rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Bihar
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Bihar Staff Selection Imtehan Parcha Leak Ki Aag


بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن امتحان پرچہ لیک کی آگ


ڈاکٹر مشتاق احمد


موبائل :9431414586


    بہار میں ان دنوں قانون سازیہ کا بجٹ اجلاس چل رہا ہے۔ قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل دونوں میں بجٹ پر بحث و مباحثہ ہونا ہے لیکن گذشتہ دو دنوں سے بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان میں بڑے پیمانے پر ہوئی بد عنوانی اور پھر اس کی جانچ کے لئے تشکیل شدہ ایس آئی ٹی کی خصوصی مہم پر ہی ہنگامہ ہورہا ہے۔ ایک طرف حکمراں جماعت اور بالخصوص وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا موقف ہے کہ جانچ چل رہی ہے اور ایس آئی ٹی اپنا کام کر رہی ہے جب مکمل جانچ رپورٹ سامنے آئے گی اس کے بعدہی حکومت کچھ حتمی طور پر کہہ سکتی ہے۔ جبکہ حزب اختلاف بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس سلسلے میں اپنا موقف واضح کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک صرف سرکاری عملے کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جبکہ اس میں سیاستدانوں کے ملوث ہونے کے بھی امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ واضح ہو کہ اب تک بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان میں پرچہ لیک کے سلسلے میں کمیشن کے سکریٹری پرمیشور رام اور چیئرمین سدھیر کمار کی گرفتاری ہوئی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ پانچ دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے کہ یہ باہری لوگ بھی اس پرچہ لیک کرنے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔چونکہ ابھی جانچ مکمل نہیں ہوئی ہے اس لئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ابھی اور کتنے افراد تک اس جانچ کی آگ پہنچے گی ۔

    دریں اثنا ء بہار کے آئی اے ایس یونین نے جس طرح سدھیر کمار چیئرمین، بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کی گرفتاری کے مخالفت شروع کر دی ہے ۔ اس سے اب اس معاملے میں ایک نیا موڑ آگیا ہے کیونکہ ایک طرف آئی پی ایس آفیسر ایس آئی ٹی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور اس بڑے گھوٹالے کا انکشاف کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ تو دوسری طرف آئی اے ایس نے ایس آئی ٹی کی جانچ پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ آئی اے ایس یونین کے صدر وویک کمار کا کہنا ہے کہ سدھیر کمار ایک ایماندار آئی اے ایس ہیں اور اب تک ان کی کارکردگی قابل تحسین رہی ہے۔ لیکن ایک بڑی سازش کے تحت انہیں نہ صرف اس بدعنوانی کی واردات میں ملوث کیا گیا ہے بلکہ ان کی گرفتاری بھی غلط طریقے سے ہوئی ہے۔ سند رہے کہ حکومت بہار نے اس بڑے گھوٹالے کی جانچ کے لئے جو خصوصی ٹیم بنائی ہے اس کی قیادت بہار کے ایک فعّال آئی پی ایس آفیسر منو مہاراج کر رہے ہیں۔ مہاراج اپنی کارکردگی کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ وہ ایک سخت پولس آفیسر کی شناخت رکھتے ہیں۔ لیکن سدھیر کمار کی گرفتاری کے بعد دیگر اعلیٰ آفیسر ان کی کاروائی کو عجلت پسندی قرار دے رہے ہیں کیونکہ سدھیر کمار کو جس طرح گرفتار کیا گیا اور ان کے خاندان کے لوگوں کو اس معاملے میں گھسیٹا گیا ہے ، اس سے بھی آئی اے ایس یونین خفا ہے۔ یونین کے تمام ممبران نے بہار کے گورنر موصوف کو ایک میمورینڈم سپرد کیا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس ایس آئی ٹی کی کارکردگی غیر جانب دارانہ نہیں ہے ۔ ان لوگوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اب مستقبل میں کوئی بھی آئی اے ایس آفیسر کسی بورڈ یا کمیشن کے چیئرمین کا عہدہ قبول نہیں کریں گے اور کسی بھی وزیر کے زبانی حکم نامے کی تعمیل بھی نہیں کریں گے۔ یونین کے کئی سینئر آفیسروں نے اس بات پر بھی اپنی نارضگی ظاہر کی ہے کہ کمیشن کے سکریٹری پرمیشور رام نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کئی وزراء اور ایم ایل اے اس پرچہ لیک معاملے میںشامل ہیںلیکن ایس آئی ٹی نے اب تک ایک بھی وزیر یا سیاسی لیڈروں کی گرفتاری نہیں کی ہے۔

    بلاشبہ اس طرح کے سنگین معاملات میں جب کبھی یک طرفہ کاروائی ہوتی ہے تو اسی طرح کے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دو دنوں سے اسمبلی اجلاس میں محض اس بات کو لے کر ہنگامہ ہورہا ہے کہ ایس آئی ٹی حکمراں جماعت کے لیڈروں کو کیوںگرفتار نہیں کر رہی ہے۔ کونسل میںحزب اختلاف کے لیڈر سوشیل کمار مودی کا کہنا ہے کہ بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن میں اب تک جتنے بھی مقابلہ جاتی امتحانات ہوئے ہیں ان میں بڑے پیمانے پر بد عنوانیاں ہوئی ہیں اور کمیشن کے سکریٹری پرمیشور رام نے اپنے اقبالیہ بیان میں بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ اس گھوٹالے میں حکمراں جماعت کے کئی بڑے لیڈران شامل ہیں ۔ سوشیل کمار مودی کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ایس آئی ٹی ان ناموں کو اجاگر کرتے ہوئے کارروائی کرے۔ اب جبکہ حزب اختلاف کے لیڈران نے آئی اے ایس یونین کے مطالبے کی حمایت کی ہے تو ان لوگوں کا حوصلہ اور بھی بڑھا ہے اور حزب اختلاف کے ساتھ یہ لوگ بھی پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ جب تک ایس آئی ٹی اپنا پورا کام نہیں کر لیتی اس وقت تک دوسری جانچ ایجنسی کے حوالے اس معاملے کو نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ نتیش کمار نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی بے قصور کو پھنسایا نہیں جائے گا اور جو مجرم ہیں انہیں بخشا بھی نہیں جائے گا۔ قانون اپنے دائرۂ کار میں کام کرے گا اور اس میں حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی لیکن حزب اختلاف اپنے مطالبے پر اڑی ہوئی ہے اور رواں اجلاس اسی کی وجہ سے ہنگامے کی نذر ہورہا ہے۔

