donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Aakhir Kis Taraf Ja Raha Hai Modi Ka Hindustan


آخر کس طرف جارہا ہے مودی کا ہندوستان؟
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
  قدیم ہندوستان میں لوگ صرف لنگوٹ پر بھی گزارہ کر لیتے تھے، جسم پر بھبھوت ملتے تھے، ترشول کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے اور درختوں کے پتوں پر کھانا کھالیتے، لوکی کے خشک کھوپڑے میں پانی پی لیتے تھے۔ اب ذرا سوچئے کہ آج کی صنعتی ترقی والے اور مشینی دور میں بھی انسان اسی حالت میں نظر آئے تو اسے کیا کہا جائے گامگر کچھ لوگ ملک کو اسی دور میں لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔ قدیم گرنتھوں سے ظاہر ہے ہندوستان کے اصل باشندوںکوماضی میں غلام بنالیا گیا تھا اور انھیں ’’شودر‘‘ کا درجہ دیا گیا تھا۔ چنانچہ آج بھی دلتوں پرمظالم ہورہے ہیں اور انھیں کنٹرول میں رکھنے کی کوششیں اعلیٰ ذات والوںکی طرف سے جاری ہیں۔ یوگی کے یوپی کاشبیرپور اس کی تازہ مثال ہے۔کئی شہروں میں ہندووادی تنظیموں کی طرف سے ترشول اور لاٹھیاں تقسیم کرنے کی تقریبات ہورہی ہیں۔گائے کو ’’خدائی‘‘ درجہ دے کراس کی پرستش اور احترام کے لئے سب کو مجبور کیا جارہا ہے۔ اسکولوں کے نصاب میں بھی ترمیم کی تگ ودو چل رہی ہے تاکہ نوخیزذہنوں میں فرسودہ روایات کی افضلیت کوراسخ کیا جاسکے۔ ویدک ہندوستان میں دلتوں کو جو مقام حاصل تھا،اسی جگہ اب مسلمانوں کو لاکھڑا کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں۔ یہ تمام باتیں اشارہ کرتی ہیں کہ اب ملک آگے کی طرف نہیںبلکہ پیچھے کی طرف جائے گا۔جب ساری دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اوج ثریا کو پانے کے لئے کوشاں ہے، ہم اپنے بچوں کو مفروضہ دیوتائوں کی دیومالائی کہانیاں اور اساطیری روایات کی تعلیم دے رہے ہیں۔ آخر یہ تمام اشارے کیا کہتے ہیں؟ ذیل میں چند تازہ مثالیں ملاحظہ ہوں۔
 
دلتوں پر مظالم
 
سہارنپور کا ضلع شبیر پور گزشتہ دنوں دلتوں پر مظالم کے لئے سرخیوں میں آیا۔ اتر پردیش میں سب سے زیادہ دلت آبادی والا ضلع سہارنپور دلتوں کے لئے مقتل بن گیا ہے۔ سہارنپور دلتوں کی اکثریت والی سیٹ ہے، جہاں سے آنجہانی کانشی رام الیکشن لڑا کرتے تھے۔ یہاں دلت، اگرچہ بی ایس پی کے ساتھ رہے ہیں مگرحالیہ دنوں میں ان کا جھکائو بی جے پی کی طرف دیکھا گیا جس کے سبب اسے کامیابی ملی۔ اب دلت دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ان پر ظلم ہوا تو وہ بھاجپا کا ساتھ چھوڑ دینگے جب کہ دوسری طرف راجپوت جو ہمیشہ سے بی جے پی کے ساتھ ہیں، وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں کیونکہ جو گرفتاریاں ہوئی ہیں،ان میں بڑی تعداد راجپوتوں کی ہے۔ دلتوں پر ظلم کا واقعہ سہارنپور تک محدود نہیں ہے بلکہ سنبھل، علی گڑھ وغیرہ سے بھی اس قسم کی خبریں آئی ہیں۔بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں گجرات، ہریانہ، راجستھان اور مدھیہ پردیش سے بھی ایسی ہی خبریں آرہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کا ہندوستان پھر اسی دور کی طرف لوٹ رہا ہے جس میں دلتوں کو دوئم درجے کی حیثیت حاصل تھی؟
 
