donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Hindustani Siyasat Ka Badalta Manzar Nama : Modi Lahar Se Modi Mokhalif Lahar Tak


ہندوستانی سیاست کا بدلتا منظر نامہ
 
’’مودی لہر‘‘ سے ’’مودی مخالف لہر‘‘ تک
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
اترپردیش میں مایاوتی اور اکھلیش یادوکے درمیان اتحاد کا قومی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ گورکھ پور اور پھول پورلوک سبھا سیٹوںپر بھاجپا کی شرمناک شکست کا پیغام کیا ہے؟راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ہار کیا کہتی ہے؟بہار میں نتیش کمارکے گرتے گراف کا مطلب کیا ہے؟ این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کے اتحاد سے الگ ہونے کے معانی کیا ہیں؟اجودھیا سے رامیشورم تک چلی ’’رام راج رتھ یاترا‘‘کا شو فلاپ کیوں ہوا؟ ہندتوکارڈاپنی اہمیت کیوں کھوتا جارہا ہے؟ ان تمام سوالوں کا اگر گہرائی سے جائزہ لیں تو مطلب صاف ہے کہ یہ سب بی جے پی کے برے دن آنے کے شارے ہیں۔ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے بیچ جو اتحاد قائم ہوا ہے اگر یہ آئندہ لوک سبھا انتخابات تک برقرار رہا تو بی جے پی کا یوپی میں کھاتا کھلنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ اس دعوے کی دلیل گورکھ پور اور پھول پور سیٹوں پردیکھنے کو مل چکی ہے، جہاں حقیقی اتحاد نہیں قائم ہوا تھا صرف لفظی اتحاد تھا مگر بھاجپا کے گڑھ میں اسے دھول چاٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بھاجپا کی گورکھ پور کی طرح مضبوط سیٹ تو بنارس کی بھی نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ جس پردیش سے سب سے زیادہ سیٹیں لے کر نریندر مودی پھولے نہیں سما رہے تھے، اسی ریاست سے انھیں زوروں کا جھٹکا لگنے والا ہے۔ ادھر راجستھان اور مدھیہ پردیش کے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج بھی بتا چکے ہیں کہ’’ مودی لہر‘‘اب ’’مودی مخالف لہر‘‘ میں کس طرح تبدیل ہورہی ہے۔ان تمام اشاروں کو این ڈی اے میں شامل پارٹیاں پہچان چکی ہیں لہٰذا شیو سینااور ٹی ڈی ایس ہی نہیں، کچھ دوسری پارٹیاں بھی بی جے پی سے دوری بنانے میں مصروف ہیں۔ گویا جس ملک میں چار سال قبل ’’مودی لہر‘‘چل رہی تھی، اب اسی ملک میں ’’مودی مخالف لہر ‘‘کے آثار نظر آرہے ہیں۔
 