     اگرچہ بہار کے وزیر مالیات جناب عبدالباری صدیقی نے سال رواں کا بجٹ پیش کر دیا ہے اور اسمبلی کے اسپیکر نے گورنر موصوف کے خطاب پر بحث ومباحصے کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جانب سے آئندہ کون سا رُخ اختیار کیا جاتا ہے۔ واضح ہو کہ ان دنوں بہار میں دو تین ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو حکمراں جماعت کے لئے درد سر ثابت ہورہے ہیں ۔ حال ہی میں بہار ایگری کلچر یونیورسٹی سبور بھاگلپور کے سابق وائس چانسلر اور حکمراں جماعت جنتا دل متحدہ کے ممبر اسمبلی پروفیسر میوا لال چودھری پر بھی مقدمہ دائر ہوا ہے اور پولس ان کی گرفتاری کے لئے جگہ بہ جگہ چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ واضح ہو کہ پروفیسر میوا لال نے یونیورسٹی میں اساتذہ کی بحالی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے جس کی جانچ رپورٹ کے بعد ان پر مقدمہ ہوا ہے۔ اگرچہ جنتا دل متحدہ نے پروفیسر میوا لال کو اپنی پارٹی سے چھ برسوں کے لئے معطل کر دیا ہے لیکن حزب اختلاف کا مطالبہ ہے کہ حکومت انہیں بچا رہی ہے اس لئے ان کی گرفتاری نہیں ہورہی ہے۔ اسی طرح ایک دلت لڑکی سے جنسی استحصال کے معاملے میں کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا نام آیا ہے مگر ان کی گرفتاری بھی نہیں ہو سکی ہے۔ ادھر بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن امتحان پرچہ لیک کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے ۔

     غرض کہ ایک ساتھ کئی ایسے معاملات اجاگر ہوئے ہیں جو واقعی حکومت کے لئے سخت آزمائش کے ہیں کیونکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت میں کسی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یکے بعد دیگرے متواتر کئی ایسی بدعنوانیا ں اجاگر ہوئی ہیں جن سے حکومت کی شبیہہ کو مسخ ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لئے حکمراں اتحادی جماعت بھی قدرے پریشان ہے۔ جہاں تک بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان میں پرچہ آئوٹ ہونے کا سوال ہے تو یہ بات تو پایہ ٔ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ کمیشن کے امتحان میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں اے این ایم کے امتحان اور انٹر ویو میں بھی بڑی بدعنوانیاں ہوئی ہیں جیسا کہ حزب اختلاف کے کئی لیڈران نے ثبوت پیش کئے ہیں۔ لیکن سینئر آئی اے ایس آفیسر سدھیر کمار کی گرفتاری کے بعد اس پر سیاست بھی تیز ہو گئی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے اپنے پریس بیان میں کہا ہے کہ سدھیر کمار کو ایک سازش کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر لالو پرساد یادو نے بھی سدھیر کمار کو ایک صاف و شفاف شبیہہ کا ایماندار آفیسر قرار دیا ہے۔ لیکن جنتا دل متحدہ کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس بدعنوانی میں ملوث کسی بھی شخص کو چھوڑا نہیں جائے گا کیونکہ کمیشن کی بدعنوانی کے خاتمے کے لئے سخت سے سخت اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے کہ اس سے ہزاروں ذہین امیدواروں کو انصاف ملے گا۔ اگر اعلیٰ حکام کی گرفتاری نہیں ہوگی تو آخر کس طرح مقابلہ جاتی امتحان میں شفافیت آئے گی۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کمیشن کے سکریٹری نے جس طرح اپنے بے باکانہ بیان میں سیاسی لیڈروں کے ملوث ہونے کی باتی کہی ہے ان لیڈروں تک ایس آئی ٹی کیونکہ نہیں پہنچ رہی ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو نہ صرف حزب اختلاف کو ایک بڑا مدعا فراہم کیا ہے بلکہ عوام الناس کے درمیان بھی چہ می گوئیاں ہو رہی ہیں کہ آخر ان وزراء اور لیڈران کو خصوصی جانچ ٹیم کیوں گرفت میں لے رہی ہے جن کا نام کمیشن کے سکریٹری پرمیشور رام نے لیا ہے۔

     بہرکیف ، بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان میں جس طرح کی بدعنوانیاں ہوتی رہی ہیں اگر ان پر نکیل کسنے کے اقدام اٹھائے جارہے ہیں تو یہ قابل تحسین عمل ہے کہ اس بدعنوانی نے ہمارے بہتیرے ہونہار نونہالوں کے مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ صرف چھوٹی مچھلیوں کو ہی نہیں پکڑا جانا چاہئے بلکہ ان مگر مچھوں تک بھی ایس آئی ٹی پہنچے جو برسوں سے بدعنوانی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔

٭٭٭

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 179