donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Afsana
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Afzaal Nadeem
Title :
   Utran Afsana


اُترن 


تحرٰیر: افضال ندیم گوجرخان


شمسہ آئینے میں اپنے بالوں میں اتری چاندی کو بغور دیکھ رہی تھی ۔اس کے ذہن میں ماضی کی یادوں کی تمام گٹھڑیاں بھی کھل گئی تھیں جن میں مایوسیوں اور ناتمام آرزوئوں کی لاشوں کے سوا کچھ نہ تھا ۔ہر گٹھڑی اس پٹاری کی مانند تھی جس میں زہریلی ناگن پھن پھیلائے ڈسنے کو تیار بیٹھی ہو ۔اور ان گٹھڑیوں کو کھولنا بھی تو آسان کام نہ تھا ۔شمسہ عمر کی تیسری دہائی سے کچھ فاصلے پر تھی ۔آئینہ دیکھتے ہوئے اس کے ذہن کے آئینے میں پورا ماضی عکس کی صورت نمودار ہو گیا تھا ۔وہ عمر کی ان حدوں کو تیزی سے پھلانگ رہی تھی جن میں گائوں کی زیادہ تر لڑکیاں پیا دیس سدھار چکی تھیں ۔وہ اپنے ماضی کو کرید رہی تھی ۔وہ اپنی بڑی بہن نائلہ سے ایک ہی برس چھوٹی تھی ۔شروع ہی سے اسے نائلہ کے کپڑے پہننے کی عادت ہو گئی تھی کیونکہ غریبوں کے لباس اور جوتے تو اس وقت تک کارآمد ہی رہتے ہیں جب تک وہ مکمل طور پر چیتھڑوں میں بدل نہیں جاتے ۔اس لئے جو بھی کپڑے اور جوتے نائلہ کے جسم کے تناسب سے مختصر ہو جاتے وہ شمسہ کے جسم کا حصہ بن جاتے اور اسکے خواہشوں کے قبرستان میں ہر روز نئی قبروں کا اضافہ ہوتا جاتا ۔جب سکول داخل ہوئی تو نائلہ اس سے ایک کلاس آگے تھے اور اس کی کتابیں اس کے سکول بیگ کا حصہ بن جاتیں اور نائلہ کا یونیفارم جب اس کے جسم سے چھوٹا پڑ جاتا تو وہ شمسہ کے بدن کو اپنا لیتا ۔یہ ہر سال کی ریت بن گئی تھی کئی باراس کے جی میں آیا کہ وہ نائلہ کے کپڑے اور جوتے پہننے سے انکا رکر دے اور کتابوں کوبیگ سے نکال کر اس جوہڑ میں پھینک دے جس میں وہ تفریح کے وقت تختی دھوتی تھی اور جس کے غلیظ پانی کی بو اس کے ہاتھوں کا حصہ بن گئی تھی ۔مگر غربت تو بچوں کو بھی مصلحت سکھا دیتی ہے اور شمسہ مصلحت کوشی میں کچھ زیادہ ہی ہنر مند ہو گئی تھی سکول میں کئی با رایسا بھی ہوا کہ ٹیچر نے سبق پڑھانے کے لئے کتاب مانگی تو اس نے سعادت مندی سے اٹھ کر فوراً اپنی کتاب پیش کر دی ۔ٹیچر نے صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور فوراً تلخ لہجے میں بول پڑیں؛

 ــ’’شمسہ تو اپنی کتاب پاس ہی رکھا کر ،ہر جگہ لکیریں صفحات پھٹے اور مڑے ہوئے ،کیا میں پورا پیریڈ انہیں سیدھا کرنے میں لگا دیا کروں:

 ‘‘ جی مس جی ! شمسہ فرمانبرداری سے کتاب واپس لے لیتی اور پورا پیریڈ نظریں کتاب کے بوسیدہ اوراق پر اٹکائے رکھتی ،۔پیریڈ کے اختتام پر اس کی ہم جولیاں جن کے پاس نئی کتابیں ہوتیں وہ اس سے کہتیں شمسہ تو نئی کتابیں کیوں نہیں لے لیتی ؟ روز ٹیچر سے تجھے ڈانٹ سننا پڑتی ہے ۔

’’اگلے سال میں بھی نئی کتابیں لوں گی ،میں نے امی ابو سے کہہ دیا ہے‘‘ ۔وہ ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ۔

شمسہ کا یونیفارم بھی تو دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں پرانا تھا ۔ایک تو سستا کپڑا اوپر سے دو سال پرانا اس کی ہم جولیاں اسے کہتیں

ؔؔــ’’شمسہ تیرے یونیفارم کا رنگ پھیکا پھیکا کیوں لگتا ہے ؟ ہمارا دیکھو کیسا چمکدار ہے‘‘ ۔
’’بس تھوڑا میلا ہو گیا ہے ،اس وجہ سے ایسا لگتا ہیــ‘‘ ۔،وہ بہانہ تراشتی ۔

