donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Bihar
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Lalu Prasad Ki Seyasat Phir Bhanwar Me


لالو پرساد کی سیاست پھر بھنور میں ؟


ڈاکٹر مشتاق احمد

موبائل: 9431414586


بہار کی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں کی سیاست لالو پرساد یادو کے ارد گرد گھومتی رہی ہے۔ نوے کی دہائی کے آغاز میں جب انہوںنے بہار جیسی اہم ریاست کے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالا تھا تو بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں یہ پیغام گیا تھا کہ ہندوستان کی سیاست میں ایک نیا آفتاب طلوع ہوا ہے، کیوں کہ انہوںنے عہدہ سنبھالتے ہی کچھ اس طرح کے اقدامات کیے تھے جو ان سے قبل کے کسی وزیر اعلی نے نہیں کیا تھا۔ مثلاً بہار کے عوام کے تصور میں جو وزیراعلی کے ایک خاص طرح کی شبیہ تھی کہ وزیراعلی سے عوام کا ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ لالو یادو نے اس روایت  کو سرے سے ختم کردیا ۔ وہ کبھی دلت بستیوں میں جاکر ان کے بچوں کے بال کٹواتے تو کبھی کسی پان کی دکان پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بات چیت کرتے، کبھی اچانک کسی جگی جھونپڑی میں جاپہنچتے تو کبھی سرد راتوں میں پٹنہ شہر کی سڑکوں پر ٹھٹھرتے رکشا و ٹھیلہ والے کے ننگے جسموں پر کمبل ڈالتے نظرآتے۔ عوام الناس میں ضلع کلکٹر اور پولس آفسیروں کا جو خوف تھا اسے توڑنے کے لئے وہ عوامی جلسوں میں اسٹیج پر انہیں بلا کر کہتے کہ آپ سرکاری سیوک ہیں اور یہ جنتا مالک ہے۔ اس کی سیوا کے لئے ہی آپ رکھے گئے ہیں۔ 

غرض کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بہار کے عوام کے درمیان سماجی انصاف کے مسیحا بن گئے اور جب انہوںنے لال کرشن اڈوانی کے رتھ کو بہار کے سمستی پور میں روک کر اڈوانی کو گرفتار کیا تو نہ صرف بہار بلکہ قومی سطح پر ان کی شناخت ایک سیکولر لیڈر کے طور پر مستحکم ہوئی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوںنے اپنے دوراقتدار میں فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پا نے کی کوشش کی اور بہار کے سماجی تانے بانے کو بھی مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ یہ اور بات ہے کہ جلد ہی وہ مبینہ بدعنوانی کے الزامات میں گھرنے لگے اور حزب اختلاف کے ساتھ سنگھ پریوار کے نشانے پر آگئے۔ بالخصوص چارہ گھوٹالہ نے ان کی سیاسی مقبولیت کے لئے خسارہ عظیم ثابت ہوئی اور اس گھوٹالے کی وجہ سے وہ ہندوستان کی سیاست میں دھیرے دھیرے کنارے ہوتے چلے گئے۔ مگر بہار کی سیاست میں کبھی بھی وہ حاثیے پر نہیں گئے۔ انہوںنے وزیراعلی کا عہدہ چھوڑنے کے بعد اپنی گھریلو اہلیہ رابڑی دیوی کو وزیراعلی بناکر یہ ثابت کردیا کہ وہ ہندوستان کی سیاسی بساط کے کتنے بڑے ماہر کھلاڑی ہیں۔ 

غرض کہ بہار کی پندرہ سالہ سیاست لالو- رابڑی دیوی کے عہد سے منسوب ہوگئی اور جب 2005 سے 2013 تک نتیش کمار بھاجپا اتحاد کے ساتھ حکومت میں تھے، تب  بھی ان کی پارٹی راشٹریہ جنتادل حزب اختلاف کی صورت میں اہم کردار ادا کرتی رہی اور اب جبکہ پھر عظیم اتحاد کی نتیش حکومت میں وہ شامل ہیں تو ان کی حیثیت ایک بااثر اور فیصلہ کن ہے ۔ بہرکیف! اب جب کہ ایک بار پھر عدالت عظمی نے لالو پرساد یادو پر چارہ گھوٹالہ کا مقدمہ چلانے کا حکم نامہ جاری کیا ہے تو نہ صرف لالو پرساد کی سیاست ایک بار پھر بھنور سے دوچار ہوگئی ہے بلکہ اس کے اثرات بہار کی سیاست پر بھی نمایاں ہوںگے۔ واضح ہوکہ حال ہی میں لالو پرساد یادو نے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف ایک نئی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اور بھاجپا مخالف تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کا ایک لائحہ عمل تیار کیاتھا، ایسے وقت میں عدالت عظمی کا نیا حکم نامہ  کئی طرح کے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ لیکن چونکہ انہیں عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنا ہی ہوگا اس لئے لالو پرساد یادو کو ایک بار پھر عدالتی چکروں سے دوچار ہونا ہوگا۔ 

