rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Political Articles -->> Articles On National Issue
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Kaam Nahi Khushamad Se Khush Hote Hain Musalman


کام نہیں خوشامد سے خوش ہوتے ہیں مسلمان؟


تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی


    اترپردیش میں انتخابات کی دوڑ شروع ہوچکی ہے اور سبھی پارٹیاں مسلم ووٹ پر نظر جمائے بیٹھی ہیں۔یہاں مسلم ووٹ لگ بھگ بیس فیصد ہے لہٰذا اقتدار کی دوڑ میں اس ووٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سماج وادی پارٹی کو لگتا ہے کہ مسلمان اس کے روایتی ووٹر ہیں ،اس کا ساتھ چھوڑ کر نہیں جائینگے جب کہ بہوجن سماج پارٹی سمجھتی ہے کہ اکھلیش یادو کی حکومت نے مسلمانوں کے لئے کچھ خاص کام نہیں کیا ہے اور ان سے کئے وعدوں کو وفا نہیں کیا ہے لہٰذا مسلمان ووٹر بی ایس پی کی طرف آجائینگے۔ کانگریس بھی ان پارٹیوں میں شامل ہے جن کی نظر مسلم ووٹ پر ہے اور وہ محسوس کرتی ہے کہ بابری مسجد کی شہادت اور میرٹھ وملیانہ کے دنگوں کو زمانہ بیتا ، مسلمان پرانی باتوں کو بھول کراس کی طرف لوٹ آئینگے اور ایک با ر پھر اترپردیش میں اس کی واپسی ہوگی مگر ان میں سے کوئی پارٹی ایسی نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے اپنے کئے گئے کام کی بنیاد پر مسلم ووٹ کی دعویدار ہو۔ فی الحال سماج وادی پارٹی کی حکومت ہے جس کے دور میں مظفرنگر کے مسلم کش دنگے ہوئے ہیں، جہاں مسلمانوں کو مارا کاٹا ہی نہیں گیا بلکہ مسلم خواتین کی عصمت کو بھی تارتار کیا گیا اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ مجرم آج بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور انھیں سزا دلانے میں حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ باوجود اس کے سماج وادی پارٹی کو یقین ہے کہ بی جے پی کے خوف سے مسلمان اسی کو ووٹ دینگے۔ مایاوتی نے سب سے زیادہ مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور اس طرح وہ مسلمانوں کو لبھا رہی ہیں۔ وہ ماضی میں تین بار یوپی کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں مگر ان کے پاس ایسا کوئی کام نہیں ہے جس کے سبب وہ مسلمانوں سے ووٹ مانگ سکیں لہٰذا وہ بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ بی جے پی کا راستہ روکنے کے لئے مسلمان ان کے ساتھ آئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان اتنے احمق ہیں کہ وہ کام کے بجائے جھوٹے ڈر اور خوشامد کے چکر میں پھنس کر ووٹ کرینگے؟ یا پھر وہ اس قدر مجبور ہیں کہ ان کے سامنے جھوٹی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینے کے سواکوئی راستہ ہی نہیں ہے؟

    یہ سچائی ہے کہ ہندوستانی مسلمان خوشامد پسند ہیں اور اپنے اسی مزاج کے سبب وہ سیاسی پارٹیوں کے بیچ فٹ بال بن جاتے ہیں۔ آزاد ہندوستان کے ستر برسوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ انھیں چاپلوس پارٹیوں نے بار بار ٹھگا ہے اور وہ بار بار اس فریب میں آتے رہے ہیں۔ اس وقت اترپردیش میں بھی تقریباً یہی صورت حال ہے۔ خاص مسلمانوں کے تئیں سیاسی پارٹیوں کے رویہ کو دیکھتے ہوئے بھاجپا نے ’’تشٹی کرن‘‘ کی اصطلاح ایجاد کی ہے۔ جس کا مطلب ہوتا ہے مسلمانوں کی چاپلوسی کرنا اور اس اصطلاح کے بہانے ہندووٹروں کو فریب دیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلمان بار بار جھوٹے وعدوں کے پُرفریب جال میں پھنستے ہیں:

