rishta online logo
newsletter
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Political Articles -->> Articles On State Of India
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Uttar Pradesh Me Secular Partiyon Ka Bemani Gathbandhan


اترپردیش میں ’’ سیکولر ‘‘پارٹیوں کا بے معنی گٹھبندھن


تحریر:غوث سیوانی، نئی دہلی


     اترپردیش میں مہاگٹھبندھن بنے گا؟ کیا یہ اتحاد اسی طرح کامیاب ہوگا جس طرح بہار میں ہوا تھا؟ کیا سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے بغیر یوپی میں کوئی اتحاد بامعنیٰ ہو گا؟ ان سوالوں کے بیچ بہار کی طرح اترپردیش میں بھی مہاگٹھبندھن کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ تمام چھوٹی چھوٹی پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر آنے کے لئے بات چیت کر رہی ہیں۔ اس لئے امکان بڑھ گیا ہے کہ بہاراسمبلی انتخابات کا اتحاد اتر پردیش میں بھی دہرایا جا ئے۔ مہاگٹھبندھن کے بینر تلے بہار میں انتخابی پرچم لہرا چکا جے ڈی یو اتر پردیش میں بھی غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں لگ گیا ہے۔آئندہ چھ مارچ کو بنارس سے کسان مہا پنچایت کے ذریعے مہاگٹھبدھن تحریک کا بگل بجانے کی تیاری ہے۔اس کے شارے ان سبھی پارٹیوں کی طرف سے ملنے لگے ہیں جن کے مہاگٹھبندھن میں شامل ہونے کی امید ہے۔ جنتادل (یو) کے صدر شرد یادو اس سلسلے میں کوشاں ہیں اور انھوں نے اس کا اشارہ بھی دیا ہے جب کہ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے اترپردیش کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔راشٹریہ لوک دل کے چودھری اجیت سنگھ نے حال ہی میں نتیش کمار اور شرد یاود سے ملاقات کی ہے جب کہ کہ پیس پارٹی کے رہنما ڈاکٹر محمد ایوب بھی نتیش کمار اور جنتادل یو کے لیڈران سے مل رہے ہیں۔اپنادل نے بھی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کانگریس ،جنتا دل یو اور راشٹریہ جنتادل تو بہار میں بھی مہاگٹھبندھن کا حصہ رہے ہیں مگر اترپردیش میں عام آدمی پارٹی کے بھی مہاگٹھبندھن میں شامل ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

ضمنی انتخابات میں آر ایل ڈی کی حمایت

    جہان ایک طرف یوپی میں مہاگٹھبندھن کی تیاریاں چل رہی ہیں وہیں دوسری طرف مغربی یوپی کے کچھ ضمنی انتخابات میں جنتادل یو نے آر ایل ڈی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اتر پردیش میں راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے ساتھ اتحاد کرنے کا واضح اشارہ دیتے ہوئے جے ڈی یو کے صدر شرد یادو نے کہا ہے کہ فروری میں ریاست کی تین اسمبلی سیٹوں کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی آر ایل ڈی کے امیدواروں کی حمایت کرے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتر پردیش میں  مہاگٹھبدھن بنانے کے لئے بات چیت چل رہی ہے۔ پارٹی کی ریاستی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد شرد یادو نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ہماری پارٹی 13 فروری کو بیکاپور، مظفر نگر اور دیوبند اسمبلی سیٹوں کے لئے ہو رہے ضمنی انتخاب میں آر ایل ڈی کے امیدواروں کو حمایت دے گی۔ اتر پردیش میں بہار کی طرز پر مہاگٹھبندھن بنانے کے امکانات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا، اس سمت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ ابھی اس سلسلے میں کچھ خاص بتانے کو نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یوپی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں بی جے پی اپنادم خم لگائے ہوئے ہے اور اس نے انتخابات میں ان لوگوں کو آگے کردیا ہے جن پر فرقہ وارانہ دنگوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ گویا وہ ماحول کو فرقہ وارانہ کرنا چاہتی ہے۔دوسری طرف  آر ایل ڈی مسلمانوں اور جاٹوں کو متحد کرکے الیکشن جیتنے کے لئے کوشاں ہے اور اس کے بہانے وہ مہاگٹھبندھن کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔چودھری اجیت سنگھ کی کچھ دن پہلے جے ڈی یو کے صدر شرد یادو کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے بی جے پی کے خلاف ایک بڑا اتحاد بنانے کے تفصیلی خاکہ پر بھی بات چیت کی تھی۔ ریاست کی دونوں بڑی پارٹیوں ایس پی اور بی ایس پی نے کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کے امکان کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔دوسری طرف مہاگٹھبندھن میں سماجوادی پارٹی کو شامل کئے جانے کے امکان پر شردیادو نے کہا، ہم نے تو ان (ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو) کو مہاگٹھبندھن کا لیڈر بنایا تھا۔ وہی مہاگٹھبندھن سے باہر چلے گئے۔ واضح ہوکہ ضمنی انتخابات میں جنتادل (یو) کی طرف سے آرایل ڈی امیدواروں کی حمایت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہاں جنتادل یو کی کوئی سیاسی زمین نہیں ہے، البتہ اس کے اس قدم نے آر ایل ڈی کے ساتھ اتحاد کی راہ ہموار کردی ہے۔

