائوں گا۔ غور کیا جائے تو معاف کرنے والا ہی دراصل اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے غلطی ہوجائے تو اسے معاف کردیا جائے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو معاف کرنے والا اَنا پرستی سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ ہمارے کسی صوفی کا قول ہے کہ ہم کانٹوں کے جواب میں کانٹے ہی بچھا دیں گے تو یہ دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ افراد کے تعلق سے لے کر خاندانوں، قبیلوں اور قوموں تک کے تعلق میں ہرجگہ کانٹے ہی کانٹے نظر آرہے ہیں۔ معاف نہ کرسکنے کے مرض نے دنیا کو واقعتاً کانٹوں سے بھردیا ہے۔
 
++++++++++++++++++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 748