rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Mumtaz Meer
Title :
   Hitler Ke Paristar

ہٹلر کے پرستار

 

ممتاز میر


  جناب اٹل بہاری باجپائی جب وزارت عظمیٰ کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے تھے تو ہمیشہ کی طرح ان کی کنڈلی بھی اخبارات کی زینت بنی تھی ۔تفصیلات زندگی میں سب سے نمایاں جو بات بتائی گئی تھی وہ یہ تھی کہ محترم آزادی سے پہلے انگریزوں کے وفادار تھے۔انھوں نے مجاہدین آزادی کے خلاف انگریزوں کی مخبری کی تھی ۔انگریزوں کی وفاداری میں وہ ’’اپنے ‘‘ پریوار میں اکیلے نہیں تھے۔ان کے پریوار کے دگجوں نے آزادی تک (جسے انھوں نے بادل نخواستہ قبول کیا تھا)یہی کام کیا تھا۔ایک طرف آر ایس ایس کے بڑے ہٹلر کے پرستار تھے تو دوسری طرف وہ انگریزوں کے بھی وفادار تھے۔یہ اپنی سبھاؤں میں اپنے ممبران کو انگریزوں سے وفاداری کا پاٹھ پڑھاتے تھے اور تحریک آزادی سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔آزادی کے بعد جب انگریز چلا گیاتب بھی ان کی وفاداری کا یہ عالم تھا کہ برسوں برسوں ان سے ترنگے کا احترام نہ ہوسکا۔گاندھی جی کے قتل کے بعد یہ خبریں آئی تھیں کہ آر ایس ایس والوں نے ترنگے کو پیروں تلے کچلا ہے۔۲۴ فروری۱۹۴۸ کی ایک تقریر میں پنڈت نہرو نے اس کا ذکر بھی کیا تھا مگر عملاً انھوں نے کچھ نہیں کیا ۔آج بھی واٹس اپ پر ایک تصویر گردش کر رہی ہے جسمیں بتا یا گیا ہے کہ ہندو مہا سبھا گوڈسے کی تصویر کے ساتھ ایک جلوس نکال رہی ہے اور ترنگے کو جلا رہی ہے۔یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ وہ اور ان کے بغل بچے آج لوگوں کو دیش سے وفاداری اور غداری کے سرٹیفکٹ بانٹ رہے ہیں۔  

