donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Wajeeh Ahmad Tasawwur
Title :
   Bihar Me Urdu Ki Nayi Nasal Ki Khwateen Fankar


بہار میں اردو کی نئی نسل کی خواتین فنکار 
 
وجیہہ احمد تصور
 
لچھمنیاں ، سمری بختیارپور ، سہرسہ 
 
تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین نے بھی عزم و حوصلے اور طاقت و بہار دری کے ناقابل فراموش کام انجام دئے ہیں ۔ رضیہ سلطانہ ، چاندبی بی ، مہارانی لکشمی بائی، بیگم حضرت محل، سلطان جہاں بیگم وغیرہ اس کی بڑی مثالیں ہیں ۔ لیکن اس کے علاوہ بھی ایسی کتنی خواتین ہیں جنہوں نے ناموافق حالات کے باوجود تاریخ پر اپنے نقوش ثبت کئے ہیں ۔ خواتین میں خود اعتمادی کا انحصار بہت کچھ ان کے خاندانی پس منظر اور گھر یلو تربیت پر بھی ہوتا ہے ۔ اور تعلیم انہیں پیش آئند مسائل کو حل کرنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے اور حالات مقابلہ کرنے کا سلیقہ عطاکرتی ہے جس سے ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ 
اردو ادب میں بھی خواتین قلمکاروں کی کمی نہیںرہی ہے ۔ اردو دنیا میں اگر میر و غالب، اقبال و شاد کا تذکرہ ہوگا تو عصمت چغتائی ، قرۃ العین حیدر ، پروین شاکر جیسی خواتین فنکاروں کے ذکر کے بغیر تذکرہ مکمل ہو نہیں سکتا ہے ۔ اگر چہ بہار میں اردو ادب نے شروعاتی دور سے ہی اردو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دبستان لکھنو اور ہلی کی طرح عظیم آباد نے بھی اپنی حیثیت کا لوہا منوایا ۔ شاد عظیم آباد ی، جمیل مظہری، کلیم الدین احمد ، سہیل عظیم آبادی، رمز عظیم آبادی،ڈاکٹر کلیم عاجز ، کیف عظیم آبادی جیسی شخصیتوں نے اردو دنیا میں جو اپنی الگ شناخت قائم کی وہ بہار کااردو دنیا میں ایک اہم پہچان  عطاکرتا ہے ۔ ہاں اردو کی خواتین فنکار وں کے معاملے میں بہار تھوڑا پیچھے رہ گیا ہے ۔ اگر چہ بہار نے شکیلہ اختر جیسی عالمی شہرت یافتہ افسانہ نگار اردو ادب کو دیا مگر وہ سلسلہ قائم نہیں رہ سکا لیکن ادھر کچھ سالوں سے بہار میں بھی اردو ادب کے حوالے سے خوشگوار تبدیلی محسوس کی جانے لگی ہے ۔ موبائل اور انٹر نیٹ کے اس دور میں بھی نئی نسل اردو ادب سے خود کو جوڑ رہے ہیں اور اپنی تخلیقات کے ذریعہ الگ شناخت قائم کرنے کی جد و جہد میں لگے ہوئے ہیں جس میں ایک بڑی تعداد خواتین قلمکاروں کی بھی ہے جو اردو کے لئے خوش آئند ہے ۔ 
 
ڈاکٹر شہناز فاطمی ، امتیاز فاطمی ، شکیلہ اختر او ر قمر جہاں جیسی شہرت یافتہ افسانہ نگار کا بہار یہاں نئی نسل کی خواتین فنکاروں رخشاں ہاشمی، تحسین روزی ، کوثر حسام ، حنا نسیم روبی، فریدہ انجم ، رمانہ تبسم ، شیبا کوثر، صدف اقبال ، سنجیدہ عنبری ، ڈاکٹر زر نگار یاسمین، مہر نگار حنا وغیرہ اپنی تخلیقات کے ذریعہ نہ صرف گیسوئے اردو کو سنوار نے کا کام کر رہی ہیں بلکہ دھیرے ۔ دھیرے اپنی شناخت بھی اردو ادب میں بنا رہی ہیں ۔
 
