donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Taj Mahal Sari Duniya Ke Liye Mohabbat Ki Nishani Sangh Pariwar Ke Liye Nafrat Ki Nishani


تاج محل ساری دنیا کیلئے محبت کی نشانی
 
 سنگھ پریوار کے لئے نفرت کی نشانی 
 
عبدالعزیز 
 
تاج محل ایک مقبرہ ہے جسے مغل شہنشاہ شاہجہاں نے اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں آگرہ میں جمنا ندی کے کنارے تعمیر کیا تھا۔ آج اس کا شمار دنیا کے سات بڑے عجائب میں کیا جاتا ہے۔ روزانہ دنیا بھر کے ہزاروں لوگ اس خوبصورت اور حسین عمارت کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ اس کی دیواروں کی پیشانی پر قرآن شریف کی کے کتبے لکھے ہوئے ہیں۔ عمارت کے احاطے میں ایک مسجد کی عمارت ہے، جس میں زائرین نماز ادا کرتے ہیں۔ عمارت در اصل اسلامی تعمیرات کا وہ شاہکار نمونہ ہے جس کے مقابلے میں دنیا کے بہت سے ملکوں نے بنانے کی کوشش کی مگر ایسی بے مثال اور لاجواب عمارت کسی ملک کے حکمراں بنانے میں ناکام رہے۔ سال میں کوئی ستر اسی لاکھ سے زیادہ افراد اس خوبصورت اور تاریخی عمارت کو دیکھنے کیلئے دنیا کے کونے کونے سے پہنچتے ہیں۔ ہر سال زائرین سے 25/30 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے۔ دنیا بھر سے سب سے زیادہ لوگ اسی عمارت کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ اس سے ملتی جلتی عمارت اورنگ زیب کے بیٹوں نے اپنی ماں کی یاد میں اورنگ آباد (مہاراشٹر) کی ایک وادی میں تعمیر کی ہے۔ اس عمارت کو دیکھنے کیلئے ہر مذہب کے لوگ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ صبح سے شام تک اسے دیکھنے والوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔ 
 
سنگھ پریوار کی آنکھوں میں تاج محل ہی نہیں بلکہ مسلم بادشاہوں کی بنائی ہوئی ہر عمارت کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ تاج محل، لال قلعہ، قطب مینار جیسے تاریخی منومنٹ کے نام بھی کئی بار ان فرقہ پرستوں نے بدلنے کی کوشش کی، مگر یہ عمارتیں اس قدر تاریخی ہیں کہ نام بدلنا ان کیلئے محال ہے۔ حقیقت میں کسی راستہ یا کسی ریلوے اسٹیشن کا نام بدلنا تو آسان ہے مگر تاریخی عمارتوں کا نام بدلنا ان نادانوں کیلئے مشکل ہے۔ اس لئے اب ان عمارتوں کے بارے میں عجیب عجیب قسم کی رائیں پیش کر رہے ہیں۔ اتر پردیش کی وزارت سیاحت کی فہرست میں تاج محل کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی جگہ وزیر سیاحت سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے بیٹے سدھارتھ نے یوگی ادتیہ ناتھ کو خوش کرنے کیلئے گورکھپور مٹھ کے مندر کو شامل کیا ہے۔ یہ دن کے اجالے میں سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ یوگی نے تاج محل کے بارے میں کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ تاج محل کا ہندستانی کلچر سے کوئی میل نہیں ہے۔ اب سنگیت سوم نے جو مظفر نگر کے فسادات میں ملوث تھے، فسادات کرنے کے مجرم ہیں، تاج محل کے بارے میں عجیب و غریب انکشاف کیا ہے کہ شاہجہاں جس نے اس عمارت کو بنایا اس نے اپنے باپ کو قید خانے میں برسوں رکھا تھا۔ ایسی تاریخ دانی جس پر تاریخ اور سیاست بھی جو کل تاریخ کا حصہ بن جائے گی شرمندہ ہوگی۔ 
 