گائے محفوظ، انسان غیرمحفوظ
 
بھارت میں انسانوں کے قتل کے ہزاروں مقدمے آج بھی زیرالتوا ہیں اور متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔ان تمام کو انصاف ملے یا نہ ملے مگر سرکاری پالیسی ہے کہ گائے کو ضرور انصاف ملنا چاہئے کیونکہ انسان کی جان سے زیادہ تقدس گائے کو حاصل ہے۔ کئی ریاستوں کی پولس گائے کی جان کی حفاظت میں لگی ہوئی ہے۔ ملک بھر کے نیوزچینل اب اپنے کرائم شوز میں انسانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو کم اور گائے کے اوپر ہونے والے مظالم کو زیادہ دکھا رہے ہیں۔ حال ہی میں مرکز کی نریندر مودی سرکار نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق ملک بھر کے مویشی بازاروں میں مذبحوں کے لئے گائے،بیل، بھینس کو خریدا اور بیچا نہیںجاسکے گا۔ ملک بھر میں جس طرح سے گوشت کے کاروبار پر قدغن لگائی جارہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آنے والے دنوںمیں انسان مویشیوں کو نہیں کھائینگے بلکہ مویشی انسانوں کو کھائیںگے۔ اب تک کسان قرض اور قحط کے سبب بھوکوں مرتے تھے یا خود کشی کرتے تھے مگر آنے والے دنوں میں آپ سنیں گے کہ کسان مویشیوں کونہ پالنے کے سبب خودکشی کررہے ہیں۔گوشت بندی کے سبب ملک کی معیشت بھی کمزور ہوگی۔ مرکزی وزارت تجارت کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق اپریل، 2016 سے جنوری، 2017 کے درمیان بھارت کے کل گوشت ایکسپورٹ کا 97فیصد حصہ بھینسوں کے گوشت کا رہا۔ ایسے میں سوال ہے کہ بھینسوں کو پابندی والے جانوروں کی فہرست میں کیوںشامل کیا گیا؟ وزیر تجارت نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ کے گزشتہ بجٹ سیشن کے دوران 27 مارچ، 2017 کو لوک سبھا میں گوشت ایکسپورٹ پر اہم حقائق پیش کئے تھے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا تھا کہ اپریل، 2016 سے جنوری، 2017 کے درمیان بھارت سے کل 22ہزار،73 کروڑ روپئے کا گوشت برآمد ہوا۔ اس میں صرف بھینسوں کااکسپورٹ ہونے والاگوشت  ،316 21کروڑ کا رہا،یعنی کل گوشت ایکسپورٹ میں 97فیصد کاروبار بھینسوں سے آیا۔ ان اعداد و شمار سے صاف ہے کہ بھینسوں کو اگر پابندی والی  فہرست سے باہر نہیں کیا جاتا ہے تو گوشت کے ایکسپورٹ پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔ حکومت کی موجودہ گوشت برآمد پالیسی میں گائے، بیل اور بچھڑوں کی برآمد پر روک ہے۔ بھینسوں پر روک لگانے سے ہزاروں کروڑ کا کاروبار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ مرکزی سرکار کے مویشیوں پر نوٹیفیکیشن کو ملک بھر میں گوشت خوری بندکرنے کی مودی حکومت کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہ گوشت اکسپورٹ مارکیٹ، چمڑے کی صنعت اور دیگر متعلقہ صنعتوں پر اثر ڈالنے والے قدم کے طور پر ابھر کر سامنے آ ئے گا اور کروڑوں لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔
 