  لوگ عموماً نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں چاہے وہ اپنے اندر کتنے ہی غم سمیٹے ہوں۔نیا سال روہت ویمولا کے لئے ڈراؤنا خواب بن کر آیا تھاحیدرآباد یونیورسٹی کے اس ۲۷ سالہ PHD اسکالر کو اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ۳ جنوری۲۰۱۶ کو ’’باغیانہ‘‘ سرگرمیوں کے الزام میںمعطل کر دیا گیا تھا ۔ان تمام کا تعلق دلت تنظیم امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سے تھا۔ جولائی۲۰۱۵ سے اس کو ملنے والی ۲۵۰۰۰ روپے ماہانہ کی اسکالر شپ بھی روک دی گئی تھی ۔روہت اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کے پیچھے سنگھ کی طلباء تنظیم ABVP تھی روہت اور اس کے ساتھیوں نے یعقوب میمن کی پھانسی پر احتجاج کیا تھا ۔روہت اور اس کے ساتھیوں نے ’’مظفر نگر ابھی باقی ہے ‘‘نامی ایک ڈاکیومنٹری فلم بھی یونیورسٹی کے دیگر طلبا کو دکھائی تھی ۔ہندتو کے علم بردار یہ سب کیسے برداشت کر سکتے تھے ۔شاید یہیں سے ان کی دشمنی کی ابتدا ہوئی تھی۔ان تمام باغیانہ سرگرمیوں کو لے کر ABVP اور ان میں باقاعدہ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی ۔کہتے ہیں کہ اس میں ABVP کا صدر سشیل کمار زخمی (واللہ اعلم) بھی ہوا تھا ۔جس طرح بچے باہر جھگڑاکرکے باپ کے یا ماں کے پاس دوسرے بچوں کی شکایت کرتے ہیں۔اسی طرح ABVPوالوں نے علاقائی ایم پی اور مرکزی وزیربرائے محنت و روزگار بنڈارو دتاتریہ سے ASA والوں کی شکایت کردی۔مرکزی وزیر نے وزیر تعلیم سمرتی ایرانی سے (معلوم نہیں ان کی ڈگری کا کیا ہوا ۔وہ کبھی اپنے آپ کو B.A. کبھیB. Com پارٹ ون بتاتی ہیں)کہا ۔انھوں نے وائس چانسلر اپا راؤ پر دباؤ بنایا کہ امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے خلاف ایکشن لیاجائے۔اس دباؤ کی بنا پر اپا راؤ نے ۵ طلبا بشمول روہت ویمولا کو سسپینڈ کر دیا۔یہ اس کے باوجود ہوا کہ یونیورسٹی کے پروکٹورل بورڈ نے ABVP کے صدر سشیل کمار کو زود کوب کئے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ،ایسی رپورٹ داخل کر دی تھی ۔ایسا ہی ایک معاملہ IITچنئی کی مشہور طلبا تنظیم امبیڈکر پیریار اسٹڈی سرکل کے ساتھ بھی محترمہ سمرتی ایرانی کی مہربانی سے ابھی چند مہینوں پہلے ہی پیش آیا ہے۔اور اب یہ روہت ویمولا کی خودکشی۔بنڈارو دتاتریہ کے ساتھ جو بھی ہو جاتا قابل برداشت تھا مگر اصل معاملہ تو مودی جی کی منظور نظر سمرتی ایرانی کاہے ۔بڑے چاؤ سے انھوں نے ،شکست کے باوجود ،کسی قسم کی لیاقت نہ ہونے کے باوجود ،جعلی ڈگری اسکینڈل کے باوجود مسند وزارت عطا کی ہے اور برقرار رکھی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا معاملہ روہت ویمولا کی خود کشی کو دبانے کے لئے برپا کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے بھی محترمہ ایرانی کو بچانے کے لئے ہی پاکستان نے گرداس پور پر اٹیک کیا تھا۔خیر!JNU میں بھی کنہیا اور اس کے ساتھیوں نے ABVP کو اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن میں شکست دی تھی ۔اتفاق سے ۹ فروری کو JNU  کے ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس یونین کے سابق طلبا نے افضل گرو کی پھانسی کی برسی کے موقع پر اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ایک مٹنگ بلائی تھی ۔وہ افضل گرو اور مقبول بٹ کی پھانسی کو جوڈیشیل کلنگ گردانتے ہیں۔

  ۱۸ فروری۲۰۱۶کےHuffington Post میںJNUکے طالبعلم اگروال کا انٹرویو شائع ہوا ہے ۔وہ کہتا ہے ـ’’کشمیری طلبا نعرے لگا رہے تھے،ہم کیا چاہتے ہیں ،آزادی ‘‘اگروال کہتا ہے اس میں اشتعال انگیزی کیا ہے یہی سب کچھ تو ہم انگریزوں کے دور میں کر رہے تھے۔علیحدگی پسند نہ اچھے ہیں نہ برے ۔میں ان کی حمایت کر تاہوںنہ مخالفت ۔ کیونکہ میں اس خطہء زمین کے تعلق سے معلومات نہیں رکھتا۔میرا ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔وہ ایک قطعہء زمین کی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں۔وہ نہ حکومت کواکھاڑ پھینکنے کی سازش کر رہے تھے نہ کشمیر انڈیا سے جبراً ہتھیانا چاہتے تھے ۔