سنگیت سوم نے کہاکہ مغل ہندستانی کلچر پر سیاہ داغ ہیں جسے بہت جلد تاریخ کے صفحات سے مٹا دیا جائے گا۔ یہی سلوک تاج محل کے ساتھ بھی روا رکھا جائے گا۔ سوم نے کہاکہ کچھ لوگ سیاحت کی وزارت کی طرف سے تاریخی عمارتوں کی فہرست سے ہٹانے پر ناراض ہیں پھر کہا کہ آخر وہ کس طرح تاریخ پیش کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایک بیٹے نے اپنے باپ کو قید کرکے رکھا۔ فرقہ پرست سوم نے یہ بھی کہا کہ مغلوں کا دور عدم تحمل اور تشدد کا دور تھا، جس میں اتر پردیش اور ہندستان کے ہندوؤں پر بڑا ظلم و جبرا ہوا اور ان کو ہر طرح سے ستایا گیا۔ سوم نے اس طرح کی بہت سی بکواس کی ہے۔ سوم پہلے مایا وتی کی پارٹی میں تھے تو سماج وادی اور بھاجپا کو گالی دیتے تھے اور جب سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ سے اسمبلی الیکشن میں کامیاب ہوئے تو مایا وتی اور بھاجپا کو گالی دینے میں مشہور ہوئے۔ 2011ء میں بھاجپا میں شامل ہوئے تو 2013ء میں مظفر نگر فساد میں ملوث ہوئے۔ مودی جی نے 2014ء کے لوک سبھا کے الیکشن سے پہلے انھیں شاباشی دی اور فساد برپا کرنے کیلئے بطور انعام انھیں ایک مجمع عام میں پھولوں کا ہار پہنایا اور لوک سبھا کا ٹکٹ دینے کا اعلان کیا۔ 
 
سنگیت سوم پر جب چاروں طرف سے یلغار ہونے لگی تو یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ اس نے تاج محل جیسی خوبصورت عمارت کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان مغلوں کی مخالفت کی ہے جنھوں نے ایسی عمارت کی تعمیر کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر اچھی چیز اور ہر خوبصورت چیز سے سوم جیسے فرقہ پرستوں کو نفرت ہے۔ سوم تو ایسا فرقہ پرست ہے جو کبھی اس جماعت میں تو کبھی اس جماعت میں رہا ہے۔ ایسے لوگ فرقہ پرست بھی ہوتے ہیں اور منافق اعظم ہوتے ہیں جو وزیر اعظم کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ 
 
یوگی ادتیہ ناتھ نے سرجو ندی کے کنارے رام کا مجسمہ 196 کروڑ میں بنانے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے 134 کروڑ روپئے اس مد میں دینے کی منظوری دی ہے۔ شیواجی کا مجسمہ اور سردار پٹیل کا مجسمہ بارہ تیرہ سو کروڑ کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ 
اورنگ زیب کے لڑکے یا ان کے والد شاہجہاں نے جو اس طرح کے مقبرے کو بنوایا تو اورنگ زیب جیسے عالم دین اور متقی اور پرہیزگار بادشاہ نے پسند نہیں کیا۔ بادشاہ خواہ مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہوں یا ہندوؤں سے اگر عوام کے پیسے کو اس طرح کے کاموں میں پانی کی طرح بہاتے ہوں تو اسلام کے نزدیک قابل ملامت ہے۔ وہ اپنے وقت کے بادشاہ تھے ۔ بادشاہوں کیلئے نہ کوئی پارلیمنٹ تھی اور نہ اپوزیشن۔ آج تو جمہوریت ہے، اپوزیشن ہے، میڈیا ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے یوگی ادتیہ ناتھ اور نریندر مودی غریبوں کے پیسے سے یادگار کے طور پر مجسّمے کی تعمیر پہ تعمیر کر رہے ہیں۔ میرے خیال سے بادشاہوں نے جبکہ انھیں روک ٹوک نہیں تھی، اگر غریبوں کا پیسہ بہایا ہے تو وہ گناہ کے مرتکب ہوئے اور آج جو لوگ یہ کر رہے ہیں وہ مجرم ہیں۔ ان پر فوجداری کے قانون کے تحت مقدمہ چلنا چاہئے۔ 
 