سلیقے سے ہواؤں میں خوشبو جو گھول سکتے ہیں 
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں ۔
 
اگر چہ بہار کے نئی قلمکار خواتین کی فہرست لمبی ہے مگر نئی نسل کے چند فنکار سے روشناس کراتے ہیں جو اپنی تخلیقات کے ذریعہ دنیائے ادب میں اپنی پہچان بنا لی ہے ۔
 
ڈاکٹر زر نگار یاسمین
 
نئی نسل کی تخلیق کاروں میں ڈاکٹر زرنگار یاسمین کا نام اردو دنیا میں ایک جانا پہچانا نام ہے ۔ مختصر مدت میں انہوں نے اپنی تخلیقات اور ادب نوازی کے دم پر وہ شہرت حاصل کرلی ہیں جو سب کے نصیب میں نہیں ہوتا ہے ۔ کیف عظیم آبادی جیسے عالمی شہرت یافتہ شاعر کے گھر پیدا ہونے والی ڈاکٹر زر نگار یاسمین کو علم و  ادب کی محبت انہیں ورثے میں ملی ہے ۔ انہوں نے پٹنہ یونیور سیٹی سے ایم اے گولڈ میڈل کے بعد ڈاکٹر یٹ کی ڈگرحا صل کرنے کے بعد اسی یونیور سیٹی میں بطور معلم اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تحقیق و تنقید جیسے مشکل صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ تحقیق اور تنقید کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ یہ دونوں سیڑھی کے دوکناروں کی طرح ہیں جو آپس میں ملتے بھی نہیں اور ایک محدود فاصلے کے ساتھ کسی صنف میں نئے راستے تلاش کئے جاتے ہیں جبکہ تنقید میں کسی بھی صنف کے منفی اور مثبت پہلوؤں کو دیکھا جاتا ہے ۔ تنقید ایسا امر ہے جس میں کسی صنف کے منفی اور مثبت نقطوں کو کچھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ منصف کو نا گوار بھی محسوس نہیں ہوتا ہے ۔ ایسے مشکل صنف کی ڈاکٹر زر نگار یاسمین اس خو بصورت انداز میں زلفیں سنوار رہیں ہیں کہ ادبی دنیا بھی محو حیرت ہے ۔ انہوں نے متعدد تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھے جو بد ستور جاری ہے ۔ انکی تین تحقیقی کتا بیں شائع ہوکر ادبی دنیا میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں جن میں قرۃ العین حیدر کے ناولوں کا موضو عاتی مطالعہ ـ‘‘  ’’اردو فکشن اور ہجرت کے مسائل ۱۹۴۷ کے بعد ‘‘ اور ’’کیف عظیم آبادی مقام اور کلام ‘‘ ڈاکٹر زرنگار یاسمین ’’بزم کیف ‘‘ کے زیر اہتمام پٹنہ میں اکثر ادبی و مذاکراتی محفلیں سجا کر اردو ادب کی خدمت میں بھی بھر پور تعاون دے رہی ہیں ۔ وہ بہار اردو اکیڈمی کی ایگز یکٹو ممبر ہیں ۔ ادبی و سماجی پر و گراموں میں بھی سر گرم حصہ لیتی ہیں مختصر مدت میں انہوں نے ادبی دنیا میں اپنا مقام بنا لیا ہے  اور وہ وقت دور نہیں جب وہ صنف تحقیق و تنقید کی ایک مضبوط نام ہونگی ۔
 