دونوں بہنوں نے میٹرک کر لیا تو ان کا تعلیمی سلسلہ بھی اختتام پذیر ہو گیا ان کی بہت سی ہم جولیاں کالج میں داخل ہو گئیں شمسہ کو تعلیم جاری نہ رکھ سکنے کا دکھ تو تھا مگر اسے اطمینان اس بات کا تھا کہ کم از کم اسے اب یونیفارم اور کتابوں کے حوالے سے نت نئے سوالات کا سامنا تو نہیں کرنا پڑے گا ۔نائلہ جب بائیس سال کو پہنچی تھی تو اس کی شادی چچا زاد حنیف سے کر دی گئی ۔حنیف پاک فوج میں ملازم تھا دونوں ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے ۔اللہ نے نائلہ کو دو پھول سے بیٹے دئیے تھے ۔تیسرے بچے کی پیدائش پر نائلہ زندگی کی بازی ہار گئی ۔نائلہ کی وفات کو دو سال کا عرصہ بیت چکا تھا ۔حنیف کا والد دلاور شمسہ کے والدین کے پاس بیٹھا تھا ۔اس کے لئے بات کا آغاز کرنا ذرا مشکل ہو رہاتھا ۔بالاخر وہ گویا ہوا ۔

’’صغریٰ بہن ! تیری بیٹی نائلہ نے ہمارے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا ،اس نے ہمارا بہت خیال رکھا ،اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ،اس کی عمر ہی اتنی لکھی تھی ــ’’

’’میری بیٹی بڑی صبر والی تھی ،اس کے منہ سے تو ہر وقت پھول جھڑتے تھے ‘‘صغریٰ آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کو پونچھتے ہوئے بولی ۔

’’صغریٰ بہن ! اب نائلہ کے بچوں کی دیکھ بھال کا سوال ہے ،حنیف ابھی جوان ہے ،اگر کوئی غیر بیاہ کر لے آیا تو پتا نہیں وہ بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرے گی ،میں حنیف کے لئے شمسہ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ،وہ بچوں کی خالہ ہے اور ماں بن کر ان کی دیکھ بھال کریگی ‘‘دلاور نے اپنا مدعا بیان کر دیا ۔

’’ دلاور بھائی ! ہمیں نائلہ کے حوالے سے آپ سے کوئی شکایت نہیں ،شمسہ بھی آپ کی بیٹی ہے ،ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں مگر شمسہ کی رائے ضروری ہے ــ’’صغریٰ نے غم اورخوشی کی ملی جلی کیفیت میں جواب دیا ۔

’’صغریٰ بہن ! اگر آج ہی اس سے پوچھ لیں تو اسی ہفتے ان کا نکاح کر لیں گے ‘‘ ایک دوسرے کے حالات سے ہم اچھی طرح واقف ہیں ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ‘‘دلاور نے بات کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا ۔

’’اچھا بھائی جی ! میں ابھی شمسہ سے بات کرتی ہوں اور آپ کو بتاتی ہوں ،میری شمسہ بھی بڑی سعادت مند بچی ہے ‘‘ صغریٰ نے دلاور کے پاس سے اٹھتے ہوئے کہا ۔

ادھر شمسہ حنیف کے والد کے آنے کا مقصد بھانپ چکی تھی ۔کئی دن پہلے ہی اس کے کانوں میں محلے کی لڑکیوں کی باتوں کی بھنک پڑ چکی تھی ۔اس کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔بالوں میں اترتی چاندی ،اور گھریلو ھالات اسے پھر سکول کے دور کی مجبوریوں کے درمیان گھسیٹ لائے تھے ۔شمسہ کو معلوم تھا کہ کچھ ہی دیر میں اس کی والدہ اس سے رائے لینے کی رسم پوری کرنے آئے گی ۔اسے ایک اور اترن کے حوالے سے فیصلہ کرنا تھا ،وہ خیالوں کے بھنور میں ڈوبتی کشتی کی مانند ہچکولے کھا رہی تھی کہ اس کی والدہ کمرے میں داخل ہوئیں ۔

’’شمسہ پتر ! تیرا چچا دلاور آیا ہے ‘‘

’’اچھا اماں ! میں ان کے لئے چائے بناتی ہوں ‘‘ شمسہ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بننے کی کوشش کی 

’’نہیں پتر ! چائے نہیں بنانی ،وہ حنیف کے لئے تیر ارشتہ مانگنے آیا ہے ‘‘ ماں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔

’’پر اماں ۔۔۔۔‘‘

’’پتر ! حنیف تجھے بہت خوش رکھے گا ،ان کے گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ،کوئی باہر سے بیاہ لایا تو بچے رل جائیں گے ‘‘ اس کی ماں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔

دوسرے کمرے میں دلاور اور شمسہ کا والد منتظر تھا ۔دلاور کے ذہن میں عجیب وسوسے اور خیالات جنم لے رہے تھے ۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ شمسہ کی ماں کمرے میں داخل ہوئی ۔اس کی آنکھوں سے اپنی بیٹی نائلہ کے لئے آنسو رواں تھے ۔وہ بار بار اپنے میلے دوپٹے سے آنسو پونچھ رہی تھی ۔

’’صغریٰ بہن ! کیا جواب ہے شمسہ کا ؟‘‘ دلاور نے بے چینی سے پوچھ لیا ۔

’’دلاور بھائی میں نے کہا تھا ناں میری شمسہ بھی بڑی سعادت مند بچی ہے ‘‘ 

’’کیا شمسہ نے ہاں کر دی ؟‘‘دلاور نے مزید بے چینی سے پوچھا ۔

’’جی بھائی جی ! آپ نکاح کی تیاری کریں ہم بھی تھوڑا بہت انتظام کرتے ہیں ‘‘ 

صغریٰ نے اپنی سرخ آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا اور کمرے سے باہر آ گئی ۔

*********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 154