مشہور شاعر شکیل بدایونی نے ایک فلم کیلئے تاج محل پر ایک فلمی نغمہ لکھا تھا  ؎ 
 
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل 
 
ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے 
اس کے سائے میں سدا پیار کے چرچے ہوں گے
 
ختم جو ہو نہ سکے گی وہ کہانی دی ہے 
اس کے جواب میں ساحر لدھیانوی نے کہا ہے  ؎
تاج تیرے لئے ایک مظہر الفت ہی سہی 
 
تجھ کو اس وادی رنگیں سے عقیدت ہی سہی 
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر 
 
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق 
صاحبزادی امۃ القدوس بیگم نے ساحر لدھیانوی کا جواب کچھ اس طرح دیا ہے  ؎
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
 
کون کہتا ہے غریبوں کا اڑایا ہے مذاق
وہ کسی اور کی تضحیک کرے گا کیسے
 
جو کہ ہے بے چارا ہو خود کشتۂ پیکانِ فراق
جس کے ارمان لٹے ، جس کی امیدیں ٹوٹیں
 
جس کے گلشن کا حسیں پھول اجل نے توڑا
موت کے سامنے جو بے بس و لاچار ہوا
 
جس کے ساتھی نے بھری دنیا میں تنہا چھوڑا
تاج اک جذبہ ہے پھر جذبے سے نفرت کیسی
 
یاں تو ہر دل میں کئی تاج محل ہیں موجود
تاج اک سوئے ہوئے پیار کا ہی نام نہیں
 
یہ وہ دنیا ہے نہیں جس کی فضائیں محدود
 
ادتیہ ناتھ یوگی یا سنگیت سوم نہ شکیل بدایونی ہیں اور نہ ساحر لدھیانوی بلکہ یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کو مغلوں یا مغلوں کی چیزوں سے نفرت محض اس لئے ہے کہ یہ مسلمانوں سے ، انسانیت سے نفرت کرتے ہیں۔ بابری مسجد ایک تاریخی مسجد تھی، اسے دن دہاڑے انہی جیسے فرقہ پرستوں نے منہدم کردیا۔ مسلمان بابری مسجد کیلئے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور دنیا ان فرقہ پرستوں کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس وقت جن عمارتوں پر ان بدنظروں کی نظر ہے ان سے کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے جو حکومت کے خزانے میں جمع ہوتی ہے۔ یہی تاریخی اور یادگار عمارتیں پہلے جو کچھ بھی رہی ہوں اب دنیا کے کیلئے سرمایہ ہیں اور ہندستان کیلئے سرمایہ کے ساتھ ساتھ شہرت اور آمدنی کا ذریعہ ہیں جنھیں دنیا بھر سے لوگ دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ اگر ان کی یلغار جاری رہی تو انھیں ساری دنیا لعن طعن کئے بغیر نہیں رہے گی۔ ایسی چیزیں فرقہ پرستوں کی ٹیم اسلام اور مسلم دشمنی میں کر رہی ہے یا کہہ رہی ہے۔ یہ دشمن انسانیت زندہ مسلمانوں کو تو ہراساں اور پریشاں کرنے میں کوئی کمی نہیں کر رہے ہیں اور جو مسلمان اب دنیا میں نہیں ہیں ، مردہ ہیں انھیں بھی اپنی دشمنی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ زندہ خور بھی ہیں اور مردہ خور بھی۔ اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے آدمیت اور انسانیت کے دشمن بنے ہیں۔ ان کی دشمنی ایک دن ان کی خود کشی اور موت کا سبب ہوگی۔ دیکھا گیا ہے کہ جو جماعت یا فرد کسی جماعت یا فرد سے بے جا دشمنی کرتا ہے وہ دیر یا سویر پاگل ہوجا تا ہے اور پاگل پن اسے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ 
 
موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com 

**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 212