donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Umar Farahi
Title :
   Fikro Adab Ki Garmiyan wa Shokhiyan

فکر و ادب کی گرمییاں و شوخیاں


عمر فراہی ۔ ممبئی ۔

موبائل 9699353811

 

مصنف جب اپنے قلم کو جنبش دیتا ہے تو  اس کے ذہن میں پہلے سے کوئی بات ضرور ہوتی ہے زبیر حسن صاحب نے اپنے مضمون فکر و ادب میں جو نظام قدرت اور نظام باطلہ  پر جامع اور مفصل روشنی ڈالی ہے ان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں وہ تمام نقاط بھی  ضرور  رہے ہونگے جو اکثر حالیہ دنوں میں بحث و مباحثہ کا موضوع بنتے رہے ہیں شیروانی صاحب نے پروفیسر محمود کے ذریے  اٹھاےُ گںُے  تین طلاق کے مسںُلے پر بحث کرتےہوئے بہت ہی  سادگی اور ادب کے  ساتھ مولویوں اور مسلمانوں کی فکر  پر اپنی خلش کا اظہار کیا ہے  کہ ہم  کب تک یہود و نصاریٰ اور آرایس ایس کی سازش کا رونا روتے رہینگے جبکہ ان تمام مسائل کے ذمہ دار ہم خود ہیں....  درست فرمایا ہے... ویسے ایک قانون داں ہونے کی حیثیت سے وہ تاریخ سے بھی ضرور واقف ہونگے اور انہیں حالات  خود بھی پتہ ہےکہ یہود و نصاریٰ کو جو بیج بونا تھا وہ بو چکے اب تو انہیں صرف ہماری بد نظمی اور انتشار کی فصل کا  تماشہ دیکھنا ہے..... اقبال نے انہیں حالات کی عکاسی کرتے ہوئےکہاتھا...

سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ .
چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا .

زبیر حسن صاحب نے نظام فطرت کے اسی ادب سے بغاوت کرنے کی صورت میں نظام باطلہ کی جو تصویر کشی کی ہے اکثر ہم ایسے مضامین کی افادیت سے محروم ہو جاتے ہیں

انھوں نے کیا خوب لکھا ہے کہ دولت میں جمہوریت اور جمہوریت میں دولت کو گنا اور تولا جارہا ہے..جمہوریت معیشت کےہتھے چڑھ گیُ ہےاور معیشت سیاست غلیظہ کےجہاں قانون  کو بینائی سے محروم کر کے  انصاف کودلالوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ھے..  .عورت کے معنی بدل کر بازار  میں عریاں رقص کروایا جارہا ہے اور پھر اس کی نازکیت اور مظلومیت کا رونا بھی  ہے ... عجیب طرز ادب اور قانون ھے جہاں طرز ازدواج میں ہم جنس پرستی کو شامل کر ایک ہی جست میں اخلاقی زوال کے سارے مراحل طے کر لئے گئے ہیں ..شادی .بیاہ .نکاح .گھر بار ..خاندان ..طلاق ..اخراجات ..انحصار و رفاقت سب سے انسان جان چھڑانا چاہتا ھے.. یہ ہماری دانشوری کا المیہ اور سادگی ہی تو ھے کہ یہاں ہر شخص جو تھوڑا شہرت کی بلندی پر سفر کرتا ہوا نظر آتا ھے اسے اپنے خود میں ظلِّ الٰہی کا چہرہ نظر آنے لگتا ھے..ایک ہمعصر صحافی اور تبصرہ نگار .غلام محمد نے خوب لکھا ھے کہ

some extra wise  Indian Muslims are ever eager to handover our freedom to a government which itself is relentlessly striving to snatch all freedom from it's own citizen ..
An Urdu  saying goes ....