۱۴ فروری کو JNU اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کو گرفتار کر لیا گیا ۔ان کی ایک تصویر وائرل کی گئی جس میں وہ تقریر کر رہے ہیں اورپس منظر میں اردو پوسٹرس لگے ہوئے ہیں۔مگر ۱۹ فروری کے ABP نیوز میں بتایا گیا ہے کہ اس تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔یہ تصویر پہلی بار The Hindu  انگریزی اخبارمیں شائع ہوئی تھی اور پس منظر میں کچھ نہیں تھا ۔عوام میں بدنام کرنے کے لئے اسے اردو پوسٹر کا پس منظر دیا گیا کیونکہ اردو دہشت گردوں کی زبان ہے !سکہء رائج الوقت بھی یہی ہے ۔ہندو دہشت گردی سے تو کوئی واقف ہی نہیں ہے۔ABP نیوز والوں نے بغیر پس منظر کی تصویر کو مثالاً سمندر کا پس منظر دے کر بتایا کہ اب ایسا لگے گا جیسے کنہیا کمار سمندر کے کنارے تقریر کر رہے ہیں۔یہ ٹکنالوجی کا وہ منفی پہلو ہے جسے آج مجرم ضمیر اور مجرم خمیر لوگ سب سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔مذکورہ طالبعلم اگروال نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ وہ میٹنگ اس لئے بھی تھی کہ کشمیریوں کو self determination کا حق ملے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہو (حیرت ہے کہ اتنا کچھ کہہ دینے پر بھی ابھی تک اس کی گرفتاری کی خبر نہیں آئی۔یا للعجب)اس کے بعد اس انٹرویو میںیہ تفصیلات بھی ہیں کہ پہلے میٹنگ کہاں رکھی گئی تھی پھر صرف ۲۰ منٹ پہلے انتظامیہ نےABVP کے دباؤ میں طلبا کو کیمپس سے باہر بھیج دیاوہاں میٹنگ ہوئی تو ABVP نے کیا کیا اور نعرے بازی کس طرح شروع ہوئی۔پہلے پہلے تو میڈیا نے وہی دکھلایا جو سنگھی چاہتے تھے مگرجب پٹیالہ کورٹ میں سنگھیوں نے ’’دشمنوں‘‘ کے ساتھ’’دوستوں‘‘ کی بھی پٹائی کر دی تو میڈیا کے سر بدل گئے ۔اب جو نعرے دکھائے جا رہے ہیں اس پر بڑے سے بڑا دشمن بھی اعتراض نہیں کر سکتا۔

  ۱۹ فروری کی اپنی نشریات میں ABP  نے دکھایا کہ کنہیا کمار نعرے لگا رہے تھے ۔’’لے کے رہیں گے آزادی۔۔منو واد سے۔۔۔سامنت واد سے۔۔پونجی واد سے ۔ظاہر ہے اتنے پھسپھسے ڈرامے کے ساتھ کنہیا کا جو کہ بہاری ہیں کیا بگاڑا جا سکتا تھااسلئے اب ہمیشہ کی طرح نزلہ عضو ضعیف پر گرایا جا رہا ہے اور سوئے اتفاق کنہیا کے ساتھی کی شکل میں وہاں ایک مسلمان دستیاب بھی ہو گیا ۔وہ بھی کیسا ؟جس کا باپ مسلم پرسنل بورڈ کا ترجمان ہے ۔اردو کے ایک مشہور و معروف رسالے کا ایڈیٹر ہے اور جماعت اسلامی کی اونچی صفوں میں سے ہے اور اس سب سے بڑھکر ایک سیاسی پارٹی ویلفئر پارٹی آف انڈیا کا صدر ہے۔چند ماہ پہلے جب بنگلورو سے مولانا انظر شاہ کشمیری کی گرفتاری ہوئی تھی تب ہی ہمارے دماغ میں گھنٹی بجی تھی کہ اب مسلمانوں کی اعلیٰ قیادت پر ہاتھ ڈالا جائیگا۔حسب توقع مسلمان منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے ۔پھر مولانا عبدالسمیع قاسمی گرفتار کئے گئے اور اب۔۔ایک تیر سے کئی نشانے لگائے جا رہے ہیں۔عمر خالدکے گرد گھیرا مسلم پرسنل بورڈ کے لئے وارننگ ہے۔عمر خالد کی بدنامی جماعت اسلامی کے لئے وارننگ ہے ۔اور سب سے بڑھ کر یہ میڈیا کے لئے وارننگ ہے ۔اور آخر میں یہ سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی وارننگ ہے۔خاص طور پر مسلمانوں اور کمیونسٹوں کے لئے۔حیرت ہے کمیونسٹ بنگال میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیںجبکہ آج وطن عزیز میں جو فصل کاٹی جا رہی ہے وہ کانگریس ہی کی نظر کرم کی رہین ،منت ہے۔ہماری سیاسی پارٹیوں کو انتخابی اعداد و شمار سے ہی دلچسپی ہے اپنے نظریے کا مخلص کوئی نہیں۔