رخشاں ہاشمی
 
بہار کی نئی نسل کے ابھر تے شاعروں میں یوں تو کئی نے زور دار دستک دے دی ہے جو بہار کے ادبی میدان کے لئے خوش آئند ہے ان میں ایک نام رخشاں ہاشمی کا بھی ہے جو اپنی خوبصورت غزلوں کے ذریعہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں ۔ رخشاں ہاشمی کی شاعری میں محبت والفت کی خوشگوار جھونکے بھی ہیں ۔ ہجر کے درد بھی ہیں ، جوانی کی امنگیں بھی ہیں اور عصر حاضر کے فسانے بھی ۔ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے جذبات کو شاعری کے سانچے میں دھال کر غزل کی عمارت کھڑی کی ہے ۔ پیشے سے ٹیچر رخشاں ہاشمی نے  ۲۰۰۰؁  ٔسے اپنی شاعری سفر کا آغاز کیا اور اب تک لگ بھگ ملک کے تمام بڑے اردو اخبارات اور رسائل میں چھپ کر داد و تحسین وصول کر رہی ہیں۔ ان کی غزلیں ’’قومی تنظیم ‘‘ پٹنہ، روز نامہ پندار، انقلاب، تاثیر، اخبار مشرق، ماہنامہ آجکل، شاعر، اردو دنیا، ایوان اردو، پرواز ادب پنجاب، باجی، روپ کی شوبھا، خاتون مشرق ، بزم ادب، قرطاس، فنکار وغیرہ میں شائع ہوکر مقبول عام ہو چکی ہیں ۔کئی مشاعروں میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔ پیش ہے انکی شاعری کے چند نمونے ۔
 
میرے رستے میں کھڑی ہے چین کی دیوار سی
اس طرف ہیں خواب میرے ، اس طرف تعبیر ہے ۔
 
کچھ تو پرواہ دل کی کر پگلی 
کاہے پتھر سے دل لگا تی ہے 
کوئی دیوار ہے نہ در  ددل میں 
پھر یہ دستک کہاں سے آتی ہے
ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے
بڑے آئے مجھے تہذیب سکھانے والے
سب حسن کو معصوم سمجھتے ہیں جہاں میں 
اور عشق کے ماتھے پہ ہیں بہتا ن ہزاروں 
اپنے لہو میں آج بھی جنگل کی باس ہے
انسان بن نہ پائے کبھی جانور سے ہم
 
حنا نسیم روبی
 
اکیسویں صدی میں اردو شاعری کے افق پر بہار سے جو چند اہم خواتین فنکار وں نے اپنی تخلیقی توانائی کا ثبوت فراہم کیا ہے ان میں ایک نمایا ں نام حنا نسیم روبی کا بھی ہے ۔ موصوفہ ایک بہترین افسانہ نگار بھی ہیں ۔ اور خوبصورت لب و لہجہ کی شاعرہ بھی ۔ ان کے افسانے، غزلیں اور نظمیں ملک کے مختلف اخبارات و رسا ئل میں شائع ہوکر خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں ۔ وہ احساسات کی خوبصورت فنکارہ ہیں ۔ جو کچھ بھی محسوس کرتی ہیں اپنے جذبات ، احساسات اور مشاہدات کو الفاظ کے وسیلے سے کاغذ پر بکھیر دیتی ہیں ۔ ان کی تخلیقات روزنامہ’’ قومی تنظیم ‘‘ تاثیر اردو ، آجکل ، تریاق ممبئی، خاتون مشرق وغیرہ میں شائع ہوکر داد و تحسین وصول کر چکی ہیں ۔
انکی نظمیں ’’ اجمیر شہر ایسا ہے ‘‘ تاج محل ، لمحے جدائی کے اور اعتبار کافی پسند کئے گئے ۔ اس کے علاوہ معاشراتی برائیوں اور سماجی ضرورتوں پر انہوں نے درجنوں مضامین لکھ کر سماج میں بیداری لانے کا کام بھی کیا ہے ۔
 
نمونہ کلام،  (امید کا دیا)  اسکے سہارے انسان پوری زندگی گزار دیتا ہے /اور آنے والے پل کا یہ بے صبری سے انتظار کرتا ہے /وہ ہر دکھ جھیل لیتا ہے /اور سونچتا ہے کہ کاش یہ آنے والا پل میری زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں لائے گا /اور انسان کی زندگی یوں ہی گزر جاتی ہے /جہاں یہ امید کا دیا زندگی کے رنگ میں روشنی بکھیر دیتا ہے ۔
 