میں نے کہا کہ عہد ِوفا پورا کیجئے
کہنے لگے اس عہد میں باقی وفا نہیں

مسلم خوشامد کا سچ

    ملک کی آزادی کو ۷۰ سال سے ہوچکے ہیں اور اس دوران مسلمانوں نے بہت کچھ گنوایا ہے۔ اگر مسلم تشٹی کرن واقعی اس ملک میں ہوتا تو مسلمانوں کے بہت سارے مسائل منہ کھولے ان کے سامنے کھڑے نہ ہوتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں صرف زبانی خوشامد پر یقین رکھتی ہیں اور جہاں تک مسلمانوں کو دینے کی بات ہے تو کسی نے کچھ نہیں دیا ہے۔ کانگریس اس ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے اور کم و بیش ہر خطے میں اس کی تنظیم موجود ہے۔ ملک آزاد ہوا تو اسی کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور اسی نے سب سے زیادہ حکومت بھی کی۔ صوبوں سے مرکز تک ہر جگہ اسی کی طوطی بولتی تھی۔ کانگریس نے اپنے ہر الیکشن مینی فیسٹو میں مسلمانوں کے ساتھ خوشنما وعدے کئے۔ کبھی کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پایا جائے گا،تو کبھی کہا کہ مسلمانوں پر زیادتی کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔کبھی وزیر اعظم کا پندرہ نکاتی فارمولہ لاکر مسلمانوں کو بیوقوف بنایا تو کبھی سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا۔حد تو تب ہوگئی جب اپنے وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک تقریر کے دوران کہا کہ ملک کے وسائل پر اولین حق اقلیتوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب زبانی جمع خرچ کی باتیں ہیں۔ ان باتوں اور وعدوں پر کبھی بھی سرکار نے عمل نہیں کیا۔ الیکشن مینی فسٹو میں کئے گئے وعدے کبھی کانگریس نے پورے نہیں کئے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ وہ مسلمانوں کی خوشامد کرتی ہے سراسر جھوٹ اور بے بنیاد بات ہے۔ آج تک مسلمانوں کو ان کا جائز حق نہیں دیا گیا، چہ جائیکہ انھیں اولین حق دیا جائے۔ انھیں آج تک ملک کے وسائل پر آخری حق نہیں دیا گیا اور بات کی جاتی ہے کہ ان کا اولین حق ہے۔ اگر مسلمانوں کو ان کا جائز حق بھی دیا جاتا تو ہرایک سو، آئی اے ایس افسران میں چودہ مسلمان ہوتے، ہرایک سو پروفیسران میں چودہ مسلمان ہوتے ، ہرایک سو پولس والوں میں چودہ مسلمان ہوتے ، ہر سو ممبران پارلیمنٹ میں چودہ مسلمان ہوتے، ہر سو ججوں میں سے چودہ مسلمان ہوتے، ہر سو سرکاری ملازمیں میں چودہ مسلمان ہوتے مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ خود سرکار کی جائزہ کمیٹی سچر کمیشن نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان کہیں ڈیڑھ فیصد ہیں تو کہیں دو فیصد، کہیں تین فیصد ہیں تو کہیں ساڑھے تین فیصد۔ ہاں ایک جگہ وہ اکثریت میں ہیں اور وہ ہیں ملک کی جیلیں۔ یہ مثالیں بتانے کے لئے کافی ہیں کہ مسلمانوں کی چاپلوسی صرف جھوٹے وعدوں تک ہی کی گئی ہے اور اس کے آگے کچھ نہیں ہوا ہے۔ یہی صورت حال اترپردیش میں بھی ہے جہاں سماج وادی پارٹی نے پچھلی بار وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں بیس فیصد ریزرویشن دیا جائے گا مگر یہ وعدہ اب اسے یاد نہیں رہا۔ اس نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ دہشت گردی کے الزام میںجیلوں میں بند بے قصور مسلمانوں کو رہا کیا جائے گا مگر وفائے عہد کے انتظار میں کئی لوگ دنیا چھوڑ گئے  اور باقی اب بھی جیلوں میں سڑ رہے ہیں:

ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا


ہندووں کو خوفزدہ کرنے کے لئے جھوٹاپروپیگنڈہ

    ’’مسلم تشٹی کرن‘‘ کا وجود حقیقت میں نہیں ہے مگر سیاسی پارٹیاں اور نیتا الیکشن کے وقت جو جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور پھر ان کا پرچار کرتے ہیں، اس سے یہ بھرم پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو گویا ملک کے وسائل کا بڑا حصہ دے دیا گیا ہے،جس کے سبب ملک کی اکثریت کو نقصان ہو اہے۔ بی جے پی ان باتوں کا خوب پرچار کرتی ہے اور ہندووں کو بھرم میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ تمہارا حق تو مسلمانوں کو دے دیا گیا ،اب تم کیا پائو گے؟ایک زمانے میںتب کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے تمام صوبوں کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر پریشان نہ کیا جائے۔ اس خط کو بی جے پی اور اس کے لیڈران نے ایک اہم ایشو بناکر سرکار کو گھیرنے کی کوشش کی تھی۔خود نریندرمودی نے اسے بہانہ بناکر کانگریس اور یو پی اے سرکار پر حملے کئے تھے۔ظاہر ہے کہ اس سے ہندووں میں یہ پیغام گیا کہ مسلمانوں کو قانون سے بالاتر کوئی سہولت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ بیان الیکشن کی وجہ سے سامنے آیا تھا اور واقعی وہ مسلمانوں کو زبانی طور پر خوش کرنا چاہتے تھے، ورنہ مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کی کو ششیں سب سے زیادہ کانگریس نے ہی کی ہیں۔ ملک میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات کانگریس کے دور میں ہوئے اور دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو دہشت زدہ سب سے زیادہ کانگریس نے کیا۔ کانگریس کے مہاراشٹر میں جتنے بے قصور مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیا گیا تھا، اتنا مودی کے گجرات میں بھی نہیں کیا گیا۔ کیا بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے وقت دلی میں بی جے پی کی حکومت تھی؟ اصل میں کانگریس ہی سب سے زیادہ مسلمانوں پر مظالم ڈھاتی رہی ہے اور اسی نے سب سے زیادہ جھوٹے وعدے کئے ہیں اور اسی صف میں وہ سیاسی پارٹیاں بھی کھڑی ہیں جو سیکولرازم کے نام پر سیاست کرتی ہیں اور مسلمانوں کے ووٹ پرنظر رکھتی ہیں۔ گجرات فسادات کے لئے سزا پانے والوں میں وزیرتک شامل تھے مگر میرٹھ، ملیانہ، بھاگلپور، مرادآباد، بہار شریف، ممبئی اور اب مظفرنگر دنگوں کے لئے کسی کو سزا نہیں ملی کیونکہ یہ نام نہادسیکولر پارٹیوں کے دور حکومت میں ہوئے تھے۔

