rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Political Articles -->> Articles On National Issue
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Assembly Intekhabat Ke Baad Badal Jayega Mulk Ka Seyasi Manzar Nama


اسمبلی انتخابات کے بعد بدل جائے گا ملک کا سیاسی منظر نامہ


تحریر: غوث سیوانی،نئی دہلی


    ملک کی چار ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور میں اسمبلی انتخابات ہیں اور ان کے نتائج ملک کی آئندہ سیاست کا رخ طے کریںگے۔ بی جے پی کے لیڈران بھی مان رہے ہیں کہ یہ انتخابات نریندر مودی سرکار کے اب تک کے کام کاج پر ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ چنائو یہ بھی بتائے گا کہ حکومت کا نوٹ بندی کا قدم عوام کو پسند آیا یا نہیں؟ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اثر گجرات کے اسمبلی انتخابات پر بھی پڑنا لازمی ہے، جہاں سال کے اخیر میں الیکشن ہونا ہے۔ 2017کے یہ انتخابات 2019کا رخ بھی طے کرینگے۔ فی الحال ان میں کس کی جیت ہوگی؟ اس سوال کا جواب اس وقت ملے گاجب رزلٹ آئے گا مگر  زمینی حالات بتا رہے ہیں کہ بی جے پی کی ہار یقینی ہے۔ یہ بات ہم بھاجپا دشمنی میں نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ سیاسی تجزیہ کار بھی بند کمروں میں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور بی جے پی ابھی سے ممکنہ شکست کے سبب فکرمند ہے۔ ظاہر ہے اس شکست کو بی جے پی کی شکست کے بجائے نریندر مودی کی ہار کے طور پر دیکھا جائے گا کیونکہ اس وقت وزیراعظم مودی، پارٹی اور تنظیم سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ میڈیا کا رول بی جے پی حامی ہے اور وہ وقت بے وقت بھی مودی کا ڈھول پیٹتا رہتا ہے۔ چنانچہ چار ریاستوں میں بھی وہ بی جے پی کو مقابلے میں دکھا رہا ہے مگر حالات کہہ رہے ہیں کہ جس طرح بہار اور دلی کے اسمبلی انتخابات میں میڈیا جھوٹا ثابت ہوا، اسی طرح اس بار بھی اس کے تمام دعوے جھوٹ ثابت ہونگے۔

اترپردیش میں بی جے پی مقابلے سے باہر ہے 

    انتخاب والی ریاستوں میں سب سے اہم اترپردیش ہے جہاں کل تک سماج وادی پارٹی اپنی داخلی جنگ کو نمٹانے میں لگی ہوئی تھی مگر اب مسئلہ حل ہوچکا ہے اور پارٹی کے اوپر وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے۔ یہاں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا مقابلہ ہے۔ یوپی میں پورا سنگھ پریوار زور لگائے ہوئے ہے مگر بی جے پی کو کہیں سے فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ذات پات کی سیاست یہاں حاوی رہتی ہے مگر سماجی انجینرینگ میں بی جے پی سب سے پیچھے ہے۔ وہ برہمنوں کے ووٹ پاتی رہی ہے مگر اس بار برہمن اس کے ساتھ جائیںگے یا نہیں ؟ یہ سوال ایک معمہ بنا ہوا ہے کیونکہ بہوجن سماج پارٹی نے سب سے زیادہ برہمن امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ بنیا ووٹر بی جے پی کے روایتی ووٹر رہے ہیں مگر نوٹ بندی نے بنیوں کا بیڑا غرق کردیا ہے اور انھیں زبردست مالی خسارہ اٹھانا پڑا ہے جس کے سبب وہ بھاجپا کا نام بھی سننا گوارا نہیں کر رہے ہیں۔ نوٹ بندی کی مار کسانوں، تاجروں، چھوٹے کاروباریوں اور عام لوگوں پر پڑی ہے۔ وہ اسے بھلانے کو تیار نہیں ہیں۔چنانچہ بی جے پی صدر امت شاہ اور آر ایس ایس کے کارکنان حیران وپریشان ہیں ۔ انھیں مودی کی ریلیاں کامیاب بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑ رہا ہے۔ یوپی میں شکست کے اثرات دور تک محسوس کئے جائینگے کیونکہ یہاں کی بیشتر لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے اور ہار کا مطلب ہوگا کہ پارٹی کے گڑھ میں اس کی ہار۔عمارت کے نیچے سے ستون کا کھسکنا۔ اسی ریاست سے وزیراعظم بھی منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں آئے ہیں۔