  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سنگھ پریوار یہ سب کیوں کر رہا ہے؟اس سے دیش بھی بدنام ہو رہا ہے اور ہندو ازم بھی ۔اب دیش کے باہر بھی ان کی حرکتوںپر آوازیں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔یہ شور تو یہی مچاتے ہیں کہ ان سے بڑادیش بھکت روئے زمین پر نہیں پایا جاتا۔یہ ہندو ازم کے سب سے بڑے چیمپئن ہیں ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ انھیں بھارت انڈیا یا ہندوستان سے کچھ لینا ہے نہ ہندوازم سے ۔ہندو مت نام کا مذہب تو کہیں پایا بھی نہیں جاتا۔دھرم یا مذہب جو بھی کہہ لیں سناتن دھرم ہے۔اور اس کے حقیقی عالم یہ سمجھتے ہیں کہ سناتن دھرم کی ہی جدید ترین شکل اسلام ہے ۔سناتن کا مطلب ہی اسلام ہوتا ہے۔تو پھر سنگھ پریوار کیا چاہتا ہے؟سنگھ پریوار صرف اور صرف By Hook or By Crook برہمنیت کا غلبہ چاہتا ہے ۔(اور اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ اسلام کو سمجھتا ہے۔) اس راہ میں اگر دیش آیا تواس کومٹا دیاجائے گا ۔دھرم آیا تو اسے ہندتو یا کوئی دوسری شکل دیدی جائے گی۔اسی لئے یہ یونیورسٹیوں پر قبضے کر رہے ہیں۔یہ ہٹلر کے پرستار یونہی تو نہیں ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ۔یہ دین کا تقاضہ بھی تھا اور دنیا کا بھی۔ہمارے دشمن اس بات کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں ۔اسی لئے ہمیں خوف کی نفسیات میں مبتلا کیا گیا ہے۔ہم جتنی جلدی اس حالت سے باہر آئیں اتنا اچھا ہے۔دین کے لئے بھی ملت کے لئے بھی وطن کے لئے بھی ۔اگر میڈیا سچ مچ سنگھ پریوار کا مخالف ہو گیا ہے تو اسے اس سلسلے میں مسلمانوں کی مدد کرنا ہوگی کیونکہ مسلمانوں کی اس حالت کا صد فی صدذمے دار بھی میڈیا ہی ہے۔مسلمانوں کے بغیر یہ لڑائی پار نہ لگے گی۔شر میں خیر کا پہلو بھی ہوتا ہے۔بی جے پی کے دو سالہ دور اقتدار میں جو کچھ بھی سامنے آیا ہے برسوں کی مایوسی سے ہم باہر نکلے ہیں۔ابھی ہندوستانی قوم میںبہت دم باقی ہے۔


۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔07697376137          

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 189