rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Ghazal Numa
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Nazeer Fatahpuri
Title :
   Ghazal Numa Ki Awwaliyat Ka Masla

غزل نما کی اولیت کامسئلہ
 
نذیرفتح پوری،پونہ
 
میں بنیادی طورپر تحقیق میں کم دلچسپی اس لیے رکھتاہوں کہ یہ بہت چھان بین کاکام ہے، لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیونکہ تحقیق ہی ایک ایسا عمل ہے جو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کردیتاہے۔اگر تحقیق کافن رائج نہ ہوتا تو نہ جانے کتنے مفروضے ادب میں اسناد کے درجے کوپہنچ چکے ہوتے کوئی بھی دعویٰ بغیردلیل کے راسخ نہیں مانا جائے گاایک بات دوسری بات کوردکرتی ہے اسے مان لینے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔
 
جہاںتک غزل نما میں اولیت کی بات ہے، ظہیرغازی پوری نے جب اس میدان میںاپنے نام کی اولیت کااعلان کیا تب تک دوسری تحقیق سے پردہ نہیں اٹھاتھا۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی نے سب سے پہلے ۱۹۷۹مین کہی کاظم نائطی کی غزل نما کے حوالے سے جو ہفت روزہ اتحاد مدارس میں شائع ہوئی تھی۔ کاظم نائطی کو غزل نما کابنیاد گزار قراردیا ،جبکہ ظہیرغازی پوری کی غزل نما۱۹۸۱میں روزنامہ سالانہ بنگلور میں شائع ہوئی ۔
 
کاظم نائطی کی یہ تخلیق غزل نماہی کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ ابھی یہ مسئلہ زیر بحث ہی تھا کہ اس پردے سے ایک اور پردہ اٹھا اور اتفاق سے یہ  پردہ بھی مناظر عاشق ہرگانوی کی تجسس پسندطبیعت ہی نے اٹھایا وہ خودرقمطراز ہیں:
 
لیکن ۲۰۰۹میں میری تحقیق نے نئی کروٹ لی ہے۔ غزل نما کے موجد کاظم نائطی اب نہیں رہے ہیںبلکہ شاہد جمیل کے سریہ سہرابندھتاہے، اپنی سابقہ تحقیق کواپنی نئی تحقیق کے حوالے سے دریافت کیاجن کی پہلی غزل نما یکم اکتوبر۱۹۷۳میں شائع ہوئی تھی اور دوسری غزل نما بھی ۲۴؍نومبر۱۹۷۳کے غنچہ میں شائع ہوئی، اس پوری تحقیق کا ماحصل یہ ہے کہ ظہیرغازی پوری کی غزل نما سے سات سال پہلے شاہد جمیل نے اس میدان میں اپناعلم لہرادیا تھا، جس پرروشنی ڈالتے ہوئے مناظر صاحب رقطرازہیں کہ:
شاہد جمیل کی ذہانت نے ۱۹۷۳میں غزل نما کی نئی دنیا تخلیق کی تھی اور اردو شاعری کی اختراعی ارضی سطح کو چھونے اور برتنے کی گل افشانی کی تھی۔ صوفی منش مزاج کی وجہ سے انہوں نے نہ تو دعویٰ کیا اور نہ ہی مشتہرکرنے کی کوشش کی۔ لیکن اتنا دعوے کے ساتھ کہا جاسکتاہے کہ غزل نما کے موجد شاہد جمیل ہیں۔ مناظر صاحب کادعویٰ چونکہ دلیل کے ساتھ ہے اس لیے اسے رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوناچاہئے۔
 
حیدرقریشی ہندوستان میں اردو ماہیے کا پہلا شاعرآزادی کے بعد راقم الحروف کو قراردیتے ہیں لیکن کچھ احباب اس پر خاموش ہیں۔ ممکن ہے ان کے پاس دوسرے ثبوت موجود ہوں۔یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ آزاد غزل پرسب سے پہلے تضمین راقم الحروف نے لکھی تھی، لیکن میں نے شاہد جمیل ہی کی طرح نہ اس کادعویٰ کیانہ اس کی تشہیرکرنے کی کوشش کی۔ لہیذایہ سہرامیرے سرنہیں بندھا اس آزاد غزل کے بانی مظہر امام بھی ہمیشہ خاموش رہے۔ وہ مجھے اہمیت نہیں دیناچاہتے تھے۔ اب مناظرصاحب کو دیکھ لیں۔ انہوں نے اپنے تئیں کبھی اولیت کاسہرااپنے سرنہیں باندھا وہ دوسروں کیلئے ہی ثبوت فراہم کرنے میں منہمک رہے حالانکہ ادب میں بہت سے کام ایسے ہیں جو مناظر سے پہلے کسی نے نہیں کیے لیکن اس سے مناظر کی ادبی حیثیت نہ مجروح ہوتی ہے نہ ان کے مقام ومرتبے پر کوئی منفی اثرپڑتاہے۔
 
آنجہانی کالی داس گپتارضا نے فرمایاتھا، اگر تحقیق آپ کے خلاف بھی جائے تو اسے تسلیم کرلینا چاہئے۔ اس لیے دوسری تحقیق کے رونما ہونے تک مناظرصاحب کی تحقیق کو قبول کرتے ہوئے شاہد جمیل کی غزل نما کا بنیادگزارتسلیم کرنے میں مجھے کوئی عارنہیں۔
 
ہمارے یہاں مشکل یہ کہ سچائی کے اظہار سے لوگ ناراض ہوجاتے ہیں دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ روابط میں دارڑیں پڑجاتی ہیں۔ نہ ہم متن پر توجہ دیتے ہیں نہ موادپر، حالانکہ تحقیق کی عمارت حوالوں مثالوں ہی کی بنیادپر ایستادہ ہوتی ہے۔ اگر آپ کو کسی کی بات غلط لگتی ہے تو حوالہ ڈھونڈ کر اسے غلط ثابت کریں اوراس کے بعد اگرکوئی نہ مانے تویہ ادبی بدویانتی ہے۔ ہم کو چاہئے کہ ہم تخریب سے تعمیر کاپہلو نکالیں نہ کہ تعمیرہی کو تخریب کے حوالے کردیں۔ اس سے ادب کانقصان ہوگا۔ سچائی پرقدغن لگے گی۔ کھوکھلی دعوے بازی کو فروغ ملے گا۔ ایک تخلیق کارکی شناخت اس کی تخلیقی توانائی اور فکر کی پرواز سے ہوگی۔ ہم چاہیں لاکھ بنیادگزاری کاتاج اپنے ہاتھ سے اپنے سرپررکھیںلیکن آپ کے حوالے اورجوازمستندنہیں تواہل نظرآپ کوناقابل اعتناہی سمجھیں گے ۔ایسے میں آپ کسی کونہ دوش دیں نہ اپنادشمن تصورکریں۔
++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 386