 اتراکھنڈ میں بھی بھاجپا کی راہ مشکل ہے

    دیو بھومی اتراکھنڈمیں کانگریس کی سرکار ہے اور ظاہر ہے کہ جس کی سرکار ہوتی ہے اس کے خلاف رائے عامہ ہوجاتی ہے مگر اس کے باوجود یہاں بی جے پی کے اقتدار حاصل کرنے کے خوابوں کوزبردست جھٹکا لگ سکتا ہے۔گزشتہ سال مارچ میں صوبے کے سیاسی حالات نے راوت حکومت کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب بی جے پی کی سازش اور کانگریس کی داخلی جنگ کے سبب ممکن ہوا تھا مگر اب حالات بدل چکے ہیں اور راوت اپنی سرکار بچانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ کانگریس سے باغی ہوکرجو رکن اسمبلی بی جے پی کے پالے میں آئے تھے ،وہ اب بی جے پی کے لئے بھی مسئلہ بن گئے ہیں۔ اس نے انھیں ٹکٹ دیا ہے جس کے نتیجے میں بی جی پی کے اندر بھی زبردست جنگ شروع ہوچکی ہے۔ظاہر ہے کہ انتخابی موسم میں اگر بی جے پی کے اندربغاوت ہوگئی تو بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔بغاوت کرنے والے اپنی سیٹ کے علاوہ دوسری سیٹوں پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں،جس سے بی جے پی کے لئے عوام میں تیار ماحول پر اثر پڑے گا۔ صوبے میں انتخابی دوڑ کا آغاز ہو چکا ہے۔ بی جے پی کے لئے ایک بڑا مسئلہ وزیر اعلیٰ کے آدھ درجن امیدوار بھی ہیں۔سابق وزرائے اعلی اور ایم پی بھون چند کھنڈوری، رمیش پوکھریال اور بھگت سنگھ کوشیاری خود کو سی ایم کے ریس میں دیکھ رہے ہیں جب کہ  کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھامنے والے وجے بہوگنا بھی خود کو وزیراعلیٰ کا امیدوار مانتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس میں بھی ہریش راوت کے علاوہ ستپال مہاراج بھی سی ایم عہدے کے دعویدار ہیں۔کانگریس کے اندر بھی اندرونی روسہ کشی موجود ہے اور راوت کو بیگانوں سے کم ، اپنوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ 

پنجاب میں بھاجپا کا کھاتا کھلنا مشکل

    4فروری کو پنجاب میںچنائو ہے  اور ابھی سے قیاس آرائیاں ہیں کہ پنجاب میں برسراقتدار شرومنی اکالی دل کو عوام کا غصہ بھاری پڑسکتا ہے، اوربی جے پی بھی اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے کیونکہ وہ بھی سرکار کا حصہ ہے ۔ پنجاب میں رہنے والا ہر شخص محسوس کرسکتا ہے کہ اس وقت ریاست میں حکومت مخالف لہر ہے اور سرکار میں بیٹھے لوگوں سے عوام ناراض ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری ہے اور عوام میں مایوسی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا فائدہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو مل رہا ہے اور بہت آسانی کے ساتھ وہ اقتدار کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ 2012 میں بھی شرومنی اکالی دل اور بی جے پی نے مل کر الیکشن لڑا تھا اور جیت حاصل کی تھی مگر کانگریس کوبھی 39.92 فیصدووٹ ملے تھے۔ ظاہر ہے کہ کانگریس کو حکومت مخالف لہر کا فائدہ مل رہا ہے مگر اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی بھی بے حد مقبول ہے جس نے مودی لہر میں بھی یہاں سے چار لوک سبھا سیٹیں جیتی تھیں۔ اس وقت پنجاب کی زمینی سچائی ہے کہ برسر اقتدار پارٹیاں اقتدار کی جنگ سے باہر ہیں اور اصل مقابلہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے بیچ ہے ۔یہاں کانگریس کیپٹن امریندر سنگھ کے چہرے کو آگے کر چنائو لڑ رہی ہے اور حال ہی میں نوجوت سنگھ سدھو بھی میدان میں آگئے ہیں جب کہ عام آدمی پارٹی کے پاس کوئی مقامی چہرہ نہیں ہے اور وہ دلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال کے نام پر چنائو میدان میں ہے۔ 