یوپی کا اتحاد،مودی کا سردرد
 
گورکھ پور اور پھول پور لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی الیکشن کے نتائج، مستقبل کی سیاست کا راستہ طے کرچکے ہیں۔ اس الیکشن سے ایک بڑی شروعات ہوچکی ہے اور وہ ہے 2019 کی تیاریوں کی شروعات۔ اصل میں 2019 میں کون اقتدار میں آئے گا اور کس کا بوریہ بستر بندھ جائے گا؟ اس سوال کا جواب اترپردیش کو دینا ہے۔ اس ریاست میں لوک سبھا کی سب سے زیادہ 80 سیٹیں ہیں جن میں سے 2014 کے عام انتخابات میں71 بی جے پی کو ملی تھیں، جب کہ اس کی حلیف پٹیل برادری کی پارٹی اپنا دل کو بھی دوسیٹیں مل گئی تھیں، گویا این ڈی اے کے پاس، یہاں سے کل 73سیٹیں آئیں۔ آنے والے دور میں ان سیٹوں کی خاص اہمیت ہے کیونکہ اب مودی لہر دوبارہ نہیں چلنے والی اور ملک بھر کی وہ بہت سی سیٹیں جو2014 کی مودی لہر میں بی جے پی نے جیت لیا تھا اس بار ہار جائے گی۔ ایسے میں 2019 میں کس کی سرکار بنے گی، یہ فیصلہ اترپردیش کو کرنا ہے۔ اگر یہاں بی جے پی مخالف پارٹیاں منتشر رہیں تو ایک بار پھر مرکز میں نریندر مودی آسانی سے سرکار بنا لیں گے کیونکہ انھیں اترپردیش سے خاصی سیٹیں مل جائینگی اور اگر ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے اتحاد قائم کر، عام انتخابات میں حصہ لیا تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ وہ بیشتر سیٹیں بی جے پی سے چھیننے میں کامیاب ہوجائیںگی اور مرکز میں جو بھی سرکار بنے گی، اس میں ان کا اہم رول ہوگا۔ اس بات کو یوپی کی دونوں بڑی پارٹیاں بخوبی سمجھ چکی ہیں لہٰذا اپنے دیرینہ اختلافات کو بھلاکراتحاد کے راستے پر چل چکی ہیں اور اس اتحاد نے سنگھ پریوار کی راتوں کی نیند اور دن کا چین چھین لیا ہے۔ وہ دونوں پارٹیوں کو اتحاد سے روکنے کے لئے ہرممکن کوشش میں لگا ہوا ہے اور آنے والے ایا م میں اگر اس کے لئے سی بی آئی کا بھی استعمال ہوتوحیرت انگیز نہیں۔ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد سے یوپی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے سیکولرعوام کو خوشی ہے مگر یہ سوال بھی سب کی زبان پر ہے کہ یہ کتنی دور جائے گا؟ کیونکہ مایاوتی کا مزاج عجیب وغریب ہے۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں اور اپنے سیاسی دشمن کو بھی ذاتی دشمن کے طور پر لیتی ہیں اور بہت دور تک اس کا پیچھا کرتی ہیں، حالانکہ آنے والا الیکشن ان کے لئے وجود کی لڑائی بھی ہے۔ ہر الیکشن میں ان کاووٹ کم ہوتا جارہا ہے اور اگر انھوں نے تنہا الیکشن لڑا تو ان کی پارٹی کا گراف شاید مزید نیچے آجائے۔ ان کی پارٹی کے پاس ایک بھی لوک سبھا سیٹ نہیں ہے مگرایک مسئلہ ووٹوں میں روزبروز ہوتی کمی کا بھی ہے۔ ہر الیکشن میں ان کی پارٹی کا ووٹ فیصد گر رہا ہے۔ بہرحال سیاسی ماہرین دونوں پارٹیوں کے اتحاد کو ایک مجبوری مان رہے ہیں، جسے انھیں آگے بڑھانا ہی پڑے گا۔واضح ہے کہ اگر یہ آگے متحد ہوکر الیکشن میں نہیں گئیں تو بی جے پی ان کا صفایا کردے گی اور اگر متحد ہوئیں تویہ، بی جے پی کا صفایا کردیںگی۔ سماج وادی پارٹی کے ساتھ عموماً مسلم اور یادو ووٹر جاتے ہیں جب کہ بی ایس پی کو دلتوں کی حمایت ملتی ہے۔ یہ تمام ووٹ مل کرپچاس فیصد سے زیادہ ہیں،ایسے میں یہ اتحادیوپی میں ایک رکارڈ توڑ کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور مودی کا دوسرے ٹرم کے لئے وزیراعظم بننے کا سپنا چکناچور ہوسکتا ہے۔ 
 
مودی سرکار کی ڈوبتی نائو
 
  کہتے ہیں کہ ڈوبتی نائوسے چوہے کودکر بھاگنے لگتے ہیں، کچھ یہی کہاوت ان دنوںمودی سرکار پر بھی صادق آتی دکھائی دے رہی ہے۔این ڈی اے ایک ڈوبتا جہاز بن چکا ہے جس سے موقع پرست چوہے چھلانگ لگارہے ہیں۔اصل میں نریندر مودی سرکارکی امیج بہت تیزی کے ساتھ عوام میں بگڑرہی ہے۔ کل تک جو لوگ ’’ہرہرمودی‘‘ کے نعرے لگاتے تھے اور نریندر مودی کو ملک کے مسائل کا حل سمجھتے تھے، وہ آج مایوسیوں کے شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کے سہارے کسی طرح سرکار کی امیج کو چمکانے کی کوشش جاری ہے مگر عام لوگوں کے مسائل کا حل ٹی وی چینلوں کے اشتہارات نہیں ہیں۔عوام کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ نریندر مودی باتوں کے سواکچھ نہیں دے سکتے اور اسی صورت حال کے پیش نظر این ڈی اے میں شامل پارٹیاں بھی بی جے پی سے کنی کاٹتی نظر آرہی ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر زیادہ دن سرکار کے ساتھ رہے تو عوام انھیں بھی سرکار کی ناکامیوں کے لئے ذمہ دار مان لیںگے۔ یہی سبب ہے کہ پہلے تو بی جے پی کی پرانی حلیف شیو سینا نے سرکار کی کھلم کھلا تنقید شروع کی اور اتحاد کے بغیر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، اس کے بعد آندھرا کی علاقائی پارٹی تیلگو دیشم نے حکومت کے خلاف مورچہ کھولا اور این ڈی اے سے صرف الگ ہی نہیں ہوئی بلکہ اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا بھی اعلان کردیا۔ این ڈی اے میں شامل رہی گورکھا جن مکتی مورچہ نے بھی حال ہی میں این ڈی اے سے رشتہ توڑ لیا ہے، حالانکہ اس کا کوئی ممبرپارلیمنٹ نہیں ہے مگر مغربی بنگال کے دارجلنگ علاقے میں وہ بی جے پی کے لئے ایک سہارا رہا ہے اور اس کی مدد کے بغیر یہاں کی لوک سبھا سیٹ بھاجپا نہیں جیت سکتی ۔یہاں سے اسمبلی کی کچھ سیٹیں بھی بھاجپا ہارجائے گی۔ ادھر اب شرومنی اکالی دل نے حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کردیا ہے۔رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی اور رام داس اٹھاولے کی ریپبلکن پارٹی بھی این ڈی اے سے الگ ہونے کے لئے موقع کی تلاش میں ہیں اور ممکن ہے کہ عام انتخابات میں یہ این ڈی اے کے بجائے، یوپی اے کے ساتھ جائیں۔ ادھر، جموں و کشمیر میں بی جے پی کے ساتھ حکومت کی قیادت کر رہی، پی ڈی پی نے بھی مودی حکومت کی کشمیر پالیسی پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی راہ پر چلنے کا مشورہ دیاہے۔
 