واضح ہوکہ ان پر چارہ گھوٹالہ کے کل چھہ مقدمے چل رہے ہیں ان میں پانچ جھاڑکھنڈ کی عدالتوں میں ہے۔ مقدمہ نمبر(1) RC-20A/96 چائی باسا(37.70 کروڑ)، مقدمہ نمبر(2) RC-38A/96 چائی باسا (37.68 کروڑ)، مقدمہ نمبر(3) RC-47A/96 ڈورنڈا(184 کروڑ)، مقدمہ نمبر(4) RC-64A/96 دمکا(3.47 کروڑ)،مقدمہ نمبر(5) RC-38A/96 دیوگھر (97 کروڑ)شامل ہیں۔ ان مقدموں کی سماعت مسلسل ہوتی رہی ہے اور جھاڑکھنڈ کی رانچی ہائی کورٹ سے انہیں ایک مقدمے میں پانچ سال کی سزا ملی تھی جسے وہ عدالت عظمی میں چیلنج کرچکے ہیں۔ بقیہ چار مقدموں میں انہیں راحت ملی ہوئی تھی لیکن اب جب سی بی آئی کی عرضداشت پر عدالت عظمی نے پھر سے مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے تو اب لالو پرساد یادو کو ازسرنو ان مقدموں میں بھی اپنی لڑائی لڑنی ہوگی۔ 

چارہ گھوٹالہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں لالو پرساد یادو کے علاوہ کئی سرکردہ سیاسی لیڈران اور اعلی افیسران ملوث ہیں۔ ان میں ایک اہم نام بہار کے سابق وزیراعلی ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کا بھی ہے اور وہ بھی اپنی عدالتی جنگ گزشتہ دو دہائیوں سے لڑ رہے ہیں۔ کیوںکہ چارہ گھوٹالہ معاملہ 1996 میں سامنے آیا تھا اور پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم نامے پر سی بی آئی نے مقدمہ درج کیا تھا۔ ہندوستان کی سیاست میں 17 جون 1997 ایک اہم دن اس لئے بن گیا ہے کہ اسی دن اس وقت کے گورنر ڈاکٹر اخلاق الرحمان قدوائی نے وزیراعلی لالو پرساد یادو پر مقدمہ چلانے کا حکم نامہ جاری کیا تھا اور 30 جولائی کو لالو پرساد یادو نے سی بی آئی کورٹ کے سامنے خود سپردگی کی تھی۔ واضح ہوکہ خود سپردگی کے 135 دنوں کے بعد عدالت سے انہیں ضمانت ملی تھی اور وہ باہر آئے تھے۔ اس طرح عدالتی جنگ چلتی رہی ہے اور اب تک لالو پرساد یادو کئی بار جیل گئے ہیں اور انہیں ضمانت ملی ہے۔ وہ جب کبھی جیل سے باہر آئے ہیں ان کے مخالفین انہیں دوبارہ جیل بھیجنے کی کوشش میں لگے رہے ہیںلیکن لالو پرساد یادو کبھی عدالتی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹے اور جب کبھی ان کے سامنے کوئی نیا چیلنج آیا ہے وہ اس کا بڑے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ لالو پرساد یادو کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ انہوںنے ہی چارہ گھوٹالہ کا انکشاف کیا لیکن ایک سیاسی سازش کے تحت انہیں اس میں پھنسایا گیا۔ 

بہرکیف! اب جبکہ عدالت عظمی کے حکم نامے کی روشنی میں لالو پرساد یادو پر ان تمام چار مقدمے کی ازسرنو سماعت ہوگی جن میں ذیلی عدالتوں اور رانچی ہائی کورٹ سے انہیں راحت مل چکی تھی تو ممکن ہے کہ حال میں لالو پرساد یادو نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی کے خلاف جو مہم چلانے والے تھے وہ متاثر ہوگی کیوںکہ وہ خود عدالتی شکنجے میں آچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لالو پرساد یادو اس نئے مسائل کا حل کس طرح نکالتے ہیں کہ اس وقت پورے ملک کی سیکولر سیاست کی نگاہ ان کی طرف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک کی سیکولر سیاست کو لالو پرساد یادو جیسے بیباک و بے خوف لیڈر کی قیادت کی ضرورت تھی کہ اس وقت ملک میں جس طرح فرقہ پرست طاقتوں کا حوصلہ بلند ہے، اس کا منہ توڑ جواب لالو پرساد ہی دے سکتے ہیں۔ ان کے سیاسی نظریات سے اتفاق نہیں رکھنے والے بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ لالو پرساد یادو نہ صرف بہار میں سماجی انصاف کے علمبردار ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کی آواز کبھی صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کل جب عدات عظمی کا یہ حکم نامہ عام ہوا تو عوام الناس میں ایک طرح کی مایوسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بالخصوص راشٹریہ جنتادل اور ان کے اتحادیوں و حامیوں کے چہرے پر ایک حزن وملال دکھائی دے رہا ہے۔  

**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 213