گوا میں کنول کھلنا مشکل

    ملک کی ایک چھوٹی سی ریاست گوا میں تمام پارٹیاں اپنی اپنی بساطیں بچھانے میں مصروف ہوگئی ہیں۔ جہاں بی جے پی اپنا اقتدار بچانے کے لئے جان توڑ کوشش کر رہی ہے وہیں کانگریس اور عام آدمی پارٹی اقتدارپر قبضہ کے لئے مصروف عمل ہیں۔گوا کی حکمراں پارٹی بی جے پی کے اندر زبردست اختلافات ہیں اور اسے باہر ہی سے نہیں بلکہ اندر سے بھی چیلنج مل رہے ہیں ۔ حالانکہ پارٹی نے جن اسمبلی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں گوا کے موجودہ وزیر اعلی لکشمی کانت پارسیکر کا نام بھی شامل ہے۔ باوجود اس کے اشارہ دیا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے۔ گوا بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر اور سابق وزیر مملکت ولفریڈ میسککیٹا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارٹی کی مقامی یونٹ میں چل رہے گمسان پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے۔ علاوہ ازیں آر ایس ایس کے باغیوں کی پارٹی گوا سرکھشا منچ ، مہاراشٹروادی گواگومنتک پارٹی (MGP)، شیو سینا کے ساتھ مل کر بی جے پی کو گھیررہی ہیں۔ MGP لیڈر سودِن دھاولکر اس اتحاد کی طرف سے سی ایم امیدوار ہیں۔ یہ اتحاد بھی بی جے پی کے خوابوں پر پانی پھیرسکتاہے کہ جب کہ عام آدمی پارٹی پہلے ہی سے جھاڑو کے ساتھ تیار ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

    اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ میں بی جے پی کی شکست کے آثار ہیں اور منی پور میں جیت ،ہار زیادہ اہم نہیں ہے۔ ظاہر کہ ان ریاستوں میں ہار کا اثر وزیراعظم نریندر مودی کی امیج پر پڑے گا۔ آر ایس ایس نے جس شخص کو اپنا ’’آئیکان‘‘بنا رکھا تھا اور جس چہرے کو وہ عالمی طور پر پیش کرنے میں مصروف تھی،ہار کے بعد اس پرزردی آنا لازمی ہے۔ ان انتخابات میں شکست کے بعد مودی کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی اور سال کے اخیر تک ہونے والے گجرات اسمبلی انتخاب پر بھی اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ اس کے بعد 2018میں بھی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونگے جو مودی کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہونگے۔ سال رواں کے انتخابات میں ہار کے بعد پورے ملک میں مودی مخالف نیتائوں کا مورچہ بن سکتا ہے اور ابھی سے 2019کی تیاریاں شروع ہوسکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی جس طرح طوفان کی مانند آئے تھے ،اب ان کی رخصتی بھی اتنی ہی خواری وذلالت کے ساتھ ہونے والی ہے۔ 2014میں مودی کولانے کے لئے جس خودساختہ سونامی کو میڈیا نے کھڑا کیا تھا، اب اس کا بھرم کھل چکا ہے اور جو لوگ ’’اچھے دن‘‘ کے خواب سجانے لگے تھے وہ بیدار ہوکر نوٹ بندی کی حقیقی زمین پر کھڑے ہیں۔ اب حالات بدل چکے ہیں اور وقت کروٹ لے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments


Login

You are Visitor Number : 182