آ بیل مجھے مار

پروفیسر طاہر محمود .عارف محمد خان ایم جے اکبر  ..ظفر سریشوالا مسلمانوں میں ایسے ہی نام نہاد چہرے ہیں جو ذرا سی شہرت کی بلندی پر کیا پہنچے  مسلمانوں کے اتاترک ہونے کا دعویٰ کرنا شروع کردیا...ہو سکتا ھے یہ لوگ آرایس ایس کے ایجنٹ نہ ہوں مگر ہماری سادگی بھی تو دیکھئے  کہ جن کی محنت اور جدوجہد سے مسلمان فطرت و ادب میں شمار خلافت اور ریاست کے تصور سے محروم ہو ہی چکا ھے اب یہ لوگ ہندوستان میں پرسنل لا بورڈ کے نام سے مسلمانوں کے نام نہاد اتحاد کو بھی پارہ پارہ کر دینا چاہتے ہیں اس کے بعد..کل یہی مسلمانوں میں شامل رشدی نما مسلمان ہی مسلمانوں کو مشورہ دینگے کہ نماز باجماعت سے بھی مسلمانوں کا کوئی بھلا نہیں ہو رہا ھے بلکہ اذان کی آواز سے غیر مسلموں کو تکلیف پہنچ رہی ھےاس لیے مسلمان اپنی نماز گھر میں ہی  ادا کرے اور مساجد و مکاتب  کو اسکول اور کالج میں تبدیل کر دیا جائے..سوال یہ ہےکہ ان اداروں کی تربیت سے ہماری نسلوں میں طاہر محمود جیسے لوگ پیدا ہونگے یا  اسمٰعیل اور ہم کیسے مسلمان چاہتے ہیں .?..اقبال نے اسی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ....

یہ فیضان نبوت ھے کہ مکتب کی کرامت
سکھاےُ کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی

ہماری سادگی یہ بھی ھے کہ ہمیں جس موضوع کو بحث کا عنوان بنانا چاہیے تھا اور جس ذہنیت کی مذمت کی جانی چاہیے تھی  ہم خود  اکثرو بییشتر مسلم عورتوں کے حجاب.طلاق اور مسلمانوں کی دہشت گردی کو اس طرح مسئلہ بنا کر پیش کر دیتے  ہیں گویا موجودہ جمہوریت میں سب چین ہی چین ھے.اور سارے مسائل کی جڑ مسلمان ہے.....بقول زبیر حسن صاحب جمہوریت اپنے تین کھوئے ہوئے ستون ڈھونڈھ رہی ھے ..جبکہ چوتھا دیمک زدہ ستون اب گرا...اور تب گرا .. صحافت کے پانچویں ستون کی بلاغت کو اشتہارات نگل چکے ہیں...تہذیبیں زوال کا شکار ہیں... اب بچا ہی کیا ہے ...ہاں اگر کچھ بچا ھے تو وہ مولویوں ہی کی اسلامی غیرت اور حمیت کی بدولت ہےجو وقت کے شوریدہ اور بوسیدو حالات سے گزرتے ہوئےکچھ غلط کے ساتھ بہت اچھا بھی کر رھے ہیں ...لوگوں سے بھیک مانگ کر جیلوں میں بند بےقصور مسلم نوجوانو کی رہائی کے بعد انکے مظلوم بچوں اور بیویوں کی دعائیں کون لے رہا ھے ...گیارہ سال بعد اکشر دھام کے ملزم مفتی عبدالقیوم  جنھیں پھانسی کی سزا ہو چکی تھی ایک عورت کو بیوہ ہونے سے کس نے بچایا ..اگر خدانخواستہ مسلمانوں کا یہ آخری ستون بھی منہدم ہو گیا تو ہم جیسے مادہ پرست ادیب..شاعر ..صحافی اور وکیل جو اپنی نسلوں کو کانونٹ اور مشنری اسکولوں کی طرف موڑ کر اردو زبان کے زوال اور پسماندگی کا رونا رو رہے ہیں .یہ طوفان نہ جانے اور کتنے سلمان رشدی ..طاہر .محمود ..سریشوالا ..تسلیمہ نسرین .اور ملالہ کو جنم دیگا .اور وہ صرف اپنی دولت ..شہرت اور معیشت کی ترقی کے لئے   اپنے اسلاف کے آخری دینی و اسلامی فکر  و ادب کے اثاثے کا بھی سودا کر دینگے .یقین نہ ہو تو اپنے گھر اپنے پڑوس اور رشتہ داروں میں آنکھ کھول کر دیکھ لیجئے قوم اور اسلام کے مستقبل پر کوئی بحث نہیں ہو رہی ھے...اس تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہییں ......اگر ہم کچھ نہ کر سکے ہوں تو زبیر صاحب کا مضمون پڑھ لیا جاےُ ...کچھ گرمیاں کچھ شوخیاں............


۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 523