ہندتو کا فلاپ شو
 
بھاجپا اور پورے سنگھ پریوار کے لئے ایک خطرے کی گھنٹی ہندتو کارڈ کی ناکامی بھی ہے۔ گورکھ پور اور پھول پور میں اس کارڈ کو کھیلنے کی کوشش کی گئی مگر بری طرح ناکام رہا۔ نریندر مودی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے ایک بڑا کھیل رام مندر کے نام پر بھی چل رہا ہے اور مودی کے خفیہ اشارے پر ہی شری شری روی شنکر کچھ نام نہاد مولویوں کو خریدنے کی کوشش میں ہیں مگر فی الحال اس کا امکان نظر نہیں آتا کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر مستقبل قریب میں ہوسکے گی۔ علاوہ ازیں گزشتہ فروری میں اجودھیا سے ایک رام رتھ یاترا بھی نکالی گئی تھی جو کئی ریاستوں سے ہوتے ہوئے رام نومی کے موقع پر رامیشورم پہنچی مگر یہ بری طرح فلاپ ثابت ہوئی۔ اس یاترا کی راہ میں وہی ریاستیں آئیں، جہاں انتخابات ہونے والے ہیں مگر اس رتھ یاترا کے سبب مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، کرناٹک اور راجستھان میں بی جے پی کی پتلی ہوتی حالت میں سدھار کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔اس کا افتتاحی پروگرام بھی پھیکا رہا۔ اجودھیا کے کارسیوک پورم سے رام راج رتھ یاتراکو یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جھنڈی دکھاکر روانہ کرنے والے تھے مگر وہ نہیں آئے۔اس پروگرام میں بی جے پی کے چوتھی صف کے نیتا ہی نظر آئے، لیکن اس کے رامیشورم پہنچنے پر تو کوئی خبر ہی نہیں بنی۔ 
 
 سیاسی تبدیلی کے آثار
 
ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں بی جے پی کے لئے کہیں سے کوئی راحت کی خبر نہیں ہے۔ وہ جتنی ریاستیں جیت سکتی تھی جیت چکی ہے اور اب انھیں گنوانے کی باری ہے۔کیرل اور مغربی بنگال میں اس کے لئے کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی۔  مغربی بنگال میں بی جے پی کے سامنے ترنمول کانگریس ہے، جو تنہااس کا راستہ روکنے کی اہل ہے،کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں ، بی جے پی کے مد مقابل کانگریس ہے،اور کانگریس پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے، جب کہ بہار میں راشٹریہ جنتادل ہے اور مہاراشٹر میں کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہے۔بہار میں لالو کے لعل تجسوی یادو اکیلے ہی بی جے پی اور جنتادل (یو) پر بھاری پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ان حالات میں ایسا لگتا ہے کہ ’’مودی لہر‘‘ دم توڑ چکی ہے اور اس کی جگہ ’’مودی مخالف لہر‘‘ چلنے والی ہے۔اس لئے آنے والے دنوں میں ملک کی قومی سیاست کے ساتھ ساتھ علاقائی سیاست میں بھی بڑا الٹ پھیر ہوسکتا ہے۔ 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments


Login

You are Visitor Number : 81