ڈاکٹر مہر نگار حنا
 
بہار شریف کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر مہر نگار حنا اردو افسانہ نگاری میں اپنی پہچان رکھتی ہیں ۔ گھر کے ادبی ماحول میں بچپن سے ہی کتابوں سے ایسا لگا ؤ پیدا ہوا کہ وہی اوڑھنا ، بچھونا ہوگیا ۔ اسی ادبی لگاو ٔ کا نتیجہ رہا کہ انکا پہلا افسانہ دو ایمان کا سکہ ‘‘ انعامی مقابلے میں پہلے انعام کا حقدار بن گیا۔ انہوں نے درجنوں افسانے لکھے جس میں وہ اپنے دل کا راز تو دو ‘‘ کھوٹے جذبے ، دو پیار کی زنجیر ڈالئے ، میرا حق مجھے دو ، ڈال دو ردا محبت کی وغیرہ کافی مقبول عام ہوئی۔ اسکے علاوہ بیشمار مضامین بھی لکھ کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکی ہیں ۔ ان کے افسانے اور مضامین اردو کے مقبول عام رسالوں اور اخبارات کی زینت بن کر داد و تحسین و صول کرتے رہے ہیں ۔ مہر نگار حنا نے بہار کے مقبول عام اردو اخبار ’’ قومی تنظیم‘‘ کے لئے ’’ نئی تہذیب کیا دے رہی ہے ۔ بستے کا بوجھ ، عورت خود اپنی آزادی سے کتنی مطمئین ، کیا ذہنی تناو ٔ کا شکار ہے 
 
اکیسویں صدی کا شخص ‘‘موضوع پر سرو ے رپورٹ بھی پیش کر چکی ہیں ۔ مہر نگار حنا نے نئی نسل کی فنکاروں میں اپنا الگ مقام بنا لیا ہے اور افسانے اور مضامین لکھنے کا سلسلہ بد ستورقا  ئم ہے ۔
 
فرحانہ جمال 
 
سہرسہ ضلع کے سمری بختیار پور کے ایک مشہور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی فرحانہ جمال بچپن سے ضدی اور نٹ کھٹ کے ساتھ ساتھ بہت ذہین تھی ۔ بھا ئیوں سے لڑنے جھگڑنے میں انہیں منرہ آتا تھا ۔ انہوں نے کم عمری میں ہی بھا ئیوں کو چڑھانے کے لئے تینوں بھا ئیوں کی ذات کو نشانہ بنا کہ تین کہانیاں لنگڑا طوطا ، کا ناکو ا اور اندھا بکرا، لکھ ڈالی ۔ لگ بھگ دس سال کی عمر میں لکھے گئے یہ افسانے انکے ادبی شوق اور اردو سے ذہنی لگا و ٔ کی مثالیں ھیں۔ اگر چہ مذہبی گھرانہ ہونے کی وجہ سے انکے ادبی شوق کی پذ یرائی نہیں ہو پا ئی تھی اورشرو عاتی دور کے تخلیقات نذر آتش کر دیا گیا مگر انہوں نے اپنے اندر کے فنکار کو مرنے نہیں دیا اور چھپ کر اپنے ذوق کی تسکین کرتی رہیں ۔ لیکن اردو دنیا میں انکی باضابطہ پہچان تب بنی جب انکا افسانہ محبت کی دھنک ‘‘پاکیزہ آنچل کے جنوری ۱۹۹۴ کے شمارہ کی زینت بنی ۔ اسکے بعد تولکھنے اور چھپنے کا سلسلہ چل پڑا ۔ انکے افسانے اردو رسالوں’’ اندیشہ بھاگلپور ، جہاں اردو دربھنگہ، مثر گان ادب کو لکاتا ، پاکیزہ آنچل دیلی کے علاوہ قومی تنظیم پٹنہ ، اخبار مشرق ، راشٹر یہ سہارا وغیرہ کی زینت بننے لگے ۔ ان کی متعدد کہانیاں آکا شوانی بھاگلپور سے بھی نثر ہوچکی ہیں۔ ان کی ایک کہانی ’’ روٹی کا سوال‘‘ مغربی بنگال کے درجہ چہارم کے اردو کی نصابی کتاب ’’ شمع اردو ‘‘ میں شامل ہوکر بچوں کو پڑھائی جارہی ہیں۔
 
    مقام۔ لچھمنیاں، پوسٹ۔ پہاڑپور، وایا۔ سمری بختیارپور، ضلع۔ سہرسہ (بہار) ۸۵۲۱۲۷
 
 

 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 569