ملاقاتوں کا سلسلہ

    یوپی میں مہاگٹھبندھن کی تیاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میںبہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور جد (یو) کے صدر شرد یادو نے قومی لوک دل کے صدر چودھری اجیت سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ چودھری اجیت سنگھ کے گھر دوپہر کے کھانے پر ہوئی ملاقات میں یوپی انتخابات میں متحدہ طور پر کام کرنے پر ابتدائی اتفاق رائے ہو گئی ہے۔ اس درمیان، اپنا دل کی صدر کرشنا پٹیل نے بھی بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے ملاقات کر مہاگٹھبندھن میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔جب کہ سول سوسائٹی کے کچھ مسلم دانشوروں نے بھی نتیش کمار سے مل کر مہاگٹھبندھن کی کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب انصاری بھی وزیر اعلی نتیش کمار سے جلد ہی مل سکتے ہیں۔وہ ماضی میں بھی نتیش کمار سے ملاقات کر چکے ہیں۔ادھر آر ایل ڈی صدر چودھری اجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار، جے ڈی (یو) کے صدر شرد یادو اور بہار انتخابات میں پرچارکی کمان سنبھالنے والے پرشانت کشور سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات کے دوران اجیت سنگھ کے بیٹے اورسابق ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری بھی موجود تھے۔ اسمبلی انتخابات میں ساتھ الیکشن لڑنے پر بات ہوئی ہے۔ یہ یوپی میںمہاگٹھبندھن بننے کا آغاز ہے۔ جد (یو) کی کوشش ہے کہ آر ایل ڈی، اپنا دل، پیس پارٹی، سمیت تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کو ساتھ لے کر مہاگٹھبندھن کو اسمبلی انتخابات میں عوام کے سامنے ایک متبادل کے طور پر پیش کرے۔

    جد (یو) کے سیکرٹری جنرل کے سی تیاگی نے کہا ہے کہ اتر پردیش کی کئی جماعتوں نے وزیر اعلی نتیش کمار سے مل کر ساتھ کام کرنے اور الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ جن میں پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب انصاری بھی شامل ہیں۔یہ سوال کئے جانے پر مہاگٹھبندھن میں سماج وادی پارٹی بھی شامل ہو گی تو، انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کسی بھی پارٹی سے اتحاد کرنے سے انکار کر چکی ہے۔

سماج وادی پارٹی نے اڑایا مذاق

    جہاں ایک طرف جنتادل (یو) اور کچھ دوسری پارٹیاں مہاگٹھبندھن کی تیاری کر رہی ہیں وہین دوسری طرف سماج وادی پارٹی نے بہار کی طرح اتر پردیش میں بھی مہاگٹھبندھن بنانے کا مذاق اڑایا ہے۔ایس پی نے کہا ہے کہ جنہوں نے کبھی جدوجہد نہیں کی اور ہمیشہ اقتدار میں رہے وہ اب مہاگٹھبندھن کی ہوائی بحث میں لگے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے صوبائی ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے خلاف مہاگٹھبندھن کے حامی جب بی جے پی مخالف کسی مہم میں شامل نہ ہونے کی بات کرتے ہیں تو ان کی دانشورانہ صلاحیت اور سیاسی سمجھ بوجھ مذاق بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں بی جے پی اور آر ایس ایس کی فرقہ وارانہ سیاست پر صرف ایس پی نے ہی روک لگایا ہے۔ سماج وادی پارٹی کا اٹوٹ اتحاد پہلے ہی ریاست کے22 کروڑ عوام کے ساتھ ہے۔ایس پی ترجمان نے جے ڈی یو کے صدر شرد یادو پر بالواسطہ طور پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جنہیں عوام پر یقین نہیں ہے وہ ہی مہاگٹھبندھن کی بات کرتے ہیں۔ ترجمان نے طنز کیا کہ جس طرح روس میں بارش ہونے پر بھارت کے کمیونسٹ چھتری تان لیتے تھے وہی حال مہاگٹھبندھن والوں کا ہے جو پڑوسی بہار کی جیت پر انتہائی جوش و خروش کے شکار بن گئے ہیں۔

یوپی کا سیاسی مستقبل

    یوپی اسمبلی کا الیکشن تقریبا مارچ 2017 میں ہونا ہے۔ نومبر دسمبر سے اس کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے۔ تین چار ماہ میں تصویر کچھ صاف ہونے کے بعد ہی بہار کی سیاسی سرگرمیوں کی یوپی میں سرگرم انٹری ہوگی۔ فی الحال یوپی کی دو بڑی پارٹیوں بی ایس پی اور ایس پی نے صاف کر دیا ہے کہ وہ اتحاد کی سیاست نہیں کریں گی۔ مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو دونوں ہی ’’اکیلا چلو ‘‘کی راہ پر ہیں۔ کانگریس کا رخ ابھی صاف نہیں ہے مگر اس کے سامنے مہاگٹھبندھن میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے، جب کہ اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی بھی اب رائج الوقت سیاست کا حصہ بنتی جارہی ہے اور کجریوال کی جس طرح سے نتیش کمار سے قربت بڑھی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی یوپی میں مہاگٹھبندھن کا حصہ بنے گی ۔ ادھرلوک سبھا انتخابات کے نتائج کو دیکھ کر جے ڈی یو یہ مان کر چل رہا ہے کہ ایس پی اور بی ایس پی اپنے طور پر بی جے پی سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ حالانکہ سماج وادی پارٹی کو مجوزہ مہاگٹھبندھن ساتھ لینے کو تیار نہیں اور بی ایس پی کسی کے ساتھ جانے کو تیار نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو دونوں کے پاس یوپی میں کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں کانگریس، آر ایل ڈی اور دوسری چھوٹی علاقائی جماعتوں کا ہی سہارا ہے، جس کے دم پر بہار کے وزیر اعلی نتیش کماریوپی میں اپنی بنیاد کو مضبوط کر سکتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 258