تعلیم کا بھگوا کرن
 
حالیہ ایام میں حکومت کی طرف سے جو رجعت پسندانہ اقدامات کئے گئے ہیں ان میں سے ایک نصابی کتابوں میں نامناسب بدلائو بھی ہے۔ اترپردیش، راجستھان، ہریانہ اور جھارکھنڈ میں نصابی کتابوں میں تبدیلی کی خبر ہے۔یوپی کی یوگی سرکار نہ صرف نصابی کتابوں میں کئی تبدیلیاں کر رہی ہے بلکہ اب تاریخ کو بھی مسخ کرکے بچوں کے معصوم ذہنوں کو گمراہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ مورخین جن لوگوں کو انگریزوں کا مخبر بتاتے رہے ہیں، اب انھیں جنگ آزاد ی کا لیڈر بناکر پیش کرنے کی تیاری ہے اور تاریخ میں جن لوگوں کا کردار ولن کا رہا ہے ، انھیں ہیرو بنایا جانے والا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار ، یوپی کے تعلیمی سسٹم میں کئی تبدیلیاں کرنے جارہی ہے،اسی کے ساتھ، اس نے فیصلہ کیاہے کہ ایک ایسی کتاب کے پندرہ لاکھ نسخے بانٹے جائیں گے جس میں بی جے پی، جن سنگھ اور آرایس ایس کے لیڈروں کی زندگی اور خدمات کا تعارف ہوگا۔ علاوہ ازیںحکومت کے نئے فیصلے کے تحت پنڈت دین دیال پادھیائے، شیاماپرساد مکھرجی، گروگولوالکر وغیرہ کی زندگی پر سیمینار وسمپوزیم کرائے جائینگے۔ 
 
  یوگی سرکار تعلیم کے بھگوا کرن کی اسکیم کے تحت کئی اقدام کر رہی ہے۔ جس میں سے ایک ہے مہاراناپرتاپ کو نصاب تعلیم میں شامل کرنا۔ ریاستی حکومت نے بھلے ہی مہارانا پرتاپ جینتی پر عام تعطیل ختم کر دی ہو لیکن، ان کی زندگی کو یوپی بورڈ کے طلبہ، طالبات اب تفصیل سے پڑھیں گے۔اب ہائی اسکول کے نصاب میں ’’ہلدی گھاٹی‘‘ نامی نیا ٹیکسٹ جوڑنے کی تیاری ہے۔دھیان رہے کہ مورخین کے مطابق ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں مہارانا کو مغل بادشاہ اکبر کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی مگر سنگھی تاریخ داں مہارانا کو فاتح قرار دیتے ہیں۔یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یوپی بورڈ نے یوگا کو تعلیمی نصاب میں شامل کرلیا ہے۔ یوگا، کلاس 9 سے 12ویں تک پڑھایا اور سکھایا جائے گا۔
 
تلوار، ترشول اور لاٹھیوں کی تقسیم
 
دلی میں نریندر مودی کا راج ہے اورملک کی بیشتر ریاستوں میں بھگواپارٹی برسراقتدار ہے مگر اس کے باوجود ہندو تنظیموں کو لگتا ہے کہ ہندووں کا ’’سوابھیمان‘‘ سو گیا ہے اور اسے جگانے کی ضرورت ہے۔اس لئے اترپردیش اور گجرات سمیت ملک کے کئی حصوں میں ترشول بانٹے جارہے ہیں تاکہ ہندووں کے ’’سوابھیمان‘‘ کو جگایا جائے۔گجرات میں پچھلے دنوں وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے ترشول بانٹے گئے اور اس کا مقصد گائے کی حفاظت اور ’’لوجہاد‘‘ سے ہندو لڑکیوں کا بچائو بتایا گیا مگر اب اترپردیش میں بھی ترشول بانٹنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یوپی میں ہندووادی تنظیم بجرنگ دل اپنے تربیتی کیمپوں میں ڈنڈا بانٹ رہی ہے تو وہیں ہندو جاگرن منچ آنے والے ستمبر سے ڈنڈا بانٹنے کی تیاری میں ہے۔ ان تنظیموں کا ماننا ہے کہ ہندو بردبار اور تحمل پسند ہو گئے ہیں، انھیں ایکشن میں لانے کی ضرورت ہے۔یوپی میں بجرنگ دل کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم ہر بار اپنے تربیتی کیمپوں میں ترشول بانٹنے کا کام کرتے ہیں تو اس بار بھی ہم پورے ملک میں جہاں جہاں تربیتی کیمپ چل رہے ہیں، وہاں نوجوانوں کو تربیت کے بعد ترشول بانٹ رہے ہیں۔ 
 
*******************
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 87