پڑے ہیں تو پڑے رہنے دو میرے خون کے دھبے
تمہیں دیکھیں گے سب ، محشر میں داماں کون دیکھے گا  

مسلمانوں سے جھوٹے وعدے

    زبانی جمع خرچ کرنا اور مسلمانوں کو کچھ نہ دینا، یہ کانگریس کی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہے اور اسی پر دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں بھی عمل پیرا ہیں۔ یوپی کی موجودہ اکھلیش سرکار ہو یاسابقہ مایاوتی حکومت سب نے یہی کیا ہے۔ بی جے پی ان باتوں کو اچھی طرح جانتی ہے اور وہ اس بات کا زور و شور سے پرچار کرتی ہے کہ یہ سب پارٹیاں پورا ملک مسلمانوں کو دیتی جارہی ہیں۔جس طرح جھوٹے وعدے کانگریس نے کئے تھے اسی نہج پر اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی سرکار چلی اور یہی کام دوسری ریاستوں میں دوسری سیاسی پارٹیوں نے بھی کیا ۔ بہار میں ایک مدت تک لالو پرساد یادو برسرِ اقتدار رہے۔ مسلمانوں کے ووٹ سے انھوں نے پندرہ سال تک بہار پر راج کیا اور مرکز میں بھی اہم وزارتیں پاتے رہے مگر کبھی مسلمانوں کا کام نہیں ہوا۔ ان کے پندرہ سالہ دور اقتدار کی سب سے بڑی حصولیابی یہی رہی کہ فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے۔ انھوں نے نہ تو ریاست میں مسلمانوں کو روزگار دیا اور نہ ہی وزیر ریل رہتے ہوئے، ریلوے میں مسلمانوں کی بحالی ہوئی۔ اردو زبان جسے جگن ناتھ مشرا نے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلایا تھا، لالو کے دور میں بہار سے سرکاری طور پر ختم ہوتی رہی اور اب نتیش کمار اقتدار میں آئے ہیں تو یہی سب کچھ ہو رہا ہے مگر اسی کے ساتھ مسلم تشٹی کرن کے الزام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

    اصل میں مسلم چاپلوسی کا الزام آزاد بھارت میں مسلمانوں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے لئے کیا جاتا رہ ہے اور آج بھی کیا جارہا ہے۔ جب بھی کوئی فیصلہ ایسا آتا ہے جس سے مسلمانوں کو معمولی فائدہ بھی پہنچنے کا امکان ہوتو مسلم خوشامد کا شور مچایا جاتا ہے۔ ماضی میں جب جاٹوں کو ریزرویشن دیا گیا تو کبھی جاٹ تشٹی کرن کی بات نہیں کی گئی۔ جب او بی سی کو ریزرویشن دیا گیا تو اوبی سی خوشامد کی بات نہیں کی گئی۔ دلتوں کو کئی طرح کی سہولیات اس ملک کا قانون دیتا ہے اس وقت دلت چاپلوسی کی بات نہیں کی جاتی مگر مسلمانوں کے ساتھ جھوٹے وعدے بھی ہوتے ہیں تو مسلم خوشامد کا شور مچایا جاتا ہے۔ اس وقت اترپردیش میں بھی یہی صورت حال ہے۔ آج سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس لاکھ وعدے کریں، ہزار قسمیں کھائیں مگر الیکشن کے بعد وہی ہوگاجو ہربار ہوتا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ان جھوٹے وعدوں کے جال میں پھنسنے کے بجائے ووٹنگ کے وقت اپنے ذہن وفکر کا استعمال کریں۔ وہ ابھی سے مان کر چلیں کہ کوئی پارٹی ان کی اپنی نہیں ہے اور کسی بھی سرکار میں ان کا کام ہونے والا نہیں ہے۔ سرکار خواہ کسی کی آجائے مگر ان کی حیثیت میں کسی قسم کا بدلائو نہیں آنے والا ہے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments


Login

You are Visitor Number : 345